Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon

Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon MBBS, M.S. (R) UHS Lhr ,
NeuroSurgeon Registrar Allied Hospital Faisalabad

09/04/2026

Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon

13/03/2026
10/03/2026

CT scan Brain کس حد تک خطر ناک ہوسکتا ؟
Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon

09/03/2026

ہماری عوام کے شعور کا لیول۔۔۔

08/03/2026

روزہ اور ہماری صحت ۔۔۔۔

25/10/2025

Over eating lead to disease...
Must watch.

06/10/2025

کسی بھی #ایمرجنسی کی صورت میں کوشش کریں کہ ہمیشہ سرکاری ہسپتال جائیں۔ سرکاری ہسپتال کا جونیئر ترین ڈاکٹر یا ہاؤس آفیسر یا پیرامیڈیکل سٹاف بھی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے اور سینئر ڈاکٹر بھی اگر بالفرض موقع پر ایمرجنسی میں موجود نہیں تب بھی وہ ہمیشہ رابطے میں ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پہنچ بھی جاتے ہیں۔
میں خود اپنے سب دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں خواہ آپ جتنے بھی امیر ہوں ایمرجنسی ہمیشہ سرکاری ہسپتال میں اچھی مینیج ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریسکیو 1122 بھی ہمیشہ مریض کو سرکاری ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے ہاتھوں میں صرف کوشش کرنا ہے صحت دینا یا زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔تو سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے سے بھی ویسے ہی ادب سے پیش آئیں جیسے آپ ہزاروں روپے دینے کے باوجود پرائیویٹ ہسپتال میں ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملے سے پیش آتے ہیں۔
24/7 آپکے لیے وہاں موجود ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل آپ کے لیے اور آپ کے پیاروں کے لیے اپنی نیندیں قربان کر کے وہاں موجود ہیں۔
لہٰذا آپ بھی ان سے محبت سے پیش آئیں میں لکھ کر دیتا ہوں بدلے میں آپکو شیرینی ہی ملے گی۔
میڈیا میڈیکل کے شعبے کو برا بنا کر پیش کرتا ہے جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔
جزاک اللہ خیر
اس آگہی کو آگے پھیلائیں، شعور پھیلانا بھی صدقہ ہے

14/08/2025

اٹھارویں سکیل اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین اور تمام وردی پوش افسران سمیت پانچ لاکھ ماہانہ سے اوپر آمدن رکھنے والے پاکستانیوں کو جشن آزادی مبارک۔ پاکستان زندہ باد۔

Dr.Shoaib Iqbal

29/07/2025

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں
ڈائکلوفینیک، اومیپرازول اور کوایموکسی کلیو کو آب حیات کا درجہ دے دیا گیا۔
مرض کوئی بھی ہو ڈاکٹر یہی لکھیں ورنہ جیل جائیں!!🤦

21/07/2025

ساہیوال میں ایک ممبر اسمبلی کے گھر کی خواتین کو کسی سبب الٹراساونڈ کروانا تھا۔ وہ سول ہسپتال گئے۔ وہاں بدمزگی ہوئی۔ صاحب کی ویڈیو دیکھی جس میں انہوں نے تین اعتراض اٹھائے اور محکمہ صحت سے جواب طلب کیا۔ تینوں بالکل جائز باتیں ہیں اور اللہ کرے محکمہ صحت نہ صرف ان کا جواب دے بلکہ اپنے نظام میں مطلوبہ بہتری بھی کرے۔

اعتراض نمبر ۱۔ ایک خاتون کا الٹراساونڈ ہو رہا تھا تو غیر متعلقہ افراد پاس کیوں کھڑے تھے؟

یہ سوال پرائیویسی سے متعلقہ ہے۔ کون چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی خواتین یا بھلے مرد ہی، کسی وجہ سے ایکسپوز ہوں تو اس حالت میں کوئی بھی ایسا شخص جس کا ادھر براہ راست کام نہیں وہاں موجود ہو؟ سرکاری ہسپتالوں میں لیکن اس بنیادی سی انسانی ضرورت کا خیال رکھنے کا انتظام نہیں ہے۔ الٹراساونڈ ایکسرے سے لے کر آپریشن تھیٹر اور جنرل وارڈز تک ہر جگہ پرائیویسی یا پردے کو پامال کیا جاتا ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ پروسیجرز کے لیے جو ذیلی اسٹاف ہے وہ خواتین بھی ضروری تعداد میں بھرتی کی جائیں، آپریشن تھیٹر اور پروسیجر رومز کے باقاعدہ مینیجر ہوں جو سٹاف کو حسب ضرورت تعینات کر کے پرائیویسی کا بندوبست کریں۔ جبکہ وارڈوں میں ہر بستر کے گرد پردہ لٹکا کر یا چِک بنوا کر معاملات بہتر کئے جائیں۔

اعتراض نمبر ۲۔ زیر تربیت/ جونیئر ڈاکٹر الٹراساونڈ کیوں کر رہے تھے؟ ان کی رپورٹ کون مانے گا؟

یہ بھی درست ہے۔ ہر ہسپتال کے تقریباً ہر شعبے میں سینیئر ڈاکٹروں کی آسامیاں مریضوں کی شرح کے حساب سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اور پھر صبح دوپہر شام کے حساب سے ان کی ڈیوٹی ہو۔ شام اور رات والی شفٹ اتوار اور چھٹی والی شفٹ پر مشاہرہ زیادہ ہو۔ یوں یہ سینیئر ہر وقت مریضوں کی اچھی اچھی رپورٹیں بھی بنائیں گے اور زیر تربیت ڈاکٹروں کی اچھی تربیت بھی ہو گی۔

اعتراض نمبر ۳۔ تکیہ اور صاف چادر موجود نہیں تھے۔ الٹراساونڈ کے بعد جسم کو صاف کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔

یہ بھی سچ ہے۔ یہ چیزیں ہسپتال میں موجود نہیں ہیں۔ پیسوں سے خریدی جاتی ہیں اور ہر مریض کے استعمال کے لیے موجود ہونی چاہئیں۔

ان تین اعتراضات کی پاداش میں دو جونیئر لیڈی ڈاکٹرز کو عبوری طور پر ٹریننگ سے روک دیا گیا ہے اور کاروائی میں انہیں جوابدہ بتایا جا رہا ہے۔ اب آپ ایک دفعہ دل پے پاتھ رکھ کر ایمانداری سے بتائیں کہ پرائیویسی کے بندوبست سے لے کر سینیئر ڈاکٹروں کی بھرتیوں تک اور بیڈ شیٹس سے لے کر تکیوں اور صفائی کے انتظامات تک کون سا کام ہے جو پوسٹ گریجویشن تربیت لینے آیا جونیئر ڈاکٹر کر سکتا ہے؟ یہ تمام قصور انتظامی عہدوں پر موجود لوگوں کے ہیں اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اصل قصور وار کی جوابدہی ہو۔

باقی اپنے ڈاکٹر کولیگز خصوصاً جونیئرز کے لیے مشورہ ہے کہ ڈیوٹی پر آتے وقت اپنے پرس یا بٹوے میں صاف بیڈ شیٹ، تکیہ، ایک لوٹا، پانی کا ایک ڈرم، صابن، لٹکانے کے قابل بڑا پردہ، ایک سینیئر ڈاکٹر اور ضروری ٹیکے دوائیاں وغیرہ رکھ کر لایا کریں تاکہ کوئی اونچی سطح کا وزٹ ہو تو پروٹوکول پورا کر کے معطلی سے بچنا ممکن ہو سکے۔ پہلے چادر بچھائیں، پھر تکیہ رکھیں، پھر پردہ لٹکائیں، اس کے بعد احتیاط سے سینیئر ڈاکٹر کو پرس میں سے باہر نکالیں، اتنی دیر باہر کھڑے ہو کر پہرہ دیں کہ کوئی غیر متعلقہ بندہ پاس نہ آئے، جب سینیئر مریض کو چیک کر لے تو اسے احتیاط سے واپس پرس میں ڈالیں، پھر پانی کے ڈرم اور لوٹے صابن کی مدد سے مریض کو اچھی طرح مل مل کر صاف کریں، اضافی نمبروں کے لیے تولیہ بھی ساتھ ہو تو کیا ہی بات ہے۔ جاتے ہوئے اپنے پاس سے دوائی گھر کے لیے بھی ساتھ رکھوائیں اور ہنسی خوشی رخصت کریں۔ اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔

-Dr. Uzair Saroya

Address

Faisalabad

Telephone

+923451228293

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Shoaib Iqbal Saddiqui-NeuroSurgeon:

Shortcuts

Share