Nasir Ali

Nasir Ali Nasir | Based in Malaysia 🇲🇾
World Explorer 🌍 | Visited 🇸🇬🇹🇭 🇩🇪🇶🇦🇦🇪🇸🇦
Follow Nasir Ali Page for global travel insights ✈️

پردیس کی زندگی نے سکھایا بھی بہت کچھ اور دیا بھی بہت کچھ…  بس ایک چیز واپس نہ ملی، سر کے بال 😅  وہ بھی وقت اور ذمہ داریو...
14/05/2026

پردیس کی زندگی نے سکھایا بھی بہت کچھ اور دیا بھی بہت کچھ…
بس ایک چیز واپس نہ ملی، سر کے بال 😅
وہ بھی وقت اور ذمہ داریوں کے ساتھ اڑ گئے۔😀

🤲🇲🇾Simple dinner, calm night, happy heart🇲🇾🐄
30/04/2026

🤲🇲🇾Simple dinner, calm night, happy heart🇲🇾🐄

🐄Behind every glass of milk is hard work and heart🐄
29/04/2026

🐄Behind every glass of milk is hard work and heart🐄

Beach therapy, Singapore edition 🌊✨
19/04/2026

Beach therapy, Singapore edition 🌊✨

15/03/2022

Estrus Detection In Cows (Heat detection):

Do you know that you can detect the heat period of cows just by observing?

Cow's reproductive cycle has 4 phases; proestrus, estrus, metestrus and diestrus. Estrus is the period that cow is fertile and it lasts around 24 hours. Heat periods occur every 21 days.

The hormone levels of estrogen, LH get increased in this period and the progesterone levels get decreased in the circulation.

Without wasting much time let's go for the heat signs:-

1.Standing to be mounted - this is the most common and accurate sign of estrus and the mounting is performed by other cows(not bulls).

2.Mounting on other cows.

3.Swelling and redding of the v***a - prior to estrus and remains for a short period of time.

4.Mucus discharge - clear viscous mucous strands on va**na, tail, thighs, planks, perineal region.
This is due to the elevation of blood estrogen levels.

5.Chin resting and back rubbing - prior to mounting on another cow.

6.Sniffing and licking genitalia.

7.Bellowing- frequently .

8.Restlessness.

9.Trailing.

10.Decreased feed intake.

11.Lip curling.

12.Head raising etc:

Keep following Dr Fami

 *D
11/03/2022

*D

24/11/2020

ہر گلی میں سونا دفن ہے، ماہر کھودائی والے کم ہے

Business Ideas

1.گوشت کو برانڈ بنائیے:

اگر آپ کے پاس پندرہ لاکھ روپے، گاؤں میں تھوڑی زمین اور لیبر سے کچھ تعلقات ہیں تو پھر کریم بخش کی طرح گوشت کی دوکان بنا کر آپ بھی اپنے لئے خوشحالی کا دروازہ کھول سکتے ہیں ۔ تین چار برس پہلے اس نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ، اور آج اس کی معاشی حالت دیکھ کے لوگ رشک کرتے ہیں ، پیشہ کے اعتبار سے وہ قصاب تھا ، اس نے گوشت کے قدیمی بزنس کو برانڈڈ شکل دی ، عام پھٹہ سے دوکان تک پہنچا اور مہذب ترین طریقہ سے اے سی اور فریزر لگا کر گوشت کی فروخت شروع کی اور آج اس کا سلاٹرنگ ہاؤس شہر بھر کی ہوٹلوں کو گوشت مہیا کر رہا ہے ۔۔ پہلے وہ بھی اپنے دیگر رشتہ داروں کی طرح ایک پھٹہ پہ گوشت بیچا کرتا مگر جب سے اس نے اس پیشہ کو مہذب شکل دی اس کے دن ہی بدل گئے ، اپنے گاؤں کی دو کنال زمین کے گرد باڑ لگائی ، جانوروں کے لئے پانی اور گرمی و سردی سے تحفظ کا انتظام کیا ، دو مزدور رکھے ، گھاس کے لئے ایک ایکڑ زمین وقف کی ، منڈی سے بکریوں اور بھینسوں کے بچے خریدنا شروع کئے ، اور کام پہ لگ گیا ، دو تین ماہ اچھی خوراک دینے کے بعد جب وہ خوب موٹے تازے ہوجاتے تو " کے بی سلاٹرنگ ہاؤس " میں انہیں ذبح کرکے گوشت کی پیکنگ کی جاتی اور پھر یہ پیکٹ ہوٹلوں تک پہنچا دئیے جاتے ، کام کی نوعیت بڑھتی گئی اور گاہکوں کی تعداد بھی ، ۔۔۔ شادیوں اور تقریبات کے لئے بھی سروسز دی جانے لگیں ، جیسے جیسے سروسز بڑھتی گئیں وہ جانوروں کی تعداد بھی بڑھاتا گیا ، عام طور پہ وہ کمزور سے جانور خریدتا جو کہ اسے سستے مل جاتے ، تین ماہ کی خوب خاطر مدارت سے جب ان کی کیفیت بہتر ہوجاتی تو ان کو ذبح کردیا جاتا ، اگر آپ اس کام میں دلچسپی رکھتے ہوں تو اس بزنس کے لئے آپ کو قریبی گاؤں میں ایک باڑہ ، شہر میں دوکان اور دو سے تین ملازمین اور بیک وقت چار سے پانچ بڑے جانور اور دس پندرہ بکریوں کے بچے درکار ہوں گے اس کے بعد مارکیٹنگ اور کام شروع۔۔۔ذبح کرنے کاکام خود سیکھ لینا بہتر رہے گا وگرنہ اخراجات بڑھ سکتے ہیں ، تمام ہوٹلز اور ٹینٹ سروسز تک اپنا پیغام پہنچادیا جائے تو حیرت انگیز ابتدا ہوسکتی ہے ، شاپنگ بیگ پرنٹڈ ہوں اور دوکان پہ صفائی اور نفاست کے ساتھ فریزر بھی موجود ہونے چاہئے جہاں پہ گوشت سٹاک کیا جاسکے۔۔

2.مرغی فارم کے اندر جدت اختیار کیجئے:

اگر آپ کے پاس بارہ لاکھ روپے ہیں تو پھر رفیع الدین کی طرح جدید مرغی فارم بنا لیجئے محنت اور قسمت کا ملاپ ہوجائے تو رزق ساون بھادوں کی طرح برسنے لگے گا ، رفیع الدین نے پرانے طرز کے فارم کی جگہ ایک جدید سسٹم اپنایا ، ایک ایک ہزار مرغی کے لئے الگ الگ فارم بنائے ، اور مختلف وقتوں میں مرغیاں پالنا شروع کیں ، بجائے مرغی کے فروخت کرنے کے اس نے گوشت کے کھوکھے بنوائے اور مزدور رکھ کے خود ہی شمالا جنوبا 120x28 سائز کا فارم بنانے پہ چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوں گے ، ڈیڑھ لاکھ تک کا سامان آئے گا ، یہ فارم 2 ہزار برائیلر مرغی کےلئے کافی ہوگا ، 24 گھنٹوں کے لئے دو مزدوروں کی ضرورت ہوگی ، چالیس دن کی محنت سے مرغی گوشت کے لئے تیار ہوگی چوزے کی قیمت ، فیڈ ، پانی ، میڈیسن ، ویکسی نیشن اور خدمت پہ تقریباً تین لاکھ روپے خرچ ہوجائیں گے اور یہ تیار مرغی فی کلو کے حساب سے فروخت ہوگی، عام طور پہ لوگ چوزہ ، خوراک اور میڈیسن ادھار لیتے ہیں اور مال کی تیاری کے بعد فروخت کے وقت رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے ، تیار شدہ مال کی خریداری عام طور پہ وہی کمپنی کرتی ہے جس سے خوراک ، میڈیسن وغیرہ لی جاتی ہے لیکن اس میں ریٹ زیادہ لگایا جاتا ہے اگر چوزہ ، دوائی اور خوراک کی خریداری نقد ہو تو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، رفیع الدین نے بھی ایسا ہی کیا ، چوزہ ، خوراک اور میڈیسن نقد داموں خرید کئے اور جب چوزہ تیار ہوگیا تو اس نے گوشت کی فروخت کے لئے اپنا کھوکھا لگالیا، دھیرے دھیرے وہ لیبر اور کھوکھے بڑھاتا گیا ، فارم کا سائز بھی بڑا ہوتا گیا اور سارے کا سارا مال خود اسی کے پوائنٹس پہ فروخت ہونے لگا ، رفیع الدین کا یہ آئیڈیا کام کرگیا ، آج اس کے پندرہ فارم اور چالیس گوشت کے اڈے ہیں ، سارا گوشت اس کے اپنے پوائنٹس پہ بکتا ہے، ایک فارم پہ مال ختم ہوتا ہے تو دوسرے پہ تیار ہوتا ہے اسی طرح اس کا سلسلہ سارا سال چلتا رہتا ہے۔۔

3.انڈے بیچئے :

داؤد خان کا سلسلہ دو دوکانوں سے شروع ہوا اور شہر بھر کی بیکریوں تک پھیل گیا ، ہر سویٹ مارٹ پہ انڈوں کی ترسیل داؤد خان کرتا ، دو تین شہروں کے قرب وجوار میں موجود لئیر فارمنگ سے وابستہ لوگوں سے روابط بڑھائے ، خریداری کے معاہدے کئے ، اور شہر بھر کی دوکانوں کا ڈیٹا جمع کرنے لگ گیا ، ایک ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد ایک MBA لڑکا رکھا اور ٹیلی مارکیٹنگ شروع کردی " داؤد ایگ سنٹر" سے نعمان بول رہا ہوں کیسے ہیں سر آپ ؟؟" پھر آرڈرز ملنے لگے اور کام پھیلتا گیا ، اگر آپ کے پاس دو لاکھ روپے ہیں تو انڈوں کا بزنس شروع کردیجئے ، گرمیوں میں سٹاک کو کولڈ سٹوریج رینٹ پہ لے کے رکھا جا سکتا ہے ،سردیوں میں انڈے کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور اچھا ریٹ ملتا ہے ، اگر آپ کے پاس انویسٹمنٹ کم ہو تو دس پندرہ ہزار سے مصری اور گولڈن چوزہ بھی پالا جا سکتا ہے اس سے بھی خاطر خواہ نفع ہوگا ۔۔

4.دودھ کو پروڈکٹ کی شکل دیجئے:

غلام علی کی طرح گاؤں سے دودھ شہر کی طرف لائیے اور کریم نکالے بغیر فروخت کیجئے ، وہ روزانہ چار سے پانچ من دودھ فروخت کرتا ہے اور اس کی بچت سے آہستہ آہستہ بھینسیں اور گائیاں خریدتا جا رہا ہے ، دو چار سال میں دودھ کی پروڈکٹ اس کی اپنی ہوگی ، خریدنا نہیں ہوگا اور جانور بھی محفوظ رہیں گے ، قربانی کے موقع پہ جانوروں کی خرید وفروخت بھی کرسکتا ہے ، اگر وہ چاہے تو کریم نکال کے دہی ، لسی اور مکھن کا پوائنٹ بھی بنا سکتا ہے ، ایک دوکان لے کر وہیں پہ دودھ سے متعلقہ تمام پروڈکٹس فروخت کی جا سکتی ہیں ۔۔اگر آپ کے پاس تین لاکھ روپے ہوں تو تین بھینسیں یا چار گائیاں لے لیجئے اور دودھ کی پروڈکٹس بنا لیجئے ان شاء اللہ یہ آپ کی خوش حالی کا پہلا قدم ثابت ہوگا ۔۔

4.سائیلیج سنٹر بنائیے:

گاؤں اور دیہات کی زمینیں رزق اگلتی ہیں ، خوشاب کے رہائشی اسلم پنیاں نے زمین سے برآمد ہونے والے باجرہ ، مکئی اور جوار کو جانوروں کے لئےمحفوظ کرنے کا سوچااور اس کو عملی شکل میں ڈھالنے کی ٹھان لی ، چار کنال زمین کے گرد چہاردیواری کھڑی کی اور گھاس خریدنا شروع کردیا ، چار سے پانچ ایکڑ تیار شدہ گھاس خرید کر ٹوکہ مشین پہ کترنا شروع کیا اور ڈھیر لگاتا گیا ، پھر مکئی خریدی ، کھل بنولہ اور دیگر کچھ اشیاء خرید کر مکس کرکے ڈھیر لگادیا ، درکار مشینری خریدی اور ٹریکٹر چلادیا ، حجم رکھنے والے شاپر سے اس گھاس کو ڈھک دیا تاکہ ہوا کا گزر نہ ہوسکے ، زیادہ سے زیادہ ایک ماہ بعد گھٹے تیار تھے اور پھر محفوظ طریقہ سے وہ گھٹے منڈی پہنچا دئیے گئے ، نہ بھوسے کی ضرورت اور نہ خوراک کی ۔۔۔ دونوں ضروریات کفایت کر جاتی ہیں ۔۔اگر آپ کے پاس چھ لاکھ روپے ہوں تو یہ سراسر منافع کا بزنس ہے ، شہر میں بھی سائیلیج فروخت کیا جاسکتا ہے یہ گھاس اور خوراک دونوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔۔

5.بیوپار کیجئے:

اگر آپ ہوشیار ہیں اور جانوروں کا ذوق رکھتے ہیں تو بشیر خان کی طرح منڈی میں بیوپار کیجئے ، ہفتے کے ساتوں دن مختلف جگہوں پہ جانوروں کی منڈیاں لگتی ہیں ، وہ پانچ لاکھ روپے جیب میں رکھتا اور منڈی پہنچ جاتا ، وہاں جاکے کوئی جانور خریدتا اور وہیں پہ دو تین ہزار نفع پہ بیچ دیتا ، اس بیوپار سے وہ روزانہ دو تین سودے کرلیتا ، کبھی کبھار نقصان بھی ہوتا مگر اکثر چار، پانچ ہزار لے کر ہی وہ گھر لوٹتا ، جانوروں کا تجربہ ہو ، پرکھ ہو تو اس کام سے بہتر شاید ہی کوئی نقد سودا ہو ۔۔ بشیر خان کی طرح پہلے تجربہ کیجئے پھر منڈی کے بیوپاری بن جائیے مستقبل آپ کا ہے۔۔

6.ڈیری فارم بنالیجئے:

اس کام کے لئے قاری مقبول کی مثال لیجئے ، وہ ایک دینی ادارہ میں مدرس ہیں ، دیہات میں رہائش ہونے کی وجہ سے جگہ کا مسئلہ نہیں تھا، ابتدا میں ایک گائے خریدی اور روزانہ 15 کلو دودھ فروخت کرتے ، گھر کی ضرورت بھی پوری ہورہی تھی اور ماہانہ اخراجات نکال کر پندرہ ہزار بھی جمع ہو رہے تھے ، چھ ماہ بعد نوے ہزار ادا کرکے ایک اور بھینس لے لی ، دودھ کی مقدار بڑھ گئی اور پھر یوں سلسلہ بڑھتا گیا دو سے چار اور چار سے آٹھ ۔۔۔ ملازمین کی تعداد بھی بڑھتی گئی ، گھاس کے لئے قاری صاحب نے زمین مستاجری لے لی ، وہ خود صرف نگرانی کرتے ، نظام کو سنبھالنے کے لئے انہوں نے اپنے بھائی کو ساتھ ملالیا اور آج آٹھ سال ہونے کو آئے ہیں اور قاری صاحب کے فارم سے چار من دودھ روزانہ کی بنیاد پہ حلیب کمپنی کو جارہا ہے۔۔ اگر ہمت ہے تو پھر یہی کر لیجئے ۔۔

یاد رکھئے :

درج بالا لائیو سٹاک کے کسی بھی بزنس میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تجربہ ضرور حاصل کیجئے وگرنہ خسارہ ہوسکتا ہے ، صرف ملازمین پہ بھروسہ مت کیجئے ، جس بھی بزنس کو شروع کرنا ہو اس کی مکمل معلومات حاصل کیجئے یہ میں نے سرسری طور پہ اشاروں اور مثالوں سے نشان دہی کی ہے اس کی مزید تحقیق آپ خود کیجئے ، جب تک آپ کو کسی کام کی گہرائی سے آگہی نہ ہو تب تک کسی بھی کام میں ہاتھ مت ڈالئے ، اگر تجربہ کی بھٹی سے گزریں گے تو یقیناً مستقبل کو کندن بنالیں گے شرط اخلاص کے ساتھ محنت کرنے کی ہے ، ہاتھوں میں تیشۂ فرہاد ہو تو یقیناً پتھروں کا سینہ چیرا جاسکتا ہے ۔۔ کھوج میں لگیں گے تو یقیناً ہیرے تلاش لیں گے جو آپ کے ارد گرد کہیں کہیں موجود ہیں ، رزق بکھرا پڑا ہے بس متلاشی چاہئے l

 کسی بھی ویڑھ میں بلوغت پہلی بار اوولوشن ہونے یا ایسٹرس یا ہیٹ سائن شو کرنے کو کہتے ہیں۔ جانور کی ہارمونز کے بارے حساسیت...
06/10/2020



کسی بھی ویڑھ میں بلوغت پہلی بار اوولوشن ہونے یا ایسٹرس یا ہیٹ سائن شو کرنے کو کہتے ہیں۔ جانور کی ہارمونز کے بارے حساسیت، دماغ کے اندر ریسیپڑز اور بچہ دانی کی صحت اس کی بلوغت کی عمر کم یا زیادہ ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فیلڈ میں تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جو ہیفرز بریڈنگ سیزن کے ابتدائی ایام میں پیدا ہوتی ہیں وہ جلد بلوغت کو پہنچتی ہیں بنسبت ان ہیفرز کے جو بریڈنگ سیزن کے اختتامی ایام میں پیدا ہوتی ہیں۔ ہالسٹین فریزین، جرسی یا دیگر ایسی ڈیری بریڈز کی ہیفرز کو 13-14 ماہ کی عمر میں بلوغت کو پہنچنا چاہیے تاکہ 2 سال کی عمر میں پہلی کالونگ کر سکیں۔ ہیفرز کی بلوغت میں #عمر، #وزن، اور #نسل کا بہت اہم کردار ہے۔

یہ بات مصدقہ ہے کہ جب ہیفر عمر کے دوسرے سال میں قدم رکھتی ہے جو ہیفرز پہلے بریڈنگ سیزن کی ابتدائی ایام میں حاملہ ہو جائے اس کی پیداوار اور ایفیشنسی بہت بہتر ہوتی ہے بنسبت ان کے جو تاخیر سے حاملہ ہوتی ہیں۔

ہیفرز کی بلوغت کے لئے ضروری ہے کہ ان کا ویٹ (وزن) ان کے میچورٹی ویٹ کے 65-67 فیصد تک پہنچ جائے۔ اور فارمنگ میں یہی امر سب سے پیچیدہ ہے کہ 13-14 ماہ کی عمر میں ہیفر کو اپنے میچورٹی ویٹ کے 65-67 فیصد تک کیسے لے جایا جائے تا کہ اس میں اوولوشن ممکن ہو سکے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ایک صحت مند ہیفر میں قرارِ حمل (کنسیپشن) کے امکانات پہلے ایسٹرس سائیکل کی نسبت تیسرے ایسٹرس سائیکل میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ اپنے فارم میں بریڈنگ اور ہیفرز کی مینیجمینٹ ایسے کریں کہ آپ کی ہیفرز بریڈنگ سیزن کے شروع ہونے سے ایک ماہ قبل اپنے بلوغت کے وزن کو پہنچ سکیں تاکہ بریڈنگ سیزن کے ابتدائی ایام میں ان میں قرارِحمل کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس طرح ہیفر سے زیادہ معاشی فواید لئے جا سکیں گے بنسبت ان ہیفرز کے جو بریڈنگ سیزن کے آخری ایام یا بریڈنگ سیزن گزار کر بریڈنگ میں آتی ہیں۔

عنوان:-    امراض حیوانات کا  روایتی طریقے سے بروقت علاج:- #گوبر کی بندش،فضلہ کے اخراج میں رکاوٹ #علامات:-جانور کا گوبر ن...
05/10/2020

عنوان:-
امراض حیوانات کا روایتی طریقے سے بروقت علاج:-
#گوبر کی بندش،فضلہ کے اخراج میں رکاوٹ #
علامات:-
جانور کا گوبر نہ کرنا خوراک کھانا بند کر دینا۔یہ مسئلہ زیادہ تر جانوروں کو صرف چارہ جیسے بھوسہ وغیرہ ڈالنے سے ہوتا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لیے درج ذیل نسخہ استعمال کریں
سونف 50 گرام
رائی 200 گرام
گوار گندل کا جوہر 50 گرام
ٹھیکری نوشادر 100 گرام
سیاہ نمک 150 گرام
میٹھا سوڈا 150گرام
سفید نمک 200گرام
پرانا گڑ 500گرام
ترکیب استعمال؛-
تمام اجزاء کو کوٹ کر یکجا کر کے کے ان کی پنیاں بنالیں جانور کو نصف گھنٹے کے وقفے سے دو دفعہ کھلائیں پنیاں کھلانے کے بعد نیم گرم پانی تھوڑی مقدار میں پلائیں۔
#بدہضمی،جانور کا کوکھ نا نکالنا،چارہ نہ کھانا،بھوک نہ لگنا #
Indigestion:-
بد ہضمی کی صورت میں جانور نہ صرف چارہ کم کھاتا ہے بلکہ کھائے ہوئے چارے کو کو مکمل طور پر ہضم بھی نہیں کر پاتا اس صورت میں سٹامک پاؤڈر کا یہ نسخہ استعمال کروائیں۔
سونف 500گرام
مرچ سیاہ سو گرام
میٹھا سوڈا سوگرام
سیاہ نمک 250گرام
سفید زیرہ 250گرام
سونٹھ ایک سو پچاس گرام
اجوائن 500 گرام
گڑ یا شکر حسب ضرورت
تمام اجزاء کو کوٹ کر باریک کر لیں اور آدھا پاؤ وزنی خوراک ہفتے میں دو تین بار استعمال کروائیں۔
#کالک،پیٹ درد #
Colic:-
پیٹ کا درد اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اکثر گھوڑوں میں اموات اسی وجہ سے ہوتی ہے اس کے علاج کے لیے کلورل ہائیڈریٹ60 گرام کو ایک لیٹر سرسوں کے تیل میں ملا کر پلا دیں۔یا پھر کارمینیٹو پکچر پلائی آئیں۔
#اپھارہ #
Typmany:-
جگالی کرنے والے جانوروں کی بائیں کوکھ میں معدہ کے اندر گیس جمع ہو جانے کو آپھارہ کہتے ہیں۔برسیم کی فراوانی کے دنوں میں میں تھوڑا سا خشک بوسہ سبز چائے میں ڈالنے سے یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
سونٹھ 10 تا 15 گرام فی خوراک
ہلدی دو سو پچاس گرام
ہینگ 10تا 15 گرام فی خوراک
ہینگ اور سونڈ گڑ کے ساتھ ملا کر جب کہ ہلدی مکھن میں ملا کر استعمال کروائیں۔شدید آپھارہ کی صورت میں میں ٹروکار کینولہ یا نیڈل لگا کر بھی ہوا کو خارج کیا جا سکتا ہے ۔
#پیچش, واہ, موک #
Diarrhoea:-
بیل گری 250گرام
کتھا 250گرام
چھلکا انار 150گرام
چاروں گوند سو گرام
کیولین پاوڈر ہر دو سو پچاس گرام
ادویات کو باریک کرکے چار خوراک بنا لیں۔ایک خوراک ڈیڑھ پاو چاولوں کی پیچ ملا کر کھلائیں۔
#خارش سے نجات #
چیڑ کا تیل دو تولہ
لیموں کا رس دو تولہ
چمبیلی 2 تولہ
تمام اجزاء کو ملا کر جسم کے متاثرہ حصے پر مالش کریں کریں اور صبح ڈیٹول ملے پانی سے نہلائیں۔
#ملک فیور،سوتک کا بخار #
Milk fever:-
یہ میٹابولک مرض عام طور پر پر بچے کو جنم دینے سے لے کر دس دن بعد تک لاحق ہوتی ہے۔اس کے علاج کے لئے ڈی سی پی پاؤڈر سوسے 50گرام روزانہ دی اور اس کے ساتھ کوڈلیورل آئل 50-100 گرام روزانہ دیں۔کوڈ لیور آئل سے جانور کو وٹامن ڈی ملتا ہے۔جو کہ ڈی سی پی کو کو انٹرویو میں جذب کرنے میں مدد کرتا ہے۔
#سیلائن الیکچری #
Salline ellectury:-
کھانسی کی صورت میں استعمال کروانے کا نسخہ۔
قلمی شورا 30گرام
نوشادر 30 گرام
السی 60گرام
ملٹھی 30 گرام
بیلاڈونا چار گرام
سب ادویات کو پیس کر اتنا شیرا ملا لیں کہ گلقند کی شکل بن جائے خوراک 100-60 گرام صبح و شام استعمال کروائیں۔

اگر جانور تین سے آٹھ گھنٹے کے اندر جیر باہر نہ پھینکے تو تشویش اور پریشانی کی بات ہوتی ہے کیونکہ جانور میں شدید انفیکشن ...
04/10/2020

اگر جانور تین سے آٹھ گھنٹے کے اندر جیر باہر نہ پھینکے تو تشویش اور پریشانی کی بات ہوتی ہے کیونکہ جانور میں شدید انفیکشن ہونے کا خطرہ ہوتا ہے. لوگ جیر اتارنے کے ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں ، ٹوٹکوں کا مطلب ہوتا ہے لگ گیا تو ٹھیک ہے نہ لگا تو کوئی بات نہیں. لوگ جیر کو کھینچ کر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں یا اس میں وزندار چیز باندھتے ہیں کہ وزن سے باہر آجائے گی جوکہ نہایت ہی خطرناک چیز ہوتی ہے اس سے جیر ٹوٹ بھی سکتی ہے. اگر جیز نہ نکلے اور اس کا ٹکڑا اندر رہہ جائے تو جانور شدید انفیکشن ہونے سے مر بھی سکتا ہے. سیانے اور پرانے لوگ جانور کے نچہ دینے کے بعد فوراً گندم اور گڑ پانی میں اُبالتے تھے اور نیم گرم جانور کو دیتے تھے کیونکہ جانور میں اگر کیلشیئم کی کمی واقع ہوجائے تو جیر نہیں اتار سکتا. اس لئے لوگ ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں . جی چینی کا شربت پلائو ، گڑ دو ، بھائی اس میں کیلشیئم ہی تو ہوتا ہے. جی ڈسپرین کی گولیاں کھلائو ، درد کی وجہ سے بھی باز اوقات جانور جیر نکالنے میں دیر کرجاتے ہیں اور درد کم ہونے کے بعد جیر اتارنے کی کوشش کرتے ہیں واہ جی واہ ٹوٹکہ کام کر گیا. کافی سیانے لوگ آدھا کلو پیپل کے درخت کی چھال , دو لییتر پانی میں اُبالتے ہیں اور پانی آدھا رہنے پر اس کو وقفے وقفے سے نیم گرم پانی پلاتے رہتے ہیں اس سے بھی جانور جیزاتار لیتا ہے. لوگ ڈاکٹر پہلے مرحلے میں دودھ اتارنے والے ٹیکے آکسیٹوکسن پانچ ملی لییتر (ml) استعمال بھی کرتے ہیں جو جانور کو جیر اتارنے میں اس کی مد د کرتا ہے یہ وہی ٹیکا ہے جو عورتوں کو ڈلیوری کے وقت لگایا جاتا ہے. اگر پھر بھی جیر نہ پھینکے تو پھر وٹرینری ڈاکٹر جیر کو ہاتھ ڈال کر ٹکڑے ٹکڑے مہارت سے کرکے نکالتا جاتا ہے اور اچھی طرح صفائی کرکے اینٹیبیوٹک کے انجیکشن بھی لگاتا ہے جس سے وقتی طور پر جانور دودھ کم کر جاتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ معمول پر آجاتے ہیں.
دراصل فیٹ یا چربی کا جگر یا لیور پر آجانا اور پروٹین کو خون یا پیشاب میں شامل ہوجانے سے بھی جانور میں ان چیزوں کا مسئلا پیدا ہوجاتا ہے. جانور کے جسم ، ٹانگوں پر سوجن آجانا ، ٹوکسن زہرات کا جسم کے اندورنی اعضاءَ میں جمع ہو جانا بھی بچہ اور زچہ میں ایسے علامات آجاتے ہیں ، جن میں جگر ، گردے اور پھیپھڑے شدید متاثر ہوتے ہیں جن سے بچہ زچہ ڈلیوری سے پہلے یا بعد میں مر بھی جاتے ہیں. کافی جانوروں میں موروثی اثرات بھی ہوتے ہیں. رحم کا الٹا ہوجانا ، بچے کا الٹا ہوجانا ، بچے کا پیٹ میں صحیح سمت پر نہ ہونا وغیرہ وغیرہ اس لئے بغیر دیر کئے ڈاکٹر کو بُلا کر بچہ نکلوانا چاہئے.ایسے جانور فارم کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتے. حاملہ جانوروں کو بچہ ڈلیور کرنے سے دو مہینے پہلے پروٹین کا استعمال ان میں نہ کریں کہ ان کے جسم میں چربی پیدا ہو. اناج جس میں کاربوہاڈریڈ ہوتا ہے آدھا کلو , گڑ 100 گرام ، ڈی سی پی پائوڈر 50 گرام روزانہ دیتے رہیں ، گندم اور گڑ کو اُبال کر دیں یا گندم کا دلیہ بارک پانی میں بھگو کے رکھیں پانچھ چھے گھنٹے یا مزید اور حاملہ جانور کو کھلائیں اور اینٹی ٹوکسن پائوڈر کا استعمال ضرور کریں تاکہ خوراک میں شامل زہرات خون اور پیشاب میں جمع ہو نا پائیں اور اس پائوڈر میں مل کر فضلے کے ذریعے باہر نکل جائیں. اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو. آمین

Address

Kuala Lumpur
Islamabad

Telephone

+923430308913

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nasir Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Nasir Ali:

Share