22/07/2026
ہر موت غفلت نہیں ہوتی!
سرکاری گائنی ہسپتالوں میں روزانہ سینکڑوں مریضات آتی ہیں، جبکہ ڈاکٹرز، نرسز، آپریشن تھیٹر اور وسائل محدود ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود طبی عملہ دن رات پوری دیانت داری اور اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ ہر ماں اور بچے کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
بدقسمتی سے بہت سی مریضات پہلے کئی گھنٹے یا کئی دن تک غیر تربیت یافتہ دائیوں، گھریلو ٹوٹکوں یا غیر مستند علاج کے ذریعے وقت ضائع کرتی ہیں۔ جب شدید خون بہنا، رحم پھٹ جانا، انفیکشن، جھٹکے، یا بچے کی جان کو خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، تب انہیں سرکاری ہسپتال لایا جاتا ہے۔
ایسی انتہائی نازک حالت میں ڈاکٹرز کے پاس اکثر وقت بہت کم ہوتا ہے، لیکن پھر بھی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ افسوس کہ اگر مریضہ یا بچے کو نہ بچایا جا سکے تو فوراً "مبینہ غفلت" کا الزام لگا دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات بیماری یا تاخیر اس حد تک پہنچ چکی ہوتی ہے کہ بہترین علاج کے باوجود جان بچانا ممکن نہیں رہتا۔
اگر کہیں واقعی غفلت ہو تو شفاف تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن ہر پیچیدہ کیس کو بغیر حقائق جانے غفلت قرار دینا انصاف نہیں۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ:
حمل کے دوران باقاعدہ چیک اپ کروائیں۔
زچگی صرف مستند اور تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں کروائیں۔
خطرے کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً ہسپتال پہنچیں۔
ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملے کا احترام کریں، کیونکہ وہ آپ کی جان بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔
بروقت علاج زندگی بچاتا ہے، جبکہ علاج میں تاخیر بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
"ہر پیچیدہ کیس غفلت نہیں ہوتا۔ بعض مریضات شدید خون کی کمی (Hb 5–6)، مہینوں بغیر علاج، غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ٹرائل، یا انتہائی نازک حالت میں ہسپتال پہنچتی ہیں۔ پھر بھی ڈاکٹر پوری کوشش کرتے ہیں۔ براہِ کرم حقائق جانے بغیر 'مبینہ غفلت' کا فیصلہ نہ کریں۔ اپنی رائے ضرور دیں اور یہ پیغام شیئر کریں۔"
— ڈاکٹر فوزیہ بلوچ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ و آبسٹیٹریشن
#گائنی
#زچگی