17/09/2026
ہائی بلڈ پریشر — خاموشی سے دل، دماغ اور گردوں کو نقصان پہنچانے والا خطرہ
تحریر: ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک
PhD, PGD, DHMS, DipQC (UK), RHP — Biotechnologist
CEO — Saeed International Hospital & Saeed Institute of Medical Sciences, G-11 Markaz, Islamabad
President — Khattak Welfare Organization, Rawalpindi/Islamabad
“مجھے تو کوئی تکلیف نہیں، میرا بلڈ پریشر کیسے بڑھ سکتا ہے؟” یہ جملہ ہم اکثر سنتے ہیں، لیکن ہائی بلڈ پریشر کی سب سے خطرناک بات یہی ہے کہ بہت سے لوگوں میں اس کی کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں دنیا کے تقریباً 1.4 ارب بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، اور ایک بڑی تعداد کو اپنی بیماری کا علم تک نہیں تھا۔
بلڈ پریشر مسلسل زیادہ رہے تو وقت کے ساتھ خون کی نالیوں اور اہم اعضا پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ بے قابو ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک، فالج اور گردوں کے نقصان کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہائی بلڈ پریشر ہونے پر سر میں درد، چکر یا گھبراہٹ ضرور ہو۔ اسی لیے علامات کا انتظار کرنا درست حکمتِ عملی نہیں۔ بلڈ پریشر ناپنا ہی یہ جاننے کا بنیادی طریقہ ہے کہ آپ کا بلڈ پریشر معمول کی حد میں ہے یا نہیں۔
موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، زیادہ نمک والی غذا، تمباکو نوشی، عمر میں اضافہ اور خاندانی تاریخ خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ ذیابیطس اور گردوں کی بیماری رکھنے والے افراد میں بھی بلڈ پریشر پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو اکثر مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ متوازن غذا، نمک میں کمی، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وزن کو مناسب حد میں رکھنا اور تمباکو سے اجتناب اہم اقدامات ہیں۔ جن افراد کو ڈاکٹر ادویات تجویز کرے، انہیں صرف اس وجہ سے دوا بند نہیں کرنی چاہیے کہ اب وہ خود کو بہتر محسوس کررہے ہیں۔
گھر پر بلڈ پریشر مانیٹر کرنا بھی بعض مریضوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے، لیکن درست آلہ، درست طریقۂ پیمائش اور اپنے معالج کے ساتھ نتائج کا جائزہ اہم ہے۔
ایک اور بات یاد رکھیں: ایک غیر معمولی ریڈنگ دیکھ کر خود سے بیماری کی تشخیص یا دوا شروع نہ کریں۔ بلڈ پریشر کی تشخیص اور علاج کا فیصلہ مناسب طبی جائزے کے بعد ہونا چاہیے۔ البتہ اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو اور ساتھ سینے میں درد، سانس لینے میں دشواری، شدید سر درد، نظر میں تبدیلی، الجھن یا دوسری شدید علامات ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
ہمیں اپنے معاشرے میں صرف شوگر چیک کرنے کی نہیں بلکہ “اپنا بلڈ پریشر جانیے” کی عادت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ چند منٹ کی ایک سادہ پیمائش کبھی کسی ایسے خطرے کی بروقت نشاندہی کرسکتی ہے جو ابھی آپ کو محسوس بھی نہیں ہورہا۔
یاد رکھیے: ہائی بلڈ پریشر اکثر شور نہیں کرتا—لیکن اس کا نقصان خاموش نہیں رہتا۔
— ڈاکٹر محمد نعمان سعید خٹک