DR Muhammad SUFYAN-child specialist

DR Muhammad SUFYAN-child specialist DR MUHAMMAD SUFYAN
MBBS,FCPS(c)
Child Specialist
Ex Registrar Mayo Hospital / King Edward Medical University Lahore.

بچے کی غذائیت: پیدائش سے 2 سال تک ایک آسان رہنمابچے کی زندگی کے پہلے دو سال اس کی نشوونما، دماغی ترقی اور مضبوط صحت کی ب...
10/06/2026

بچے کی غذائیت: پیدائش سے 2 سال تک ایک آسان رہنما
بچے کی زندگی کے پہلے دو سال اس کی نشوونما، دماغی ترقی اور مضبوط صحت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پیدائش سے 6 ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ بہترین اور مکمل غذا ہے۔ اس میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو بچے کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور بیماریوں سے حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ اس دوران بچے کو پانی، شہد، جوس یا کوئی اور غذا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچے کو جب بھی بھوک لگے دودھ پلائیں، کیونکہ ہر بچے کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔
جب بچہ 6 ماہ کا ہو جائے تو ماں کے دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا (Weaning) شروع کرنی چاہیے۔ ابتدا نرم اور اچھی طرح مسلی ہوئی غذاؤں سے کریں، جیسے دلیہ، دال، چاول، کیلا، آلو، سبزیاں یا اچھی طرح پکا ہوا گوشت۔ نئی غذا ایک وقت میں ایک ہی متعارف کروائیں تاکہ اگر کسی چیز سے الرجی ہو تو آسانی سے معلوم ہو سکے۔ شروع میں دن میں 2 سے 3 بار تھوڑی مقدار میں کھانا دیں اور آہستہ آہستہ مقدار اور اقسام بڑھاتے جائیں۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہ دیں اور کھانوں میں نمک یا چینی شامل کرنے سے گریز کریں۔
6 سے 8 ماہ کی عمر میں بچے کو روزانہ 2 سے 3 مرتبہ ٹھوس غذا کے ساتھ ماں کا دودھ جاری رکھیں۔ 9 سے 12 ماہ کی عمر میں 3 سے 4 بار کھانا اور 1 سے 2 صحت مند اسنیکس دیے جا سکتے ہیں۔ ایک سال کے بعد بچہ گھر کے عام کھانے نرم شکل میں کھا سکتا ہے اور اسے روزانہ تین اہم کھانے اور 1 سے 2 ہلکے اسنیکس دیے جا سکتے ہیں۔
والدین کو بچے کی بھوک اور پیٹ بھرنے کی علامات کو سمجھنا چاہیے۔ اگر بچہ ہاتھ منہ میں ڈالے، ہونٹ چاٹے، کھانے کی طرف متوجہ ہو یا بے چین ہو تو یہ بھوک کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر بچہ منہ بند کر لے، سر دوسری طرف موڑ لے یا کھانے میں دلچسپی ختم کر دے تو سمجھیں کہ اس کا پیٹ بھر چکا ہے۔ بچے کو زبردستی کھلانے سے گریز کریں۔
بچے کو مختلف غذائی گروپس سے متوازن غذا دیں، جس میں اناج، دالیں، گوشت، انڈہ، پھل، سبزیاں اور دودھ شامل ہوں۔ بازار کی غیر صحت بخش اشیاء، کولڈ ڈرنکس، چپس اور زیادہ میٹھی چیزوں سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں۔ کھانے کے دوران موبائل یا اسکرین کے استعمال سے بچیں اور بچے کو خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی عادت ڈالیں۔
اگر بچہ کھانے میں نخرے کرے، کوئی غذا پسند نہ کرے یا قبض جیسی شکایت ہو تو صبر سے کام لیں۔ ایک ہی غذا مختلف انداز میں بار بار پیش کریں۔ اکثر بچوں کو نئی غذا قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اگر بچے کی نشوونما، وزن یا خوراک کے بارے میں کوئی تشویش ہو تو اپنے ماہرِ اطفال سے مشورہ کریں۔

09/06/2026
بچوں کو Gripe Water کیوں نہیں دینی چاہیے؟بہت سے والدین پیٹ درد، گیس یا رونے کی صورت میں بچوں کو Gripe Water دیتے ہیں، لی...
07/06/2026

بچوں کو Gripe Water کیوں نہیں دینی چاہیے؟
بہت سے والدین پیٹ درد، گیس یا رونے کی صورت میں بچوں کو Gripe Water دیتے ہیں، لیکن ماہرینِ اطفال کے مطابق اس کے فوائد کے واضح سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔
Gripe Water سے متعلق اہم باتیں
🔹 فائدہ ثابت نہیں تحقیقی شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ Gripe Water واقعی گیس، کولک یا بے چینی کو ختم کرتی ہے۔
🔹 غیر ضروری اجزاء کئی مصنوعات میں جڑی بوٹیاں، میٹھے اجزاء یا دیگر مادے شامل ہوتے ہیں جن کی بچے کو ضرورت نہیں ہوتی۔
🔹 الرجی کا خطرہ کچھ بچوں میں اس کے اجزاء سے الرجی یا حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔
🔹 پیٹ بھرنے کا مسئلہ اگر بچہ بار بار Gripe Water پی لے تو دودھ کم پی سکتا ہے، جس سے غذائیت متاثر ہو سکتی ہے۔
🔹 انفیکشن کا خدشہ اگر بوتل صحیح طریقے سے محفوظ نہ رکھی جائے یا معیاد ختم ہو جائے تو آلودگی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
اگر بچہ گیس یا کولک کی وجہ سے رو رہا ہو تو کیا کریں؟
✔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو ڈکار ضرور دلائیں۔
✔ فیڈ کے دوران بچے کی پوزیشن درست رکھیں۔
✔ بچے کے پیٹ پر ہلکی مالش کریں۔
✔ سائیکلنگ جیسی نرم ٹانگوں کی ورزش کروائیں۔
✔ اگر بچہ بہت زیادہ رو رہا ہو، دودھ نہ پی رہا ہو، بخار ہو یا الٹیاں آ رہی ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
یاد رکھیں
ہر رونا گیس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ بھوک، نیند، گرمی، سردی یا گود کی ضرورت بھی بچے کے رونے کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ 6 ماہ سے کم عمر بچوں کو بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کوئی دوا یا سپلیمنٹ دینا مناسب نہیں۔
بچے کی گیس اور کولک کا بہترین علاج عموماً صبر، مناسب فیڈنگ تکنیک اور والدین کی توجہ ہوتی ہے، نہ کہ Gripe water

Dr Muhammad Sufyan
Child Specialist

ماں نے گوشت کھایا بچے کو موشن لگ گئے...! اب پھر آگے تو آم بھی آ رہے ہیں تو بریسٹ فیڈنگ کروانے والی ماؤں کو یا تو آم چھوڑ...
05/06/2026

ماں نے گوشت کھایا بچے کو موشن لگ گئے...!

اب پھر آگے تو آم بھی آ رہے ہیں تو بریسٹ فیڈنگ کروانے والی ماؤں کو یا تو آم چھوڑنا پڑے گا یا پھر بچے کو بریسٹ فیڈنگ!؟

کیونکہ گوشت والے کیس میں تو گھر والوں نے ماں کو بریسٹ فیڈنگ چھڑوانے پر مجبور کر دیا تھا۔ 🙄😒

لیکن ایک بات بتا دوں... ایک ماہ سے 2 سال تک بچے کئی مرتبہ لوز سٹول والے فیز سے گزرتے ہیں۔ اور اگر بچے کو دیکھیں تو بچہ ہشاش بشاش، کھیلتا ہنستا، شرارتیں کرتا، پراپر فیڈ لیتا اور سوتا جاگتا رہتا ہے... بس سٹول دن میں کئی مرتبہ، موشن جیسا کرتا ہے۔

تو ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟؟؟ بچے کو پراپر فیڈ کروانا جاری رکھیں۔ ڈاکٹر کے مشورے پر زنک سپلیمنٹ دیں۔ خود بھی ہیلتھی ڈائیٹ لینا جاری رکھیں۔ اور سب سے بڑھ کر "وہم نہ کریں!"

بریسٹ فیڈنگ کروانے والی ماں ہر ہیلتھی فوڈ کھا سکتی ہے ✅ بچہ دو سال تک بریسٹ فیڈنگ کر سکتا ہے ✅

ہاں چھوٹے موٹے مسئلے ہو ہی جاتے ہیں... ظاہر ہے دنیا کی زندگی ماں کے پیٹ جیسی تو ہوتی نہیں۔ ماں جتنا بھی پرہیز کرلے، چاہے بچے کو صرف ٹاپ فیڈ پر ہی رکھ لے، پھر بھی بچہ چھوٹے موٹے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے....کیوں؟؟؟ کیونکہ یہ دنیا ہے۔ یہاں موسم بدلتے ہیں، یہاں مٹی اڑتی ہے، یہاں دھوپ آتی ہے، یہاں وبائیں پھیلتی ہیں، یہاں وائرس بیکٹیریا رہتے ہیں، یہاں بارش برستی ہے، یہاں ہوائیں بھی چلتی ہیں، یہاں انسان بستے ہیں...اور کئی جاندار بھی پلتے ہیں... پھر ایک انسانی بچہ جو دنیا میں آتے ہی تیز ترین نشوونما سے گزرتا ہے وہ چھوٹے موٹے مسائل کا شکار ہو ہی سکتا ہے جناب..

ماں باپ کیا کر سکتے ہیں؟؟؟ بچے کو بیمار ہونے سے بچانا تقریباً ناممکن ہے لیکن جلدی صحتیاب ہونے کیلئے مدافعت بڑھانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ اور یہ کوشش ہوتی ہے بریسٹ فیڈنگ کروانے سے۔ کیونکہ بریسٹ ملک میں مدافعتی اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ اور گھر کے ماحول کو صاف ستھرا اور سادہ رکھنے سے۔
Dr Muhammad Sufyan
Child specialist

🩸 EPISTAXIS (NOSEBLEED) IN CHILDREN❓ What is Epistaxis?Epistaxis means bleeding from the nose (nosebleed).Most nosebleed...
04/06/2026

🩸 EPISTAXIS (NOSEBLEED) IN CHILDREN

❓ What is Epistaxis?
Epistaxis means bleeding from the nose (nosebleed).
Most nosebleeds in children come from the front part of the nose (Little's area/Kiesselbach plexus) where many tiny blood vessels are present. These vessels can bleed easily due to dryness or minor trauma. �
❓ ناک سے خون آنا کیا ہے؟
ناک سے خون آنے کو Epistaxis کہتے ہیں۔
زیادہ تر بچوں میں خون ناک کے اگلے حصے سے آتا ہے جہاں باریک خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں جو آسانی سے پھٹ سکتی ہیں۔ �

✅ Nose picking (most common)
✅ Dry weather / dry indoor air
✅ Colds and upper respiratory infections
✅ Allergic rhinitis (nasal allergy)
✅ Foreign body in the nose
✅ Minor injury to the nose
✅ Cigarette smoke and irritants
✅ Nasal steroid sprays

اردو
✅ ناک میں انگلی کرنا
✅ خشک موسم
✅ نزلہ زکام
✅ ناک کی الرجی
✅ ناک میں کوئی چیز پھنس جانا
✅ ناک پر چوٹ
✅ سگریٹ کا دھواں
✅ بعض ناک کے اسپرے

🏠 How to Manage at Home
Step 1
✅ بچے کو بٹھائیں اور سر آگے کی طرف جھکائیں
❌ سر پیچھے نہ کریں
Step 2
✅ ناک کے نرم حصے (Soft Part) کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے دبائیں
Step 3
✅ مسلسل 10 منٹ تک دبائے رکھیں
❌ بار بار چھوڑ کر نہ دیکھیں کہ خون بند ہوا یا نہیں
Step 4
✅ ناک کے اوپر ٹھنڈی پٹی یا آئس پیک رکھ سکتے ہیں
Step 5
✅ خون بند ہونے کے بعد 24–48 گھنٹے ناک میں انگلی کرنے یا زور سے ناک صاف کرنے سے بچیں
These measures stop most childhood nosebleeds. �

🚨 When Should You See a Doctor?
Seek medical attention if:
🔴 Bleeding continues for more than 15–20 minutes
🔴 Nosebleeds happen frequently
🔴 Child looks pale, weak, or dizzy
🔴 Bleeding follows significant trauma
🔴 Easy bruising or bleeding from other sites is present
🔴 A foreign body is suspected in the nose
🔴 Recurrent severe bleeding in an adolescent boy �
Elsevier E-Library
🌿 Prevention Tips
✔ Keep nails short
✔ Discourage nose picking
✔ Use saline nasal drops/spray if advised
✔ Use a humidifier during dry weather
✔ Treat nasal allergies properly
✔ Avoid cigarette smoke exposure �

🌟 Key Message for Parents
Most childhood nosebleeds are harmless and stop with proper pressure on the nose. Recurrent or severe nosebleeds should be evaluated by a pediatrician. 🩺
🌟 والدین کے لیے پیغام
بچوں میں ناک سے خون آنا اکثر خطرناک نہیں ہوتا اور صحیح طریقے سے ناک دبانے سے رک جاتا ہے، لیکن بار بار یا زیادہ خون آنے کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔
— Dr. Muhammad Sufyan
Child Specialist 👶🩺

02/06/2026
Febrile Fits (بخار کے دورے)بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ ...
01/06/2026

Febrile Fits (بخار کے دورے)

بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں تیز بخار کے دوران ہوتے ہیں۔ یہ دورے اس وجہ سے پڑتے ہیں کہ اس عمر میں بچے کا دماغ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا اور بخار کے اچانک بڑھنے پر دماغ عارضی طور پر جھٹکوں کی صورت میں ردِعمل دیتا ہے۔ یہ دورے عام طور پر پورے جسم میں اکڑاؤ، ہاتھ پاؤں کے جھٹکے، آنکھوں کا اوپر کی طرف چلے جانا اور چند لمحوں کے لیے ہوش ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر دورے ایک سے پانچ منٹ میں خود ہی رک جاتے ہیں اور بچے کو کوئی مستقل دماغی نقصان نہیں پہنچتا، حالانکہ والدین کے لیے یہ کیفیت نہایت خوفناک ہوتی ہے۔

بخار کے دوروں کی بنیادی وجہ تیز بخار ہے، خاص طور پر جب بخار اچانک اور تیزی سے بڑھے۔ اکثر بچوں میں یہ بخار وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے نزلہ، زکام، کان کا انفیکشن، گلا خراب ہونا، سینے یا پیٹ کا انفیکشن۔ بعض اوقات حفاظتی ٹیکوں کے بعد بھی بخار آ سکتا ہے جو چند بچوں میں دورے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دورہ بخار کی شدت سے زیادہ اس کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے پڑتا ہے، اسی لیے بعض بچوں کو نسبتاً کم بخار میں بھی دورہ ہو جاتا ہے۔

کچھ بچوں میں بخار کے دوروں کا رجحان خاندانی ہوتا ہے۔ اگر والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ داروں کو بچپن میں بخار کے دورے پڑے ہوں تو بچے میں بھی اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کو پہلا دورہ کم عمر میں پڑے، بخار کے دوران بار بار دورے ہوں یا دورہ نسبتاً لمبا ہو تو آئندہ بخار میں دوبارہ دورے پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ تر بچوں میں کسی خاص دماغی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ عام طور پر بخار کے دورے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں ڈاکٹر مزید جانچ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں دماغ کی برقی سرگرمی جانچنے کے لیے EEG اور دماغ کی ساخت دیکھنے کے لیے MRI برین ٹیسٹ شامل ہیں۔ یہ ٹیسٹ اس وقت ضروری ہو سکتے ہیں جب دورہ پندرہ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہوں، دورہ جسم کے ایک حصے تک محدود ہو، بچہ دورے کے بعد دیر تک ہوش میں نہ آئے یا بچے کی نشوونما پہلے سے نارمل نہ ہو۔

بخار کے دوروں کے لیے عموماً کسی مستقل علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل مقصد بخار کی وجہ کو پہچاننا، انفیکشن کا مناسب علاج کرنا اور بخار کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور دماغ پختہ ہوتا ہے، بخار کے دورے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے عام طور پر روزانہ یا طویل عرصے تک دوروں کی دوائیں دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

کچھ بچوں میں جنہیں بار بار بخار کے دورے پڑتے ہوں یا جن کے پچھلے دورے طویل رہے ہوں، ڈاکٹر بخار کے دنوں میں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا Va**um tablet (Diazepam) تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ دوا بخار کے شروع ہوتے ہی محدود مدت کے لیے دی جاتی ہے تاکہ دورے کے امکانات کم ہو سکیں۔ اس دوا کے ممکنہ اثرات میں غنودگی، کمزوری اور سستی شامل ہو سکتی ہے، اس لیے اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے، یا بچہ بار بار دورے میں جا رہا ہو اور فوری طور پر ہسپتال پہنچنا ممکن نہ ہو تو Re**al Diazepam (Va**um suppository) استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا پاخانے کے راستے دی جاتی ہے اور چند منٹ میں دورہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ ایسے بچوں کے والدین کو اس دوا کے درست استعمال، مقدار اور طریقہ کار کے بارے میں مکمل آگاہی اور تربیت دینا نہایت ضروری ہے۔

زیادہ تر بچوں میں بخار کے دوروں کے بعد مرگی ہونے کا خطرہ نہیں بڑھتا، تاہم کچھ خاص حالات میں مستقبل میں مرگی کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان خطرے کے عوامل میں دورے کا غیر معمولی ہونا، پندرہ منٹ سے زیادہ دیر تک رہنا، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہونا، دورے کا جسم کے ایک حصے تک محدود ہونا، بچے کی اعصابی نشوونما میں پہلے سے مسئلہ ہونا یا خاندان میں مرگی کے مسلے کا ہونا شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت مکمل طور پر نارمل زندگی گزارتی ہے۔

دورے کے دوران والدین کا پرسکون رہنا سب سے اہم ہے۔ بچے کو ایک کروٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ تھوک یا قے سانس کی نالی میں نہ جائے۔ اردگرد موجود سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، کپڑے ڈھیلے کریں اور دورے کا وقت نوٹ کریں۔ بچے کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں، نہ پانی پلائیں اور نہ ہی جھٹکے روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے دانت ٹوٹنے یا سانس رکنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی دن میں بار بار دورے پڑیں، بچہ دورے کے بعد ہوش میں نہ آئے، جسم کے کسی حصے میں کمزوری محسوس ہو، بخار کے ساتھ گردن اکڑ جائے، مسلسل قے ہو یا بچے کی عمر چھ ماہ سے کم ہو تو فوراً ہسپتال لے جانا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں کسی سنگین بیماری کو خارج کرنا لازمی ہوتا ہے۔

بخار کم کرنے والی دوائیں بچے کو آرام پہنچاتی ہیں اور بخار کی شدت کم کرتی ہیں، لیکن یہ بخار کے دوروں کو مکمل طور پر روک نہیں سکتیں۔ پیراسیٹامول یا بروفن بچے کے وزن کے مطابق اور مناسب وقفے سے دینی چاہیے۔ بار بار یا ضرورت سے زیادہ دوائیں دینے سے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اچھی اور متوازن غذا بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔ جب قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے تو انفیکشن کم ہوتے ہیں، بخار کم آتا ہے اور یوں بخار کے دوروں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ مکمل ویکسینیشن بچوں کو کئی سنگین بیماریوں سے بچاتی ہے، اس لیے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوانا بہت ضروری ہے۔

آئرن کی کمی والے بچوں میں بخار کے دورے زیادہ دیکھے گئے ہیں کیونکہ آئرن دماغ کی نشوونما اور اعصابی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے آئرن سے بھرپور غذا جیسے گوشت، کلیجی، انڈا، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات بچے کی روزمرہ خوراک میں شامل ہونے چاہئیں۔ اگر آئرن کی کمی زیادہ ہو تو ڈاکٹر آئرن کی دوا تجویز کرتے ہیں۔

بخار کے دوروں میں Piracetam کو مخصوص دوا کے طور پر معمول کے علاج میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کے فائدے کے حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس دوا کو بغیر واضح وجہ اور ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بخار کے دورے دیکھنے میں جتنے خوفناک محسوس ہوتے ہیں، زیادہ تر اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ درست معلومات، والدین کا سکون، بروقت فرسٹ ایڈ اور مناسب طبی رہنمائی بچے کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔
Dr Muhammad Sufyan
Child Specialist

Address

Yaseen Children Care Clinic Peoples Colony Market Gujranwala
Gujranwala
52250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DR Muhammad SUFYAN-child specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category