29/03/2026
EEG (جسے اردو میں دماغی برق نگارش کہا جاتا ہے) ایک ایسا طبی ٹیسٹ ہے جو دماغ کی برقی سرگرمی (electrical activity) کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نیچے EEG کے بارے میں آسان اور اہم معلومات دی گئی ہیں:
EEG کیا ہے؟
ہمارا دماغ ہر وقت چھوٹے چھوٹے برقی سگنلز کے ذریعے کام کرتا رہتا ہے۔ EEG ٹیسٹ میں سر کی جلد (scalp) پر چھوٹے دھاتی ڈسکس لگائے جاتے ہیں، جنہیں الیکٹروڈز (electrodes) کہتے ہیں۔ یہ الیکٹروڈز دماغ کی برقی سرگرمی کو ریکارڈ کر کے کمپیوٹر تک پہنچاتے ہیں، جہاں یہ لہروں (waves) کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔
+2
یہ ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟
ڈاکٹر عام طور پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر یہ ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں:
مرگی (Epilepsy): دوروں کی تشخیص کے لیے یہ سب سے اہم ٹیسٹ ہے۔
نیند کے مسائل: نیند کی خرابیوں کو سمجھنے کے لیے۔
دماغی چوٹ یا انفیکشن: سر پر چوٹ لگنے یا دماغ میں سوزش (encephalitis) کی تشخیص کے لیے۔
دیگر مسائل: یادداشت میں کمی، بے ہوشی کے دورے، یا دماغی افعال میں غیر معمولی تبدیلیوں کی جانچ کے لیے۔
ٹیسٹ کا طریقہ کار
یہ ایک درد سے پاک (painless) اور محفوظ ٹیسٹ ہے۔ اس سے کسی قسم کا کرنٹ نہیں لگتا، کیونکہ الیکٹروڈز صرف سگنلز ریکارڈ کرتے ہیں، بجلی خارج نہیں کرتے۔
+1
ٹیکنیشن سر پر الیکٹروڈز لگانے کے لیے ایک خاص جیل کا استعمال کرتے ہیں۔
ٹیسٹ کے دوران مریض کو سکون سے لیٹنے یا بیٹھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹر آپ کو گہری سانس لینے یا چمکتی ہوئی روشنیوں (flashing lights) کو دیکھنے کا کہہ سکتے ہیں تاکہ دماغ کی سرگرمی کو واضح کیا جا سکے۔
عام طور پر اس میں 20 سے 40 منٹ لگتے ہیں۔
ٹیسٹ سے پہلے تیاری
اپنے بالوں کو ٹیسٹ سے ایک رات پہلے یا ٹیسٹ والے دن اچھی طرح دھو لیں تاکہ سر کی جلد پر تیل یا جیل نہ ہو۔
اگر آپ کوئی دوائی (خاص طور پر دوروں یا نیند کی) باقاعدگی سے لے رہے ہیں، تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
اگر ڈاکٹر نے آپ کو خاص طور پر نیند سے محروم رہ کر (sleep-deprived) ٹیسٹ کروانے کا کہا ہے، تو اس ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔