Dr SAEED Sturyani - Kidz Care Clinic

Dr SAEED Sturyani - Kidz Care Clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr SAEED Sturyani - Kidz Care Clinic, Paediatrician, Shifa (ALI) Hospital opposite DHQ Hospital, Dera Ismail Khan.

Consultant Pediatrician & neonatologist
Address: Kidz Care Clinic at Shifa ( Ali) Hospital , dera ismail khan)
Consultation Time:2:00 pm to 8:00 pm daily
Sunday: 10:00 am to 2:00 pm
Friday: Off

آج کل موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بچہ کبھی اسکرین دیکھتا ہے؛ اصل مس...
25/08/2026

آج کل موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بچہ کبھی اسکرین دیکھتا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ کتنی دیر، کس عمر میں اور کس مقصد کے لیے اسکرین دیکھ رہا ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے اسکرین کا وقت جتنا کم ہو، اتنا بہتر ہے۔
دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے عام طور پر اسکرین سے پرہیز کی سفارش کی جاتی ہے، سوائے اس کے کہ کسی بڑے کے ساتھ ویڈیو رابطہ ہو۔
دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے کوشش کریں کہ تفریحی اسکرین کا وقت تقریباً ایک گھنٹے یا اس سے کم ہو، اور ایسا مواد منتخب کریں جو بچے کی عمر کے مطابق ہو۔
بڑے بچوں میں صرف گھنٹوں کی گنتی کافی نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ موبائل یا ٹی وی کی وجہ سے بچے کی نیند، کھیل، پڑھائی، جسمانی سرگرمی، کھانا اور خاندان کے ساتھ وقت متاثر تو نہیں ہو رہا۔
خاص طور پر کھانے کے وقت موبائل دینے کی عادت نہ بنائیں۔ بچہ اگر ہر کھانا موبائل دیکھ کر کھانے لگے تو وہ آہستہ آہستہ موبائل کو کھانے کے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔
سونے سے پہلے بھی اسکرین کم کریں، کیونکہ اسکرین کا استعمال بچے کے سونے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ سونے سے پہلے کچھ وقت موبائل اور ٹی وی سے دور رکھا جائے۔
اور ایک بہت اہم بات:
اسکرین بچے کے کھیل، گفتگو، کتاب، نیند اور جسمانی سرگرمی کی جگہ نہیں لے سکتی۔
چھوٹے بچے سب سے زیادہ لوگوں سے بات چیت، کھیلنے، چیزوں کو چھونے، سوال پوچھنے اور خود تجربہ کرنے سے سیکھتے ہیں۔
اگر بچہ بہت زیادہ اسکرین استعمال کرتا ہے اور ساتھ بولنے میں تاخیر، لوگوں سے میل جول میں کمی، نیند خراب ہونا، چڑچڑاپن یا جسمانی سرگرمی میں واضح کمی نظر آ رہی ہے تو اس عادت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر بچے کا جائزہ کروانا چاہیے۔
والدین کے لیے آسان اصول:
چھوٹے بچوں میں اسکرین جتنی کم ہو، اتنا بہتر۔
دو سال سے کم عمر میں حتی الامکان اسکرین سے پرہیز کریں۔
دو سے پانچ سال میں تقریباً ایک گھنٹے یا اس سے کم تفریحی اسکرین رکھیں۔
کھانے اور سونے کے وقت اسکرین سے پرہیز کریں۔
موبائل کے بجائے کھیل، کتاب اور والدین کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دیں۔
یاد رکھیں: بچے کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ “موبائل کم دیکھو”؛ بچے کے دن میں کھیل، گفتگو، نیند اور خاندان کے ساتھ وقت کے لیے بہتر متبادل بھی موجود ہونا چاہیے۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

24/08/2026

اس بچے کے جسم میں مسلسل غیر ارادی اور قابو سے باہر حرکات ہو رہی تھیں، جنہوں نے اس کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔
ضروری معائنے اور ٹیسٹوں کے بعد تشخیص ہوئی، علاج شروع کیا گیا، اور دو ماہ بعد الحمدللہ بچہ بالکل بہتر ہے۔ ❤️
آج نہ وہ غیر ارادی حرکات ہیں، نہ بے چینی—بچہ بالکل پُرسکون اور معمول کی زندگی گزار رہا ہے۔
صحیح تشخیص اور بروقت علاج بچے کی زندگی بدل سکتا ہے۔


ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک ، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

بہت سے لوگوں نے ہماری پچھلی چھپاکی اور الرجی والی پوسٹ کے نیچے سوال کیا کہ اگر الرجی بار بار ہوتی رہے تو اس کی صحیح تشخی...
24/08/2026

بہت سے لوگوں نے ہماری پچھلی چھپاکی اور الرجی والی پوسٹ کے نیچے سوال کیا کہ اگر الرجی بار بار ہوتی رہے تو اس کی صحیح تشخیص کہاں سے کروائی جائے؟ کون سا ٹیسٹ ہوتا ہے؟ اور کیا الرجی کا مستقل علاج ممکن ہے؟
اسلام آباد کے چک شہزاد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کا الرجی سینٹر الرجی سے متعلق بیماریوں کی تشخیص، علاج اور الرجی ویکسین کے لیے ایک اہم سرکاری مرکز ہے۔ NIH کی شائع شدہ معلومات کے مطابق یہاں 10 سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور 60 سال سے کم عمر بالغوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
یہاں مختلف قسم کی الرجی سے متعلق مسائل کا معائنہ کیا جاتا ہے، جن میں سانس کی الرجی، دمہ، ناک کی الرجی، آنکھوں کی الرجی، جلد کی الرجی، خوراک سے ہونے والی الرجی اور بعض مدافعتی نظام سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔
الرجی کی وجہ معلوم کرنے کے لیے مریض کی علامات اور طبی تاریخ کو دیکھا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق جلد کا الرجی ٹیسٹ (Skin Prick Test) کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں جلد پر مختلف ممکنہ الرجی پیدا کرنے والی چیزوں کے عرق کی معمولی مقدار لگائی جاتی ہے، پھر تقریباً 15 سے 20 منٹ بعد جلد پر ہونے والے ردِعمل کو دیکھا جاتا ہے۔
یہاں عام طور پر گرد و غبار، پولن، مٹی کے ذرات، پھپھوندی، جانوروں کے بال اور دیگر ماحولیاتی عوامل کے علاوہ بعض غذاؤں سے متعلق الرجی کی بھی جانچ کی جاتی ہے۔ بعض مریضوں میں خون کے ذریعے IgE کی جانچ بھی ڈاکٹر کی ضرورت کے مطابق کروائی جا سکتی ہے۔
اگر کسی مخصوص الرجی کی تصدیق ہو اور مریض اس علاج کے لیے موزوں ہو تو الرجی ویکسین یا امیونوتھراپی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس علاج میں متعلقہ الرجی پیدا کرنے والے مادے کی بہت کم مقدار سے آغاز کیا جاتا ہے اور بتدریج جسم کو اس مادے کے لیے کم حساس بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
NIH کی شائع شدہ معلومات کے مطابق ان کی امیونوتھراپی ایک طویل مدتی علاج ہے۔ ان کے موجودہ پروٹوکول میں ابتدائی مرحلے کے بعد علاج کو جاری رکھا جاتا ہے، اور مریض کی بہتری کا جائزہ لے کر بعد کی خوراکوں اور مدت کا فیصلہ ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق کرتا ہے۔ NIH اپنی معلومات میں تین سال کے کورس کا بھی ذکر کرتا ہے، جبکہ ایک سال کے بعد بعض مریضوں کو مزید مینٹیننس علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک بہت اہم بات:
ہر خارش، ہر چھپاکی اور ہر ناک بہنے کو خود سے الرجی سمجھ کر ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں۔
الرجی ٹیسٹ ہمیشہ مریض کی علامات اور ڈاکٹر کے معائنے کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ صرف ٹیسٹ مثبت آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز لازماً مریض کی ہر علامت کی وجہ ہے۔
اگر آپ یا آپ کے بچے کو بار بار چھپاکی، ناک کی الرجی، سانس میں سیٹی، دمہ، آنکھوں میں الرجی یا کسی مخصوص چیز کے استعمال سے بار بار الرجی ہوتی ہے تو مناسب تشخیص کے لیے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
NIH Allergy Center
📍 نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، پارک روڈ، چک شہزاد، اسلام آباد
☎️ الرجی سینٹر:
+92 (51) 9255881-2
معلومات NIH کی عوام کے لیے شائع کردہ معلومات کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔ مرکز جانے سے پہلے فون کرکے موجودہ اوقات اور طریقۂ کار کی تصدیق کر لینا بہتر ہے۔
اگر آپ نے میری پچھلی الرجی اور چھپاکی والی پوسٹ پر سوال کیا تھا، تو یہ معلومات خاص طور پر آپ کے لیے ہیں۔ اسے محفوظ بھی کریں اور ضرورت مند شخص تک ضرور پہنچائیں۔

بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک ، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

بچے کا اعتماد صرف اس وقت نہیں بنتا جب وہ کوئی بڑا کام کرے۔ یہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔وا...
24/08/2026

بچے کا اعتماد صرف اس وقت نہیں بنتا جب وہ کوئی بڑا کام کرے۔ یہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔
والدین اگر بچے کو ہر وقت ڈانٹیں، دوسروں سے موازنہ کریں یا اس کی ہر غلطی پر اسے ناکام کہیں تو بچہ اپنے بارے میں منفی سوچنے لگ سکتا ہے۔
اس کے بجائے بچے کی کوشش کی تعریف کریں، صرف نتیجے کی نہیں۔
مثلاً یہ کہنے کے بجائے کہ:
“تم بہت ذہین ہو!”
کبھی یہ بھی کہیں:
“تم نے بہت محنت کی، دوبارہ کوشش کی اور آخرکار یہ کام کر لیا۔”
اس سے بچے کو یہ پیغام ملتا ہے کہ کامیابی صرف قابلیت سے نہیں بلکہ محنت اور کوشش سے بھی حاصل ہوتی ہے۔
بچے کو عمر کے مطابق چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے دیں۔ اپنے کپڑے ترتیب دینا، کھلونے سمیٹنا، کتابیں رکھنا یا کسی آسان کام میں مدد کرنا—یہ معمولی کام بچے میں ذمہ داری اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔
اگر بچہ غلطی کرے تو فوراً اسے “تمہیں کچھ نہیں آتا” کہنے کے بجائے غلطی کو سیکھنے کا موقع بنائیں۔
اور سب سے اہم چیز:
بچے کو توجہ سے سنیں۔
جب بچہ آپ سے بات کرے تو ہر بار موبائل دیکھنے یا مصروف رہنے کے بجائے کچھ دیر اس کی طرف متوجہ ہوں۔ بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کی بات اہم ہے۔
دوسرے بچوں سے موازنہ کرنے سے بھی گریز کریں:
“دیکھو، تمہارا بھائی کتنا اچھا پڑھتا ہے اور تم کچھ نہیں کرتے!”
ایسی باتیں بچے کو بہتر بنانے کے بجائے اس کا اعتماد کم کر سکتی ہیں۔
بچے کی تعریف ضرور کریں، لیکن حقیقی اور مناسب تعریف کریں۔ ہر چھوٹی بات پر غیر ضروری تعریف کے بجائے اس کی اچھی کوشش، ذمہ داری، مہربانی اور مستقل مزاجی کو سراہیں۔
والدین کے لیے چند آسان اصول:
بچے کی بات سنیں۔
اس کی کوشش کی تعریف کریں۔
عمر کے مطابق کام خود کرنے دیں۔
غلطی پر ذلیل نہ کریں۔
دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں۔
یاد رکھیں:
بچے کو ہر کام میں کامیاب بنانا ضروری نہیں؛ اسے ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دینا زیادہ ضروری ہے۔
ایک پُراعتماد بچہ وہ نہیں جو کبھی غلطی نہ کرے، بلکہ وہ ہے جو غلطی کے بعد بھی یہ سوچ سکے:
“میں دوبارہ کوشش کر سکتا ہوں۔”
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

بچہ رات کو دیر سے سوتا ہے، صبح اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے، دن میں چڑچڑا رہتا ہے اور والدین کہتے ہیں:“شاید بچہ بس ایسا ہی ہے!...
23/08/2026

بچہ رات کو دیر سے سوتا ہے، صبح اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے، دن میں چڑچڑا رہتا ہے اور والدین کہتے ہیں:
“شاید بچہ بس ایسا ہی ہے!”
لیکن مناسب نیند بچے کی صحت، سیکھنے، رویے اور نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔ ہر عمر کے بچے کو نیند کی مقدار مختلف درکار ہوتی ہے۔
عام طور پر 24 گھنٹوں میں:
نومولود بچے: تقریباً 14 سے 17 گھنٹے
4 سے 12 ماہ: تقریباً 12 سے 16 گھنٹے
1 سے 2 سال: تقریباً 11 سے 14 گھنٹے
3 سے 5 سال: تقریباً 10 سے 13 گھنٹے
6 سے 12 سال: تقریباً 9 سے 12 گھنٹے
13 سے 18 سال: تقریباً 8 سے 10 گھنٹے
یہ مجموعی نیند ہے، یعنی چھوٹے بچوں میں دن کی نیند بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔
صرف گھنٹوں کی تعداد ہی اہم نہیں، نیند کا باقاعدہ معمول بھی ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ بچے کے سونے اور جاگنے کا وقت تقریباً ایک جیسا ہو۔
سونے سے پہلے موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی کا استعمال کم کریں، کمرہ پرسکون رکھیں اور بچے کو سونے سے پہلے ایک ہی طرح کا معمول اپنانے کی عادت ڈالیں، مثلاً کپڑے تبدیل کرنا، دانت صاف کرنا اور کہانی سننا۔
اگر بچہ مناسب وقت سونے کے باوجود دن بھر بہت زیادہ غنودہ رہتا ہے، زور سے خراٹے لیتا ہے، نیند میں سانس رکنے یا گھٹنے جیسی کیفیت ہوتی ہے، یا نیند کی وجہ سے اس کے رویے اور پڑھائی پر واضح اثر پڑ رہا ہے تو اسے صرف “کم نیند” نہ سمجھیں۔ ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔
اور ایک اہم بات:
بچے کو صرف اس لیے دیر تک نہ جگائیں کہ وہ رات کو جلدی نہ سو جائے۔ اکثر اس کے برعکس زیادہ تھکا ہوا بچہ مزید بے چین ہو جاتا ہے اور سونے میں مشکل پیش آتی ہے۔
والدین کے لیے آسان اصول:
عمر کے مطابق نیند پوری کروائیں۔
سونے اور جاگنے کا وقت باقاعدہ رکھیں۔
سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال کم کریں۔
رات کو پرسکون ماحول فراہم کریں۔
خراٹوں اور نیند میں سانس رکنے کو نظر انداز نہ کریں۔
یاد رکھیں: اچھی نیند صرف آرام نہیں؛ یہ بچے کے جسم، دماغ اور رویے کی صحت مند نشوونما کا اہم حصہ ہے۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

بچے کو شہد پسند آتا ہے، اس لیے بعض والدین کھانسی، گلے کی تکلیف یا صرف ذائقے کے لیے کم عمر بچے کو شہد دینا شروع کر دیتے ہ...
23/08/2026

بچے کو شہد پسند آتا ہے، اس لیے بعض والدین کھانسی، گلے کی تکلیف یا صرف ذائقے کے لیے کم عمر بچے کو شہد دینا شروع کر دیتے ہیں۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد بالکل نہیں دینا چاہیے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شہد میں بعض اوقات Clostridium botulinum کے جراثیم کے ذرات موجود ہو سکتے ہیں۔ بڑے بچوں اور بڑوں میں آنتوں کا نظام عموماً ان سے نمٹ لیتا ہے، لیکن ایک سال سے کم عمر بچے کی آنتوں میں یہ جراثیم بڑھ کر ایک خطرناک بیماری Infant Botulism پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ بیماری نایاب ضرور ہے، لیکن سنگین ہو سکتی ہے۔
اس لیے بچے کو ایک سال کی عمر سے پہلے شہد کی کوئی بھی شکل نہ دیں، چاہے وہ خالص ہو، گھر کا ہو یا بازار سے خریدا ہوا۔
اور یہ نہ سمجھیں کہ اگر شہد دودھ، پانی یا کسی دوسری غذا میں ملا دیا جائے تو محفوظ ہو جائے گا۔ ایک سال سے کم عمر بچے کے لیے شہد سے پرہیز ہی محفوظ راستہ ہے۔
ایک سال مکمل ہونے کے بعد صحت مند بچے کو مناسب مقدار میں شہد دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ شہد بنیادی غذا نہیں بلکہ میٹھی چیز ہے، اس لیے اس کا استعمال محدود رکھیں۔
خاص طور پر دانت نکلنے کے بعد بچے کو بار بار میٹھی چیزیں دینے سے دانتوں میں کیڑا لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اور اگر بچہ ایک سال سے کم عمر ہے اور غلطی سے تھوڑی مقدار میں شہد کھا لیا ہے تو فوراً گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر بعد میں قبض، دودھ پینے میں کمزوری، رونا کمزور ہونا، جسم ڈھیلا پڑنا یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
والدین کے لیے آسان اصول:
ایک سال سے پہلے شہد نہیں۔
شہد کو پانی یا دودھ میں ملا کر بھی نہ دیں۔
ایک سال کے بعد بھی شہد محدود مقدار میں دیں۔
بچے کے دانت آنے کے بعد میٹھی چیزوں کا استعمال کم رکھیں۔
یاد رکھیں: شہد قدرتی غذا ضرور ہے، لیکن ایک سال سے کم عمر بچے کے لیے قدرتی ہونا ہمیشہ محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

نومولود بچے کے سر پر ایک نرم سا حصہ محسوس ہوتا ہے جسے والدین عموماً “سر کا نرم حصہ” کہتے ہیں۔ اسے چھونے سے بہت سے والدین...
22/08/2026

نومولود بچے کے سر پر ایک نرم سا حصہ محسوس ہوتا ہے جسے والدین عموماً “سر کا نرم حصہ” کہتے ہیں۔ اسے چھونے سے بہت سے والدین ڈر جاتے ہیں کہ کہیں بچے کے دماغ کو نقصان نہ پہنچ جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نرم حصہ ایک قدرتی ساخت ہے اور عام طور پر اسے معمول کے مطابق چھونا یا نہلانا نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اس کے نیچے ایک مضبوط جھلی موجود ہوتی ہے جو دماغ کی حفاظت کرتی ہے۔
بچے کے سر پر عموماً دو نمایاں نرم حصے ہوتے ہیں۔ اوپر والا بڑا نرم حصہ، یعنی Fontanelle، عموماً 12 سے 18 ماہ کے درمیان بند ہو جاتا ہے، لیکن کچھ صحت مند بچوں میں اس سے پہلے یا کچھ دیر بعد بھی بند ہو سکتا ہے۔
اس لیے صرف یہ بات کہ بچے کا نرم حصہ ابھی کھلا ہے، لازماً بیماری کی علامت نہیں۔
لیکن والدین کو اس کی شکل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔
اگر بچہ پرسکون حالت میں ہو اور نرم حصہ غیر معمولی طور پر بہت ابھرا ہوا اور تناؤ والا محسوس ہو، خاص طور پر ساتھ بخار، مسلسل قے، شدید سستی یا غیر معمولی رونے جیسی علامات بھی ہوں تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے اور بچے کو فوری طبی معائنہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر نرم حصہ واضح طور پر اندر دھنس گیا ہو اور بچہ دودھ کم پی رہا ہو، بار بار قے یا اسہال ہو اور پیشاب بھی کم آ رہا ہو تو جسم میں پانی کی کمی کا امکان ہو سکتا ہے۔
بچے کے سر کو گول کرنے کے لیے نرم حصے پر دباؤ ڈالنا، مالش کرنا یا کوئی چیز باندھنا بالکل ضروری نہیں۔
اور اگر نرم حصہ معمول سے بہت جلد بند ہو جائے، سر کی شکل غیر معمولی ہو یا سر کی بڑھوتری مناسب نہ ہو تو بچوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔
والدین کے لیے آسان اصول:
سر کے نرم حصے کو چھونے سے نہ گھبرائیں۔
اس پر دباؤ نہ ڈالیں اور نہ کوئی چیز باندھیں۔
بچے کے سر کی بڑھوتری باقاعدگی سے دیکھیں۔
اچانک ابھار یا واضح دھنساؤ کو نظر انداز نہ کریں۔
یاد رکھیں:
سر کا نرم حصہ بچے کے جسم کی ایک قدرتی اور ضروری ساخت ہے؛ اسے دیکھ کر گھبرانے کے بجائے اس کی غیر معمولی تبدیلیوں کو پہچاننا زیادہ اہم ہے۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

نومولود بچے کو سلاتے وقت والدین اکثر سوچتے ہیں:“بچے کو سیدھا سلائیں، کروٹ پر یا پیٹ کے بل؟”اس کا جواب بہت واضح ہے:ایک سا...
22/08/2026

نومولود بچے کو سلاتے وقت والدین اکثر سوچتے ہیں:
“بچے کو سیدھا سلائیں، کروٹ پر یا پیٹ کے بل؟”
اس کا جواب بہت واضح ہے:
ایک سال کی عمر تک بچے کو ہر نیند کے وقت پیٹھ کے بل سلانا سب سے محفوظ ہے۔
چاہے بچہ رات کو سو رہا ہو یا دن میں تھوڑی دیر کے لیے، اسے پیٹھ کے بل ہی سلائیں۔ اس پوزیشن سے نومولود اور شیر خوار بچوں میں اچانک موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ دودھ پینے کے بعد بچے کو کروٹ پر یا پیٹ کے بل سلانا ضروری ہے تاکہ دودھ منہ میں واپس آنے کی صورت میں بچہ نہ گھٹے۔ لیکن عام طور پر دودھ واپس آنے والے بچوں کو بھی پیٹھ کے بل سلانا ہی محفوظ ہے۔ صحت مند بچوں میں پیٹھ کے بل سونے سے دم گھٹنے کا خطرہ نہیں بڑھتا۔
بچے کا بستر بھی بہت اہم ہے۔
بچے کو سخت اور ہموار سطح پر سلائیں۔ اس کے نیچے نرم گدا، تکیہ، کمبل، کشن، نرم کھلونے یا ایسی کوئی چیز نہ رکھیں جو بچے کے چہرے کو ڈھانپ سکے۔
بچے کو والدین کے ساتھ ایک ہی کمرے میں لیکن الگ بستر پر سلانا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر بہت چھوٹے بچے کو صوفے یا کرسی پر اپنے ساتھ سلا کر نہ چھوڑیں۔
اگر بچہ خود کروٹ بدلنے اور دونوں طرف پلٹنے کے قابل ہو جائے تو اسے ہر بار واپس سیدھا کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اسے ہمیشہ نیند کے آغاز میں پیٹھ کے بل ہی لٹائیں۔
اور ایک بہت اہم بات:
بچے کو سلاتے وقت اس کے سر کو گول کرنے کے لیے تکیہ، سر کی شکل بنانے والا کشن یا رول کیا ہوا کپڑا استعمال نہ کریں۔
والدین کے لیے آسان اصول یاد رکھیں:
ہر نیند میں بچے کو پیٹھ کے بل سلائیں۔
سخت اور ہموار بستر استعمال کریں۔
تکیہ، نرم کھلونے اور ڈھیلے کمبل بستر سے دور رکھیں۔
بچے کو دھوئیں اور تمباکو سے دور رکھیں۔
بچے کو اپنے کمرے میں، لیکن الگ بستر پر سلانا زیادہ محفوظ ہے۔
یاد رکھیں:
بچے کو سلاتے وقت سب سے محفوظ جگہ نرم تکیوں کے درمیان نہیں، بلکہ ایک صاف، ہموار اور محفوظ بستر پر پیٹھ کے بل ہے۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

بچے کو اچانک جسم کے کسی حصے پر سرخ، ابھرے ہوئے اور شدید خارش والے دانے نکل آئیں، کبھی ایک جگہ ہوں اور کچھ دیر بعد دوسری ...
21/08/2026

بچے کو اچانک جسم کے کسی حصے پر سرخ، ابھرے ہوئے اور شدید خارش والے دانے نکل آئیں، کبھی ایک جگہ ہوں اور کچھ دیر بعد دوسری جگہ منتقل ہو جائیں، تو والدین عموماً بہت گھبرا جاتے ہیں۔ اسے عام طور پر ایکیوٹ آٹیکریا (Acute Urticaria) یا چھپاکی کہا جاتا ہے۔
ایکیوٹ آٹیکریا میں جلد پر ایسے ابھرے ہوئے سرخ یا گلابی دانے بنتے ہیں جنہیں Wheals کہا جاتا ہے۔ ان میں خارش عموماً بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ایک دانہ چند منٹوں یا گھنٹوں میں غائب ہو کر جسم کے کسی دوسرے حصے میں نمودار ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ہر ایک دانہ 24 گھنٹے سے زیادہ ایک ہی جگہ پر نہیں رہتا۔
ایکیوٹ آٹیکریا کیوں ہوتا ہے؟
بچوں میں اس کی سب سے عام وجہ وائرل انفیکشنز ہیں۔ یعنی بچے کو نزلہ، زکام، گلے کا انفیکشن، بخار یا کوئی دوسرا وائرل انفیکشن ہو اور اسی دوران یا انفیکشن کے بعد چھپاکی ظاہر ہو جائے۔
اس کے علاوہ بعض بچوں میں کسی غذا، دوا یا دوسری چیز سے الرجک ردِعمل کی وجہ سے بھی آٹیکریا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر انڈہ، دودھ، مونگ پھلی، مچھلی، بعض اینٹی بایوٹکس یا دوسری ادویات وغیرہ۔
کبھی کبھی کیڑے کے کاٹنے، شدید گرمی یا سردی، پسینہ، دباؤ یا جسم پر رگڑ جیسے عوامل بھی چھپاکی کو متحرک کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر چھپاکی کو فوراً کسی خاص کھانے کی الرجی سمجھ لینا درست نہیں۔ بچوں میں بہت سے کیسز میں اصل وجہ وائرل انفیکشن ہوتی ہے اور کوئی مخصوص الرجی ثابت نہیں ہوتی۔
علامات کیا ہوتی ہیں؟
سب سے نمایاں علامت جلد پر اچانک بننے والے سرخ یا گلابی، ابھرے ہوئے اور خارش والے دانے ہیں۔ یہ دانے چھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے بڑے دھبوں کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ کبھی پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں اور کبھی صرف چہرے، ہاتھوں، پاؤں یا دھڑ پر نظر آتے ہیں۔
بعض بچوں میں ہونٹوں، آنکھوں کے گرد، ہاتھوں یا پاؤں میں سوجن بھی ہو سکتی ہے، جسے Angioedema کہا جاتا ہے۔
گھر پر کیا کریں؟
اگر بچے کو صرف ہلکی یا درمیانی درجے کی چھپاکی ہے، بچہ آرام سے سانس لے رہا ہے، زبان یا گلے میں سوجن نہیں ہے اور عمومی حالت ٹھیک ہے تو عموماً گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
بچے کو ٹھنڈا اور آرام دہ ماحول دیں، زیادہ گرمی اور پسینے سے بچائیں اور خارش کرنے سے روکیں۔ ٹھنڈی پٹی سے بھی عارضی آرام مل سکتا ہے۔
خارش کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے عمر اور وزن کے مطابق Cetirizine یا Loratadine استعمال کی جا سکتی ہے۔ بچوں میں دوا کی خوراک ہمیشہ عمر اور وزن کے مطابق ہونی چاہیے۔
صرف چھپاکی دیکھ کر خود سے اینٹی بایوٹک شروع نہ کریں۔ اسی طرح ہر کیس میں Steroid کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
اگر کسی خاص غذا یا دوا کے استعمال کے فوراً بعد بار بار یہی مسئلہ پیدا ہو رہا ہو تو اس کا ریکارڈ رکھیں اور اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ خود سے بہت سی غذائیں بند کر دینا بھی مناسب نہیں۔
اسپتال میں علاج کیسے ہوتا ہے؟
اگر علامات زیادہ شدید ہوں تو ڈاکٹر بچے کا مکمل معائنہ کرتے ہیں، خاص طور پر سانس، بلڈ پریشر، نبض، آکسیجن اور گلے یا زبان کی سوجن کو دیکھا جاتا ہے۔
سادہ Acute Urticaria میں بنیادی علاج Antihistamines ہیں۔ شدید صورت میں ڈاکٹر ضرورت کے مطابق دوسری ادویات بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بہت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:
ہر چھپاکی Anaphylaxis نہیں ہوتی، لیکن Anaphylaxis میں چھپاکی ہو سکتی ہے۔
اگر چھپاکی کے ساتھ بچے کو سانس لینے میں دشواری، سانس میں سیٹی، گلے یا زبان کی سوجن، آواز میں تبدیلی، نگلنے میں مشکل، مسلسل کھانسی، چکر، بے ہوشی، بہت زیادہ کمزوری، بلڈ پریشر گرنے کی علامات یا اچانک شدید خرابیِ حالت پیدا ہو رہی ہو تو اسے صرف الرجی کے دانے سمجھ کر گھر پر علاج نہ کریں۔
یہ Anaphylaxis ہو سکتی ہے، جو جان لیوا ایمرجنسی ہے۔
ایسی صورت میں Adrenaline (Epinephrine) intramuscularly، ران کے بیرونی حصے میں دینا بنیادی اور زندگی بچانے والا علاج ہے۔ Anaphylaxis میں Adrenaline دینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ Antihistamine اس کا متبادل نہیں ہے۔
یاد رکھیں، Anaphylaxis میں منٹ نہیں بلکہ بعض اوقات سیکنڈز بھی قیمتی ہوتے ہیں۔ بچے کو فوری طور پر ایمرجنسی میں لے جانا چاہیے اور اگر Epinephrine auto-injector دستیاب ہو اور بچے کو پہلے سے تجویز کیا گیا ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا چاہیے۔
آخر میں ایک بات ضرور یاد رکھیں:
بچے کے جسم پر اچانک چھپاکی دیکھ کر گھبرائیں نہیں، لیکن سانس، زبان، گلے یا دورانِ خون کی علامات کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔ سادہ Acute Urticaria اکثر خطرناک نہیں ہوتی، مگر Anaphylaxis ایک حقیقی ایمرجنسی ہے جس میں بروقت پہچان اور فوری Adrenaline بچے کی جان بچا سکتی ہے۔

اگر یہ معلومات آپ کو مفید لگی ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں اور بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک ، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

آج کل موبائل فون بچوں کی زندگی کا ایک عام حصہ بن چکا ہے، لیکن چھوٹی عمر کے بچوں کو زیادہ دیر تک موبائل یا اسکرین دکھانا ...
21/08/2026

آج کل موبائل فون بچوں کی زندگی کا ایک عام حصہ بن چکا ہے، لیکن چھوٹی عمر کے بچوں کو زیادہ دیر تک موبائل یا اسکرین دکھانا ان کی صحت اور نشوونما کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر چھوٹے بچوں میں زیادہ اسکرین ٹائم توجہ، سیکھنے، نیند اور زبان کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ جب بچہ موبائل میں مصروف رہتا ہے تو وہ والدین سے بات چیت، کھیلنے اور اردگرد کی چیزوں کو دیکھ کر سیکھنے کے قدرتی مواقع کم حاصل کرتا ہے، جبکہ یہی چیزیں زبان اور دماغ کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہیں۔
زبان کی نشوونما کے لیے صرف ویڈیو دیکھنا کافی نہیں۔ بچے کو انسانوں سے بات کرنے، سوال کرنے، جواب دینے اور کھیل کے دوران الفاظ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت زیادہ اسکرین ٹائم خاص طور پر کم عمر بچوں میں زبان سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔
اسکرین کو مسلسل قریب سے دیکھنے سے آنکھوں میں تھکن، خشکی، سر درد اور عارضی دھندلا پن ہو سکتا ہے۔ لمبے عرصے تک زیادہ اسکرین ٹائم اور کم outdoor activity بچوں میں قریب کی نظر کمزور ہونے (myopia) کے خطرے سے بھی وابستہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ موبائل ہر صورت میں برا ہے۔ اصل مسئلہ عمر کے مطابق نہ ہونے والا اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم ہے۔ والدین کوشش کریں کہ بچے کو موبائل دے کر خاموش کرانے کے بجائے اس کے ساتھ بات کریں، کھیلیں، کتاب پڑھیں اور اسے جسمانی سرگرمیوں کا موقع دیں۔
یاد رکھیں: بچے کا دماغ صرف اسکرین دیکھ کر نہیں، بلکہ انسانوں سے تعلق، کھیل، گفتگو اور حقیقی دنیا کے تجربات سے بہترین طور پر سیکھتا ہے۔
اگر یہ معلومات آپ کو مفید لگی ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں اور بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن (بچوں کے امراض کے ماہر)
کڈز کئیر کلینک ، شفاء (علی) ہسپتال
نزد ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال، ڈیرہ اسماعیل خان
WhatsApp: 03356502224

Address

Shifa (ALI) Hospital Opposite DHQ Hospital
Dera Ismail Khan

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr SAEED Sturyani - Kidz Care Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share