28/07/2026
کلینک میں مریضوں کی لمبی قطار تھی۔ کوئی حمل کے پہلے چیک اپ کے لیے آئی تھی، کوئی الٹراساؤنڈ کی رپورٹ لیے بیٹھی تھی، اور کوئی کئی سالوں کی بے اولادی کا درد دل میں لیے خاموش تھی۔
اسی دوران ایک خاتون میرے کمرے میں داخل ہوئیں۔
عمر تقریباً 32 سال۔
وہ کرسی پر بیٹھیں، کچھ دیر خاموش رہیں، پھر آہستہ سے بولیں:
“ڈاکٹر صاحبہ… میرے شوہر نے کہا ہے کہ اگر اس بار بھی علاج سے فائدہ نہ ہوا تو وہ دوسری شادی کر لیں گے۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
میں نے ان سے پوچھا:
“آپ کو شادی ہوئے کتنے سال ہوئے ہیں؟”
انہوں نے جواب دیا:
“8 سال۔”
میں نے پوچھا:
“کبھی اپنے شوہر کا بھی ٹیسٹ کروایا؟”
وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگیں۔
“ڈاکٹر صاحبہ… مسئلہ تو میرے اندر ہی ہوگا نا؟”
میں نے کہا:
“ضروری نہیں۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ صرف عورت نہیں ہوتی۔ مرد اور عورت دونوں کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔”
ہم نے دونوں میاں بیوی کے ٹیسٹ کروائے۔
کچھ دن بعد رپورٹ سامنے آئی۔
مسئلہ عورت میں نہیں تھا۔
مسئلہ شوہر کی رپورٹ میں تھا۔
جب میں نے انہیں یہ بات بتائی تو وہ خاتون خاموشی سے رونے لگیں۔
پھر انہوں نے صرف ایک جملہ کہا:
“ڈاکٹر صاحبہ، کاش مجھے یہ بات 8 سال پہلے معلوم ہوتی۔”
یہ جملہ آج بھی مجھے یاد ہے۔
ہر روز گائناکولوجسٹ کے کلینک میں صرف بیماریوں کا علاج نہیں ہوتا۔
کبھی کسی ماں کی آنکھوں میں پہلی بار اپنے بچے کی دھڑکن دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
کبھی کسی خاتون کے برسوں پرانے درد کی وجہ سامنے آتی ہے۔
اور کبھی ایک چھوٹی سی معلومات کسی عورت کو برسوں کے الزام اور ذہنی اذیت سے بچا سکتی ہے۔
اگر آپ کے خیال میں بھی بے اولادی کی صورت میں شوہر اور بیوی دونوں کا چیک اپ ضروری ہے تو اس پوسٹ پر “دونوں” لکھیں۔
اور ایک سوال…
آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں اولاد نہ ہونے کی ذمہ داری زیادہ تر صرف عورت پر ہی کیوں ڈال دی جاتی ہے؟
اپنی رائے ضرور کمنٹ کریں۔ شاید آپ کا ایک کمنٹ کسی ایک خاندان کی سوچ بدل دے۔