Nazeer Beghum Children and Gyne Clinic

Nazeer Beghum Children and Gyne Clinic نظیر بیگم چلڈرن اینڈ گائنی کلینک

Dr.M.Waqar Naeem Child Specilist9am to 1pm5pm to 10pmNazeer begum clinic vaniki tarar ,near pizzaclub Hafizabad Road
10/07/2026

Dr.M.Waqar Naeem
Child Specilist
9am to 1pm
5pm to 10pm
Nazeer begum clinic vaniki tarar ,near pizzaclub Hafizabad Road

اس بچے کے چہرے کی ایک طرف سوجن کیوں؟آج میرے پاس ایک بچہ آیا جس کے چہرے کی ایک طرف، کان کے نیچے اچانک نمایاں سوجن پیدا ہو...
10/07/2026

اس بچے کے چہرے کی ایک طرف سوجن کیوں؟

آج میرے پاس ایک بچہ آیا جس کے چہرے کی ایک طرف، کان کے نیچے اچانک نمایاں سوجن پیدا ہو گئی تھی۔ والدین بہت پریشان تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ شاید دانت کا انفیکشن ہے یا کوئی گلٹی بن گئی ہے۔

معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ بچے کو ممپس (کن پیڑے) ہے، جو ایک وائرل بیماری ہے اور بچوں میں کان کے سامنے اور نیچے موجود لعابی غدود پیروٹڈ گلینڈ ،کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری عموماً ایک طرف سے شروع ہوتی ہے، لیکن ایک یا دو دن کے اندر دونوں طرف بھی سوجن آ سکتی ہے۔
یہ تصویر والدین کی اجازت سے صرف آگاہی کے مقصد کے لیے شیئر کی جا رہی ہے

ممپس (کن پیڑے) کیا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک متعدی وائرل بیماری ہے، جو Mumps virus کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وائرس لعابی غدود، خاص طور پر Parotid Glands کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے کان کے سامنے اور جبڑے کے اوپری حصے میں درد اور سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر ان بچوں میں دیکھی جاتی ہے جنہیں ممپس کی ویکسین نہیں لگی ہوتی یا جن کی ویکسینیشن مکمل نہیں ہوتی، اگرچہ بہت کم صورتوں میں ویکسین لگوانے والے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں بیماری عموماً ہلکی ہوتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کیسے پھیلتا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک شخص سے دوسرے شخص میں کھانسنے، چھینکنے، تھوک کے قطروں (Respiratory Droplets) یا مشترکہ برتن، بوتل یا گلاس استعمال کرنے سے پھیل سکتا ہے۔
وائرس علامات ظاہر ہونے سے تقریباً دو دن پہلے بھی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے اور سوجن شروع ہونے کے بعد تقریباً پانچ دن تک سب سے زیادہ متعدی رہتا ہے۔
اسی وجہ سے ممپس کا مریض اسکول، ڈے کیئر یا ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کرے تاکہ دوسرے بچے محفوظ رہیں۔
ممپس (کن پیڑے) کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
زیادہ تر بچوں میں بیماری بخار، کمزوری، بھوک میں کمی، جسم درد اور سر درد سے شروع ہوتی ہے۔
اس کے بعد کان کے سامنے اور نیچے سوجن ظاہر ہوتی ہے، جو ایک طرف بھی ہو سکتی ہے اور دونوں طرف بھی۔ بچے کو منہ کھولنے، چبانے، کھٹی چیزیں کھانے یا نگلنے میں درد محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت لعاب زیادہ بنتا ہے اور متاثرہ غدود میں تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
کچھ بچوں میں صرف سوجن ہوتی ہے جبکہ بعض میں بخار بھی کافی زیادہ ہو سکتا ہے۔
کیا ہر کان کے نیچے سوجن ممپس (کن پیڑے) ہوتی ہے؟
نہیں۔
کان کے نیچے ہر سوجن ممپس نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بیکٹیریا کی وجہ سے لعابی غدود کا انفیکشن، دانت کا انفیکشن، گردن کے لمف نوڈز کی سوجن، یا دیگر بیماریاں بھی ایسی ہی سوجن پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی لیے صرف تصویر دیکھ کر یا اندازے سے علاج شروع کرنا درست نہیں۔ درست تشخیص بچوں کے ماہر ڈاکٹر کے معائنے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
زیادہ تر بچوں میں صرف علامات اور جسمانی معائنہ ہی تشخیص کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
اگر بیماری غیر معمولی ہو، پیچیدگی پیدا ہو، یا وبائی صورتحال ہو تو ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ یا PCR جیسے مخصوص ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتے ہیں، لیکن ہر مریض کو یہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کیا ممپس (کن پیڑے) خطرناک بیماری ہے؟
زیادہ تر بچے ایک سے دو ہفتوں میں مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور کسی مستقل مسئلے کا سامنا نہیں کرتے۔
لیکن بعض مریضوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ممپس کی وجہ سے دماغ کی جھلیوں کی سوزش (Meningitis)، دماغ کی سوزش (Encephalitis)، لبلبے کی سوزش (Pancreatitis)، سماعت میں کمی، اور بلوغت کے بعد لڑکوں میں خصیوں کی سوزش (Orchitis) ہو سکتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کا علاج کیا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج موجود نہیں۔
علاج کا مقصد علامات کو کم کرنا اور بچے کو آرام پہنچانا ہے۔ بچے کو مناسب آرام، پانی اور دیگر سیال، نرم غذا، بخار یا درد کی صورت میں مناسب دوا، اور مناسب نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچہ پانی نہ پی سکے، شدید کمزور ہو جائے، بار بار قے کرے، گردن اکڑ جائے، شدید سر درد ہو، دورے پڑیں، یا خصیوں میں شدید درد اور سوجن پیدا ہو تو فوراً ہسپتال جانا چاہیے۔
اینٹی بایوٹک صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب بیکٹیریا کا انفیکشن بھی موجود ہو۔ صرف ممپس کے لیے اینٹی بایوٹک فائدہ نہیں دیتی۔
کیا ممپس (کن پیڑے) دوبارہ ہو سکتا ہے؟
اکثر افراد میں ایک بار ممپس ہونے کے بعد زندگی بھر کے لیے مدافعت پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے دوبارہ ہونا بہت کم ہوتا ہے۔
ممپس (کن پیڑے) سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ممپس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔
دنیا بھر میں MMR Vaccine (Measles, Mumps, Rubella) یا بعض ممالک میں MMRV Vaccine استعمال کی جاتی ہے، جو ممپس سمیت تین یا چار اہم بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
جن ممالک میں MMR ویکسین کی کوریج زیادہ ہے، وہاں ممپس کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے قومی EPI پروگرام میں اس وقت ممپس کی ویکسین شامل نہیں ہے۔ اگر والدین اپنے بچے کو ممپس سے بھی تحفظ دینا چاہتے ہیں تو وہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے نجی طور پر MMR ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
عالمی ادارے کیا کہتے ہیں؟
عالمی ادارۂ صحت (WHO)، CDC، American Academy of Pediatrics (AAP)، NHS اور Indian Academy of Pediatrics (IAP) سب اس بات پر متفق ہیں کہ ممپس ایک ویکسین سے قابلِ بچاؤ بیماری ہے۔ یہ ادارے مریض کو سوجن شروع ہونے کے بعد کم از کم پانچ دن تک دوسروں سے الگ رکھنے، مناسب آرام، علامات کے مطابق علاج، اور بروقت ویکسینیشن پر زور دیتے ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ اور پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔
والدین کے لیے اہم پیغام
اگر آپ کے بچے کے کان کے سامنے یا نیچے اچانک درد کے ساتھ سوجن پیدا ہو جائے، بخار ہو یا چبانے میں تکلیف محسوس ہو تو خود سے اینٹی بایوٹک شروع نہ کریں اور نہ ہی ہر سوجن کو دانت کا مسئلہ سمجھیں۔ بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے۔
ممپس (کن پیڑے) زیادہ تر بچوں میں مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن بروقت تشخیص، مناسب نگہداشت، دوسرے بچوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے چند دن کی علیحدگی، اور جہاں ممکن ہو MMR ویکسینیشن، اس بیماری کے خلاف بہترین حفاظتی اقدام
Dr.Muhammad Waqar Naeem
Child specilist
Nazeer begum clinic vaniki tarar
📞 03174653448

10/07/2026

بار بار حمل کیوں ضائع ہوتا ہے؟ اسقاط حمل کی وجوہات، علاج اور ماہرانہ رہنمائی

ہر عورت کی زندگی میں ماں بننے کا احساس سب سے خوبصورت اور انمول ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت حمل کے ابتدائی مراحل سے گزرتی ہے، تو وہ اور اس کا خاندان بہت سی امیدیں اور خواب وابستہ کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر یہ خوشی ادھوری رہ جائے اور حمل ضائع ہو جائے، تو یہ صرف ایک جسمانی نقصان نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک عورت کو ذہنی اور جذباتی طور پر بھی توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اسقاط حمل یا حمل نہ ٹھہرنے کو اکثر قسمت کا لکھا یا محض بدقسمتی کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ خواتین شدید احساس جرم اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اگر آپ یا آپ کی کوئی قریبی عزیزہ اس تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہی ہیں، تو سب سے پہلے یہ جان لیں کہ آپ اکیلی نہیں ہیں، اور اس مسئلے کا مکمل طور پر سائنسی اور طبی حل موجود ہے۔ جدید طبی تحقیق اور بین الاقوامی رہنما اصول یہ ثابت کرتے ہیں کہ بار بار حمل ضائع ہونے کی چند مخصوص وجوہات ہوتی ہیں جن کا اگر وقت پر علاج کر لیا جائے تو ایک صحت مند بچے کی پیدائش کا خواب یقیناً سچ ہو سکتا ہے۔

طبی زبان میں جب کسی خاتون کا حمل لگاتار دو یا دو سے زیادہ بار باریک بین معائنے سے پہلے یا ابتدائی ہفتوں میں ضائع ہو جائے، تو اسے بار بار اسقاط حمل کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر مایوس ہونے یا توہم پرستی کا شکار ہونے کے بجائے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جسم کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ عام طور پر خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ شاید ان کی کسی معمولی لاپرواہی، چلنے پھرنے یا وزن اٹھانے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، لیکن طبی تحقیق کے مطابق ابتدائی مہینوں میں حمل ضائع ہونے کی بڑی وجوہات بالکل مختلف اور اندرونی ہوتی ہیں۔

حمل کے ابتدائی دنوں میں اسقاط حمل کی بنیادی وجوہات
جب ہم بین الاقوامی طبی اداروں جیسے امریکن کالج آف اوبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹ اور رائل کالج آف اوبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹ کے اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو حمل ضائع ہونے کی چند بڑی اور واضح وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ان وجوہات کو جاننا اس لیے ضروری ہے تاکہ صحیح سمت میں علاج کا آغاز کیا جا سکے۔

کروموسومز یا جینیاتی نقائص کو اسقاط حمل کی سب سے بڑی وجہ مانا جاتا ہے۔ جب بچہ ماں کے انڈے اور باپ کے جراثیم کے ملاپ سے بنتا ہے، تو قدرت کی طرف سے خلیات کی تقسیم کا ایک انتہائی حساس نظام حرکت میں آتا ہے۔ اگر اس تقسیم کے دوران کوئی جینیاتی نقص رہ جائے یا خلیات کی تعداد میں توازن نہ رہے، تو وہ حمل قدرتی طور پر آگے نہیں بڑھ پاتا۔ یہ قدرت کا اپنا ایک حفاظتی نظام ہے جو ایک غیر صحت مند حمل کو خود ہی روک دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین میں کوئی مستقل بیماری ہے، بلکہ یہ ایک وقتی جینیاتی حادثہ ہوتا ہے جو اگلی بار ٹھیک بھی ہو سکتا ہے۔

رحم کی ساخت میں خرابی یا اندرونی بیماریاں بھی اس کی ایک اہم وجہ ہیں۔ رحم یا بچے دانی وہ گھر ہے جہاں بچے نے نو ماہ تک پرورش پانی ہوتی ہے۔ اگر اس گھر کی ساخت پیدائشی طور پر درست نہ ہو، جیسے کہ رحم کے درمیان میں کوئی پردہ ہو، یا رحم کے اندر رسولیاں یعنی فائبرائڈز موجود ہوں، تو بچے کو جڑ پکڑنے اور بڑھنے کے لیے مناسب جگہ اور خون کی فراہمی نہیں مل پاتی۔ اس کے علاوہ بعض خواتین میں بچے دانی کا منہ کمزور ہوتا ہے، جو حمل کا وزن برداشت نہیں کر پاتا اور چوتھے یا پانچویں مہینے میں بغیر کسی درد کے حمل ضائع ہو جاتا ہے۔

ہارمونز کا عدم توازن بھی حمل کو برقرار رکھنے میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ خواتین کے جسم میں پروجیسٹرون نامی ہارمون حمل کو محفوظ رکھنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر جسم میں اس ہارمون کی مقدار کم ہو، تو رحم کی اندرونی جھلی بچے کو سنبھال نہیں پاتی۔ اسی طرح اگر کسی خاتون کو تھائیرائیڈ کا مسئلہ ہو، یا وہ شوگر یعنی ذیابیطس کی مریضہ ہوں اور ان کی شوگر کنٹرول میں نہ ہو، تو حمل کے ضائع ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ پولی سسٹک اووری سنڈروم بھی ہارمونز کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہے جس کا براہ راست اثر انڈوں کی کوالٹی پر پڑتا ہے۔

مدافعتی نظام کی بیماریاں یا خون کا ضرورت سے زیادہ گاڑھا ہونا بھی ایک پوشیدہ وجہ ہے۔ انسانی جسم کا مدافعت کا نظام باہر سے آنے والے جراثیم سے لڑتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ نظام خود اپنے ہی جسم کے خلاف کام کرنے لگتا ہے۔ ایک مخصوص بیماری جسے اینٹی فاسفولیپڈ سنڈروم کہا جاتا ہے، اس میں خاتون کے خون میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں کہ رحم کے اندر بننے والی چھوٹی خون کی نالیوں میں خون کے لوتھڑے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچے تک آکسیجن اور خوراک نہیں پہنچ پاتی اور حمل اچانک رک جاتا ہے۔

شدید نوعیت کے انفیکشنز بھی بعض اوقات اس کا سبب بنتے ہیں۔ اگرچہ عام نزلہ زکام یا ہلکا پھلکا انفیکشن حمل کو نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن رحم یا اندام نہانی کے مخصوص جراثیمی انفیکشنز اگر طویل عرصے تک بغیر علاج کے رہیں، تو وہ حمل کے ابتدائی ہفتوں میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

تشخیص اور ضروری طبی ٹیسٹ کا طریقہ کار
بار بار حمل ضائع ہونے کی صورت میں سب سے اہم قدم یہ ہوتا ہے کہ اگلی بار حمل ٹھہرنے سے پہلے میاں بیوی دونوں کا تفصیلی معائنہ کروایا جائے۔ اکثر اوقات صرف خواتین کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں، جبکہ طبی اصولوں کے مطابق مرد کے جراثیم کا معائنہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔

سب سے پہلے ماہر امراض نسواں تفصیلی ہسٹری لیتی ہیں، جس میں پچھلے حمل کے گرنے کے ہفتے، اس دوران ہونے والی علامات اور خاندان میں موجود دیگر بیماریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد رحم کی ساخت کو دیکھنے کے لیے پیلوک الٹراساؤنڈ یا جدید تھری ڈی الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی رسولی یا پیدائشی نقص کو دیکھا جا سکے۔

خون کے مخصوص ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جن میں تھائیرائیڈ کا ٹیسٹ، خالی پیٹ شوگر کی جانچ، اور خون گاڑھا ہونے کی بیماریوں کے ٹیسٹ شامل ہیں۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو میاں بیوی دونوں کا جینیاتی ٹیسٹ یعنی کیریوٹائپنگ بھی کروائی جاتی ہے تاکہ کروموسومز کے کسی مستقل مسئلے کا پتہ لگایا جا سکے۔ ان تمام ٹیسٹوں کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ اندھیرے میں تیر چلانے کے بجائے اصل جڑ تک پہنچ کر اس کا درست علاج کیا جائے۔

بار بار اسقاط حمل کا جدید اور کامیاب علاج
خوش آئند بات یہ ہے کہ جدید سائنس اور بین الاقوامی رہنما خطوط کے مطابق، بار بار حمل ضائع ہونے والے جوڑوں میں سے ستر فیصد سے زائد جوڑے مناسب علاج کے بعد ایک صحت مند بچے کے والدین بن جاتے ہیں۔ علاج کا دارومدار ہمیشہ تشخیص پر ہوتا ہے۔

اگر مسئلہ ہارمونز کی کمی کا ہو، تو حمل ٹھہرتے ہی یا حمل کی منصوبہ بندی کے دوران ہی پروجیسٹرون ہارمون کی گولیاں، شیاف یا انجیکشن تجویز کیے جاتے ہیں جو رحم کو مضبوط بناتے ہیں۔ شوگر اور تھائیرائیڈ کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حمل سے کم از کم تین ماہ پہلے اپنی ادویات کی مدد سے ان بیماریوں کو مکمل طور پر کنٹرول میں لائیں، کیونکہ کنٹرول شدہ شوگر کے ساتھ ٹھہرنے والا حمل بالکل محفوظ رہ سکتا ہے۔

اگر خون گاڑھا ہونے یا مدافعت کے نظام کا مسئلہ سامنے آئے، تو ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں خون پتلا کرنے والی ادویات جیسے کہ اسپرین کی ہلکی خوراک اور خون پتلا کرنے والے مخصوص انجیکشنز کا استعمال کروایا جاتا ہے۔ یہ علاج بچے کی نال میں خون کی روانی کو برقرار رکھتا ہے اور حمل کو کامیابی سے نو ماہ تک پہنچاتا ہے۔

رحم کی ساخت کے مسائل، جیسے کہ رحم کا پردہ یا رسولی، کا حل ایک چھوٹے اور محفوظ آپریشن کے ذریعے ممکن ہے جسے ہسٹروسکوپی کہا جاتا ہے۔ اس میں بغیر کسی بڑے کٹ کے، دوربین کی مدد سے رحم کے اندرونی نقائص کو ٹھیک کر دیا جاتا ہے۔ اگر بچے دانی کا منہ کمزور ہو، تو حمل کے بارہویں سے چودہویں ہفتے کے دوران رحم کے منہ پر ایک عارضی ٹانکا لگا دیا جاتا ہے جسے بچے کی پیدائش کے قریب کھول دیا جاتا ہے، یہ طریقہ کار حمل کو قبل از وقت گرنے سے روکتا ہے۔

صحت مند حمل کے لیے متوازن غذا اور طرز زندگی کی اہمیت
صرف ادویات ہی نہیں، بلکہ آپ کی روزمرہ کی غذا اور طرز زندگی بھی آپ کی زرخیزی اور حمل کو برقرار رکھنے میں پچاس فیصد کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک صحت مند انڈے اور صحت مند بچے کے لیے جسم کو بہترین غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہماری خواتین میں فولک ایسڈ اور وٹامن ڈی کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی طبی اصولوں کے مطابق، ہر اس خاتون کو جو حمل کی خواہش رکھتی ہے، حمل ٹھہرنے سے کم از کم دو سے تین ماہ پہلے فولک ایسڈ کی گولی کا استعمال شروع کر دینا چاہیے۔ یہ معمولی سی گولی بچے کو اعصابی اور جینیاتی نقائص سے بچانے میں جادوئی اثر رکھتی ہے۔

آپ کی روزمرہ کی غذا میں پروٹین کی وافر مقدار ہونی چاہیے۔ انڈے، مچھلی، دیسی مرغی، دالیں اور لوبیا پروٹین کے بہترین ذرائع ہیں۔ انڈے کی زردی میں موجود مخصوص اجزاء انڈوں کی کوالٹی کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہری مرچ، پالک، ساگ اور پودینہ جیسی ہری پتے دار سبزیاں جسم میں خون کی کمی کو دور کرتی ہیں اور ضروری فولاد فراہم کرتی ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں جیسے کہ تازہ پھل، خاص طور پر مالٹے، امرود، انار اور بیریز جسم کے خلیات کو نقصان سے بچاتی ہیں اور حمل ٹھہرنے کے عمل کو آسان بناتی ہیں۔ روزانہ ایک مٹھی بھر گری دار میوے جیسے بادام، اخروٹ اور کدو کے بیج چربی کے اچھے ذرائع ہیں جو ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔

طرز زندگی میں تبدیلی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ بازاری کھانے، فاسٹ فوڈ، زیادہ میٹھی اشیاء، کولا ڈرنکس اور ڈبہ بند جوسز سے مکمل پرہیز کریں۔ یہ چیزیں جسم میں سوزش پیدا کرتی ہیں اور ہارمونز کا توازن بگاڑتی ہیں۔ چائے اور کافی کا استعمال انتہائی محدود کر دیں کیونکہ کیفین کی زیادہ مقدار اسقاط حمل کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ روزانہ ہلکی پھلکی واک یا یوگا کریں تاکہ جسم میں خون کی گردش بہتر ہو، اور سب سے اہم بات یہ کہ ذہنی دباؤ اور تناؤ سے دور رہیں۔ ذہنی دباؤ جسم میں ایسے ہارمونز خارج کرتا ہے جو حمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرانہ مشاورت اور مستقل رابطہ کامیابی کی چابی ہے
اگر آپ بار بار حمل ضائع ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں، تو سب سے بڑی غلطی جو آپ کر سکتی ہیں وہ یہ ہے کہ آپ ہر بار ایک نئے ڈاکٹر کے پاس جائیں یا دیسی ٹوٹکوں اور پیر فقیروں کے چکروں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک ایسے ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کے کیس کو شروع سے آخر تک سمجھے اور آپ کی مکمل طبی تاریخ سے واقف ہو۔

حمل کی منصوبہ بندی ہمیشہ ایک ماہر امراض نسواں اور فرٹیلٹی اسپیشلسٹ کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ جب آپ پہلے سے منصوبہ بندی کر کے، اپنے جسم کو تیار کر کے اور تمام ضروری ٹیسٹ کروا کر حمل کا آغاز کرتی ہیں، تو کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ حمل ٹھہرنے کے بعد ابتدائی بارہ ہفتے انتہائی نازک ہوتے ہیں، جن میں ڈاکٹر سے باقاعدہ رابطہ اور تجویز کردہ ادویات کا وقت پر استعمال آپ کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

میں اپنے کلینک اور آن لائن مشاورت کے ذریعے ایسی سینکڑوں خواتین کی رہنمائی کر رہی ہوں جو مایوسی کا شکار تھیں لیکن صحیح وقت پر درست علاج اور متوازن غذائی منصوبے کی بدولت آج ایک خوشحال ماں کی زندگی گزار رہی ہیں۔ یاد رکھیں، حمل کا ضائع ہونا آپ کی کمزوری یا آپ کا قصور نہیں ہے، یہ ایک طبی مسئلہ ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ مایوس مت ہوں، قدم اٹھائیں اور آج ہی اپنی صحت کے لیے صحیح فیصلہ کریں۔

Dr Abeer Waqar
Gynaecologist
9am to 10pm
0317 4653448

10/07/2026

اگر شہد کی مکھی بچے کو ڈنک مار دے تو کیا کرنا چاہیے؟
بچے کھیلتے ہوئے اکثر باغات، کھیتوں یا ایسے مقامات پر چلے جاتے ہیں جہاں شہد کی مکھیاں موجود ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ایک مکھی ڈنک مار دیتی ہے، جبکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی مکھیاں ایک ساتھ حملہ کر دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں والدین گھبرا جاتے ہیں اور فوراً مختلف گھریلو ٹوٹکے آزمانا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر صورتوں میں صحیح ابتدائی طبی امداد ہی کافی ہوتی ہے، لیکن بعض حالات میں فوری طور پر ہسپتال جانا ضروری ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO)، برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (AAP) کی ہدایات کے مطابق، اگر صرف ایک یا دو شہد کی مکھیاں ڈنک ماریں تو زیادہ تر بچوں میں صرف ڈنک والی جگہ پر درد، سوجن، لالی اور خارش ہوتی ہے، جو چند دن میں خود ہی بہتر ہو جاتی ہے۔

سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟
اگر شہد کی مکھی نے ڈنک مارا ہو تو سب سے پہلے دیکھیں کہ ڈنک جلد میں موجود ہے یا نہیں۔ شہد کی مکھی اکثر اپنا ڈنک جلد میں چھوڑ دیتی ہے، اس لیے اسے جتنی جلدی ممکن ہو نکال دینا چاہیے۔ اس کے بعد متاثرہ جگہ کو صابن اور صاف پانی سے دھو لیں اور دس سے پندرہ منٹ تک ٹھنڈی پٹی کریں۔ اس سے درد اور سوجن میں کافی آرام آتا ہے۔
اگر بچے کو زیادہ درد ہو تو عمر اور وزن کے مطابق بخار اور درد کی دوا دی جا سکتی ہے، جبکہ شدید خارش کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے الرجی کی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔

اگر ایک ساتھ بہت سی شہد کی مکھیاں ڈنک مار دیں تو؟
یہ صورت حال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، چاہے بچے کو الرجی نہ بھی ہو۔
اگر بچے کو ایک ساتھ بہت زیادہ ڈنک لگ جائیں، خاص طور پر سر، گردن یا چہرے پر، تو اسے معمولی واقعہ نہ سمجھیں۔ اس صورت میں جسم میں زہر کی مقدار زیادہ داخل ہو سکتی ہے اور بچے کو شدید درد، بہت زیادہ سوجن، مسلسل قے، کمزوری، غنودگی یا دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی طبی گائیڈ لائنز کے مطابق ایسے بچے کو فوراً قریبی ہسپتال لے جانا چاہیے تاکہ اس کا مکمل معائنہ اور ضروری علاج کیا جا سکے، چاہے شروع میں علامات زیادہ شدید محسوس نہ ہوں۔

کن علامات پر فوراً ہسپتال جانا چاہیے؟
اگر ڈنک لگنے کے بعد بچے کو سانس لینے میں دشواری، آواز بیٹھ جانا، گلے یا زبان کی سوجن، پورے جسم پر خارش یا سرخ دانے، بار بار قے، شدید کمزوری، بے ہوشی یا چکر آنے لگیں تو یہ ایک خطرناک الرجی کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہسپتال جانا چاہیے، کیونکہ بروقت علاج بچے کی جان بچا سکتا ہے۔
o
کیا گھریلو ٹوٹکے فائدہ دیتے ہیں؟
ہمارے معاشرے میں ٹوتھ پیسٹ، مٹی، چونا، تیل یا مختلف دیسی نسخے لگانے کا مشورہ عام دیا جاتا ہے، لیکن ان طریقوں کے حق میں کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ بعض اوقات یہ جلد میں انفیکشن یا مزید جلن کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی گائیڈ لائنز یہی مشورہ دیتی ہیں کہ ڈنک نکالیں، متاثرہ جگہ کو صاف کریں، ٹھنڈی پٹی کریں، اور اگر ضرورت ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے مناسب دوا استعمال کریں۔

والدین کے لیے اہم پیغام
خوش قسمتی سے زیادہ تر بچوں میں شہد کی مکھی کا ایک یا دو ڈنک چند دن کی تکلیف کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بچے کو ایک ساتھ بہت زیادہ ڈنک لگ جائیں، یا سانس لینے میں دشواری، گلے کی سوجن، شدید کمزوری یا پورے جسم میں الرجی کی علامات ظاہر ہوں تو اسے معمولی بات نہ سمجھیں اور فوراً ہسپتال لے جائیں۔
صحیح وقت پر کیا گیا درست فیصلہ بچے کو سنگین پیچیدگیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

Dr.Muhammad waqar naeem
کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن
Nazeer begum clinic
📞 0317 4653448

Dr Abeer Waqar Gynaecologist 9am to 10pmNazeer begum clinic vaniki Tarar
09/07/2026

Dr Abeer Waqar
Gynaecologist
9am to 10pm
Nazeer begum clinic vaniki Tarar

Dr Abeer Waqar Gynaecologist9am to 10pm
09/07/2026

Dr Abeer Waqar
Gynaecologist
9am to 10pm

09/07/2026

اگر بچہ تیزاب، پٹرول، ڈیزل یا مٹی کا تیل پی لے تو کیا کریں؟
چند لمحوں کی غفلت زندگی بھر کا نقصان بن سکتی ہے
ہر سال ہزاروں بچے غلطی سے گھر میں موجود خطرناک کیمیکلز پی لیتے ہیں۔ زیادہ تر حادثات اس وقت ہوتے ہیں جب پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، تیزاب یا صفائی کے کیمیکل پانی یا مشروبات کی بوتلوں میں رکھ دیے جاتے ہیں، اور بچہ انہیں پانی یا جوس سمجھ کر پی لیتا ہے۔
یہ ایک طبی ایمرجنسی ہو سکتی ہے، اس لیے گھریلو ٹوٹکوں یا تاخیر کے بجائے درست اقدامات جاننا ہر والدین کے لیے ضروری ہے۔
کون سی چیزیں سب سے زیادہ خطرناک ہیں؟
گھروں میں موجود کئی چیزیں بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، جن میں مٹی کا تیل (Kerosene)، پٹرول، ڈیزل، تیزاب (Acids)، ٹوائلٹ کلینر، بیٹری ایسڈ، بعض صنعتی کیمیکلز، پینٹ تھنر اور دیگر ہائیڈروکاربن مصنوعات شامل ہیں۔
ان میں سے ہر چیز ایک ہی طریقے سے نقصان نہیں پہنچاتی، اس لیے ان کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔
اگر بچہ مٹی کا تیل، پٹرول یا ڈیزل پی لے تو اصل خطرہ کیا ہوتا ہے؟
زیادہ تر والدین سمجھتے ہیں کہ یہ چیزیں معدے کو نقصان پہنچاتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا سب سے بڑا خطرہ پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔
اگر بچہ پینے کے بعد کھانسے، قے کرے یا زبردستی قے کروائی جائے تو یہ مائع سانس کی نالی میں جا سکتا ہے، جس سے Chemical Pneumonitis یعنی پھیپھڑوں کی شدید سوزش ہو سکتی ہے۔ یہی اس قسم کی زہریلی اشیاء کا سب سے خطرناک اثر ہے۔
اگر بچہ تیزاب پی لے تو کیا خطرہ ہوتا ہے؟
تیزاب (Acid) کا نقصان مختلف ہوتا ہے۔
یہ منہ، گلے، غذائی نالی اور معدے کو جلا سکتا ہے۔ اگر مقدار زیادہ ہو یا تیزاب بہت طاقتور ہو تو اندرونی زخم، خون آنا، سوراخ (Perforation) یا بعد میں غذائی نالی کے تنگ ہونے (Stricture) کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے تیزاب پینے والے بچے کا معائنہ جلد از جلد ڈاکٹر سے کروانا ضروری ہے، چاہے بچہ شروع میں نسبتاً ٹھیک ہی کیوں نہ لگ رہا ہو۔
اگر بچہ یہ چیزیں پی لے تو گھر میں فوراً کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے پرسکون رہیں اور بچے کے منہ میں موجود باقی ماندہ کیمیکل کو صاف پانی سے آہستہ سے صاف کریں۔
اگر بچہ ہوش میں ہے اور آسانی سے نگل سکتا ہے تو صرف تھوڑی مقدار میں سادہ پانی دیا جا سکتا ہے، لیکن اسے زبردستی زیادہ پانی یا دودھ پلانے کی کوشش نہ کریں۔
اگر کیمیکل کپڑوں پر گر گیا ہو تو آلودہ کپڑے فوراً اتار دیں اور متاثرہ جلد کو بہتے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
اس کے بعد بچے کو جتنی جلد ممکن ہو قریبی ہسپتال لے جائیں، اور اگر ممکن ہو تو اس چیز کی اصل بوتل یا تصویر بھی ساتھ لے جائیں تاکہ ڈاکٹر کو معلوم ہو سکے کہ بچہ کیا پی گیا ہے۔
گھر میں کیا نہیں کرنا چاہیے؟
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچے کو ہرگز قے نہ کروائیں۔
نمک والا پانی پلانا، انگلی ڈال کر قے کروانا، شربت یا دیسی ٹوٹکے آزمانا، یا کسی اور چیز سے زہر کو "ختم" کرنے کی کوشش کرنا نقصان کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دودھ، لیموں، دہی، تیل یا کوئی اور گھریلو نسخہ استعمال نہ کریں، کیونکہ ان سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔
کن علامات کی صورت میں فوری ہسپتال جانا ضروری ہے؟
اگر بچے کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، تیز سانس، نیلاہٹ، بار بار قے، منہ یا گلے میں شدید درد، نگلنے میں مشکل، خون کی قے، بے ہوشی، شدید غنودگی یا دورے پڑ جائیں تو یہ خطرناک علامات ہیں اور فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہسپتال میں علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
سب سے پہلے بچے کی سانس، دل کی دھڑکن اور آکسیجن کی مقدار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اگر مٹی کا تیل، پٹرول یا ڈیزل پیا گیا ہو تو ڈاکٹر بچے کو کچھ گھنٹے نگرانی میں رکھتے ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ سانس کی کوئی علامت تو پیدا نہیں ہو رہی۔ ضرورت پڑنے پر آکسیجن، ایکسرے اور دیگر معاون علاج کیا جاتا ہے۔
اگر تیزاب پیا گیا ہو تو منہ، گلے اور غذائی نالی کے نقصان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بعض بچوں میں معدہ اور غذائی نالی کا کیمرے کے ذریعے معائنہ (Upper GI Endoscopy) بھی کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ اندرونی زخم کی شدت معلوم ہو سکے۔
ہر مریض کا علاج اس کے حالات اور پینے والی چیز کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
کیا اینٹی بایوٹک یا معدہ صاف کرنا ضروری ہوتا ہے؟
نہیں، ہرگز نہیں۔
ہائیڈروکاربن (جیسے مٹی کا تیل، پٹرول یا ڈیزل) پینے والے ہر بچے کو اینٹی بایوٹک دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر صرف Chemical Pneumonitis ہو تو اینٹی بایوٹک معمول کے مطابق تجویز نہیں کی جاتی، کیونکہ یہ بیکٹیریا کی وجہ سے نہیں ہوتی۔
اسی طرح معدہ صاف کرنا (Gastric Lavage) یا Activated Charcoal دینا بھی عام طور پر ان صورتوں میں تجویز نہیں کیا جاتا، کیونکہ اس سے الٹا کیمیکل پھیپھڑوں میں جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس حادثے سے بچوں کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟
زیادہ تر ایسے حادثات مکمل طور پر قابلِ بچاؤ ہوتے ہیں۔
تیزاب، پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل اور تمام کیمیکلز ہمیشہ ان کی اصل بوتل میں رکھیں۔ انہیں کبھی بھی پانی، جوس یا سافٹ ڈرنک کی بوتل میں منتقل نہ کریں۔
یہ تمام چیزیں بچوں کی پہنچ اور نظر سے دور، بند الماری میں رکھیں۔ استعمال کے فوراً بعد ڈھکن اچھی طرح بند کریں اور بچوں کو ان چیزوں کے قریب کھیلنے نہ دیں۔
عالمی ادارے کیا کہتے ہیں؟
عالمی ادارۂ صحت (WHO)، American Academy of Pediatrics (AAP)، NHS اور دنیا کے بڑے Poison Control Centers اس بات پر متفق ہیں کہ زہریلے کیمیکلز بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا ہی سب سے مؤثر حفاظتی اقدام ہے۔
یہ ادارے واضح طور پر ہدایت دیتے ہیں کہ اگر بچہ ہائیڈروکاربن یا تیزاب پی لے تو گھر میں قے کروانے کی کوشش نہ کریں، معدہ صاف کرنے کی کوشش نہ کریں، اور فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔ بروقت اور درست علاج سے زیادہ تر بچوں کو سنگین پیچیدگیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔
والدین کے لیے اہم پیغام
اگر بچہ غلطی سے تیزاب، پٹرول، ڈیزل یا مٹی کا تیل پی لے تو گھبرانے کے بجائے درست فیصلہ کریں۔ گھر میں قے کروانے یا دیسی علاج آزمانے کے بجائے فوراً بچوں کے ماہر ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔
یاد رکھیں، ایسے زیادہ تر حادثات صرف چند احتیاطی تدابیر سے روکے جا سکتے ہیں، اور یہی احتیاط کسی بچے کی جان بچا سکتی ہے۔

Dr.M.Waqar Naeemکنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن
Nazeer begum clinic
📞 03174653448

Dr Abeer WaqarGynaecologist9am to 10pmDr Waqar Naeem9am to 1pm5pm to 10pm
08/07/2026

Dr Abeer Waqar
Gynaecologist
9am to 10pm

Dr Waqar Naeem
9am to 1pm
5pm to 10pm

کیا آپ جانتے ہیں؟ایووکاڈو صرف اپنی منفرد شکل کی وجہ سے ہی خاص نہیں، بلکہ یہ حمل کے دوران کھائے جانے والے غذائیت سے بھرپو...
08/07/2026

کیا آپ جانتے ہیں؟
ایووکاڈو صرف اپنی منفرد شکل کی وجہ سے ہی خاص نہیں، بلکہ یہ حمل کے دوران کھائے جانے والے غذائیت سے بھرپور پھلوں میں بھی شامل ہے۔
اس میں فولک ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے، جو بچے کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی ابتدائی نشوونما کے لیے انتہائی اہم غذائی جز ہے۔ حمل کے ابتدائی مہینوں میں مناسب فولک ایسڈ لینے سے بعض پیدائشی نقائص کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ ایووکاڈو میں صحت بخش چکنائیاں، فائبر، پوٹاشیم، وٹامن E اور وٹامن K بھی موجود ہوتے ہیں، جو ماں کی صحت، توانائی اور بچے کی بہتر نشوونما میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
البتہ ایک بات ضرور یاد رکھیں، صرف ایووکاڈو کھانا فولک ایسڈ کی دوا کا متبادل نہیں ہے۔ حمل کے دوران ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق فولک ایسڈ کی گولیاں لینا ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر آپ حاملہ ہیں تو ایووکاڈو کو متوازن غذا کا حصہ بنائیں، لیکن ہر غذا کی طرح اسے بھی مناسب مقدار میں استعمال کریں اور اپنی ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
کیا آپ نے حمل کے دوران ایووکاڈو کھایا تھا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ اگر یہ معلومات مفید لگیں تو پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور مزید مستند طبی معلومات کے لیے ہمارا پیج فالو کریں۔ 🌿🤰
Dr abeer waqar
Gynaecologist
9am to 10pm

Address

Vinake Tarar
Hafizabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nazeer Beghum Children and Gyne Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share