05/05/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*17 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ*
*5 مئی 2026 عِیسَـوی منگل*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 111-12-13-14-115*
*وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّوْمِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَـمَلَ ظُلْمًا (111)*
*وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا (112)*
*وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَـهُـمْ ذِكْرًا (113)*
*فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِىْ عِلْمًا (114)*
*وَلَقَدْ عَهِدْنَـآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَـهٝ عَزْمًا (115)*
*📜ترجمہ:*
*لوگوں کے سر اس حی و قیوم کے آگے جھک جائیں گے ۔ نامراد ہوگا جو اس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو ۔*
*اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو ۔ 87*
*اور اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، اسی طرح ہم نے اسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے 88 اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں ۔ 89*
*پس بالا و برتر ہے اللہ ، بادشاہ حقیقی ۔ 90 اور دیکھو ، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے ، اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر ۔ 91*
*92 ہم نے اس سے پہلے آدم ( علیہ السلام ) کو ایک حکم دیا تھا ، 93 مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا ۔ 94 ؏ 6*
*📜English Translation:*
*All faces shall be humbled before the Ever-Living the Self-Subsisting Lord and he who bears the burden of iniquity will have failed;*
*but whosoever does righteous works being a believer shall have no fear of suffering wrong or loss.""*
*(O Muhammad) thus have We revealed this as an Arabic Qur''an and have expounded in it warning in diverse ways so that they may avoid evil or become heedful.*
**Exalted is Allah the True King! Hasten not with reciting the Qur''an before its revelation to you is finished and pray: ""Lord! Increase me in knowledge.""*
*Most certainly We had given Adam a command before but he forgot. We found him lacking in firmness of resolution.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*یارب العالمین؟حی و قیوم پروردگار!
جس کے سامنے تمام سر جھکے ہوئے ہیں، ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے نامہ اعمال ظلم کے بوجھ سے پاک ہیں۔ ہمیں سچا مومن بنا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر تاکہ ہم قیامت کے دن ہر قسم کی حق تلفی اور خوف سے محفوظ رہیں۔اے بادشاہِ حقیقی! قرآنِ کریم کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھانے اور کج روی سے بچنے کی ہمت دے۔ ہمارے سینوں کو ہدایت کے لیے کھول دے اور ہمارے عزم کو پختہ کر تاکہ ہم حضرت آدم علیہ السلام جیسی بھول چوک اور کمزوریِ ارادہ سے محفوظ رہ سکیں۔اے میرے رب جیسا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا، ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں (اے ہمارے پروردگار، ہمارے علم میں اضافہ فرما) آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿 O ALLAH Almighty, Lord!
Before whom all heads shall bow in submission, include us among those whose record of deeds is free from the burden of injustice. Make us true believers and grant us the strength to perform righteous deeds, so that on the Day of Judgment, we may remain safe from any fear or violation of our rights.
O Supreme King of the Universe, the Ultimate Truth! Grant us the courage to benefit from the reminders of the Holy Qur'an and protect us from straying onto crooked paths. Open our hearts to Your guidance and strengthen our resolve, so that we may be protected from the forgetfulness and weakness of will that afflicted Adam (peace be upon him). O Our ALLAH! As You have commanded us, we supplicate to You ."Ameen.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
* سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر87*
یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف ( Merit )* کی بنیاد پر ہو گا ۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو ، یا خلق خدا کے حقوق پر ، یا خود اپنے نفس پر ، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی ۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح ( محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان ) لیے ہوئے آئیں گے ، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہو گا ۔ یعنی خواہ مخواہ بے قصور ان کو سزا دی جائے گی ، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور ان کے جائز حقوق مار کھائے جائیں گے *
*«سوْرَةُ طٰهٰ» حاشیہ نمبر :88*
یعنی ایسے ہی مضامین اور تعلیمات اور نصائح سے* لبریز ۔ اس کا اشارہ ان تمام مضامین کی طرف ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں ، نہ کہ محض قریبی مضمون کی طرف جو اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے ۔ اور اس کا سلسلہ بیان ان آیات سے ملتا جلتا ہے جو قرآن کے متعلق آغاز سورہ اور پھر قصۂ موسیٰ کے اختتام پر ارشاد فرمائی گئی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ’’ تذکرہ ‘‘ جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ، اور وہ ’’ ذکر ‘‘ جو ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو عطا کیا ہے ، اس شان کا تذکرہ اور ذکر ہے ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :**89*
*یعنی اپنی غفلت سے چونکیں ، بھولے ہوئے سبق کو کچھ یاد کریں ، اور ان کو کچھ اس امر کا احساس ہو کہ کن راہوں میں بھٹکے چلے جا رہے ہیں اور اس گمراہی کا انجام کیا ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :90*
*اس طرح کے فقرے قرآن میں بالعموم ایک تقریر کو ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جاتے ہیں ، اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ کلام کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر ہو ۔ انداز بیان اور سیاق و سباق پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک تقریر ختم ہو گئی ہے اور : «وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اٰدَمَ» ۔ سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے ۔ اغلب یہ ہے کہ یہ دونوں تقریریں مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہوں گی اور بعد میں نبی ﷺ نے حکم الہٰی کے تحت ان کو ایک سورہ میں جمع کر دیا ہو گا ۔ جمع کرنے کی وجہ دونوں کے مضمون کی مناسبت ہے جس کو ابھی ہم واضح کریں گے ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*91*
«فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ» ، پر تقریر ختم ہو چکی* تھی ۔ اس کے بعد رخصت ہوتے ہوئے فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ﷺ کو ایک بات پر خبردار کرتا ہے جو وحی نازل کرنے کے دوران میں اس کے مشاہدے میں آئی ۔ بیچ میں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا گیا ، اس لیے پیغام کی ترسیل مکمل کرنے کے بعد اب وہ اس کا نوٹس لے رہا ہے ۔ بات کیا تھی جس پر یہ تنبیہ کی گئی ، اسے خود تنبیہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں ۔ نبی ﷺ وحی کا پیغام وصول کرنے کے دوران میں اسے یاد کرنے اور زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے ہوں گے ۔ اس کوشش کی وجہ سے آپ کی توجہ بار بار بٹ جاتی ہو گی ۔ سلسلۂ اخذ وحی میں خلل واقع ہو رہا ہو گا ۔ پیغام کی سماعت پر توجہ پوری طرح مرکوز نہ ہو رہی ہو گی ۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ آپ کو پیغام وحی وصول کرنے کا صحیح طریقہ سمجھایا جائے ، اور بیچ بیچ میں یاد کرنے کی کوشش جو آپ کرتے ہیں اس سے منع کر دیا جائے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ طٰہ کا یہ حصہ ابتدائی زمانے کی وحیوں میں سے ہے ۔ ابتدائی زمانہ میں جبکہ نبی ﷺ کو ابھی اخذ وحی کی عادت اچھی طرح نہ پڑی تھی ، آپ سے کئی مرتبہ یہ فعل سرزد ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر آپ کو متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ سورۂ قیامہ کے نزول کے موقع پر بھی یہی ہوا تھا اور اس پر سلسلۂ کلام کو توڑ کر آپ کو ٹوگا گیا کہ : «لَا تُحَرِّکْ بِہ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ وَقُرْاٰنَہ ، فَاِذَا قَرَأ نٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ۔» اسے یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو بار بار حرکت نہ دو ، اسے یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے ، لہذا جب ہم اسے سنا رہے ہوں تو غور سے سنتے رہو ، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ۔‘‘ سورۂ اعلیٰ میں بھی آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہم اسے پڑھوا دیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں ، «سَنْقْرئُکَ فَلَا تَنْسٰی» ۔ بعد میں جب آپ کو پیغامات وحی وصول کرنے کی اچھی مہارت حاصل ہو گئی تو اس طرح کی کیفیات آپ پر طاری ہونی بند ہو گئیں ۔ اسی وجہ سے بعد کی سورتوں میں ایسی کوئی تنبیہ ہمیں نہیں ملتی ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*92*
جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے ، یہاں سے ایک الگ تقریر شروع ہوتی ہے جو اغلباً اوپر والی تقریر کے بعد کسی وقت نازل ہوئی ہے اور مضمون کی مناسبت سے اس کے ساتھ ملا کر ایک ہی سورہ میں جمع کر دی گئی ہے ۔ مضمون کی مناسبتیں متعدد ہیں ۔ مثلاً یہ کہ :
1 ) وہ بھولا ہوا سبق جسے قرآن یاد دلا رہا ہے وہی سبق ہے جو نوع انسانی کو اس کی پیدائش کے آغاز میں دیا گیا تھا اور جسے یاد دلاتے رہنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا ، اور جسے یاد دلانے کے لیے قرآن سے پہلے بھی بار بار ’’ ذکر ‘‘ آتے رہے ہیں ۔
2 ) انسان اس سبق کو بار بار شیطان کے بہکانے سے بھولتا ہے ، اور یہ کمزوری وہ آغاز آفرینش سے برابر دکھا رہا ہے ۔ سب سے پہلی بھول اس کے اولین ماں باپ کو لاحق ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اس کا سلسلہ برابر جاری ہے ، اسی لیے انسان اس کا محتاج ہے کہ اس کو پیہم یاد دہانی کرائی جاتی رہے ۔
3 یہ بات کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا انحصار بالکل اس برتاؤ پر ہے جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس ’’ ذکر ‘‘ کے ساتھ وہ کرے گا ، آغاز آفرینش ہی میں صاف صاف بتا دی گئی تھی آج یہ کوئی نئی بات نہیں کہی جا رہی ہے کہ اس کی پیروی کرو گے تو گمراہی و بدبختی سے محفوظ رہو گے ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں مبتلائے مصیبت ہو گے ۔
4 ) ایک چیز ہے بھول اور عزم کی کمی اور ارادے کی کمزوری جس کی وجہ سے انسان اپنے ازلی دشمن ، شیطان کے بہکائے میں آ جائے اور غلطی کر بیٹھے ۔ اس کی معافی ہو سکتی ہے بشرطیکہ انسان غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے رویے کی اصلاح کر لے اور انحراف چھوڑ کر اطاعت کی طرف پلٹ آئے ۔ دوسری چیز ہے وہ سرکشی اور سرتابی اور خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے مقابلے میں شیطان کی بندگی جس کا ارتکاب فرعون اور سامری نے کیا ۔ اس چیز کے لیے معافی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اس کا انجام وہی ہے جو فرعون اور سامری نے دیکھا اور یہ انجام ہر وہ شخص دیکھے گا جو اس روش پر چلے گا*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :93*
*آدم علیہ السلام کا قصہ اس سے پہلے سورہ بقرہ ، سورہ اعراف ( دو مقامات پر ) ، سورہ حجر ، سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف میں گزر چکا ہے ۔ یہ ساتواں موقع ہے جبکہ اسے دہرایا جا رہا ہے ۔ ہر جگہ سلسلہ بیان سے اس کی مناسبت الگ ہے اور ہر جگہ اسی مناسبت کے لحاظ سے قصے کی تفصیلات مختلف طریقے سے بیان کی گئی ہیں ۔ قصے کے جو اجزاء ایک جگہ کے موضوع بحث سے مناسبت رکھتے ہیں وہ اسی جگہ بیان ہوئے ہیں ، دوسری جگہ وہ نہ ملیں گے ، یا طرز بیان ذرا مختلف ہو گا ۔ پورے قصے کو اور اس کی پوری معنویت کو سمجھنے کے لیے ان تمام مقامات پر نگاہ ڈال لینی چاہیے ۔ ہم نے ہر جگہ اس کے ربط و تعلق اور اس سے نکلنے والے نتائج کو اپنے حواشی میں بیان کر دیا ہے *
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر:*94*
یعنی اس نے بعد میں اس حکم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ استکبار اور قصدی و ارادی سرکشی کی بنا پر نہ تھا بلکہ غفلت اور بھول میں پڑ جانے اور عزم و ارادے کی کمزوری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تھا ۔ اس نے حکم کی خلاف ورزی کچھ اس خیال اور نیت کے ساتھ نہیں کی تھی کہ میں خدا کی کیا پروا کرتا ہوں ، اس کا حکم ہے تو ہوا کرے ، جو کچھ میرا جی چاہے گا کروں گا ، خدا کون ہوتا ہے کہ میرے معاملات میں دخل دے ۔ اس کے بجائے اس کی نافرمانی کا سبب یہ تھا کہ اس نے ہمارا حکم یاد رکھنے کی کوشش نہ کی ، بھول گیا کہ ہم نے اسے کیا سمجھایا تھا ، اور اس کے ارادے میں اتنی مضبوطی نہ تھی کہ جب شیطان اسے بہکانے آیا اس وقت وہ ہماری پیشگی تنبیہ اور نصیحت و فہمائش کو ( جس کا ذکر ابھی آگے آتا ہے ) یاد کرتا اور اس کے دیے ہوئے لالچ کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرتا ۔
بعض لوگوں نے ’’ اس میں عزم نہ پایا ‘‘ کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’ ہم نے اس میں نافرمانی کا عزم نہ پایا ‘‘ ، یعنی اس نے جو کچھ کیا بھولے سے کیا ، نافرمانی کے عزم کی بنا پر نہیں کیا ۔ لیکن یہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے ۔ یہ بات اگر کہنی ہوتی تو «لَمْ نَجِدْ لَہ عَزْماً عَلَ الْعِصْیَانِ» کہا جاتا نہ کہ محض : «لَمْ نَجِدْلَہ عَزْماً ۔» آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ فقدان عزم سے مراد اطاعت حکم کے عزم کا فقدان ہے ، نہ کہ نافرمانی کے عزم کا فقدان ۔ علاوہ بریں اگر موقع و محل اور سیاق و سباق کی مناسبت کو دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی پوزیشن صاف کرنے کے لیے یہ قصہ بیان نہیں کر رہا ہے ، بلکہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ بشری کمزوری کیا تھی جس کا صدور ان سے ہوا اور جس کی بدولت صرف وہی نہیں بلکہ ان کی اولاد بھی اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہات کے باوجود اپنے دشمن کے پھندے میں پھنسی اور پھنستی رہی ہے ۔ مزید براں ، جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر اس آیت کو پڑھے گا اس کے ذہن میں پہلا مفہوم یہی آئے گا کہ ’’ ہم نے اس میں اطاعت امر کا عزم ، یا مضبوط ارادہ نہ پایا ‘‘۔ دوسرا مفہوم اس کے ذہن میں اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ آدم علیہ السلام کی طرف معصیت کی نسبت کو نامناسب سمجھ کر آیت کے کسی اور معنی کی تلاش شروع نہ کر دے ۔ یہی رائے علامہ آلوسی نے بھی اس موقع پر اپنی تفسیر میں ظاہر فرمائی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : «لکن لا یخفٰی علیک ان ھٰذا التفسیر غیر متبادرٍ ولا کثیر المناسبۃ للمقامِ » ’’ مگر تم سے یہ بات پوشیدہ نہ ہو گی کہ یہ تفسیر آیت کے الفاظ سن کر فوراً ذہن میں نہیں آتی اور نہ موقع و محل کے ساتھ کچھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ‘‘۔ ( ملاحظہ ہو روح المعانی ۔ جلد 16 ۔ صفحہ 243 ) ۔*
•┈•❀❁❀•┈•
🌈فی ظلال القرآن🌈
*وعنت الوجوہ للحی القیوم (٠٢ : ١١١) لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•