02/01/2026
جی بالکل، درج ذیل مضمون ہر ڈاکٹر طبیب حکیم معالج ضرور پڑھیں
اور شائقین بھی استفادہ فرمائے
ہر طریقۂ علاج کی اہمیت اور معالجین کی اصل ذمہ داری
آج کل سوشل میڈیا پر معالجین کی پوسٹس اور ویڈیوز میں ایک ناپسندیدہ رجحان سامنے آ رہا ہے۔ اکثر اپنی دوا یا پروڈکٹ کی تشہیر سے پہلے دوسرے طریقۂ علاج کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور آخر میں اپنا حل پیش کیا جاتا ہے۔ مطلب اپنا چورن بیچتے ہیں
میرے نزدیک یہ طرزِ فکر نہ علمی ہے اور نہ ہی ایک باوقار معالج کے شایانِ شان۔
ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس طریقۂ علاج پر اعتماد کرے، اسی سے علاج کروائے۔
ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طبِ یونانی، آیورویدک یا کوئی اور نظام—ہر طریقۂ علاج کی اپنی افادیت، اپنی حدود اور اپنی اہمیت ہے۔
کسی دوسرے سسٹم کو رد کر کے اپنا مقام بنانا دراصل کم علمی کی علامت ہے۔
اصل معالج وہ ہے جو تنقید کے بجائے علم، تحقیق، تجربے اور اخلاق کو مضبوط بنائے۔
معالج کی پہچان اس کے دعوؤں سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور مریض کے اعتماد سے ہوتی ہے۔
اگر ہم یہ سمجھنے لگیں کہ صرف ہمارا طریقۂ علاج ہی درست ہے اور باقی سب بے فائدہ ہیں، تو ہمیں اپنے علم پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم سب نظامِ علاج کا احترام کریں، ان سے سیکھیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔(حوالہ جات)
یونانی طب: حکیم اجمل خان کہا کرتے تھے:
"اصل معالج وہ ہے جو ہر علم سے سیکھے اور ہر طریقہ علاج کی افادیت کو تسلیم کرے۔"
ایلوپیتھی: عالمی ادارۂ صحت
(WHO)
کے مطابق:
"Traditional medicine, modern medicine and complementary medicine can work side by side to serve humanity better." (WHO, 2019)
ہومیوپیتھی: ڈاکٹر
سیموئل ہانی مین (بانی ہومیوپیتھی) نے کہا:
"A good physician is not against other systems, but he learns from them and serves humanity."
آیورویدک:
آیوروید کے کلاسیکی اصولوں میں کہا گیا ہے کہ:
"ہر وہ علم جو صحت کو بہتر کرے، وہ ہمارے لیے قیمتی ہے۔"
🔹 حقیقی معالج وہی ہے جو نفرت اور نفی کے بجائے علم، خدمت اور اخلاص کو فروغ دے۔
دعائیہ اختتام:
اللہ تعالیٰ تمام معالجین کو اخلاص، وسیع علم اور درست فہم عطا فرمائے،
ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی، شفا اور خیر کا ذریعہ بنائے،
اور مریضوں کو کامل صحت اور سکون نصیب فرمائے۔ آمین 🤲
✍️تحریر و تجزیہ:
ڈاکٹر ایچ ایچ فیاض شاہ ملاکنڈ