09/08/2026
بکرے کا گوشت کبھی اپنی امی کو کھلانا نصیب ہو نہ ہو…
لیکن یہ تسکین درد کا تیل انہیں ہرگز مت لگانا۔
میں نے لگایا تھا…
اور اُس کے بعد جو ہوا، اُس نے ہم سب کو حیران کر دیا۔
شروع میں شاید آپ کو لگے کہ میں مذاق کر رہا ہوں۔
لیکن جب گھر میں کسی اپنے کو جوڑوں یا پٹھوں کا درد ہو…
تو انسان ہر چھوٹی بڑی تبدیلی فوراً محسوس کر لیتا ہے۔
ہم بھی یہی کر رہے تھے۔
ہر روز امی کو دیکھتے…
ہر روز دعا کرتے کہ کاش آج درد کچھ کم ہو جائے…
اور ہر چند دن بعد اُن کے لیے کوئی نیا تیل…
کوئی نیا ٹوٹکا…
یا کوئی نیا مشورہ لے آتے۔
سچ کہوں تو آپریشن کے علاوہ ہم واقعی سب کچھ آزما چکے تھے۔
لیکن ایک چیز تھی جو ہم نے کبھی استعمال نہیں کی تھی…استاد جمیل کا تسکین درد آئل
لوگ کہتے تھے کہ سالوں پرانے جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں بھی اس سے فرق محسوس ہوتا ہے۔
لیکن پھر سوال یہ تھا…
پاکستان میں اصلی اور درد کا تیل ملے گا کہاں سے؟
تھوڑی تحقیق کے بعد ہمیں ملا استاد جمیل کا تسکین درد آئل۔
ہم نے سوچا…
جب اتنی چیزیں آزما ہی لی ہیں…
تو یہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔
اور سچ کہوں…
ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اگلے کچھ ہفتوں میں میری امی کی روزمرہ زندگی اتنی بدل جائے گی۔
سب سے پہلے…
کافی عرصے بعد انہیں نماز میں پہلے جیسی تکلیف کے بغیر رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا۔
شاید جس گھر میں کسی کو جوڑوں کا درد نہ ہو…
وہ اس بات کی اہمیت نہ سمجھے۔
لیکن اگر آپ نے کبھی اپنی امی کو سجدے سے اٹھتے وقت چہرے پر درد کے آثار دیکھے ہوں…
تو آپ جانتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی بات ہوتی ہے۔
پہلے اکثر وہ سجدے سے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں کا سہارا لیتی تھیں۔
کبھی چند لمحے رُک جاتیں…
کبھی چہرے پر درد صاف نظر آتا تھا۔
ہم صرف دیکھ سکتے تھے…
کچھ کر نہیں سکتے تھے۔
اسی لیے جب ایک دن ہم نے انہیں پہلے سے زیادہ آسانی کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا…
تو وہ ہمارے لیے صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی نہیں تھی…
بلکہ ایک بہت بڑا سکون تھا۔
پھر دوسری تبدیلی ہم نے روزمرہ کے کاموں میں دیکھی۔
سیڑھیاں چڑھنا…
گھر کے کام کرنا…
زیادہ دیر کھڑے رہنا…
اور زیادہ دیر چلنا…
یہ سب پہلے کے مقابلے میں کافی آسان لگنے لگا۔
پہلے وہ ہر کام سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچتی تھیں۔
"پتہ نہیں درد ہوگا یا نہیں۔"
کبھی سیڑھیاں آہستہ آہستہ چڑھتی تھیں…
کبھی کچن میں زیادہ دیر کھڑے رہنے سے بچتی تھیں…
اور اگر کہیں باہر جانا ہوتا…
تو واپسی پر درد پہلے سے بڑھ جاتا تھا۔
لیکن آہستہ آہستہ ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہچکچاہٹ کم ہوتی جا رہی ہے۔
گھر کے کام پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ ہونے لگے۔
چلنے پھرنے میں وہ جھجھک نہیں رہی تھیں…
اور یہ فرق صرف انہیں ہی نہیں…
ہم سب کو نظر آ رہا تھا۔
اور پھر تیسری چیز…
جس کی ہمیں بالکل توقع نہیں تھی۔
اب رات کو درد کی وجہ سے بار بار آنکھ نہیں کھلتی تھی۔
پہلے کئی راتیں ایسی گزرتی تھیں جب امی درد کی وجہ سے کروٹیں بدلتی رہتی تھیں۔
کبھی گھٹنوں کو سیدھا کرتیں…
کبھی ٹانگیں موڑتیں…
اور کبھی بس خاموشی سے جاگتی رہتیں۔
صبح اٹھتی تھیں تو ایسا لگتا تھا جیسے جسم نے پوری رات آرام ہی نہ کیا ہو۔
لیکن جب درد آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوا…
تو نیند بھی پہلے سے زیادہ پُرسکون ہونے لگی۔
اور حقیقت یہ ہے…
جب رات اچھی گزرے…
تو پورا دن بھی مختلف محسوس ہوتا ہے۔
اُس وقت ہمارے ذہن میں بھی ایک ہی سوال تھا۔
آخر اس آئل میں ایسی کیا بات ہے؟
کیوں اس سے وہ فرق محسوس ہوا…
جو اتنے دوسرے تیلوں سے نہیں ہوا؟
تب میں نے اس کے بارے میں مزید تحقیق کی۔
تب پتا چلا کہ تسکین دردکا نام صرف لونگ کے تیل کی وجہ سے نہیں…
بلکہ اسے تسکین درد اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں خالص لونگ کے تیل کے ساتھ اومیگا 3، 6 اور 9 کے علاوہ ونٹر گرین آئل، کیپسیکم آئل اور یوکلپٹس آئل بھی شامل ہیں۔تسکین درد میں موجود اومیگا 3، 6 اور 9 جوڑوں اور پٹھوں کو سہارا دینے اور اکڑاؤ کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
جبکہ ونٹر گرین، کیپسیکم اور یوکلپٹس آئل درد والی جگہ پر ٹھنڈک، سکون اور آرام کا احساس فراہم کرتے ہیں۔
اسی منفرد امتزاج کی وجہ سے اسے صرف آئل نہیں…
بلکہ تسکین درد آئل کہا جاتا ہے۔
اگر آپ بھی اپنی امی کے لیے ایسا محفوظ اور قدرتی حل ڈھونڈ رہے ہیں…
جس سے ان کی روزمرہ زندگی کچھ آسان ہو جائے…
نماز پہلے سے زیادہ آرام سے ادا ہو…
سیڑھیاں چڑھنا اتنا مشکل نہ لگے…
اور رات کا درد ان کی نیند نہ چرائے…
تو میں استاد جمیل کا تسکین درد آئل ضرور تجویز کروں گا۔
کیونکہ کبھی کبھی زندگی بدلنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی…
صرف صحیح چیز…
صحیح وقت پر مل جانا ہی کافی ہوتا ہے۔