08/06/2026
حش فلموں کی ابتدا_کیسے_اور_کس_لیے_ہوئی؟
تاریخ بتاتی ہے کے پورن گرافی کو سب سے پہلے سلطان
ایوبی کے دور (1137_1193) میں مسلمانوں کیخلاف بطور ہتھیار صلیبی بادشاہوں نے استعمال کیا۔ کہانی کچھ ایسی ہے کے صلیبی فوجیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہر میدان میں شکست سے دوچار تھی اسلامی فوجیں متحدہ صلیبی فوجوں پر بے محاز و میدان میں طاقتور پڑتی تھی لیکن مزه تب آیا جب بحر اوقیانوس کے ساحل ہے ڈیڑھ لاکھ مسلمان افواج نے پندرہ لاکھ صلیبی فوجوں کو راکھ کا ذهیر بنادیا اس موقع پر متحدہ صلیبی فوج کا بادشاہ رونالڈو زورو قطار رونے لگے اس نے پورا ایک اجلاس کے انعقاد کا حکم دیا...... جسکا کا مقصد مسلم اور صلیبی افواج کے خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کرنا تھا ۔
تو معلوم ہوا مسلمان افواج ساری رات سجدوں میں پڑھے روتے رہتے ہیں اور صبح میدان جنگ میں دشمن کواپنی پوری آب و تاب کیساتھ للکارتے ہے۔ ان کے اندر ایک الگ دنیا آباد ہے جسے وہ ایمان کہتے ہے۔ یہی ایمان ہی انہے دنیا کے ہر خوف و ڈر اور لزت پرستی سے بہت اوپر انہیں ایک بہترین جنگجوں بناتا ہے۔
جبکہ صلیبی فوجیں رات بھر زنا کے محفلوں میں مشغول رہتے ہے ۔ لہزہ دنیا کو چھوڑ کر ایک نئے جہاں کا خوف
انھیں شکست سے دوچار کرتا ہے اسکے علاوه دوران جنگ جب مسلمان سپاہیوں کے آنکھوں سے جو وحشت ٹپکتی ہے وہ صلیبی فوجوں پر خوف طاری کردیتی ہے اسکے ساتھ مسلمانوں کے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے اور مسلمان افواج کا اپنی اپنی جگہ پر
فولاد کی طرح بن جانا بھی صیلیبیوں کے لیے ایک بہت بڑا مسلہ تھالیکن اس میٹنگ میں صلیبی افواج کا برمن نامی ایک انٹیلیجنس کا آفیسر بھی موجود جس نے صلیبیوں کی تاریخ میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا تھا ۔ یہ نہایت ہی شاطر و چلاک اور زبین تھا۔ اس نے مسلمان اور صلیبی افواج کے نفسیات ہے بات کرتے ہوئے واضع کیا۔ کہ میری ساٹھ سالہ تجربہ ہے کے ایک عیاشی پسند وجود کبھی بھی زندگی کے میدان میں بہترین سپاہی نہیں بن سکتا اور خاصکر وہ لوگ جو سیکس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہوں کیونکہ انکی جسمانی و روحانی طاقتیں ختم ہوکر رہہ
جاتی ہے ۔ جیسا کے میں بات کروں تو مسلمان افواج میں زیادہ تر سپاہی سیکس کی لزت سے نہ آشنا ہے۔ اور ان مجو شادی شدہ بھی ہے وہ بھی کسی حد تک اس چیز
کو آزماتے ہے تصور کی رعنایاں اور خوبصورت نظارے همیشہ انکی پہنچ سے دور ہے۔ انھیں مزہب کے آگے اور پیچھے کچھ نہیں دکھائی دیتا۔
لہذا ہم اگر ان میں جنسی بھوک کو پیدا کر دیں تو ان کی سوچ اور نظریات کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کی ایک مثال وہ مسلمان بادشاہ اور وزرا بھی ہیں جو شروع میں سطان ایوبی کے ساتھ تھے لیکن ہماری
خوبصورت لڑکیوں نے جب سے انھیں اپنی حسین اداؤں کا اسیر کیا تب سے وہ خدا اور رسول کو جانتے ہی نہیں ہیں انھیں سلطان ایوبی اپنا سب سے بڑا دشمن نظر آتا ہے ۔ ان مسلمان وظیفہ خوروں میں سے وہ جرنیل بھی شامل ہیں جن کی حکمت عملیاں اور بهادریاں میدانوں کے نقشے بدل ڈالا کرتی تھیں ۔ آج وہ صلیبیوں سے نگاہیں جھکا کر بات کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم انکے اندر عورت اور جنسیات کی روح داخل کرچکے ہیں ۔ اگر یہی حربہ پوری مسلمان فوج پر آزمایا جائے تو یقیناً ہم کامیاب ہونگے ۔
کیونکہ مسلمان نوجوان کیلئے یہ ایک بالکل نئی چیز ہوگی اور وہ اس کیلئے جنونی ہو سکتے ہیں
برمن کے اس خیال پر رونالڈ نے نقطہ اٹھایا ۔ اس نے کہا : " ہم متعدد بار نہایت خوبصورت لڑکیاں مسلمان فوج
میں داخل کر چکے ہیں ۔ اس کام میں ہمیں شدید تخریب کاری کرنا بھی پڑی تھی ۔ لیکن مسلمان فوج ان حسین لڑکیوں کی طرف دیکھنے کا تکلف ہی نہیں کرتی ہے ۔ اور متعدد لڑکیاں مسلمان
فوج کا کردار دیکھ صلیبی حمایت چھوڑ چکی ہیں ۔ لہذا تمھارا یہ ....... منصوبہ ناکام ہے برمن نے فوری جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا :" حضور جب تک آپ
کے اندر کسی چیز کا تصور موجود نہ ہو اسکا ہونا نہ ہونا ہے معنی ہوتا ہے ۔ ہمیں مسلم فوج میں جنسی
دنیا کا تصور پیدا کرنا ہے ۔ ایسا تصور جو ان کی سوچ کی را بداریوں میں برہنہ عورتوں
کو حسین اداؤں کے ساتھ گردش کرتا دکھائے ۔ اسکے بعد وہ خود بماری ثقافت کے حوالے کر دیں گے کیونکہ یہ ہماری ایجاد ہوگی یہی واحد طریقہ ہے جس سے ہم مسلمان کو شکست دے سکتے ہیں . "رونالڈ" برمن کی اس بات پر بہت زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور سرگوشی بھرے لہجے میں بولا : " آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو . برمن نے نہایت شاطرانہ انداز میں تاریخ کا سب سے بھیانک منصوبہ رونالڈ کے سامنے پیش کر دیا ۔ دنیا کے سامنے یہ منصوبہ آرت پورن گرافی کے نام سے سامنے آیا۔ اس منصوبے کے ایک سال بعد سلطان صلاحالدین ایوبی کو اطلاح ملی کہ فوج کے کچھ نوجوان رات کو غائب پائے جاتے ہیں۔ نوجوانوں میں اکثر جنسی گفتگو بھی سنی گئی