26/05/2026
8 ذی الحج 60 ہجری —
تاریخ کا وہ دردناک موڑ جب حق اور باطل کی صفیں واضح ہونے لگیں…
رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد امت کے اندر فکری و عملی بگاڑ بڑھتا گیا، یہاں تک کہ بنو امیہ کی حکومت قائم ہو گئی اور یزید جیسا فاسق و فاجر حکمران اقتدار پر مسلط ہو گیا۔
مکہ کی سرزمین، جہاں امن اور حرمت کا حکم تھا، وہاں نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسینؑ کے خلاف بھی خفیہ سازشیں ہونے لگیں۔ امامؑ نے حالات کی سنگینی کو بھانپ لیا۔ وہ جان گئے کہ حج جیسے عظیم فریضے کی ادائیگی کے دوران بھی دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے باز نہیں آئے گا۔
امامؑ نے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور اپنے اہلِ بیت کے ساتھ اس عظیم قربانی کے سفر پر لبیک کہتے ہوئے نکل پڑے… ایک ایسا سفر جو صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ قیامت تک حق و باطل کے درمیان معیار بن گیا۔
اس وقت کا معاشرہ اس حد تک فکری زوال کا شکار تھا کہ ظلم کے خلاف اٹھنے کو بھی “دین کے خلاف” سمجھ لیا گیا تھا۔ لیکن امام حسینؑ نے خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ اپنے خون سے یہ اعلان لکھ دیا کہ دین حق کے لیے قربانی دینی پڑے تو پیچھے نہیں ہٹا جاتا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ نے اپنا رخ بدل لیا… اور 8 ذی الحج کا دن ہمیشہ کے لیے ایک زندہ، مگر درد سے بھرا حوالہ بن گیا۔