14/09/2026
جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے، ایک خیال ہے جو نہ جانے کیوں بار بار میرے دل کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے…
میرے بغیر میرے بیٹے کی زندگی کیسی ہوگی؟
اور سچ کہوں تو میں ہر دفعہ اس خیال سے اٹھنے والی جذبات کی تکلیف دہ لہر کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتی ہوں۔۔
پچھلے دس برس سے، میں نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو مستقبل کے بارے میں زیادہ سوچنے سے روکے رکھا ہے۔۔
خود کو ہر دفعہ سمجھایا کہ آج میں جو کر سکتی ہوں، وہ کروں… کل کو کل پر چھوڑ دوں۔
بس آج کو سنبھال لوں، آج کو جِی لوں ، آج کو گزار لوں۔
شاید یہ بھی خود کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔
کیونکہ ہم جیسے خاندانوں کے لیے مستقبل صرف آنے والے دنوں کا نام نہیں ہوتا،
وہ بہت سے ایسے سوالات اپنے ساتھ لاتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔
جب آپ کا بچہ بول کر اپنی ضرورت نہیں بتا سکتا، جب اسے زندگی کے ہر معاملے میں دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہو، تو وہ بہت سی چیزیں جنہیں دوسرے والدین معمول سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، ہمارے لیے سوال بن جاتی ہیں۔
اور سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے…
ہمارے بعد؟
میں نے برسوں اس سوال سے نظریں چرائی ہیں۔۔
اپنی ذہنی صحت کے لیے ضروری تھا کہ میں آنے والے برسوں کا خوف اپنے آج پر حاوی نہ ہونے دوں۔
اور کئی بار یہی چیز مجھے وہ طاقت بھی دیتی رہی جس کی مجھے ضرورت تھی—جب زندگی مشکل ہوئی، جب حالات نے توڑا، جب ایک دن کے بعد اگلا دن سنبھالنا بھی ایک امتحان لگا۔
لیکن اب وہ وقت آہستہ آہستہ قریب آ رہا ہے جب احمد کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگا۔
لڑکپن سے جوانی کی طرف سفر…
اور اس سفر کے ساتھ بہت سے ایسے فیصلے بھی آئیں گے جنہیں اب ہمیشہ کے لیے ٹالا نہیں جا سکتا۔
مالی معاملات، اس کا مستقبل، اس کی ضروریات، اس کے لیے صحیح لوگ، اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ جب ہم نہ ہوں تو اس کے فیصلے کون کرے گا؟ اسے کون سمجھے گا؟ کون اس کے حق میں کھڑا ہوگا؟
یہ اتنا سادہ نہیں کہ ہم بس یہ کہہ دیں کہ
“جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہم ہمارے بیٹے کے لیے چھوڑ جائیں گے۔”
کیونکہ احمد کی زندگی کبھی اس مقام تک نہ پہنچ سکتی جہاں وہ باقی بچوں کی طرح مکمل خودمختاری کے ساتھ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکے۔
اسے صرف مالی معاونت نہیں چاہیے ہوگی ۔
اسے لوگ چاہیئے ہوں گے ۔
ایسے لوگ جو اس کی ضرورت کو سمجھ سکیں۔
اس کی خاموشی پڑھ سکیں۔
اس کے خوف کو پہچان سکیں۔
اس کے لیے فیصلے کرتے ہوئے اس کے حق کو سامنے رکھیں۔
اور سب سے بڑھ کر… ایسے لوگ جو اسے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسان سمجھ کر اس کے ساتھ کھڑے رہیں۔
اور آج نہ جانے کیوں یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
میں نے آج ایک بار پھر اپنے بیٹے کے بغیر اپنی موجودگی کے بارے میں سوچا۔
یہ تصور ہی مجھے رولا دیتا ہے۔۔
یہ سوچنا کہ ایک دن میں اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
میں اس کی آواز نہیں سن سکوں گی—یا شاید اس کی خاموشی بھی نہیں پڑھ سکوں گی۔
وہ کسی تکلیف میں ہو تو میں وہاں نہیں ہوں گی کہ اس کے چہرے سے اندازہ لگا سکوں کہ کیا ہوا ہے۔
کوئی اسے غلط سمجھے تو میں اس کے لیے وضاحت کرنے کو موجود نہیں ہوں گی۔
اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ اپنے آخری وقت بھی میں بس یہی جاننا چاہوں گی کہ وہ کیسا ہے… مگر جان نہیں سکوں گی۔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا بے بسی کا احساس شاید کوئی نہیں۔
لیکن شاید اب مجھے اس خوف سے آنکھیں نہیں چرانی ہیں ۔
مجھے اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
اس کے لیے راستے بنانے ہوں گے۔
اس کے لیے ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جن پر ہم اپنی غیر موجودگی میں بھروسہ کر سکیں۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ماں کو اپنی محبت سے آگے بڑھ کر اپنے بچے کے مستقبل کی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن یہاں آ کر ایک اور حقیقت بھی میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے…
عمر کے ساتھ ساتھ آپ کچھ لوگوں کے ایسے چہرے بھی دیکھ لیتے ہیں جن پر کبھی آپ کو مان ہوا کرتا تھا۔
آپ سوچتے ہیں، شاید کل کو یہی لوگ ہمارے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیں گے۔
شاید ہمارے بعد اس کا خیال رکھ لیں گے۔
شاید اسے اپنا سمجھ کر اس کے لیے کھڑے ہوں گے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ کوئی بھی ہماری طرح اس کی دیکھ بھال کر سکے گا۔
ماں باپ جیسی محبت، قربانی، بے غرضی اور بے قراری کا بدل شاید دنیا میں کوئی نہیں۔
لیکن وقت انسانوں کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔
رشتوں کی بے رخی، ترجیحات کی تبدیلی، خودغرضی کے وہ رخ…
جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اور تب احساس ہوتا ہے کہ صرف رشتہ ہونا اور کسی کا اپنا ہونا، دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
کبھی کبھی تو یوں بھی لگتا ہے کہ لوگ ہم جیسے والدین سے اپنی خوشیاں، اپنی کامیابیاں، اپنی آسانیاں تک چھپاتے ہیں۔
شاید انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہماری نظر نہ لگ جائے۔
لیکن سچ کہوں؟
ہم جیسے لوگوں سے نظر لگنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
کیونکہ ہم نے اپنی قسمت کو، اپنی تقدیر کو، اپنی زندگی کی اس حقیقت کو وقت کے ساتھ کچھ اس طرح قبول کر لیا ہوتا ہے کہ پھر دنیا کی کسی اور خوشی کو دیکھ کر حسرت نہیں رہتی۔
ہم نے بہت پہلے جان لیا ہوتا ہے کہ ہر زندگی اپنی پوری کہانی کے ساتھ آتی ہے۔
ہم اپنی تقدیر سے لڑتے لڑتے آخرکار اسے قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں،
کیونکہ اسے قبول کیے بغیر ہم اس زندگی میں ایک لمحہ بھی سکون سے سانس نہیں لے سکتے۔
ہمیں دوسروں کی خوشیاں نہیں چبھتیں۔
ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ جب ہم نہ ہوں تو ہمارے بچے کو کوئی تکلیف نہ چبھنے دے۔
اور شاید میری سب سے بڑی فکر بھی یہی ہے۔
میں احمد کے لیے اپنے بعد ایک ایسی دنیا چھوڑنا چاہتی ہوں جہاں اسے ہماری کمی تو محسوس ہو…
مگر ہماری غیر موجودگی اسے بے سہارا نہ کر دے۔
جہاں کوئی اسے ترس کی نظر سے نہیں، محبت کی نظر سے دیکھے۔
جہاں کوئی اس کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے۔
جہاں کوئی اس کے لیے صرف اس لیے موجود نہ ہو کہ وہ مجبور ہے، بلکہ اس لیے ہو کہ وہ احمد ہے۔
شاید میں ابھی اس سب کا حل نہیں جانتی۔
شاید بہت کچھ مجھے ابھی سیکھنا ہے، بہت سے فیصلے کرنے ہیں، بہت سے ڈر اپنے اندر سے نکال کر میز پر رکھنے ہیں۔
لیکن اب میں سر ریت میں چھپا کر نہیں بیٹھ سکتی۔
مجھے اپنے بعد احمد کی زندگی کے لیے بھی جینا ہے۔
اس کے آج کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ، اس کے کل کی بنیاد بھی رکھنی ہے۔
کیونکہ ماں آخر ماں ہی ہوتی ہے…
وہ اپنے بچے کے لیے صرف اپنی زندگی نہیں جیتی،
وہ اپنی غیر موجودگی کے بعد کی دنیا بھی سوچتی رہتی ہے۔