10/07/2026
اس بچے کے چہرے کی ایک طرف سوجن کیوں؟
آج میرے پاس ایک بچہ آیا جس کے چہرے کی ایک طرف، کان کے نیچے اچانک نمایاں سوجن پیدا ہو گئی تھی۔ والدین بہت پریشان تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ شاید دانت کا انفیکشن ہے یا کوئی گلٹی بن گئی ہے۔
معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ بچے کو ممپس (کن پیڑے) ہے، جو ایک وائرل بیماری ہے اور بچوں میں کان کے سامنے اور نیچے موجود لعابی غدود پیروٹڈ گلینڈ ،کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری عموماً ایک طرف سے شروع ہوتی ہے، لیکن ایک یا دو دن کے اندر دونوں طرف بھی سوجن آ سکتی ہے۔
یہ تصویر والدین کی اجازت سے صرف آگاہی کے مقصد کے لیے شیئر کی جا رہی ہے
ممپس (کن پیڑے) کیا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک متعدی وائرل بیماری ہے، جو Mumps virus کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ وائرس لعابی غدود، خاص طور پر Parotid Glands کو متاثر کرتا ہے، جس کی وجہ سے کان کے سامنے اور جبڑے کے اوپری حصے میں درد اور سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔
یہ بیماری زیادہ تر ان بچوں میں دیکھی جاتی ہے جنہیں ممپس کی ویکسین نہیں لگی ہوتی یا جن کی ویکسینیشن مکمل نہیں ہوتی، اگرچہ بہت کم صورتوں میں ویکسین لگوانے والے افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں بیماری عموماً ہلکی ہوتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کیسے پھیلتا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک شخص سے دوسرے شخص میں کھانسنے، چھینکنے، تھوک کے قطروں (Respiratory Droplets) یا مشترکہ برتن، بوتل یا گلاس استعمال کرنے سے پھیل سکتا ہے۔
وائرس علامات ظاہر ہونے سے تقریباً دو دن پہلے بھی دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے اور سوجن شروع ہونے کے بعد تقریباً پانچ دن تک سب سے زیادہ متعدی رہتا ہے۔
اسی وجہ سے ممپس کا مریض اسکول، ڈے کیئر یا ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کرے تاکہ دوسرے بچے محفوظ رہیں۔
ممپس (کن پیڑے) کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
زیادہ تر بچوں میں بیماری بخار، کمزوری، بھوک میں کمی، جسم درد اور سر درد سے شروع ہوتی ہے۔
اس کے بعد کان کے سامنے اور نیچے سوجن ظاہر ہوتی ہے، جو ایک طرف بھی ہو سکتی ہے اور دونوں طرف بھی۔ بچے کو منہ کھولنے، چبانے، کھٹی چیزیں کھانے یا نگلنے میں درد محسوس ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت لعاب زیادہ بنتا ہے اور متاثرہ غدود میں تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
کچھ بچوں میں صرف سوجن ہوتی ہے جبکہ بعض میں بخار بھی کافی زیادہ ہو سکتا ہے۔
کیا ہر کان کے نیچے سوجن ممپس (کن پیڑے) ہوتی ہے؟
نہیں۔
کان کے نیچے ہر سوجن ممپس نہیں ہوتی۔ بعض اوقات بیکٹیریا کی وجہ سے لعابی غدود کا انفیکشن، دانت کا انفیکشن، گردن کے لمف نوڈز کی سوجن، یا دیگر بیماریاں بھی ایسی ہی سوجن پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی لیے صرف تصویر دیکھ کر یا اندازے سے علاج شروع کرنا درست نہیں۔ درست تشخیص بچوں کے ماہر ڈاکٹر کے معائنے سے ہی ممکن ہوتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
زیادہ تر بچوں میں صرف علامات اور جسمانی معائنہ ہی تشخیص کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
اگر بیماری غیر معمولی ہو، پیچیدگی پیدا ہو، یا وبائی صورتحال ہو تو ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ یا PCR جیسے مخصوص ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتے ہیں، لیکن ہر مریض کو یہ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کیا ممپس (کن پیڑے) خطرناک بیماری ہے؟
زیادہ تر بچے ایک سے دو ہفتوں میں مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور کسی مستقل مسئلے کا سامنا نہیں کرتے۔
لیکن بعض مریضوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
ممپس کی وجہ سے دماغ کی جھلیوں کی سوزش (Meningitis)، دماغ کی سوزش (Encephalitis)، لبلبے کی سوزش (Pancreatitis)، سماعت میں کمی، اور بلوغت کے بعد لڑکوں میں خصیوں کی سوزش (Orchitis) ہو سکتی ہے۔
ممپس (کن پیڑے) کا علاج کیا ہے؟
ممپس (کن پیڑے) ایک وائرل بیماری ہے، اس لیے اس کا کوئی مخصوص اینٹی وائرل علاج موجود نہیں۔
علاج کا مقصد علامات کو کم کرنا اور بچے کو آرام پہنچانا ہے۔ بچے کو مناسب آرام، پانی اور دیگر سیال، نرم غذا، بخار یا درد کی صورت میں مناسب دوا، اور مناسب نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بچہ پانی نہ پی سکے، شدید کمزور ہو جائے، بار بار قے کرے، گردن اکڑ جائے، شدید سر درد ہو، دورے پڑیں، یا خصیوں میں شدید درد اور سوجن پیدا ہو تو فوراً ہسپتال جانا چاہیے۔
اینٹی بایوٹک صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب بیکٹیریا کا انفیکشن بھی موجود ہو۔ صرف ممپس کے لیے اینٹی بایوٹک فائدہ نہیں دیتی۔
کیا ممپس (کن پیڑے) دوبارہ ہو سکتا ہے؟
اکثر افراد میں ایک بار ممپس ہونے کے بعد زندگی بھر کے لیے مدافعت پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے دوبارہ ہونا بہت کم ہوتا ہے۔
ممپس (کن پیڑے) سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ممپس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔
دنیا بھر میں MMR Vaccine (Measles, Mumps, Rubella) یا بعض ممالک میں MMRV Vaccine استعمال کی جاتی ہے، جو ممپس سمیت تین یا چار اہم بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
جن ممالک میں MMR ویکسین کی کوریج زیادہ ہے، وہاں ممپس کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے قومی EPI پروگرام میں اس وقت ممپس کی ویکسین شامل نہیں ہے۔ اگر والدین اپنے بچے کو ممپس سے بھی تحفظ دینا چاہتے ہیں تو وہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے نجی طور پر MMR ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
عالمی ادارے کیا کہتے ہیں؟
عالمی ادارۂ صحت (WHO)، CDC، American Academy of Pediatrics (AAP)، NHS اور Indian Academy of Pediatrics (IAP) سب اس بات پر متفق ہیں کہ ممپس ایک ویکسین سے قابلِ بچاؤ بیماری ہے۔ یہ ادارے مریض کو سوجن شروع ہونے کے بعد کم از کم پانچ دن تک دوسروں سے الگ رکھنے، مناسب آرام، علامات کے مطابق علاج، اور بروقت ویکسینیشن پر زور دیتے ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ اور پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔
والدین کے لیے اہم پیغام
اگر آپ کے بچے کے کان کے سامنے یا نیچے اچانک درد کے ساتھ سوجن پیدا ہو جائے، بخار ہو یا چبانے میں تکلیف محسوس ہو تو خود سے اینٹی بایوٹک شروع نہ کریں اور نہ ہی ہر سوجن کو دانت کا مسئلہ سمجھیں۔ بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے۔
ممپس (کن پیڑے) زیادہ تر بچوں میں مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن بروقت تشخیص، مناسب نگہداشت، دوسرے بچوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے چند دن کی علیحدگی، اور جہاں ممکن ہو MMR ویکسینیشن، اس بیماری کے خلاف بہترین حفاظتی اقدام
Dr.Muhammad Waqar Naeem
Child specilist
Nazeer begum clinic vaniki tarar
📞 03174653448