Dr Muneeb Ur Rehman-Child Specialist

Dr Muneeb Ur Rehman-Child Specialist Child Specialist Chichawatni
Morning..Bin Ashraf medical complex Block 16
Evening…Ali Hospital (Dr Musarat bano gynae hospital) Block 15
(1)

06/08/2026

05/08/2026

04/08/2026

03/08/2026

گولڈن منٹ (Golden Minute) — نومولود بچے کی زندگی کا سب سے

قیمتی ایک منٹ 👶💛

ہر سال دنیا بھر میں ہزاروں نومولود بچے صرف اس وجہ سے جان سے ہاتھ دھو

بیٹھتے ہیں یا مستقل دماغی نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ پیدائش کے فوراً بعد

انہیں بروقت اور درست طبی امداد نہیں مل پاتی۔

پیدائش کے بعد کا پہلا ایک منٹ اتنا اہم ہوتا ہے کہ اسے طب کی زبان میں

Golden Minute کہا جاتا ہے۔

گولڈن منٹ کیا ہے؟

یہ وہ پہلے 60 سیکنڈ ہیں جن میں یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ بچہ خود سے مؤثر طریقے

سے سانس لینا شروع کرتا ہے یا اسے فوری طبی مدد کی ضرورت ہے۔

اگر اس ایک منٹ میں صحیح اقدامات کر لیے جائیں تو اکثر بچوں کی جان بچائی

جا سکتی ہے اور دماغ کو آکسیجن کی کمی سے ہونے والے مستقل نقصان سے

محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

پیدائش کے فوراً بعد کیا کیا جاتا ہے؟

👶 بچے کو فوراً گرم اور خشک کیا جاتا ہے۔

❤️ سانس، رنگت، دل کی دھڑکن اور بچے کی مجموعی کیفیت کا جائزہ لیا جاتا

ہے۔

🤱 اگر بچہ اچھی طرح سانس لے رہا ہو اور زور سے رو رہا ہو تو اسے فوری

طور پر ماں کے سینے پر رکھ کر Skin-to-Skin Contact کروایا جاتا ہے

اور جلد از جلد ماں کا دودھ شروع کروایا جاتا ہے۔

💨 اگر بچہ سانس نہ لے رہا ہو، صرف ہانپ رہا ہو یا سانس بہت کمزور ہو تو

Golden Minute کے اندر اندر بیگ اور ماسک کے ذریعے سانس دینا

(Positive Pressure Ventilation) شروع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ضرورت پڑنے پر سینے کو دبانا (Chest Compressions) اور دیگر جدید

نیونیٹل ریسیسیٹیشن کے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔

کن بچوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟

⚠️ قبل از وقت (Premature) پیدائش

⚠️ مشکل یا طویل ڈلیوری

⚠️ سیزیرین سیکشن

⚠️ میکونیم سے آلودہ پانی

⚠️ جڑواں یا ایک سے زیادہ بچوں کی پیدائش

⚠️ حمل کے دوران ماں کی شوگر، ہائی بلڈ پریشر یا دیگر پیچیدگیاں

ان حالات میں پیدائش کے وقت ایک تربیت یافتہ چائلڈ اسپیشلسٹ یا نیونیٹل

ریسیسیٹیشن میں مہارت رکھنے والا ڈاکٹر موجود ہونا انتہائی اہم ہے۔

ڈلیوری کے وقت چائلڈ اسپیشلسٹ کیوں ضروری ہے؟

بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ اگر گائناکالوجسٹ موجود ہیں تو یہی کافی ہے،

لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

✅ گائناکالوجسٹ کی توجہ ماں کی محفوظ ڈلیوری پر ہوتی ہے۔

✅ جبکہ چائلڈ اسپیشلسٹ کی ذمہ داری نومولود بچے کی فوری جانچ، سانس بحال

کرنا، ضرورت پڑنے پر ریسیسیٹیشن کرنا اور پیدائش کے بعد کی پیچیدگیوں کا فوری

علاج کرنا ہوتی ہے۔

اگر بچہ پیدائش کے بعد نہ روئے، سانس نہ لے، نیلا پڑ جائے یا کمزور ہو تو ہر

سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں پہلے سے موجود تربیت یافتہ چائلڈ

اسپیشلسٹ بچے کی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

والدین کے لیے اہم پیغام

🏥 ہمیشہ ایسی جگہ ڈلیوری کروائیں جہاں:

✔️ تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ موجود ہوں۔

✔️ نومولود کی بحالی (Neonatal Resuscitation) کا مکمل سامان دستیاب ہو۔

✔️ ضرورت پڑنے پر چائلڈ اسپیشلسٹ / نیونیٹولوجسٹ فوری طور پر بچے کا معائنہ اور علاج کر سکے۔

یاد رکھیں…

زندگی کا سب سے قیمتی ایک منٹ صرف 60 سیکنڈ کا ہوتا ہے، لیکن یہی ایک

منٹ بچے کے مستقبل، دماغ اور پوری زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

اس اہم معلومات کو ضرور شیئر کریں تاکہ ہر والدین محفوظ ڈلیوری کی اہمیت کو

سمجھ سکیں۔

ڈاکٹر منیب الرحمان

ماہرِ اطفال (Child Specialist)

چائلڈ سپیشلسٹ

31/07/2026

30/07/2026

خبردار! والدین اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے بچوں کو چائے پلانا بند کریں

پاکستان سمیت دنیا کے کئی گھروں میں بچوں کو دودھ کی بوتل سے بھی پہلے

چائے کا کپ پکڑا دیا جاتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ اس سے بچے کو طاقت

ملے گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔

چائے میں موجود قدرتی مادہ "ٹینن (Tannin)" جسم میں آئرن کے جذب میں

رکاوٹ بن سکتا ہے۔ آئرن وہ معدنی جز ہے جو خون کے سرخ خلیات بنانے،

دماغ کی نشوونما اور جسم کے ہر حصے تک آکسیجن پہنچانے کے لیے انتہائی

ضروری ہے۔

جب بچہ کھانے کے ساتھ یا فوراً بعد چائے پیتا ہے تو ٹینن آئرن کے ساتھ جڑ

جاتا ہے، جس کی وجہ سے جسم اس آئرن کو مؤثر طریقے سے جذب نہیں کر

پاتا۔ اگر یہ عادت روزانہ کی بن جائے تو وقت کے ساتھ آئرن کی کمی پیدا ہو

سکتی ہے۔

خون کی کمی بچوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

آئرن کی کمی سے بچے میں یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

ہر وقت تھکن اور کمزوری

چہرے کا پیلا پڑ جانا

پڑھائی میں توجہ کی کمی

یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونا

کھیل کود میں جلد سانس پھولنا

بار بار بیمار ہونا

یہ سب علامات بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو متاثر کر سکتی ہیں۔

کیا چائے ہڈیوں پر بھی اثر ڈالتی ہے؟

اگر بچہ مسلسل چائے پی کر ایسی غذا کم کھاتا ہے جس میں آئرن، کیلشیم اور

دیگر ضروری غذائی اجزاء موجود ہوں، یا چائے کی وجہ سے غذائیت کا توازن

متاثر ہو جائے، تو اس کی مجموعی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ صحت مند ہڈیوں

کے لیے مناسب غذائیت، وٹامن ڈی، کیلشیم اور آئرن سب اہم کردار ادا

کرتے ہیں۔

کس عمر میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ایک سے پانچ سال کے بچے

وہ بچے جو روزانہ کئی بار چائے پیتے ہیں

وہ بچے جو گوشت، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں یا آئرن والی غذائیں کم کھاتے ہیں
وہ بچے جنہیں پہلے سے خون کی کمی ہو

والدین آنکھیں کھولیں

دو سال سے کم عمر بچوں کو چائے نہ دیں۔

بڑے بچوں کو بھی روزانہ چائے پلانے کی عادت نہ ڈالیں۔

اگر کبھی چائے دی جائے تو کھانے کے ساتھ یا فوراً بعد نہ دیں۔ کم از کم ایک

سے دو گھنٹے کا وقفہ رکھیں تاکہ آئرن بہتر طریقے سے جذب ہو سکے۔

یاد رکھیں

چائے کا کپ فوری نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن آہستہ آہستہ خاموشی سے اپنا

کام کر جاتا ہے

آج ہی اپنے بچے کی عادت بدلیں۔ ایک چھوٹا سا فیصلہ اس کی صحت، نشوونما

اور مستقبل کی حفاظت کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر منیب الرحمان
چائلڈ سپیشلسٹ چیچہ وطنی

29/07/2026

28/07/2026

Address

Bin Ashraf Pharmacy Medical Complex 16 Block In Front Of Girls Crescent College Chichawatni
Chichawatni

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Muneeb Ur Rehman-Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share