Professor Dr Raza Muhammad Khan , Medical Specialist, DHQ Bannu

  • Home
  • Pakistan
  • Bannu
  • Professor Dr Raza Muhammad Khan , Medical Specialist, DHQ Bannu

Professor Dr Raza Muhammad Khan , Medical Specialist, DHQ Bannu As Medicine Speciality Related common Diseases and Problems of our Community

28/07/2026

عالمی یومِ ہیپاٹائٹس World's Hepatitis Day 28th July | اہم عوامی پیغام
​ہیپاٹائٹس جگر کا خاموش قاتل ہے، لیکن احتیاط اور بروقت علاج سے اس پر قابو ممکن ہے!

​ بچاؤ کی 4 آسان باتیں:
1️⃣ ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں۔
2️⃣ حجام سے نئے بلیڈ کا تقاضا کریں۔
3️⃣ پانی ابال کر پیئیں۔
4️⃣ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین اور سکریننگ لازمی کروائیں۔

​ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دستیاب ہے اور ہیپاٹائٹس سی کا مکمل علاج ممکن ہے!


​ ہیپاٹائٹس سے آگاهی: خاموش بیماری، ممکن علاج!
​کیا آپ نے اپنا ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کروایا ہے؟
پاکستان میں لاکھوں افراد اس بیماری سے ناواقف ہیں کیونکہ اس کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔

​ خود کو اور اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھیں:
• نئی سرنج: ہر بار نئی اور ڈسپوزیبل سرنج استعمال کریں۔
• حجام اور ڈینٹل اوزار: ہمیشہ جراثیم سے پاک (Sterilized) اوزاروں کی تسلی کریں۔
• حفاظتی ٹیکے: بچوں اور بڑوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لازمی لگوائیں۔
• پاک پانی: صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں۔

​ یاد رکھیں: ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ ممکن ہے اور ہیپاٹائٹس سی قابلِ علاج ہے!

​محفوظ بنوں — خوشحال پاکستان

پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان
میڈیکل سپیشلسٹ، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، بنوں

28/07/2026

🔴 عالمی یومِ ہیپاٹائٹس World's Hepatitis Day 28th July | اہم عوامی پیغام 🔴
​ہیپاٹائٹس جگر کا خاموش قاتل ہے، لیکن احتیاط اور بروقت علاج سے اس پر قابو ممکن ہے!
​✅ بچاؤ کی 4 آسان باتیں:
1️⃣ ہمیشہ نئی سرنج کا استعمال کریں۔
2️⃣ حجام سے نئے بلیڈ کا تقاضا کریں۔
3️⃣ پانی ابال کر پیئیں۔
4️⃣ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین اور سکریننگ لازمی کروائیں۔

​ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دستیاب ہے اور ہیپاٹائٹس سی کا مکمل علاج ممکن ہے!


​📌 ہیپاٹائٹس سے آگاهی: خاموش بیماری، ممکن علاج!
​کیا آپ نے اپنا ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کروایا ہے؟
پاکستان میں لاکھوں افراد اس بیماری سے ناواقف ہیں کیونکہ اس کی علامات دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔

​🛡️ خود کو اور اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھیں:
• نئی سرنج: ہر بار نئی اور ڈسپوزیبل سرنج استعمال کریں۔
• حجام اور ڈینٹل اوزار: ہمیشہ جراثیم سے پاک (Sterilized) اوزاروں کی تسلی کریں۔
• حفاظتی ٹیکے: بچوں اور بڑوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لازمی لگوائیں۔
• پاک پانی: صاف اور ابلا ہوا پانی استعمال کریں۔

​💡 یاد رکھیں: ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ ممکن ہے اور ہیپاٹائٹس سی قابلِ علاج ہے!

​محفوظ بنوں — خوشحال پاکستان 🇵🇰

​پیغام منجانب:
پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان
میڈیکل سپیشلسٹ، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، بنوں

عام عوامی آگاہی پیغام: تھائرائڈ کی بیماریاں، علامات، تشخیص اور جدید طبی رہنمائی:​( پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان، میڈیکل اس...
27/07/2026

عام عوامی آگاہی پیغام:
تھائرائڈ کی بیماریاں، علامات، تشخیص اور جدید طبی رہنمائی:

​( پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان، میڈیکل اسپیشلسٹ، ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں / بی ایم سی بنوں)

​تھائرائڈ (Thyroid) گردن کے نچلے حصے میں تتلی کی شکل کی ایک انتہائی اہم گلینڈ (غدود) ہے جو جسم کے میٹابولزم (توانائی کے نظام)، دل کی دھڑکن، وزن، اور موڈ کو کنٹرول کرتی ہے۔

جدید میڈیکل گائیڈ لائنز کے مطابق، پاکستان میں خصوصاً خواتین میں تھائرائڈ کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن کی بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔

​۱. اہم علامات اور نشانیاں (Common Symptoms & Signs):

​تھائرائڈ کی بیماریاں بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں:

​الف) تھائرائڈ کی سستی (Hypothyroidism - کم ہارمون بننا):
1- ​سستی اور تھکاوٹ: ہر وقت تھکن محسوس ہونا اور سستی چھائے رہنا۔
2- ​وزن کا بڑھنا: کم کھانے کے باوجود غیر معمولی طور پر وزن بڑھنا۔
3- ​سردی زیادہ لگنا: معمولی ٹھنڈ بھی برداشت نہ ہونا۔
4- ​جلد کا خشک ہونا اور بال گرنا: بالوں کا پتلا ہونا اور جلد میں خشکی۔
5- ​قبض اور سوجن: مسلسل قبض اور چہرے یا ٹانگوں پر سوجن (پفینس Puffiness)۔
6- ​ڈپریشن اور بھولنے کی بیماری: موڈ میں تبدیلی اور ذہن کا سست ہونا۔
7- ​حیض کی خرابی: خواتین میں ماہواری کا غیر منظم یا زیادہ ہونا۔

​ب) تھائرائڈ کی تیز رفتاری (Hyperthyroidism - زیادہ ہارمون بننا):
1- ​وزن کا تیزی سے کم ہونا: اچھی خوراک کے باوجود وزن گھٹنا۔
2- ​دل کی دھڑکن کا تیز ہونا: دل ڈوبنا یا تیز دھڑکنا (Palpitations)۔
3- ​گرمی زیادہ لگنا: شدید پسینہ آنا اور گرمی برداشت نہ ہونا۔
4- ​ہاتھوں میں کپکپاہٹ: انگلیوں یا ہاتھوں کا کانپنا (tremors)۔
5- ​بے چینی اور غصہ: نیند نہ آنا، گھبراہٹ اور چڑچڑاپن۔
6- ​آنکھوں کا ابھرنا: کچھ مریضوں میں آنکھیں باہر کی طرف ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

​ج) گلے میں سوجن یا گلڑ (Goiter / Thyroid Nodules):
​گردن کے سامنے والے حصے میں سوجن یا گانٹھ محسوس ہونا، جس سے نگلنے یا سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

​۲. اسکریننگ اور تشخیصی ٹیسٹ (Screening Tests):

​تھائرائڈ کی بیماری کی تصدیق کے لیے مندرجہ ذیل ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں:

​TSH (Thyroid Stimulating Hormone):-1
سب سے بنیادی اسکریننگ ٹیسٹ ہے TSH کا زیادہ ہونا سستی کو(Hypo) اور کم ہونا تیز رفتاری کو (Hyper)ظاہر کرتا ہے)۔
​Free T3 اور Free T4: -2 ہارمونز کی دقیق مقدار معلوم
کرنے کے لیے۔
3- ​اینٹی باڈی ٹیسٹ (Anti-TPO Antibodies): یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا بیماری مدافعتی نظام (Autoimmune) کی خرابی کی وجہ سے ہے یا نہیں۔
4- ​تھائرائڈ الٹراساؤنڈ (Ultrasound Neck): اگر گردن میں سوجن، گانٹھ یا نوڈیول ہو تو اس کی ساخت اور سائز معلوم کرنے کے لیے۔
4- ​ایف این اے سی (FNAC / Biopsy): اگر غدود میں کوئی مشکوک گانٹھ ہو تو باریک سوئی کے ذریعے نمونہ لے کر معائنہ کیا جاتا ہے۔

​۳. علاج نہ کروانے کی صورت میں پیچیدگیاں (Complications):

​تھائرائڈ کے مرض کو نظر انداز کرنے سے شدید طبی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

1- ​دل کے امراض: دل کا دورہ، بلڈ پریشر میں توازن کا بگڑنا، اور ہارٹ فیلئر۔
2- ​بانجھ پن (Infertility): خواتین اور مردوں میں بانجھ پن اور حمل ٹھہرنے میں دشواری۔
3- ​حمل کی پیچیدگیاں: دورانِ حمل علاج نہ ہونے سے اسقاطِ حمل (Miscarriage) یا بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔
4- ​ہڈیوں کی کمزوری (Osteoporosis): تھائرائڈ ہارمون کی زیادہ مقدار سے ہڈیاں بھربھری اور کمزور ہو جاتی ہیں۔
5-​مائیکسیڈیما کوما(Myxedemic Coma) / تھائرائڈ اسٹارم(Thyroid Storm): مرض کے آخری مراحل میں جان لیوا ایمرجنسی صورتحال پیدا ہونا۔

​۴. اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟ (When to See a Specialist):

​اگر آپ میں مندرجہ ذیل حالات موجود ہیں تو فوراً میڈیکل اسپیشلسٹ سے رابطہ کریں:
1- ​گلے کے نچلے حصے میں کوئی گانٹھ، سوجن یا ابھار نظر آئے۔
2- ​بغیر کسی واضح وجہ کے وزن تیزی سے بڑھ رہا ہو یا گھٹ رہا ہو۔
3- ​دل کی دھڑکن مسلسل تیز رہے یا بے چینی ختم نہ ہو۔
4- ​خواتین میں ماہواری مسلسل غیر منظم ہو یا حمل ٹھہرنے میں مسئلہ ہو۔
5- ​فیملی میں پہلے سے کسی کو تھائرائڈ کا مرض ہو اور آپ میں علامات ظاہر ہوں۔
6- ​اگر آپ پہلے سے تھائرائڈ کی دوا (مثلاً /Neomercazole etc Levothyroxine/Thyroxin) لے رہے ہیں مگر علامات کنٹرول نہیں ہو رہیں۔

​پیغامِ ہدایت:
"تھائرائڈ کی بیماریاں مکمل طور پر قابلِ علاج اور قابلِ کنٹرول ہیں۔ خود سے ادویات شروع یا بند کرنے کے بجائے ہمیشہ مستند میڈیکل اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔

بروقت اسکریننگ اور باقاعدہ علاج آپ کو ایک صحت مند زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔"
— پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان (ڈی ایچ کیو ہسپتال / بنوں میڈیکل کالج، بنوں)

11/07/2026
03/07/2026

Happy Doctor Day

کالا یرقان: ایک خاموش قاتل!​بنوں کے عوام کے لیے ایک اہم اور ہنگامی طبی پیغام:ہمارے علاقے میں "کالا یرقان" (جسے طبی زبان ...
21/06/2026

کالا یرقان: ایک خاموش قاتل!

​بنوں کے عوام کے لیے ایک اہم اور ہنگامی طبی پیغام:

ہمارے علاقے میں "کالا یرقان" (جسے طبی زبان میں کرونک ہیپاٹائٹس B اور C کہا جاتا ہے) انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس بیماری کے 80% سے زائد مریضوں میں شروع میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے لوگ اپنی انفیکشن سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔

​جب تک مریض کو بیماری کا پتہ چلتا ہے، تب تک جگر شدید متاثر ہو چکا ہوتا ہے اور مریض جان لیوا پیچیدگیوں مثلاً:
جگر کا سکڑ جانا (Cirrhosis)،
پیٹ میں پانی بھر جانا (Ascites)،
خون کی الٹیاں آنا (Upper GI Bleed)
اور
یہاں تک کہ جگر کے کینسر (Hepatocellular Carcinoma) کے ساتھ ہسپتال پہنچتا ہے۔

​عالمی ادارہ صحت (WHO) اور جدید ترین میڈیکل گائیڈ لائنز کے مطابق، اس خاموش قاتل سے بچاؤ اور علاج کے لیے درج ذیل معلومات کا جاننا ہر شہری کے لیے فرض ہے۔

​1۔ یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟ (طریقہ انتقالTransmission):

​کالا یرقان عام چھونے، ہاتھ ملانے، ایک ساتھ کھانے یا اٹھنے بیٹھنے سے ہرگز نہیں پھیلتا، بلکہ یہ خون اور جسمانی رطوبتوں(secretions )کے ذریعے منتقل ہوتا ہے:

-​استعمال شدہ سرنجیں اور سوئیاں:
ایک بار استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال یا نشے کے لیے ایک ہی سوئی کا متعدد افراد میں استعمال۔

-​حجام کی دکانیں:
بال کٹواتے یا شیو بنواتے وقت آلودہ استرے (Blade) کا استعمال۔

-​غیر محفوظ اوزار:
دانتوں کے علاج، سرجری، یا کان اور ناک چھدوانے کے لیے غیر جراثیم کش (Unsterilized) اوزاروں کا استعمال۔

-​ماں سے بچے کو منتقل ہونا(vertical transmission):
حاملہ ماں سے پیدائش کے وقت بچے کو منتقل ہونا۔

-​خون کی منتقلی(transfusion):
بغیر سکریننگ کے خون یا خون کی پروڈکٹس لگوانا۔

-شریک حیات (Spouse)سے ازدواجی رشتہ کے زریعہ سے منتقلی

​- غیر محفوظ جنسی تعلقات

​2۔ ابتدائی اور آخری علامات کیا ہیں؟

​ابتدائی مرحلہ (خاموش دور): عام طور پر کوئی علامت نہیں ہوتی۔ معمولی تھکن، بھوک کی کمی، یا جسم میں سستی رہنا۔

​آخری اور خطرناک مرحلہ (پیچیدگیاں):

-​آنکھوں اور جلد کا شدید زرد ہونا (یرقان)۔

-​پیٹ کا غیر معمولی طور پر پھول جانا اور پانی بھر جانا (Ascites)۔

-​خون کی الٹیاں آنا یا کالے رنگ کے پاخانے آنا (معدے اور خوراک کی نالی سے خون بہنا)۔

-​دماغی توازن کا بگڑنا یا غشی طاری ہونا(Hepatic Encephalopathy)۔

​3۔ تشخیص اور سکریننگ (جدید گائیڈ لائنز کے مطابق):

​چونکہ یہ بیماری خاموش ہوتی ہے، اس لیے واحد حل سکریننگ (بلڈ ٹیسٹ) ہے۔

​سکریننگ ٹیسٹ:
خون کے سادہ ٹیسٹ (HBsAg برائے ہیپاٹائٹس بی اور Anti-HCV برائے ہیپاٹائٹس سی) کے ذریعے سکریننگ کی جاتی ہے۔

​کنفرمیشن ٹیسٹ: اگر سکریننگ ٹیسٹ مثبت (Positive) آ جائے، تو پھر ELISA پرکنفرم کیا جاتا یے۔ پھر PCR ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

جگر کے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے Ultrasound اور جدید طریقوں (جیسے Fibroscan یا APRI Score) کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ فوری علاج شروع کیا جا سکے۔

4۔ سکریننگ (ٹیسٹ) کس کو کروانی چاہیے؟

​چونکہ اس بیماری کی ابتدائی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اس لیے درج ذیل افراد کو لازمی سکریننگ کروانی چاہیے:

-​ہر وہ شخص جس نے زندگی میں کبھی خون لگوایا ہو یا جس کا کوئی آپریشن/دانت کا علاج ہوا ہو۔

-​حاملہ خواتین (تاکہ بچے کو پیدائش کے وقت بچایا جا سکے)۔

-​اگر خاندان میں کسی ایک بھی فرد کو کالا یرقان (بی یا سی) ہو۔

-​ایسے مریض جو بار بار ڈائلیسس (Dialysis) کرواتے ہوں۔

-​حجام سے اکثر شیو کروانے والے یا کان/ناک چھدوانے والے افراد۔

-جس شخص کے شریک حیات کو ہیپاٹائٹس B یا C ھو۔

​4۔ بچاؤ کی تدابیر اور احتیاطی تدابیر (Prevention)

​ہیپاٹائٹس B کی ویکسینیشن: ہیپاٹائٹس بی کے لیے ویکسین دستیاب اور انتہائی مؤثر ہے۔ اپنے بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد (Birth Dose) اور تمام بالغ افراد اپنے تین ٹیکوں کا کورس لازمی مکمل کریں۔ (یاد رہے: ہیپاٹائٹس سی کے لیے کوئی ویکسین نہیں ہے، اس کا واحد حل صرف احتیاط ہے)۔

​نئی سرنج کا استعمال:
جب بھی انجکشن لگوائیں، اپنے سامنے نئی سرنج کھلوائیں۔ ڈرپ اور کینولہ میں بھی احتیاط برتیں۔

​حجام کے پاس اپنا سامان:
شیو بنواتے وقت حجام سے نیا بلیڈ استعمال کروائیں، یا سب سے بہتر یہ ہے کہ اپنا ذاتی استرا/ٹرمیر ساتھ لے کر جائیں۔

​حاملہ خواتین کا ٹیسٹ:
ہر حاملہ خاتون کا دورانِ حمل ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے تاکہ پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش کے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین اور ایمونوگلوبولین (HBIG) دے کر محفوظ کیا جا سکے۔

​محفوظ خون:
ہمیشہ رجسٹرڈ اور مستند بلڈ بینک سے سکرین شدہ خون حاصل کریں۔

شریک حیات (spouse)کا سکریننگ ٹیسٹ اور پھر ویکسینیشن لازمی کریں۔

​ کالے یرقان کو معمولی نہ سمجھیں۔

یہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے
بشرطیکہ اس کی تشخیص وقت پر ہو جائے۔

ہیپاٹائٹس سی کا علاج اب محض 3 ماہ کی چند گولیوں سے ممکن ہے،
اور ہیپاٹائٹس بی کو ادویات کے ذریعے قابو میں رکھ کر جگر کو کینسر اور سکڑنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

آج ہی اپنے اور اپنے خاندان کا ٹیسٹ کروائیں اور خود کو محفوظ بنائیں۔"

​منجانب:
پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان

ایم بی بی ایس (MBBS)،
ایف سی پی ایس (FCPS - انٹرنل میڈیسن)،
سی ایچ پی ای (CHPE - کے ایم یو)
میڈیکل سپیشلسٹ (Department of Medicine)
ڈی ایچ کیو (DHQ) ٹیچنگ ہسپتال / بنوں میڈیکل کالج (MTI Bannu)
لیڈ آف انفیکشیس ڈیزیز، ایم ٹی آئی بنوں۔
فوکل پرسن، ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام، بنوں

بنوں کے عوام کے لیے اہم پیغام: شدید گرمی اور ہیٹ ویو (Heatwave) سے بچاؤ:​بنوں اور گردونواح میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہ...
11/06/2026

بنوں کے عوام کے لیے اہم پیغام:

شدید گرمی اور ہیٹ ویو (Heatwave) سے بچاؤ:

​بنوں اور گردونواح میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ شدید گرمی صرف ایک تکلیف نہیں، بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر بروقت احتیاط نہ کی جائے تو گرمی کا ہلکا اثر ہیٹ ایگزاسشن (Heat Exhaustion) میں بدل جاتا ہے، جو آگے چل کر ایک سنگین میڈیکل ایمرجنسی یعنی ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

​ہیٹ ایگزاسشن اور ہیٹ اسٹروک میں فرق اور علامات:

​جب انسانی جسم شدید گرمی کی وجہ سے خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام ہو جائے، تو بیماری مراحل میں بڑھتی ہے:

​1۔ ہیٹ ایگزاسشن (Heat Exhaustion) – ابتدائی مرحلہ:
​یہ تب ہوتا ہے جب جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔

​علامات (Symptoms):
شدید پیاس، کمزوری، چکر آنا، سر درد، متلی یا الٹی، اور پٹھوں میں کھچاؤ (Cramps)۔

​نشانیاں (Signs):
بہت زیادہ پسینہ آنا، جلد کا ٹھنڈا اور پیلا پڑ جانا، اور نبض کا تیز یا کمزور ہونا۔

​2۔ ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) – انتہائی خطرناک مرحلہ:
​اگر ہیٹ ایگزاسشن کا علاج نہ کیا جائے تو جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے والا نظام مکمل فیل ہو جاتا ہے، اور جسم کا درجہ حرارت 104°F یا 40°C، یا اس سے اوپر چلا جاتا ہے۔ یہ جان لیوا ہے۔

​علامات ونشانیاں:
پسینہ آنا بند ہو جانا (جلد کا بالکل خشک، سرخ اور گرم ہونا)، شدید ذہنی الجھن، بولنے میں دشواری، جھٹکے لگنا، اور بے ہوش ہو جانا۔

​پیچیدگیاں (Complications):

​ہیٹ اسٹروک کے مریض کو اگر منٹوں کے اندر ٹھنڈا نہ کیا جائے تو یہ دماغ، گردوں، دل اور جگر کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، خون جمنے کا نظام تباہ ہو سکتا ہے (Multi-organ failure)، اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

​تازہ ترین طبی گائیڈ لائنز کے مطابق علاج (Treatment):

​عالمی ادارہ صحت (WHO) اور پاکستان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی موجودہ گائیڈ لائنز کے مطابق علاج کے طریقے درج ذیل ہیں:

​ہیٹ ایگزاسشن کے لیے (ابتدائی طبی امداد):

ا-​مریض کو فوراً کسی ٹھنڈی یا سایہ دار جگہ (مثلاً ایئر کنڈیشنڈ کمرے یا درخت کے سائے) میں منتقل کریں۔

2-​کپڑے ڈھیلے کر دیں یا فالتو کپڑے اتار دیں۔

3-​اگر مریض ہوش میں ہو، تو اسے ٹھنڈا پانی، نمکول (ORS) یا لسی پلائیں۔

4-​جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا پنکھے کے آگے بٹھا کر پانی کا چھڑکاؤ کریں۔
اگر 1 گھنٹے میں طبیعت نہ سنبھلے تو ہسپتال لے جائیں۔

​ہیٹ اسٹروک کے لیے (ایمرجنسی اقدامات):
​اہم نوٹ: ہیٹ اسٹروک کے مریض کو منہ کے راستے کچھ نہ پلائیں، کیونکہ بے ہوشی یا غنودگی کی وجہ سے پانی پھیپھڑوں میں جا سکتا ہے۔
فوراً 1122 پر کال کریں۔
​جدید گائیڈ لائنز کے مطابق ہسپتال پہنچنے سے پہلے مریض کو ٹھنڈا کرنا سب سے اہم ہے:

1-​کولڈ واٹر ایمرشن (Cold Water Immersion): مریض کے سر کو چھوڑ کر پورے جسم کو ٹھنڈے یا برف والے پانی میں ڈبو دیں۔ یہ درجہ حرارت کم کرنے کا تیز ترین طریقہ ہے۔

​اگر برف کا ٹب نہ ہو تو مریض پر مسلسل پانی چھڑکیں اور تیز پنکھا چلائیں (Evaporative Cooling)۔

برف کی پوٹلیاں بغلوں، گردن اور ران کے جوڑوں (Groin) پر رکھیں۔

​ہسپتال میں ڈاکٹر مریض کو نسvein کے ذریعے (IV Fluids) ٹھنڈی ڈرپس لگائیں گے
اور اعضاء کو بچانے کے لیے مانیٹرنگ کریں گے۔

بخار کم کرنے والی عام ادویات (جیسے پیراسیٹامول یا ایسپرین) ہیٹ اسٹروک میں کام نہیں کرتیں اور جگر کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں،
اس لیے ان سے گریز کریں۔

​عام شہری کے لیے بچاؤ کی آسان تدابیر (Prevention):

​ایک عام انسان روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں لا کر خود کو اور اپنے خاندان کو محفوظ رکھ سکتا ہے:
1-​پانی کا کثرت سے استعمال: پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں۔ ہر گھنٹے بعد کم از کم ایک گلاس پانی پیئیں (دن میں 3 سے 4 لیٹر)۔

لسی، لیموں پانی اور ORS کا استعمال بہترین ہے۔

چائے، کافی اور کولا مشروبات سے پرہیز کریں کیونکہ یہ جسم سے پانی خارج کرتے ہیں۔

2- ​دھوپ سے بچاؤ:
دن کے گرم ترین اوقات (صبح 11 سے شام 4 بجے) میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اگر باہر جانا لازم ہو تو سر کو گیلے کپڑے، ٹوپی یا چھتری سے ڈھانپیں۔

3- ​لباس کا انتخاب: ہلکے رنگ کے، ڈھیلے ڈھالے اور سوتی (Cotton) کپڑے پہنیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔

4- ​گھر کو ٹھنڈا رکھنا:
دن کے وقت کھڑکیاں اور پردے بند رکھیں تاکہ باہر کی لو اندر نہ آئے۔
رات کو ٹھنڈی ہوا کے لیے کھڑکیاں کھول دیں۔

یاد رکھیں، اگر درجہ حرارت 40 °C سے اوپر ہو ,تو صرف خشک پنکھا جسم کو مزید گرم کرتا ہے، ایسے میں جلد کو گیلے کپڑے سے نم کرتے رہیں۔

5-​گاڑیوں میں احتیاط:
بچوں یا پالتو جانوروں کو کھڑی گاڑی میں ایک منٹ کے لیے بھی اکیلا نہ چھوڑیں، گاڑی کا درجہ حرارت چند منٹوں میں خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔

6- ​کمزور افراد کا خیال:
اپنے آس پاس موجود بزرگوں، بچوں اور مزدوروں کا خاص خیال رکھیں ,کیونکہ ان میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

کسی بھی قسم کی علامات کی صورت میں ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال بنوں کی میڈیکل او پی ڈی سے رجوع کریں۔ یا
مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اسکی ہدایات پر عمل کریں ۔

صحت مند بنوں، محفوظ پاکستان!

منجانب: پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان (میڈیکل سپیشلسٹ، ڈی ایچ کیو ہسپتال، بنوں)

📢 عوام الناس کے لیے اہم پیغام: چکن پاکس (آکڑے پاکڑے) سے بچاؤ اور احتیاط:​حالیہ دنوں میں میڈیکل او پی ڈی (OPD) میں چکن پا...
05/06/2026

📢 عوام الناس کے لیے اہم پیغام: چکن پاکس (آکڑے پاکڑے) سے بچاؤ اور احتیاط:

​حالیہ دنوں میں میڈیکل او پی ڈی (OPD) میں چکن پاکس، جسے ہماری مقامی زبان میں "آکڑے پاکڑے" کہا جاتا ہے، کے مریضوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ ایک انتہائی تیزی سے پھیلنے والی وائرل بیماری ہے۔
عوامی صحت کے تحفظ کے لیے درج ذیل معلومات اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہے۔

​📸 علامات کی پہچان :
مریض کے جسم پر سرخ چھوٹے دانے آجاتے ہیں، جو بعد میں پانی بھرے چھالوں (Blisters) کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور آخر میں ان پر کھرنڈ (Scabs) جم جاتا ہے ۔
​⚠️ اہم علامات:
​ہلکا یا تیز بخار، جسم میں درد اور شدید سستی۔

​چہرے، پیٹ اور کمر سے شروع ہونے والے سرخ دانے جو چند گھنٹوں میں پانی والے چھالوں میں بدل جاتے ہیں۔

​دانوں میں شدید خارش کا ہونا۔

​🔄 یہ بیماری کیسے پھیلتی ہے؟ (Transmission):

​یہ وائرس (Varicella-Zoster Virus) درج ذیل طریقوں سے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے:

1- ​ہوا کے ذریعے: مریض کے کھانسنے، چھینکنے یا سانس لینے سے وائرس ہوا میں پھیلتا ہے۔

2- ​براہِ راست چھونے سے: دانوں کے اندر موجود پانی کو ہاتھ لگانے سے۔

3- ​مریض کے استعمال کی اشیاء: تولیہ، کپڑے، یا بستر کے سانجھے استعمال کرنے سے۔

​📌 یاد رکھیں: مریض دانوں کے نمودار ہونے سے 2 دن پہلے سے لے کر، تمام دانوں پر کھرنڈ (Scabs) جمنے تک (دانے کے 5 ویں دن تک) دوسروں کو یہ بیماری لگا سکتا ہے۔

​🛡️ بچاؤ اور جدید طبی ہدایات (Prevention & Guidelines):

​1۔ سب سے بہترین حل: ویکسینیشن (Vaccines)
​جدید عالمی طبی ہدایات کے مطابق چکن پاکس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسین (Varicella Vaccine) کے دو انجکشن ہیں۔ اپنے بچوں کو ڈاکٹر کے مشورے سے یہ ویکسین لازمی لگوائیں۔

​2۔ مریض کو الگ رکھنا (Isolate the Patient)
​مریض کو گھر کے ایک الگ اور ہوا دار کمرے میں رکھیں (کم از کم 5 سے 7 دن کے لیے)۔

​بچوں کو اسکول یا مدرسے اور بڑوں کو دفتر جانے سے روکیں جب تک کہ تمام دانے خشک ہو کر کھرنڈ نہ بن جائیں۔

​3۔ خارش اور انفیکشن سے بچاؤ:

​مریض کے ناخن چھوٹے رکھیں تاکہ خارش کرنے سے زخم نہ بنیں اور بیکٹیریا کا انفیکشن نہ ہو۔
​خارش کو کم کرنے کے لیے کالامائن لوشن (Calamine Lotion) کا استعمال کریں۔

​4۔ بخار کے لیے احتیاط (انتہائی اہم!)
​چکن پاکس کے بخار میں ایسپرین (Aspirin) دوا بالکل نہ دیں، یہ بچوں کے لیے جان لیوا (Reye's Syndrome) ثابت ہو سکتی ہے۔
صرف پیراسیٹامول (Paracetamol) استعمال کریں۔

​🚨 ان مریضوں کے لیے خصوصی احتیاط (High-Risk Groups):
​اگر چکن پاکس درج ذیل افراد کو ہو، تو فوراً ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں یا قریبی ماہرِ امراض سے رجوع کریں، کیونکہ ان میں اینٹی وائرل (Antiviral) ادویات کی فوری ضرورت ہوتی ہے:
1- ​12 سال سے بڑے عمر کے افراد یا بالغ۔

2- ​حاملہ خواتین۔

3- ​ایسے مریض جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہو (جیسے شوگر، کینسر یا اسٹیرائڈز steroids لینے والے مریض)۔

کسی بھی قسم کی علامات کی صورت میں ڈی ایچ کیو (DHQ) ہسپتال بنوں کی میڈیکل او پی ڈی سے رجوع کریں۔ یا
مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور اسکی ہدایات پر عمل کریں ۔

صحت مند بنوں، محفوظ پاکستان!

منجانب: پروفیسر ڈاکٹر رضا محمد خان (میڈیکل سپیشلسٹ، ڈی ایچ کیو ہسپتال، بنوں)

ٹائیفائیڈ بخار: تشخیصی ٹیسٹوں کی حقیقت اور بچاؤ کی تدابیر:​ السلام علیکم،​ہمارے علاقے بنوں اور گردونواح میں ٹائیفائیڈ بخ...
31/05/2026

ٹائیفائیڈ بخار: تشخیصی ٹیسٹوں کی حقیقت اور بچاؤ کی تدابیر:

​ السلام علیکم،

​ہمارے علاقے بنوں اور گردونواح میں ٹائیفائیڈ بخار کے حوالے سے چند ایسی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے مریضوں کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ ہم جدید میڈیکل ریسرچ اور گائیڈ لائنز کے مطابق اپنی معلومات کو درست کریں۔

​1۔ ٹائیفائیڈ کے ٹیسٹ: پُرانی اور نئی حقیقت:

​ہمارے ہاں اب بھی عام طور پر ٹائیفائیڈ کی تشخیص کے لیے وڈال (Widal) اور ٹائیفی ڈاٹ (Typhidot) ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔

​اہم ترین پیغام: عالمی ادارہ صحت (WHO) اور جدید میڈیکل گائیڈ لائنز کے مطابق وڈال اور ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ اب بالکل ناکارہ اور متروک (Obsolete) ہو چکے ہیں۔
یہ ٹیسٹ ٹائیفائیڈ کی درست تشخیص نہیں کرتے۔

​وڈال اور ٹائیفی ڈاٹ کیوں غلط ہیں؟
یہ ٹیسٹ اکثر ان لوگوں میں بھی "پازیٹو" آ جاتے ہیں جنہیں ماضی میں کبھی ٹائیفائیڈ ہوا ہو، یا جنہوں نے ویکسین لگوائی ہو، یا جنہیں کوئی اور عام بخار (جیسے ملیریا یا ڈینگی) ہو۔
اسے میڈیکل کی زبان میں 'فالس پازیٹو' (False Positive) کہتے ہیں۔

​درست تشخیصی ٹیسٹ کون سا ہے؟ ٹائیفائیڈ بخار کی واحد اور مستند تشخیصی گائیڈ لائن بلڈ کلچر (Blood Culture) ہے۔
بخار کے پہلے ہفتے میں اینٹی بائیوٹک دوا شروع کرنے سے پہلے خون کا کلچر کروانا ہی صحیح طریقہ ہے۔

​2۔ ٹائیفائیڈ کیسے پھیلتا ہے؟ (Transmission):

​ٹائیفائیڈ ایک جراثیم (Salmonella Typhi) کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس کا واحد ذریعہ آلودہ پانی اور خوراک ہے۔

​اگر کھانے پینے کی اشیاء پر مکھیاں بیٹھیں یا انہیں صاف پانی سے نہ دھویا گیا ہو۔

​واش روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ اچھی طرح صابن سے نہ دھوئے جائیں اور انہی ہاتھوں سے کھانا بنایا یا کھایا جائے۔

​باہر کے کھلے مشروبات، گندے برف والے گولے، اور کچے یا کم پکے ہوئے کھانے کھانے سے۔

​3۔ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی تدابیر (Prevention):
​ٹائیفائیڈ سے بچنا انتہائی آسان ہے، بشرطیکہ ہم ان اصولوں پر عمل کریں:
-​صاف پانی کا استعمال: پانی ہمیشہ ابال کر یا فلٹر شدہ پیئیں۔

-​ہاتھوں کی صفائی: کھانا کھانے سے پہلے، کھانا بنانے سے پہلے اور واش روم سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔

-​کھانے پینے میں احتیاط: کھانا ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں تاکہ مکھیاں نہ بیٹھیں۔ بازار کے کھلے کھانوں اور کچی سبزیوں/سلااد سے پرہیز کریں۔

-​ٹائیفائیڈ ویکسین (TCV): ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے (Typhoid Conjugate Vaccine) بھی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق لگوائی جا سکتی ہے ۔

*​اگر آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو مسلسل تیز بخار، شدید کمزوری، سر درد، پیٹ میں درد، الٹی یا قبض/موشن کی شکایت ہو، تو خود سے اینٹی بائیوٹک ادویات (خود تشخیصی) شروع کرنے یا عطائیوں کے پاس جانے کے بجائے فوراً ہسپتال یا کسی بھی مستند میڈیکل اسپیشلسٹ سے رجوع کریں۔

​ٹائیفائیڈ کے جراثیم اب عام ادویات کے خلاف مدافعت (Resistance) پیدا کر چکے ہیں، اس لیے صحیح وقت پر صحیح ڈاکٹر کی نگرانی میں درست ٹیسٹ (بلڈ کلچر) کے بعد علاج شروع کرنا ہی آپ کی جان بچا سکتا ہے۔

​صحت مند بنوں، محفوظ پاکستان!
از
پروفیسر ڈاکٹر رضامحمدخان
میڈیکل سپیشلسٹ DHQ ہسپتال بنوں

Address

Khyber Medical & Surgical Centre, Opposite DHQ Teaching Hospital Bannu, Gate 1
Bannu
28100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Dr Raza Muhammad Khan , Medical Specialist, DHQ Bannu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category