22/06/2026
کنسنٹ فارم (Consent Form) کیا ہوتا ہے؟
کنسنٹ فارم اس تحریری اجازت کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مریض یا اس کے اہلِ خانہ کسی ڈاکٹر کو دستخط کے ساتھ یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ ان کے مریض مطلوبہ طبی طریقۂ کار انجام دے۔
لیکن کنسنٹ فارم کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا۔ اس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض یا اس کے لواحقین کو اس طریقۂ علاج، آپریشن یا پروسیجر سے وابستہ ممکنہ خطرات اور پیچیدگیوں سے آگاہ کیا جائےکہ یہ بھی ہو سگتی ہیں ۔ اگر خدا نہ خواستہ کوئی پیچیدگی پیدا ہو جائے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ ڈاکٹر کی لاپرواہی ہو۔ ہر آپریشن، ہر پروسیجر اور ہر ڈیلیوری میں کچھ نہ کچھ خطرات موجود ہوتے ہیں، چاہے ڈاکٹر کتنا ہی تجربہ کار کیوں نہ ہو۔ بعض اوقات انسانی حدود اور قدرتی عوامل بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مثلاً نارمل ڈیلیوری (SVD) کے دوران اگر آلات استعمال کرنے پڑ جائیں یا اضافی قوت لگانی پڑے تو بھی کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر فرشتہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک انسان ہوتا ہے، اور انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطی یا کسی چیز کے نظر سے اوجھل رہ جانے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ یہ تصور کہ ڈاکٹر سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے یا وہ ہر حال میں ہر نتیجے کی ضمانت دے سکتا ہے، حقیقت پسندانہ نہیں۔
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا کوئی ڈاکٹر جان بوجھ کر اپنے مریض کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟ آخر اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا؟ اکثر مریضوں سے ڈاکٹر کی کوئی ذاتی جان پہچان بھی نہیں ہوتی۔ بہت سی چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم اور قدرت کے فیصلوں کے تابع ہوتی ہیں، جن پر کسی انسان کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔
جن مغربی ممالک کی مثالیں ہم دیتے ہیں، وہاں بھی بعض مریض صرف علاج کے انتظار میں، مہینوں یا سالوں کی تاخیر کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اگرچہ وہاں کے طبی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، پھر بھی پیچیدگیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
ڈیلیوری کے دوران پیدا ہونے والی چند معروف پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
Shoulder dystocia , clavicle fracture , birth trauma hypoxic ischmia
جبکہ ماں کی طرف سے ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
PPH , RETAINED PLACENTA ,perineal tear ,endometritis and utrine rupture
یہ تمام پیچیدگیاں دنیا بھر میں، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھی جاتی ہیں۔ اگر وہاں کے بہترین نظام اور انتہائی تربیت یافتہ ڈاکٹر (جو کہ ہر پاکستانی سجھتا ہے ) ہونے کے باوجود یہ مسائل پیش آ سکتے ہیں، تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر چیز انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ ہر بچے کو صحت عطا فرمائے، والدین کو صبر دے اور بیمار بچوں کو جلد صحت یاب فرمائے۔ بچوں میں ہڈیوں کی نشوونما اور ان کی بھرنے کی صلاحیت بہت اچھی ہوتی ہے، اس لیے اکثر اوقات وہ جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی پیچیدگی کا علاج یا اصلاح ممکن ہو تو وہ بھی بالآخر ڈاکٹر ہی انجام دیتے ہیں۔
ذرا سوچیے