Govt. Doctors Council

Govt. Doctors Council This group is about Govt. medical graduates all over the Punjab. We will raise voice for our rights. Together, We will rise.

Central Induction Policy 2026 needs urgent review. Adding attempt-based marks is unfair and discourages merit. Selection...
18/05/2026

Central Induction Policy 2026 needs urgent review. Adding attempt-based marks is unfair and discourages merit. Selection should reflect competence, not number of attempts.

Join us today at sharp 6 pm on xWe’re going to make our final push before the next induction process begins.Use the hash...
18/05/2026

Join us today at sharp 6 pm on x
We’re going to make our final push before the next induction process begins.
Use the hashtag:

پریس ریلیزہم، اسپیشل پے پیکیج کے تحت تعینات ہونے والے ڈاکٹرز، عوام اور میڈیا کے ذریعے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں...
15/05/2026

پریس ریلیز

ہم، اسپیشل پے پیکیج کے تحت تعینات ہونے والے ڈاکٹرز، عوام اور میڈیا کے ذریعے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

ہمارے اس اسپیشل پے پیکیج کا تیسرا ماہ شروع ہو رہا ہے، مگر تاحال ہمیں کوئی تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

وقتِ تقرری پر ہمیں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ یہ نیا اسپیشل پے پیکیج ڈاکٹرز کے لیے فائدہ مند ہوگا، جس کے تحت تنخواہ کی ادائیگی براہِ راست مرکز سے کی جائے گی اور لوکل فنانس ڈیپارٹمنٹ کے طریقہ کار کو بائی پاس کیا جائے گا۔ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تنخواہ ہمیں براہِ راست ادا کی جائے گی، جیسے مریم نواز ہیلتھ کلینکس میں ادائیگی کا نظام ہے۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

اس وقت تنخواہ کی ادائیگی کے چینل سے متعلق کوئی واضح پلان موجود نہیں ہے، اور کوئی بھی حکام اس حوالے سے واضح جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اب سی ای او کی جانب سے ہمیں تنخواہ قسطوں میں وصول کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ نصف تنخواہ ابھی وصول کر لیں، جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کا کوئی مقررہ وقت اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

قانونی طور پر بھی یہ عمل قابلِ قبول نہیں ہے۔ پنجاب سول سرونٹس رولز 1974 کے رول 17.1 کے تحت تنخواہ اگلے ماہ کے پہلے کاروباری دن پر واجب الادا ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال اس قانون کی بھی خلاف ورزی ہے

مزید برآں، محکمہ اب اسی اسپیشل پے پیکیج کے تحت 1000 نئے ڈاکٹرز کی تعیناتی کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ زمینی سطح پر پہلے سے تعینات ڈاکٹرز کو ابھی تک تنخواہ موصول نہیں ہوئی۔ اس صورتحال کے باعث موجودہ ڈاکٹرز اس نئے اسپیشل پے پیکیج کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ہم حکومت اور عوام کی بلا تعطل خدمت کر رہے ہیں، لیکن اگر ہمیں بروقت اور مکمل تنخواہ نہ ملی تو ہم میں شدید مایوسی پھیلے گی، جس کا براہِ راست اثر مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑے گا۔

اس غیر واضح اور غیر یقینی پالیسی سے ہمارے اندر شدید عدم تحفظ پیدا ہو گیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

1-تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ایک واضح، شفاف اور باقاعدہ نظام فوری طور پر وضع کیا جائے، جس میں براہِ راست ادائیگی کا طریقہ کار شامل ہو۔
2-ڈاکٹرز کو مکمل تنخواہ بروقت اور بغیر کسی تاخیر کے ادا کی جائے، تاکہ پنجاب سول سرونٹس رولز 1974 کے رول 17.1 پر عمل ہو سکے۔
3-اسپیشل پے پیکیج کے تحت ادائیگی کے طریقہ کار اور چینل کو تحری طور پر واضح کیا جائے۔
4-نئی بھرتی سے قبل موجودہ ڈاکٹرز کے بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری نوٹس لے کر اس مسئلے کو حل کریں تاکہ ڈاکٹرز بلا تعطل اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔

جاری کردہ:
اسپیشل پے پیکیج کے تحت تعینات ڈاکٹرز

12/05/2026

ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں جس میں ایک خاتون ڈاکٹر کو سرِعام توہین اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے رویے نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے طبی شعبے کی تذلیل ہیں۔ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹر پہلے ہی شدید دباؤ، وسائل کی کمی اور ناقص نظام کے باوجود مریضوں کی جان بچانے میں مصروف ہیں، اس لیے ان کے ساتھ عزت اور پیشہ ورانہ احترام سے پیش آنا ہر ادارے اور افسر کی ذمہ داری ہے۔

یک ڈاکٹر سے اس قدر توہین آمیز انداز میں بات کرے، جبکہ اسے میڈیکل فیلڈ کی الف ب بھی معلوم نہیں۔ ہسپتالوں کے انتظامی مسائل اور ناقص مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے بجائے — جن سے خود ڈاکٹر بھی شدید پریشان ہیں — وہ ایک ڈیوٹی پر موجود خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کر رہا ہے، وہ بھی ایسے صوبے میں جہاں وزیرِ اعلیٰ خود ایک خاتون ہیں، اور ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کا کام کرنا پہلے ہی بے شمار مشکلات کا شکار ہے۔

سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ڈاکٹر اور مریض کا تناسب کیا ہے، اور آبادی کے مقابلے میں طبی سہولیات کتنی ناکافی ہیں۔ ڈاکٹر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی تعلیم، تربیت اور تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے کہ کس مریض کو واقعی سی ٹی اسکین یا دیگر ٹیسٹوں کی ضرورت ہے۔ اگر کسی گاؤں کے عطائی، کمپاؤنڈر یا نام نہاد معالج نے ایک پرچی پر “CT Scan” لکھ دیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت وہ ٹیسٹ ضروری ہو گیا۔ اکثر ایسے لوگ اپنی نااہلی چھپانے اور اپنی ساکھ بچانے کیلئے مریضوں کو بلاوجہ THQ اور DHQ ہسپتال ریفر کر دیتے ہیں۔

مریضوں کو سی ٹی اسکین یا دیگر ٹیسٹوں سے پہلے مختلف کمروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، کہیں دستخط، کہیں مہر، کہیں سلپ اور کہیں دوائی لینے کیلئے۔ یہ تمام انتظامی رکاوٹیں ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہیں ہیں۔ یہ کام ہسپتال انتظامیہ اور خاص طور پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کی ذمہ داری ہے کہ وہ سسٹم کو بہتر بنائے اور مریضوں کیلئے آسانی پیدا کرے، نہ کہ پہلے سے دباؤ کا شکار فرنٹ لائن ڈاکٹروں کو ذلیل کیا جائے۔

زمین پر آ کر حقائق دیکھیں، تب اندازہ ہوگا کہ ڈاکٹر کن حالات میں روزانہ مریضوں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

Hearing Update – 29/01/2026Despite raising multiple grievances, the Secretariat has responded in an extremely superficia...
29/01/2026

Hearing Update – 29/01/2026

Despite raising multiple grievances, the Secretariat has responded in an extremely superficial and unsatisfactory manner. Their reply contains no supporting evidence, data, or solid justification and fails to address the core issues raised by the petitioners.
We have submitted a comprehensive rebuttal to all their illogical explanations. More than 40 affected candidates submitted their grievances on the dates officially issued by the Secretariat; however, they falsely stated before the Court that no one appeared for grievance submission.
We have now provided the Court with all relevant diary numbers, and the original receipts will be submitted tomorrow as well. Additionally, a detailed written response addressing each misleading statement of the Secretariat has been prepared.
We sincerely hope and pray that justice will prevail and that matters will turn in our favor.

Next hearing: 30/01/2026

















28/01/2026

Candidates who obtained admission to their parent institute purely on merit and subsequently completed MBBS with high academic scores deserve recognition for institutional continuity and loyalty. In almost all developed systems worldwide, including the UK and USA, local graduates are given preference over external or foreign graduates. Denying parent institute marks contradicts international norms and discourages institutional academic progression.
















27/01/2026

Removal of periphery marks is unjust it ignores years of service and dedication






27/01/2026

Central Induction Policy (CIP) 2026, which in its current structure is not merit-based and has caused widespread injustice to deserving medical graduates across the country.
Merit should reflect fair academic evaluation, transparency, and equal opportunity







27/01/2026

'Policy 2026 is against merit. Removing academic marks like Matric and FSc ignores years of consistent hard work. At the same time, increasing the weightage of MBBS marks is unfair, because marking standards differ across universities.
















Address

Bahawalpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt. Doctors Council posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category