18/06/2026
محمود صاحب کی کہانی: درد سے نجات اور خوف سے آزادی
دو سال۔ سات سو تیس دن۔ اتنے دنوں میں محمود صاحب نے ایک ہی سوال پوچھا تھا، "کیا میں کبھی سیدھا کھڑا ہو پاؤں گا؟"
وہ سمندری کے ایک معروف زمیندارشخصیت تھے۔ دن بھر لوگوں میں بیٹھنا، گاڑی میں لمبا سفر، اور پھر گھر آکر تھکے ہارے بستر پر گرنا — یہی ان کا معمول تھا۔ مگر دو سال پہلے جب کمر کے نچلے حصے میں اچانک تیز درد اٹھا تو ان کی زندگی بدل گئی۔
شروع میں وہ عام سا درد سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے۔ "چلنے پھرنے سے ٹھیک ہو جائے گا،" وہ سوچتے۔ مگر وقت کے ساتھ درد نے شدت پکڑ لی۔ کبھی ٹانگ میں جھنجھناہٹ، کبھی بیٹھنے پر تکلیف، کبھی رات کو نیند سے جاگنا۔ ڈاکٹروں کے چکر لگے، ایکس رے ہوئے، ایم آر آئی ہوئی، ہر بار ایک ہی مشورہ: "سرجری کی ضرورت ہے۔"
مگر محمود صاحب کے دل میں خوف بیٹھ گیا تھا۔
لوگ کہتے تھے:
"بھائی، کمر کی سرجری خطرناک ہوتی ہے۔"
"ہمارے پڑوسی کا بیٹا آپریشن کے بعد اٹھ نہیں سکا۔"
"ڈاکٹر تو پیسے کے لیے کچھ بھی کہیں گے۔"
یہ باتیں ان کے ذہن میں گھر کر گئیں۔ انہوں نے سرجری سے انکار کر دیا۔ پھر شروع ہوئی گولیوں اور انجکشنوں کی زندگی۔ درد کم ہوتا تو چند دن، پھر واپس آتا۔ وہ چھڑی کے سہارے چلتے، بیٹھتے اُٹھتے تو کراہت، مسجد جاتے تو صف میں کھڑا ہونا عذاب بن گیا۔
ان کی بیگم اور بچے پریشان، کاروبار متاثر، زندگی کا مزہ ختم۔
پھر ایک دن ان کے ایک پرانے دوست نے مشورہ دیا:
"محمود، ایک نیا طریقہ آیا ہے۔ اینڈوسکوپک سرجری۔ بغیر چیرے کے، بغیر کاٹ کے، صرف ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے ڈسک کو ٹھیک کر دیتے ہیں۔"
محمود صاحب نے مسکرا کر کہا، "یہی تو وہی ڈراؤنا آپریشن ہے نا؟"
دوست نے سمجھایا، "نہیں یہ بالکل نیا ہے۔ اس میں ریڑھ کی ہڈی کو چھیڑا نہیں جاتا، نہ کوئی بڑا زخم ہوتا ہے۔ مریض اسی دن چل پھر سکتا ہے۔"
محمود صاحب کا دل پھر مچل گیا۔ امید بھی تھی اور خوف بھی۔ مگر درد نے حد پار کر رکھی تھی۔ انہوں نے سوچا، "اب اور کیا بگڑے گا؟"
وہ ایک ماہر اینڈوسکوپک سپائن سرجن کے پاس گئے جنہوں نے انہیں مکمل طریقہ کار سمجھایا:
· ایک چھوٹی سی ٹیوب ڈالی جائے گی
· کیمرے کے ذریعے ڈسک کا پھیلا ہوا حصہ دیکھا جائے گا
· اسے ہٹا کر اعصاب پر سے دباؤ ختم کیا جائے گا
· کوئی بڑا چیرا نہیں، کوئی سٹیل نہیں، کوئی سکرو نہیں
محمود صاحب نے فیصلہ کر لیا۔
سرجری کا دن آیا۔ صبح 8 بجے ہسپتال پہنچے۔ دل دھڑک رہا تھا۔ بیگم کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے کہ شاید یہ آخری بار ہو۔ عملے نے انہیں تیار کیا۔ اینستھیزیا دی گئی —
چند منٹ، بس چند منٹ۔ اور پھر ڈاکٹر نے کہا، "اب اپنی ٹانگ ہلائیں۔"
محمود صاحب نے ہلائی — اور حیران رہ گئے۔ درد نہیں تھا! وہ جھنجھناہٹ جو دو سال سے تھی، وہ چٹخنے کی آواز، وہ بوجھ — سب ختم!
وہ خود اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آپریشن ٹیبل پر ہی وہ مسکرا اٹھے۔
چند گھنٹے بعد جب انہیں اٹھایا گیا تو وہ بغیر چھڑی کے چلے۔ ہال میں بیگم نے دیکھا تو رو پڑیں — وہی محمود صاحب جو دو سال سے درد میں کراہ رہے تھے، آج سیدھے کھڑے تھے، مسکرا رہے تھے، اور چل رہے تھے۔
اگلے دن وہ گھر آ گئے۔ تیسرے دن اپنی زمینوں پر گئے۔ ساتویں دن وہ دوستوں کے ساتھ باہر کھانے گئے جنہوں نے کہا، "محمود! تم تو جوان ہو گئے ہو!"
محمود صاحب نے جواب دیا:
"دوستو، میں دو سال ڈرتا رہا۔ لوگوں کی باتیں سن کر ڈرتا رہا۔ مگر آج میں کہہ رہا ہوں — اینڈوسکوپک سرجری وہ معجزہ ہے جس نے میری زندگی واپس دی۔ نہ درد، نہ ڈر، نہ چھری، نہ کاٹ۔ بس ایک چھوٹا سا سوراخ اور ایک بڑی راحت۔"
آج محمود صاحب روزانہ صبح کی سیر کرتے ہیں، مسجد میں پہلی صف میں کھڑے ہوتےاور کاروبار میں پہلے سے زیادہ توانا ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
"جو لوگ کہتے ہیں کہ کمر کی سرجری خطرناک ہے، وہ شاید پرانی ٹیکنالوجی کی بات کر رہے ہیں۔ آج کا دور اینڈوسکوپی کا دور ہے۔ میں نے خود دیکھا، میں نے خود محسوس کیا — اور میں آپ سب کو بتاتا ہوں، خوف نہ کریں، ڈاکٹر سے مشورہ کریں، اور جدید علاج کو موقع دیں۔"
یہ کہانی محمود صاحب کی ہے، مگر یہ ہر اس شخص کی کہانی ہے جو درد میں جی رہا ہے اور خوف میں مر رہا ہے۔ یاد رکھیں، درد کا خاتمہ ممکن ہے، بس صحیح راستے کا انتخاب کریں۔
---
"درد ختم، زندگی شروع — محمود صاحب کی کامیابی کی کہانی"
Endoscopic Spine Solutions Endofia / Dr. Mian Awais Endoscopic Spine Surgeon Endoscopic Spine Surgeon Dr Mian Awais No Scar Spine Surgeon Dr. Mian AwaisSpine Scop