15/05/2026
پری ڈائبیٹیز اور لائف اسٹائل میڈیسن کا کردار
پاکستان میں پری ڈائبیٹیز کو اکثر صرف “بارڈر لائن شوگر” سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہی وہ stage ہے جہاں جسم diabetes سے پہلے warning دے رہا ہوتا ہے۔
پری ڈائبیٹیز میں جسم کے اندر انسولین آہستہ آہستہ مؤثر طریقے سے کام کرنا کم کر دیتی ہے۔ شروع میں جسم زیادہ انسولین بنا کر شوگر کو control کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر خوراک، وزن، activity، نیند اور stress جیسے عوامل بہتر نہ کیے جائیں تو یہی stage آہستہ آہستہ type 2 diabetes کی طرف لے جا سکتی ہے۔
پاکستانی اور South Asian لوگوں میں یہ risk اور بھی اہم ہے۔ بعض اوقات وزن بہت زیادہ نظر نہیں آتا، لیکن پیٹ اور کمر کے ارد گرد چربی بڑھ جاتی ہے، جسے central obesity کہتے ہیں۔ یہی چربی insulin resistance کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر مطمئن نہ ہوں کہ “میرا وزن تو اتنا زیادہ نہیں ہے” یا “بس borderline sugar ہے”۔ South Asian population میں diabetes کا risk نسبتاً کم BMI پر بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں لائف اسٹائل میڈیسن کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے۔ یہ صرف دوا شروع کرنے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے اندر بننے والی insulin resistance کو سمجھنے اور روزمرہ عادات کے ذریعے بہتر کرنے کا ایک practical طریقہ ہے۔
اس موضوع پر ہم ایک سادہ، step-by-step approach کے ذریعے بات کریں گے: کھانے پینے، walking، نیند، stress، وزن اور پیٹ کی چربی جیسے عوامل کو آسان الفاظ میں سمجھیں گے، تاکہ پری ڈائبیٹیز کو وقت پر بہتر کیا جا سکے۔
پری ڈائبیٹیز کو ignore نہ کریں۔
یہ صرف borderline sugar نہیں — یہ diabetes سے پہلے جسم کی warning ہے۔
یاد رکھیں:
شوگر آنے کا انتظار نہ کریں؛ آج کی چھوٹی تبدیلی کل کی diabetes کو روک سکتی ہے