Ekta Rani Storys

Ekta Rani Storys https://www.youtube.com/-e4j
السلام علیکم دوستو کیسے ہیں ٹھیک ہیں خیریت ہے یہ میرا فیس بک کا نیا پیج فالو اینڈ شیئر کر دو
Hello friends, how are you?

Are you well? This is my new page, please follow and share it.

29/07/2026
تلخ حقیقتکچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مذہبی عبادات تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ جبکہ ...
29/07/2026

تلخ حقیقت

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مذہبی عبادات تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ جبکہ بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور مدد کا رویہ رکھتے ہیں۔ اس پیغام کا مقصد یہ ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ اچھا کردار، انصاف اور انسانوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muzaffar Khan, MD Jahangir MD Jahangir, Sundas Farhan, Ji...
29/07/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Muzaffar Khan, MD Jahangir MD Jahangir, Sundas Farhan, Jitika Das, Nawabzadi Abbasi, Tanveer Ahmed, Iram Gull, Zia Ur Rahman

Last part حاجی فرمان صاحب پوری کوشش کرتے رہے کہ دونوں گھروں کے درمیان انصاف قائم رہے۔ وہ اپنے پہلے خاندان کی ذمہ داری بھ...
28/07/2026

Last part

حاجی فرمان صاحب پوری کوشش کرتے رہے کہ دونوں گھروں کے درمیان انصاف قائم رہے۔ وہ اپنے پہلے خاندان کی ذمہ داری بھی نبھاتے اور شبانہ اور اس کے بچوں کا بھی پورا خیال رکھتے۔ مگر انسان چاہے کتنی ہی احتیاط کیوں نہ کرے، حقیقت ایک نہ ایک دن سامنے آ ہی جاتی ہے۔

ایک دن نسرت بیگم کو کچھ ایسے شواہد ملے جن سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ فرمان صاحب کی زندگی میں کوئی بڑا راز چھپا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر سے صاف صاف حقیقت پوچھ لی۔

فرمان صاحب نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فیصلہ کیا کہ اب مزید سچ چھپانا درست نہیں۔ انہوں نے پوری بات دیانت داری سے بیان کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ شوکت کی وفات کے بعد وہ صرف ایک بے سہارا خاندان کی مدد کرنا چاہتے تھے، مگر وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ وہ شبانہ سے نکاح کیے بغیر اس کی زندگی میں اس طرح شامل نہیں رہ سکتے۔ اسی لیے انہوں نے شریعت کے مطابق نکاح کیا تاکہ کسی گناہ میں مبتلا نہ ہوں۔

یہ سن کر نسرت بیگم پر دکھ اور حیرت کے ملے جلے جذبات طاری ہو گئے۔ انہیں اپنے شوہر کے اس فیصلے پر صدمہ ضرور ہوا، لیکن وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ انہوں نے کوئی ناجائز راستہ اختیار نہیں کیا تھا۔

ادھر شبانہ بھی مسلسل دعا کرتی رہی کہ کسی کے دل میں اس کی وجہ سے نفرت پیدا نہ ہو۔ وہ کبھی کسی کا حق چھیننا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنے شوہر سے کہا کہ وہ دونوں خاندانوں کے ساتھ مکمل انصاف کریں۔

فرمان صاحب نے یہی کیا۔ انہوں نے دونوں گھروں کے حقوق برابر رکھنے کی کوشش کی، بچوں کی تعلیم، اخراجات اور ضروریات میں کبھی فرق نہ کیا۔ انہوں نے رزوان کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، جبکہ شبانہ کی بیٹیوں کو بھی بہترین تعلیم اور اچھا مستقبل فراہم کیا۔

کئی سال بعد رزوان اپنی تعلیم مکمل کر کے ایک کامیاب انجینئر بن گیا۔ ایک تقریب میں اس نے سب کے سامنے کہا،

"آج اگر میں اس مقام پر کھڑا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا کرم حاجی فرمان صاحب کی صورت میں ملا۔ انہوں نے صرف ہماری مالی مدد نہیں کی، بلکہ ہمیں عزت، تعلیم اور جینے کا حوصلہ بھی دیا۔"

یہ الفاظ سن کر فرمان صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہیں محسوس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی دولت نہیں، بلکہ کسی کی ٹوٹی ہوئی زندگی کو دوبارہ سنوار دینا ہے۔

سبق:

کسی یتیم، بیوہ یا مجبور انسان کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اگر مدد اخلاص، انصاف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جائے تو اس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ لیکن ہر انسان کو اپنے ہر فیصلے میں عدل، دیانت اور تمام متعلقہ لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔

PART 3نیا گھر ملنے کے بعد شبانہ اور اس کے بچوں کی زندگی پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی۔ بچوں کے چہروں پر خوشی واپس آ چکی تھی، ...
28/07/2026

PART 3

نیا گھر ملنے کے بعد شبانہ اور اس کے بچوں کی زندگی پہلے سے کہیں بہتر ہو گئی۔ بچوں کے چہروں پر خوشی واپس آ چکی تھی، رزوان دل لگا کر پڑھائی کرنے لگا تھا اور شبانہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی تھی۔ اس کے دل میں حاجی فرمان صاحب کے لیے بے حد احترام اور دعا تھی کیونکہ شوہر کی وفات کے بعد اگر کسی نے اس کا سہارا بنایا تھا تو وہ صرف یہی شخص تھا۔

لیکن دوسری طرف حاجی فرمان صاحب ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھے۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ پہلے ہی طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ شبانہ کی عزت کو بھی محفوظ رکھنا چاہتے تھے اور اپنی آخرت کے بارے میں بھی فکر مند تھے۔ ان کے دل میں بار بار یہی خیال آتا کہ اگر وہ اس کی زندگی کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو صرف ایک ہی جائز راستہ ہے اور وہ نکاح ہے۔

کئی راتیں انہوں نے اسی سوچ میں گزار دیں۔ کبھی قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے کبھی اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگتے اور کبھی اپنے دل کو سمجھانے کی کوشش کرتے۔ آخرکار انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر شبانہ راضی ہوئی تو وہ اس سے نکاح کی پیشکش کریں گے کیونکہ وہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔

ایک دن جب بچے اسکول جا چکے تھے، حاجی فرمان صاحب شبانہ کے گھر آئے۔ معمول کی باتوں کے بعد کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر نہایت سنجیدگی سے بولے

شبانہ میں نے ہمیشہ تمہاری عزت کی ہے اور آئندہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔ اگر تم مناسب سمجھو تو میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اور تمہارے بچے عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزاریں۔

یہ الفاظ سن کر شبانہ خاموش ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسے کبھی امید نہیں تھی کہ اتنی بڑی شخصیت اس کے لیے ایسا رشتہ لے کر آئے گی۔ اس نے کچھ دیر سوچا، پھر نظریں جھکا کر اپنی رضا مندی ظاہر کر دی۔

چند دن بعد سادگی کے ساتھ نکاح ہو گیا۔ حاجی فرمان صاحب نے شبانہ سے صرف ایک وعدہ لیا کہ یہ رشتہ کسی کے سامنے ظاہر نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے خاندان میں بے سکونی نہیں چاہتے تھے۔ شبانہ نے بھی ان کی عزت اور اعتماد کی حفاظت کا وعدہ کر لیا۔

اب دونوں ایک نئے رشتے میں بندھ چکے تھے۔ فرمان صاحب پہلے سے زیادہ خوش دکھائی دیتے تھے جبکہ شبانہ کو محسوس ہوتا تھا کہ برسوں بعد اس کی زندگی میں سکون اور تحفظ واپس آ گیا ہے۔

لیکن دوسری طرف ان کی پہلی اہلیہ نسرت بیگم نے اپنے شوہر کے بدلتے ہوئے رویے کو محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہیں حیرت تھی کہ جو شخص ہمیشہ گھر اور خاندان کو وقت دیتا تھا وہ اب اکثر خاموش مصروف اور بے چین رہنے لگا ہے۔

انہیں ابھی حقیقت کا علم نہیں تھا مگر قسمت ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہی تھی جہاں ہر راز ہمیشہ راز نہیں رہنے والا تھا.

نکاح کے بعد حاجی فرمان صاحب کی زندگی میں ایک عجیب سا سکون آ گیا۔ وہ جب بھی شبانہ اور بچوں کے پاس جاتے، انہیں محسوس ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بے سہارا خاندان کی ذمہ داری ان کے سپرد کر کے انہیں ایک نیکی کا موقع عطا کیا ہے۔ وہ شبانہ کو ہمیشہ عزت دیتے اس کی رائے کا احترام کرتے اور بچوں کو اپنی اولاد کی طرح چاہتے تھے۔

رزوان بھی وقت کے ساتھ سمجھدار ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دل لگا کر پڑھائی کرتا اور فرمان صاحب کو اپنے والد کی جگہ عزت دیتا تھا۔ عائشہ اور چھوٹی بہن بھی ان سے بے حد مانوس ہو چکی تھیں۔ جب بھی وہ گھر آتے، بچے خوشی سے ان کے گرد جمع ہو جاتے۔

مگر دوسری طرف فرمان صاحب کے اپنے گھر کا ماحول آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ نسرت بیگم محسوس کر رہی تھیں کہ ان کے شوہر پہلے جیسے نہیں رہے۔ وہ اکثر کسی سوچ میں گم رہتے گھر میں کم وقت گزارتے اور معمول کی باتوں میں بھی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔

ایک رات نسرت بیگم نے ہمت کر کے پوچھ لیا،

آخر بات کیا ہے؟ آپ کئی مہینوں سے بہت بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔ کیا کاروبار میں کوئی پریشانی ہے؟

فرمان صاحب نے مسکرا کر بات ٹال دی مگر ان کے دل پر ایک بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ اس حقیقت کو چھپا کر رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

ادھر شہر میں بھی لوگوں کی باتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔ کچھ لوگ اب بھی شبانہ کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں پھیلاتے تھے لیکن شبانہ ہر بات صبر سے برداشت کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ سچ ایک نہ ایک دن ضرور سامنے آئے گا۔

فرمان صاحب نے ایک دن شبانہ سے کہا،

یاد رکھنا انسان اگر سچائی کے راستے پر ہو تو لوگوں کی باتوں سے نہیں گھبراتا۔ ہمیں صرف اللہ کو جواب دینا ہے دنیا کو نہیں

شبانہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ اسے اپنے شوہر پر پورا یقین تھا لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ راز ہمیشہ راز نہیں رہتے

اور واقعی قسمت ایک ایسا موڑ لینے والی تھی جس کا نہ فرمان صاحب نے تصور کیا تھا اور نہ ہی شبانہ نے

اگلے چند دنوں میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دونوں خاندانوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی.

Part 2اگلے ہی دن صبح سویرے شبانہ اپنے بیٹے رزوان کو ساتھ لے کر حاجی فرمان صاحب کے دفتر پہنچ گئی۔ اتنے بڑے دفتر اور شاندا...
28/07/2026

Part 2
اگلے ہی دن صبح سویرے شبانہ اپنے بیٹے رزوان کو ساتھ لے کر حاجی فرمان صاحب کے دفتر پہنچ گئی۔ اتنے بڑے دفتر اور شاندار ماحول کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ شوہر جس شخص کی ملازمت کرتا تھا، وہ اتنی بڑی شخصیت کا مالک ہوگا۔

کچھ دیر بعد دونوں کو اندر بلایا گیا۔ حاجی فرمان صاحب نے نہایت محبت سے ان کا استقبال کیا اور شوکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، شوکت صرف میرا ڈرائیور نہیں تھا بلکہ ایک ایماندار اور وفادار انسان تھا۔اس کی وفات کا دکھ مجھے بھی اتنا ہی ہے جتنا تم لوگوں کو۔

یہ الفاظ سن کر شبانہ کی آنکھیں بھر آئیں۔

فرمان صاحب نے رزوان سے اس کی پڑھائی کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ غربت کی وجہ سے اس نے اسکول چھوڑ دیا ہے اور اب ورکشاپ میں مزدوری کر رہا ہے۔ یہ سن کر فرمان صاحب کا دل بھر آیا۔

انہوں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ رزوان دوبارہ اسکول جائے گا۔ تمام اخراجات، کتابیں، یونیفارم اور فیس وہ خود ادا کریں گے۔ انہوں نے شبانہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا شوکت کا بیٹا مزدوری کے لیے نہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔

یہ سن کر شبانہ کے دل سے جیسے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔ وہ بار بار دعائیں دیتی رہی مگر فرمان صاحب نے اسے خاموش کراتے ہوئے کہا یہ احسان نہیں اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔ چند دن بعد رزوان کا دوبارہ اسکول میں داخلہ ہو گیا۔ گھر کا راشن بھی باقاعدگی سے آنے لگا۔

ہر ہفتے گاڑی بھر کر آٹا، چاول، دالیں، سبزیاں، گوشت اور بچوں کی ضرورت کا سامان ان کے گھر پہنچ جاتا۔ کئی مہینوں بعد پہلی بار شبانہ کے بچوں کے چہروں پر خوشی دکھائی دینے لگی۔ رزوان پھر سے پڑھائی میں دل لگانے لگا جبکہ چھوٹی بہنیں بھی بہتر زندگی گزارنے لگیں۔

فرمان صاحب کبھی کبھار خود بھی ان کے گھر چلے جاتے۔ وہ بچوں کا حال پوچھتے ان کی پڑھائی کے بارے میں جانتے اور ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ شبانہ انہیں اپنا سب سے بڑا خیرخواہ سمجھنے لگی۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایک تبدیلی آہستہ آہستہ فرمان صاحب کے دل میں بھی پیدا ہونے لگی۔ وہ جب بھی شبانہ کے گھر سے واپس آتے اس کا اداس چہرہ بچوں کی معصوم باتیں اور اس کی بے بسی بار بار ان کے ذہن میں گردش کرتی رہتی۔

انہیں خود بھی احساس نہیں ہو رہا تھا کہ ہمدردی کب دل کی ایک نئی کیفیت میں بدلنے لگی ہے. وقت گزرتا گیا اور حاجی فرمان صاحب کی مہربانیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اب وہ صرف راشن بھیجنے تک محدود نہیں رہے تھے بلکہ بچوں کی تعلیم، کپڑوں اور ہر ضرورت کا خیال بھی رکھتے تھے۔

رزوان اور اس کی بہنیں دوبارہ ایک معمول کی زندگی گزارنے لگے تھے جبکہ شبانہ ہر نماز میں فرمان صاحب کے لیے دعائیں مانگتی تھی۔

آہستہ آہستہ فرمان صاحب کا شبانہ کے گھر آنا جانا بھی بڑھ گیا۔ ابتدا میں وہ صرف بچوں کا حال پوچھنے آتے تھے لیکن اب وہ کچھ دیر بیٹھ کر شبانہ سے بھی باتیں کرنے لگے۔ شبانہ انہیں ایک محسن اور ہمدرد انسان سمجھتی تھی جبکہ فرمان صاحب محسوس کرنے لگے تھے کہ ان کے دل میں ہمدردی سے بڑھ کر بھی کچھ جنم لے چکا ہے۔

ادھر محلے والوں نے بھی ان کی آمد و رفت کو نوٹ کرنا شروع کر دیا۔ کچھ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں بنانا شروع کر دیں۔ عورتیں شبانہ کو دیکھ کر سرگوشیاں کرتیں

جبکہ بچے بھی اس کے بچوں سے پہلے جیسا میل جول نہیں رکھتے تھے۔ شبانہ ان باتوں سے بہت پریشان رہنے لگی مگر اس نے کبھی فرمان صاحب سے شکایت نہ کی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایک نیک انسان جو صرف اس کی مدد کر رہا تھا لوگوں کی باتوں کی وجہ سے بدنام ہو۔

چند ہی دن بعد ایک اور مصیبت آن کھڑی ہوئی۔ مکان مالک نے محلے والوں کی شکایتوں سے تنگ آ کر شبانہ کو گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ یہ خبر سنتے ہی شبانہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے پاس نہ نیا گھر لینے کے پیسے تھے نہ سامان منتقل کرنے کی طاقت۔ وہ پوری رات روتی رہی اور آخرکار ہمت کر کے فرمان صاحب کو فون کر دیا

فرمان صاحب فوراً اس کے گھر پہنچ گئے۔ شبانہ نے روتے ہوئے ساری بات بتائی۔ اس کے آنسو دیکھ کر فرمان صاحب کا دل بھر آیا۔ انہوں نے اسے تسلی دی اور کہا

جب تک میں زندہ ہوں تمہیں اور تمہارے بچوں کو کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی وقت انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ شبانہ اور اس کے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ گھر میں منتقل کر دیا جائے گا۔چند ہی دنوں میں نیا گھر خرید لیا گیا۔ سامان بھی منتقل ہو گیا اور بچوں کے چہروں پر دوبارہ خوشی لوٹ آئی

لیکن اس سارے عرصے میں فرمان صاحب کے دل کی کیفیت بدل چکی تھی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ اب وہ صرف ہمدردی کی وجہ سے شبانہ کی مدد نہیں کر رہے بلکہ ان کے دل میں اس کے لیے ایک گہری محبت پیدا ہو چکی ہے

اب ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا وہ اپنے دل کی بات شبانہ کے سامنے رکھیں، یا ہمیشہ اسے اپنے دل ہی میں چھپا کر رکھیںا

Address

Muscat
112

Telephone

+96895271291

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ekta Rani Storys posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ekta Rani Storys:

Shortcuts

Share

Category