Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “

Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist  سینہ و تبدق سپیشلسٹ “ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “, Medical and health, Bahawalpur.

جدید طبی اور سائنسی ابحاث کے مطابق، یہ تصور بالکل بے بنیاد ہے کہ دودھ پینے سے جسم میں ریشہ (mucus) بنتا ہے۔ کلینیکل ٹرائ...
06/06/2026

جدید طبی اور سائنسی ابحاث کے مطابق، یہ تصور بالکل بے بنیاد ہے کہ دودھ پینے سے جسم میں ریشہ (mucus) بنتا ہے۔ کلینیکل ٹرائلز اور سائنسی شواہد سے ثابت ہے کہ دودھ کا استعمال نظامِ تنفس میں ریشے کی مقدار، پیداوار یا اس کے گاڑھے پن میں قطعی طور پر کوئی اضافہ نہیں کرتا۔
اصل میں یہ ایک حسیاتی مغالطہ (sensory illusion) ہے۔ جب دودھ کے چربیالے اجزاء اور پروٹین ہمارے لعابِ دہن (saliva) کے ساتھ ملتے ہیں، تو ایک خاص قسم کا عارضی محلول بنتا ہے۔ یہ گاڑھا مائع حلق کی جھلی پر ایک ہلکی سی تہہ جما دیتا ہے، جسے انسان غلطی سے ریشہ یا بلغم سمجھ لیتا ہے۔
چنانچہ، نزلہ، زکام یا کھانسی کے دوران بھی دودھ پینا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک اس بیماری کے دوران دودھ کو غذا سے خارج کرنے کا کوئی سائنسی یا علاجی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ یہ سانس کی نالیوں میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنتا۔
جی ہاں، کچھ لوگوں کو ڈیری مصنوعات (دودھ سے بنی اشیاء) سے الرجی ضرور ہوتی ہے۔
طبی اصطلاح میں اسے Milk Allergy" یا Lactose Intolerance"لیکٹوز ہضم نہ ہونا) کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو دودھ پینے سے پیٹ میں درد، گیس، مروڑ، موشن یا جلد پر خارش جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ ایک بالکل الگ طبی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق بھی ریشہ یا بلغم بننے سے نہیں ہوتا۔

01/06/2026

1 مئی کو عالمی یومِ انسدادِ تمباکو (World No To***co Day) منایا جاتا ہے تاکہ تمباکو نوشی کے مہلک اثرات سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دائمی سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے بعد جسم خود کو بتدریج بحال کرنا شروع کر دیتا ہے، پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور سنگین بیماریوں کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ چھوڑنے کے لیے پختہ ارادہ، اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی، نقصان دہ عادات سے دوری اور طبی رہنمائی نہایت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ آئیے اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کے تحفظ کے لیے تمباکو نوشی سے پاک زندگی اپنانے کا عہد کریں

پرندے پالنے کا شوق اور ہمارے پھیپھڑے !!!کچھ لوگ پرندے پالنے کے شوقین ہوتے ہیں جن کو برڈ فینسئیر کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے...
23/05/2026

پرندے پالنے کا شوق اور ہمارے پھیپھڑے !!!

کچھ لوگ پرندے پالنے کے شوقین ہوتے ہیں جن کو برڈ فینسئیر کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے
کہ ہر شوق کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے تو پرندے پالنے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ پرندوں کے پروں اور فضلے میں کچھ خاص زرات/جراثیم/اینٹی جن ہوتے ہیں جو کہ پھیپھڑوں کی ایک خاص بیماری کا سبب بنتے ہیں جس کو ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری شروع شروع میں اتنی ہلکی ہوسکتی ہے کہ نہ تو مریض کو بروقت پتہ چل جاتا ہے اور نہ علاج کرنے والے ڈاکٹر کو۔ مریض اکثر ہلکی کھانسی، بخار، جسم میں درد، سانس لینے میں دشواری اور تھکاوٹ کی شکایت کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے جس کو عام نزلہ زکام کے طور پر لیا جاتا ہے۔دوائیوں سے وقتی آرام آنے کی صورت میں مریض اور معالج دونوں مطمئن ہو جاتے لیکن کچھ عرصہ بعد دوبارہ یہی مسئلہ سر اٹھاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے۔ اکثر صحیح تشخیص/ڈائیگنوسس تک پہنچنے میں اتنا وقت ضائع ہوجاتا ہے کہ مرض ناقابل علاج ہوجاتا ہے اور پھیپھڑے سکڑجاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے سکڑنے کی وجہ سے بدن کو آکسیجن کی سپلائی متاثر ہوجاتی ہے جس کا اثر پھیپھڑوں میں موجود خون کی شریانوں پر بھی پڑ جاتا ہے۔ خون کی شریانوں میں خون کا پریشر بڑھ جاتا ہے جس کو پلمونری ہائیپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔پلمونری ہائیپر ٹینشن کی وجہ سے دل کے دائیں جانب پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور آخر کار دل کا دائیاں طرف فیل ہو جاتا ہے۔ایسی حالت کو پھر کارپلمونیل کہا جاتا ہے

پرندوں کے علاوہ ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کے دیگر وجوہات بھی ہیں ۔ چند قابل ذکر وجوہات / پیشہ جات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ زمیندارہ/فارمنگ/زراعت سے وابستہ شعبہ۔
زمینداروں اور زراعت سے وابستہ دیگر افراد میں ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی سب سے بڑی وجہ فنگس زدہ گھاس پھوس اور بھوسہ ہے
2۔ جانوروں کے ڈاکٹرز/پیرامیڈکس اور دوسرے ورکرز
3۔ غلہ/اناج کا کاروبار کرنے والے افراد اور آٹا ملز ورکرز، بیکری بنانے والے افراد۔
4۔ کباڑ کا کام کرنے والے لوگ، کاغذ اور وال بورڈ بنانے والے کارکن
5۔ پلاسٹک کی مصنوعات بنانے والے، پنیٹرز
6۔ دھاتی آلات بنانے والے وہ افراد جو دھاتی پانی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔
7۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد۔

لٹریچر میں ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کے تقریبا تین سو سے زیادہ وجوہات بیان کیے گئے ہیں جن میں سے چند قابل ذکر اوپر بیان کیے گئے۔

ہائپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس پھیپھڑوں کی ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسانی بدن کے اپنے ہی دفاعی نظام کی وجہ سے پھیپھڑوں کے نالیوں، ہوا کی جھلیوں(الویلائی ) اور انٹرسٹیشیم(پھیپھڑوں کا وہ حصہ جو پھیپھڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے ) میں انفلیمیشن ہوجاتی ہے۔ یہ انفلیمیشن جن زرات کی وجہ سے ہوتی ہے ان کو اینٹی جن کہا جاتا ہے اور ان کا سائز عام طور پر 5 مائکرو میٹر سے کم ہوتا ہے۔ یہ اینٹی جن تو تقریبا ہر جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن ہر وقت ہر کسی کو ان سے یہ بیماری نہیں ہوجاتی۔ ۔

علامات۔

اس بیماری کو عام طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1 ۔شدید(اکیوٹ )
2 ۔قدرے شدید(سب اکیوٹ )
3۔ دائمی(کرانک )

1۔ شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس اینٹی جن کو ایکسپوز ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد وقوع پذیر ہو جاتا ہے اور اگر مریض اینٹی جن سے دور ہوجائے تو آہستہ آہستہ بیماری کے اثرات ختم ہو جاتی ہیں حتی کہ 12 گھنٹوں کے بعد بالکل ختم ہوجاتی ہیں اور مریض ٹھیک ہوجاتا ہے۔لیکن کبھی کبھار یہ علامات کئی دنوں تک برقرار رہتی ہیں۔ اور اگر مریض دوبارہ ایسے ماحول میں چلا جائے جہاں یہ اینٹی جن موجود ہو تو دوبارہ بھی شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس ہوسکتا ہے۔

شدید ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی صورت میں مریض کو شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تیز بخار سردی کے ساتھ، جسم میں شدید درد، سر درد، سینے میں تنگی اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

2/3۔ سب اکیوٹ/دائمی ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس۔ غیر محسوس طور پر/ آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہونے والی بلغمی کھانسی، سانس کا پھول جانا اور تھکاوٹ جس میں ہفتے بلکہ کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ بھوک کا نہ لگنا اور وزن کی کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔۔

تشخیص اور علاج۔

ہائیپر سینسیٹیوٹی نمونائیٹس کی بروقت تشخیص میں ہی اس کا علاج پوشیدہ ہے۔جتنا جلدی اس بیماری کی تشخیص کی جائے اور متعلقہ اینٹی جن کو ہٹایاجائے تو بیماری نہ صرف یہ کنٹرول کی جاسکتی ہے بلکہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جائے تو بیماری کا علاج نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں کے سکڑنے کی صورت میں۔ بروقت تشخیص کے لئے مریض کی تفصیلی ہسٹری لینے کے بعد ایکسرے اور کچھ دوسرے ٹیسٹ مثلا سپائرومیٹری اور سی ٹی سکین وغیرہ کروائے جاتے ہیں

29/01/2026
انفلوئنزا اے (H3N2) کی علامات — عوامی آگاہیانفلوئنزا اے (H3N2) ایک وائرل انفیکشن ہے جو تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی عام ع...
18/12/2025

انفلوئنزا اے (H3N2) کی علامات — عوامی آگاہی

انفلوئنزا اے (H3N2) ایک وائرل انفیکشن ہے جو تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی عام علامات درج ذیل ہو سکتی ہیں:

اہم علامات:
• شدید سر درد
• تیز بخار
• کھانسی
• سانس لینے میں دشواری یا دمہ جیسی علامات
• جسم میں شدید درد
• بھوک میں کمی
• گلے میں درد جو بعض اوقات سینے تک پھیل جاتا ہے

بیماری کا دورانیہ:
• کچھ مریض 4–5 دن میں بہتر ہو جاتے ہیں
• زیادہ تر افراد کو صحت یاب ہونے میں تقریباً 15 دن لگ سکتے ہیں

علامات کی شدت مختلف ہو سکتی ہے، اس کا انحصار:
• جسم کی قوتِ مدافعت
• دمہ یا دیگر پرانی بیماریوں
• عمر
• غذائیت
• ذہنی دباؤ
• پہلے سے وائرس سے سامنا (Previous exposure)

فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اگر:
• سانس لینے میں شدید مشکل ہو
• سانس کے ساتھ سینے میں درد ہو
• بخار 5 دن سے زیادہ رہے
• شدید پانی کی کمی ہو
• آکسیجن لیول کم ہو جائے یا مریض کو الجھن (confusion) ہو

⚠️ احتیاط اور بروقت علاج پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اِشفاق الیاس

‏MBBS,FCPS (pulmonology)
چیسٹ سپیشلسٹ
دمہ ،الرجی ،ٹی بی سپیسلسٹ

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Ishfaq Ilyas —Chest specialist سینہ و تبدق سپیشلسٹ “ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share