10/06/2026
بچے کی غذائیت: پیدائش سے 2 سال تک ایک آسان رہنما
بچے کی زندگی کے پہلے دو سال اس کی نشوونما، دماغی ترقی اور مضبوط صحت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پیدائش سے 6 ماہ تک بچے کے لیے ماں کا دودھ بہترین اور مکمل غذا ہے۔ اس میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو بچے کی نشوونما، قوتِ مدافعت اور بیماریوں سے حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ اس دوران بچے کو پانی، شہد، جوس یا کوئی اور غذا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بچے کو جب بھی بھوک لگے دودھ پلائیں، کیونکہ ہر بچے کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔
جب بچہ 6 ماہ کا ہو جائے تو ماں کے دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا (Weaning) شروع کرنی چاہیے۔ ابتدا نرم اور اچھی طرح مسلی ہوئی غذاؤں سے کریں، جیسے دلیہ، دال، چاول، کیلا، آلو، سبزیاں یا اچھی طرح پکا ہوا گوشت۔ نئی غذا ایک وقت میں ایک ہی متعارف کروائیں تاکہ اگر کسی چیز سے الرجی ہو تو آسانی سے معلوم ہو سکے۔ شروع میں دن میں 2 سے 3 بار تھوڑی مقدار میں کھانا دیں اور آہستہ آہستہ مقدار اور اقسام بڑھاتے جائیں۔ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد نہ دیں اور کھانوں میں نمک یا چینی شامل کرنے سے گریز کریں۔
6 سے 8 ماہ کی عمر میں بچے کو روزانہ 2 سے 3 مرتبہ ٹھوس غذا کے ساتھ ماں کا دودھ جاری رکھیں۔ 9 سے 12 ماہ کی عمر میں 3 سے 4 بار کھانا اور 1 سے 2 صحت مند اسنیکس دیے جا سکتے ہیں۔ ایک سال کے بعد بچہ گھر کے عام کھانے نرم شکل میں کھا سکتا ہے اور اسے روزانہ تین اہم کھانے اور 1 سے 2 ہلکے اسنیکس دیے جا سکتے ہیں۔
والدین کو بچے کی بھوک اور پیٹ بھرنے کی علامات کو سمجھنا چاہیے۔ اگر بچہ ہاتھ منہ میں ڈالے، ہونٹ چاٹے، کھانے کی طرف متوجہ ہو یا بے چین ہو تو یہ بھوک کی علامت ہو سکتی ہے۔ اگر بچہ منہ بند کر لے، سر دوسری طرف موڑ لے یا کھانے میں دلچسپی ختم کر دے تو سمجھیں کہ اس کا پیٹ بھر چکا ہے۔ بچے کو زبردستی کھلانے سے گریز کریں۔
بچے کو مختلف غذائی گروپس سے متوازن غذا دیں، جس میں اناج، دالیں، گوشت، انڈہ، پھل، سبزیاں اور دودھ شامل ہوں۔ بازار کی غیر صحت بخش اشیاء، کولڈ ڈرنکس، چپس اور زیادہ میٹھی چیزوں سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں۔ کھانے کے دوران موبائل یا اسکرین کے استعمال سے بچیں اور بچے کو خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی عادت ڈالیں۔
اگر بچہ کھانے میں نخرے کرے، کوئی غذا پسند نہ کرے یا قبض جیسی شکایت ہو تو صبر سے کام لیں۔ ایک ہی غذا مختلف انداز میں بار بار پیش کریں۔ اکثر بچوں کو نئی غذا قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اگر بچے کی نشوونما، وزن یا خوراک کے بارے میں کوئی تشویش ہو تو اپنے ماہرِ اطفال سے مشورہ کریں۔