05/08/2026
ریڑھ کی ہڈی کا غیر معمولی طور پر مُڑ جانا (اسکولیوسس) ایک ایسی طبی کیفیت ہے جس میں ریڑھ کی ہڈی اپنی قدرتی سیدھی ساخت سے ہٹ کر دائیں یا بائیں جانب خم اختیار کر لیتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ بالغ افراد میں پیدا ہو اور اس کی کوئی واضح وجہ سامنے نہ آئے تو اسے Adult Idiopathic Scoliotic Deformity کہا جاتا ہے۔
ابتدائی مراحل میں اس کی علامات معمولی محسوس ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ انہیں عام کمر درد یا تھکن سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ کیفیت بڑھ سکتی ہے اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے۔
اس کی عام علامات میں مسلسل یا بار بار ہونے والا کمر درد، جسم کا ایک طرف جھک جانا، کندھوں یا کولہوں کی اونچائی میں فرق، ریڑھ کی ہڈی کا واضح خم، چلنے پھرنے میں دشواری، جسمانی عدم توازن اور لمبے وقت تک کھڑے رہنے یا بیٹھنے میں تکلیف شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ علامات آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں جبکہ کچھ مریضوں میں یہ زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔
یہ مسئلہ زیادہ تر 30 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں دیکھا جاتا ہے، جبکہ خواتین میں اس کے بڑھنے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اگر خاندان میں کسی کو ریڑھ کی ہڈی کی خمیدگی کا مسئلہ رہا ہو تو اس صورت میں بھی احتیاط اور بروقت معائنہ ضروری ہے۔
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو کمر کا مسلسل درد، جسمانی توازن میں تبدیلی، کندھوں یا کولہوں کی غیر مساوی سطح، یا ریڑھ کی ہڈی میں غیر معمولی خم محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص نہ صرف بیماری کی صحیح نوعیت جاننے میں مدد دیتی ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ پیچیدگیوں سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یاد رکھیں، ہر کمر درد اسکولیوسس نہیں ہوتا، لیکن اگر علامات مسلسل برقرار رہیں یا وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں تو ماہر آرتھوپیڈک سرجن سے معائنہ کروانا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
👨⚕️ Dr. Mateen Qaiser
Orthopedic Surgeon
🏥 Qaiser Medical Center
Qamar Sialvi Road, Gujrat
📞 Call / WhatsApp: +92 307 4505544
✔️ بروقت تشخیص، درست رہنمائی اور ماہر معائنہ صحت مند ریڑھ کی ہڈی اور بہتر معیارِ زندگی کی بنیاد ہیں۔