06/06/2026
جدید طبی اور سائنسی ابحاث کے مطابق، یہ تصور بالکل بے بنیاد ہے کہ دودھ پینے سے جسم میں ریشہ (mucus) بنتا ہے۔ کلینیکل ٹرائلز اور سائنسی شواہد سے ثابت ہے کہ دودھ کا استعمال نظامِ تنفس میں ریشے کی مقدار، پیداوار یا اس کے گاڑھے پن میں قطعی طور پر کوئی اضافہ نہیں کرتا۔
اصل میں یہ ایک حسیاتی مغالطہ (sensory illusion) ہے۔ جب دودھ کے چربیالے اجزاء اور پروٹین ہمارے لعابِ دہن (saliva) کے ساتھ ملتے ہیں، تو ایک خاص قسم کا عارضی محلول بنتا ہے۔ یہ گاڑھا مائع حلق کی جھلی پر ایک ہلکی سی تہہ جما دیتا ہے، جسے انسان غلطی سے ریشہ یا بلغم سمجھ لیتا ہے۔
چنانچہ، نزلہ، زکام یا کھانسی کے دوران بھی دودھ پینا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک اس بیماری کے دوران دودھ کو غذا سے خارج کرنے کا کوئی سائنسی یا علاجی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ یہ سانس کی نالیوں میں رکاوٹ کا سبب نہیں بنتا۔
جی ہاں، کچھ لوگوں کو ڈیری مصنوعات (دودھ سے بنی اشیاء) سے الرجی ضرور ہوتی ہے۔
طبی اصطلاح میں اسے Milk Allergy" یا Lactose Intolerance"لیکٹوز ہضم نہ ہونا) کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو دودھ پینے سے پیٹ میں درد، گیس، مروڑ، موشن یا جلد پر خارش جیسی شکایات ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ ایک بالکل الگ طبی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق بھی ریشہ یا بلغم بننے سے نہیں ہوتا۔