02/07/2026
نیکی میرے گلے پڑ گئی، چند روز پہلے یہ بچہ مجھے کنگنی والا کے قریب دِکھا۔ پاس ہی ایک عورت کھڑی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہی وقت ہے اس ظلم کو روکنے کا۔ سکوٹر سائیڈ پر لگائی اور اس عورت کے پاس جا کر بولا۔ "بہن اس بچے پر یہ ظلم کیوں کر رہی ہیں آپ، اسکے کھیلنے ہنسنے سکول جانے کے دِن ہیں اور آپ نے اسے گولڈن بوائے بنا کر یہاں بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔۔۔" آگے سے خاتون ایک دم گھبرا گئی۔ میں نے بات بنتی دیکھ کر مزید رعب دارانہ آواز میں کہا "ملاؤں 15 پر کال؟ پہنچاؤں آپکو تھانے؟" ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ ایک موٹر سائیکل سوار میرے قریب رکا، اس نے مجھے کاندھے سے پکڑا اور پنجابی میں بولا "اوئے کی تکلیف اے اوئے تینوں؟" میں نے دل میں سوچا کہ آگیا انکا سہولت کار، اسکی بھی ایسی کی تیسی۔ "اوئے تہانوں شرم نئیں آندی، ہمارے شہر میں بچوں کو اغواء کر کے بھیک منگوا رہے ہو؟" یہ سننا تھا کہ وہ شخص ہکا بکا رہ گیا۔ میرے قریب آیا اور بولا "اوئے اللہ کے بندے، ہم میاں بیوی اور یہ ہمارا بیٹا ہے۔ گکھڑ سے موٹر سائیکل پر ایمن آباد کے لئے نکلے تھے۔ بچہ موٹر سائیکل کے آگےبیٹھا تھا، راستے میں میٹرو پراجیکٹ کی دھول اور مٹی اس پر پڑنے سے یہ حال ہو گیا، میں انکو یہاں اتار کر بائیک کو پنکچر لگوانے گیا تھا، پیچھے سے تمہیں ہیرو پُنا یاد آگیا۔ نکلو یہاں سے ورنہ اب میں کروں گا 15 پر کال۔۔۔ " یہ سننا تھا کہ میں وہاں سے ایسے غائب پوا جیسے بجلی بارش کو دیکھ کر ہوتی ہے۔۔۔