National Disability Alliance

Call

National Disability Alliance We are united for our rights.NDA is a platform for those who suffered by any disability and still faces problems.

Pakistani people's who need resources stay connect with us. we will fight for the rights of disables till the end Thanks

جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے، ایک خیال ہے جو نہ جانے کیوں بار بار میرے دل کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے…میرے بغیر میرے ب...
14/09/2026

جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے، ایک خیال ہے جو نہ جانے کیوں بار بار میرے دل کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے…
میرے بغیر میرے بیٹے کی زندگی کیسی ہوگی؟
اور سچ کہوں تو میں ہر دفعہ اس خیال سے اٹھنے والی جذبات کی تکلیف دہ لہر کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتی ہوں۔۔
پچھلے دس برس سے، میں نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو مستقبل کے بارے میں زیادہ سوچنے سے روکے رکھا ہے۔۔
خود کو ہر دفعہ سمجھایا کہ آج میں جو کر سکتی ہوں، وہ کروں… کل کو کل پر چھوڑ دوں۔
بس آج کو سنبھال لوں، آج کو جِی لوں ، آج کو گزار لوں۔
شاید یہ بھی خود کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔
کیونکہ ہم جیسے خاندانوں کے لیے مستقبل صرف آنے والے دنوں کا نام نہیں ہوتا،
وہ بہت سے ایسے سوالات اپنے ساتھ لاتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔
جب آپ کا بچہ بول کر اپنی ضرورت نہیں بتا سکتا، جب اسے زندگی کے ہر معاملے میں دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہو، تو وہ بہت سی چیزیں جنہیں دوسرے والدین معمول سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، ہمارے لیے سوال بن جاتی ہیں۔
اور سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے…
ہمارے بعد؟
میں نے برسوں اس سوال سے نظریں چرائی ہیں۔۔
اپنی ذہنی صحت کے لیے ضروری تھا کہ میں آنے والے برسوں کا خوف اپنے آج پر حاوی نہ ہونے دوں۔
اور کئی بار یہی چیز مجھے وہ طاقت بھی دیتی رہی جس کی مجھے ضرورت تھی—جب زندگی مشکل ہوئی، جب حالات نے توڑا، جب ایک دن کے بعد اگلا دن سنبھالنا بھی ایک امتحان لگا۔
لیکن اب وہ وقت آہستہ آہستہ قریب آ رہا ہے جب احمد کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوگا۔
لڑکپن سے جوانی کی طرف سفر…
اور اس سفر کے ساتھ بہت سے ایسے فیصلے بھی آئیں گے جنہیں اب ہمیشہ کے لیے ٹالا نہیں جا سکتا۔
مالی معاملات، اس کا مستقبل، اس کی ضروریات، اس کے لیے صحیح لوگ، اور سب سے بڑھ کر یہ سوال کہ جب ہم نہ ہوں تو اس کے فیصلے کون کرے گا؟ اسے کون سمجھے گا؟ کون اس کے حق میں کھڑا ہوگا؟
یہ اتنا سادہ نہیں کہ ہم بس یہ کہہ دیں کہ
“جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ ہم ہمارے بیٹے کے لیے چھوڑ جائیں گے۔”
کیونکہ احمد کی زندگی کبھی اس مقام تک نہ پہنچ سکتی جہاں وہ باقی بچوں کی طرح مکمل خودمختاری کے ساتھ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکے۔
اسے صرف مالی معاونت نہیں چاہیے ہوگی ۔
اسے لوگ چاہیئے ہوں گے ۔
ایسے لوگ جو اس کی ضرورت کو سمجھ سکیں۔
اس کی خاموشی پڑھ سکیں۔
اس کے خوف کو پہچان سکیں۔
اس کے لیے فیصلے کرتے ہوئے اس کے حق کو سامنے رکھیں۔
اور سب سے بڑھ کر… ایسے لوگ جو اسے محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک انسان سمجھ کر اس کے ساتھ کھڑے رہیں۔
اور آج نہ جانے کیوں یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
میں نے آج ایک بار پھر اپنے بیٹے کے بغیر اپنی موجودگی کے بارے میں سوچا۔
یہ تصور ہی مجھے رولا دیتا ہے۔۔
یہ سوچنا کہ ایک دن میں اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
میں اس کی آواز نہیں سن سکوں گی—یا شاید اس کی خاموشی بھی نہیں پڑھ سکوں گی۔
وہ کسی تکلیف میں ہو تو میں وہاں نہیں ہوں گی کہ اس کے چہرے سے اندازہ لگا سکوں کہ کیا ہوا ہے۔
کوئی اسے غلط سمجھے تو میں اس کے لیے وضاحت کرنے کو موجود نہیں ہوں گی۔
اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ اپنے آخری وقت بھی میں بس یہی جاننا چاہوں گی کہ وہ کیسا ہے… مگر جان نہیں سکوں گی۔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا بے بسی کا احساس شاید کوئی نہیں۔
لیکن شاید اب مجھے اس خوف سے آنکھیں نہیں چرانی ہیں ۔
مجھے اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
اس کے لیے راستے بنانے ہوں گے۔
اس کے لیے ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا جن پر ہم اپنی غیر موجودگی میں بھروسہ کر سکیں۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ماں کو اپنی محبت سے آگے بڑھ کر اپنے بچے کے مستقبل کی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
لیکن یہاں آ کر ایک اور حقیقت بھی میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے…
عمر کے ساتھ ساتھ آپ کچھ لوگوں کے ایسے چہرے بھی دیکھ لیتے ہیں جن پر کبھی آپ کو مان ہوا کرتا تھا۔
آپ سوچتے ہیں، شاید کل کو یہی لوگ ہمارے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ دیں گے۔
شاید ہمارے بعد اس کا خیال رکھ لیں گے۔
شاید اسے اپنا سمجھ کر اس کے لیے کھڑے ہوں گے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ کوئی بھی ہماری طرح اس کی دیکھ بھال کر سکے گا۔
ماں باپ جیسی محبت، قربانی، بے غرضی اور بے قراری کا بدل شاید دنیا میں کوئی نہیں۔
لیکن وقت انسانوں کے بارے میں بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔
رشتوں کی بے رخی، ترجیحات کی تبدیلی، خودغرضی کے وہ رخ…
جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
اور تب احساس ہوتا ہے کہ صرف رشتہ ہونا اور کسی کا اپنا ہونا، دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
کبھی کبھی تو یوں بھی لگتا ہے کہ لوگ ہم جیسے والدین سے اپنی خوشیاں، اپنی کامیابیاں، اپنی آسانیاں تک چھپاتے ہیں۔
شاید انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہماری نظر نہ لگ جائے۔
لیکن سچ کہوں؟
ہم جیسے لوگوں سے نظر لگنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔
کیونکہ ہم نے اپنی قسمت کو، اپنی تقدیر کو، اپنی زندگی کی اس حقیقت کو وقت کے ساتھ کچھ اس طرح قبول کر لیا ہوتا ہے کہ پھر دنیا کی کسی اور خوشی کو دیکھ کر حسرت نہیں رہتی۔
ہم نے بہت پہلے جان لیا ہوتا ہے کہ ہر زندگی اپنی پوری کہانی کے ساتھ آتی ہے۔
ہم اپنی تقدیر سے لڑتے لڑتے آخرکار اسے قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں،
کیونکہ اسے قبول کیے بغیر ہم اس زندگی میں ایک لمحہ بھی سکون سے سانس نہیں لے سکتے۔
ہمیں دوسروں کی خوشیاں نہیں چبھتیں۔
ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ جب ہم نہ ہوں تو ہمارے بچے کو کوئی تکلیف نہ چبھنے دے۔
اور شاید میری سب سے بڑی فکر بھی یہی ہے۔
میں احمد کے لیے اپنے بعد ایک ایسی دنیا چھوڑنا چاہتی ہوں جہاں اسے ہماری کمی تو محسوس ہو…
مگر ہماری غیر موجودگی اسے بے سہارا نہ کر دے۔
جہاں کوئی اسے ترس کی نظر سے نہیں، محبت کی نظر سے دیکھے۔
جہاں کوئی اس کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے۔
جہاں کوئی اس کے لیے صرف اس لیے موجود نہ ہو کہ وہ مجبور ہے، بلکہ اس لیے ہو کہ وہ احمد ہے۔
شاید میں ابھی اس سب کا حل نہیں جانتی۔
شاید بہت کچھ مجھے ابھی سیکھنا ہے، بہت سے فیصلے کرنے ہیں، بہت سے ڈر اپنے اندر سے نکال کر میز پر رکھنے ہیں۔
لیکن اب میں سر ریت میں چھپا کر نہیں بیٹھ سکتی۔
مجھے اپنے بعد احمد کی زندگی کے لیے بھی جینا ہے۔
اس کے آج کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ، اس کے کل کی بنیاد بھی رکھنی ہے۔
کیونکہ ماں آخر ماں ہی ہوتی ہے…
وہ اپنے بچے کے لیے صرف اپنی زندگی نہیں جیتی،
وہ اپنی غیر موجودگی کے بعد کی دنیا بھی سوچتی رہتی ہے۔

عمر فاروق بیگ ہماری زندگی کی ایک خوبصورت نعمت ❤️آج ہمارے بیٹے عمر فاروق بیگ کی 25ویں سالگرہ ہے۔ اور سب کے لئے ایک اہم پی...
10/09/2026

عمر فاروق بیگ ہماری زندگی کی ایک خوبصورت نعمت ❤️
آج ہمارے بیٹے عمر فاروق بیگ کی 25ویں سالگرہ ہے۔ اور سب کے لئے ایک اہم پیغام 💚
عمر صاحب پیدائشی طور پر ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار ہیں ۔ یہ بالکل بھی چل پھر نہیں سکتے ، ہر وقت وہیل چیئر یا بستر ہی اس کی زندگی کا حصہ ہیں۔ مگر ہمارے لیے عمر کسی کمی کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جس نے ہماری زندگی کو ایک مقصد، ایک عبادت اور آخرت کی امید عطا کی ہے۔

ہم نے عمر کو کبھی ہمیشہ کے لئے کسی ادارے یا دوسروں کے سہارے نہیں چھوڑا۔ اس کے لیے اپنے گھر میں باقاعدہ الگ سے کمرہ اور واش روم بنایا گیا ، اسے اپنے ساتھ رکھا اور الحمدللہ آج بھی وہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے دل کا سکون ہے۔ اس کی خدمت ہمارے لیے بوجھ نہیں، بلکہ نیکی کمانے کا ایک ذریعہ ہے۔

لیکن دوستو ❗️
👈 آج عمر کی سالگرہ پر میں اپنی خوشی کے ساتھ ایک چھوٹی سی گزارش کرنی تھی براہ کرم برا مت منائیے گا
کیونکہ ایک اہم پیغام اپنی پاکستانی کمیونٹی دینا چاہوں گا چاہے وہ پاکستان میں ہو یا جرمنی یورپ یا دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتے ہوں۔

ہماری کمیونٹی میں ابھی بھی ہمارے معاشرے کے معزور اور اسپیشل افراد اور ان کے والدین کے مسائل کو اس طرح نہیں سمجھتے جس طرح کہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم کسی معذور بچے کو دیکھ کر صرف اتنا کہہ دیتے ہیں دیکھو بے چارہ معزور ہے ، اللہ صبر دے” وغیرہ اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔

مگر کبھی اپنے پرائے سے رک کر یہ پوچھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے والدین کی زندگی کس کرب سے گزر رہی ہے ؟ اس کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں
کیونکہ دوستو ! ایسے بچوں کی پرورش صرف محبت کا نام نہیں یہ دن رات کی مسلسل ذمہ داری، جسمانی مشقت، ذہنی دباؤ، دن رات بے شمار قربانیوں اور بعض اوقات ایسی خاموش تھکن کا نام ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن بالکل نہیں نا کسی سے شیئر کر سکتے ہیں

یورپ میں تو الحمدللہ خصوصی افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے بہت سی سہولتیں، مراکز اور کیئر سینٹر اور سپورٹ موجود ہیں، لیکن یہ ساری سہولتیں اپنی جگہ انسانی ہمدردی، عزت، توجہ اور احساس کی کوئی جگہ نہیں لے سکتی۔
بالخصوص پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایسے افراد کے لئے کوئی خاطر خواہ سہولیات نہیں ہیں

لہذا میری اپنے دیسی پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے مؤدبانہ گزارش ہے:

اگر آپ کے اردگرد کوئی خصوصی بچہ ہے، یا کوئی ایسا خاندان ہے جو اپنے کسی معذور بیٹے یا بیٹی کی زندگی بھر خدمت کر رہا ہے، تو صرف ہمدردی کے دو الفاظ کہہ کر نہ گزریں۔ کبھی ان کے پاس بیٹھیں، ان کا حال پوچھیں، ان کی بات سنیں، ان کے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ بعض اوقات ایک مخلصانہ سا حال چال پوچھنا ، ایک فون کال، ایک ملاقات اور چند لمحوں کی توجہ کسی ایسے تھکے ہوئے افراد کے دل کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتی ہے۔

واللہ 🙏 یہ تحریر ہمارے ذاتی کسی شکوے، گلے یا اپنے دکھ کا اظہار نہیں۔ کیونکہ
الحمدللہ، عمر ہمارے لیے باعثِ رحمت ہے، زحمت نہیں؛ ہماری آزمائش بھی ہے اور ہماری خوش نصیبی بھی۔

بس میری خواہش یہ ہے کہ معاشرہ دوسرے ایسے بچوں کو ترس کی نگاہ سے نہیں بلکہ عزت، محبت 💚اور انسانی وقار کے ساتھ دیکھے، اور ان کے والدین کو بھی صرف “صبر کرنے والے لوگ” نہیں بلکہ ایسے انسان سمجھے جو ہر روز ایک عظیم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

آج عمر کی 25ویں سالگرہ پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں عمر جیسی نعمت عطا کی۔

عمر، تم ہمارے لیے صرف ہمارے بیٹے نہیں، ہماری دعاؤں کا ایک خوبصورت جواب، ہماری زندگی کی ایک خاموش عبادت اور ان شاء اللہ ہماری آخرت کا ایک بہترین وسیلہ ہو۔
اللہ تعالیٰ تمہیں صحت، سکون اور اپنی خاص رحمتوں کے سائے میں رکھے، اور ہمیں تمہاری خدمت اسی محبت اور اخلاص سے کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خیر اندیش : فاروق بیگ

29/01/2026

روشنی پہلائیے
معذور آفراد کا سہارا بنئیے
زکوۃ آور صدقہ دیجیئے
کمنٹ میں رابطہ کیجئیے

‏علی امین گنڈا پور کی حالیہ میٹرک امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن لینے والے خصوصی طالبعلم سے ملاقات۔ انہوں  نے طالبعلم سدیس کے...
12/08/2025

‏علی امین گنڈا پور کی حالیہ میٹرک امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن لینے والے خصوصی طالبعلم سے ملاقات۔ انہوں نے طالبعلم سدیس کے لیے 4 لاکھ روپے نقد انعام، 50ہزار ماہانہ سکالرشپ اور لیپ ٹاپ بطور انعام دیا۔
یہ بہت اچھی بات ہے کہ ایک عریب بندے سے اتنا مدد کریں ۔ ان کے دونوں ہاتھ سے محروم ہیں

ماشاءاللہ 💕
03/08/2025

ماشاءاللہ 💕

♥️
03/08/2025

♥️

20/05/2025

"Every act of kindness is chairty"

21/04/2024

کسی انسان کی جسمانی معذوری سے اس کی قابلیت کو پرکھنے میں غلطی مت کریں کیا پتہ وہ قابلیت میں سب سے اگے ھو ۔

ہنر سکھانے میں بخل نہ کرودرزی 3 , 3 ماہ بچے سے کاج کرواتا رہتا ہےموٹر سائیکل مکینک 3 , 3 ماہ صرف پہیہ کھولنے پہ لگائے رک...
16/01/2024

ہنر سکھانے میں بخل نہ کرو
درزی 3 , 3 ماہ بچے سے کاج کرواتا رہتا ہے
موٹر سائیکل مکینک 3 , 3 ماہ صرف پہیہ کھولنے پہ لگائے رکھتے ہیں
یہ غریب گھر کے بچے ہوتے ہیں ماں روزانہ انہیں روٹی دے کر بھیجتی ہے میرا بچہ کام سیکھ رہا ہے جلد کاریگر بن جائے گا لیکن انہیں 6 ، 6 سال میں ہنر نہیں دیتے
ان کو 6 ماہ میں ہنر سکھا کر روزی کمانے کے قابل کر دو
عرش کا رب تم پہ بڑی رحمتیں نازل کرے گا۔

13/09/2023

Address

Islamabad

Telephone

+923315171124

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Disability Alliance posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share