Dr inayat Khan child specialist

Dr inayat Khan child specialist Pediatrician!!!

24/07/2026
23/07/2026

Outing with lofar party!!!!!!

25/06/2026

سفید کوٹ کے نیچے چھپا ایک ٹوٹا ہوا انسان

گزشتہ کچھ دنوں سے میری پوسٹس پر آپ لوگوں کے تبصرے اور فیڈ بیک پڑھنے کے بعد مجھے شدت سے احساس ہوا کہ کچھ ایسی تلخ حقیقتیں ہیں جن پر بات کرنا اب بہت ضروری ہو گیا ہے۔ ہم ڈاکٹرز کی زندگی کے ان پہلوؤں پر اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے جنہیں جاننا آپ سب کے لیے بہت ضروری ہے۔

جب میں ہسپتال کی لمبی شفٹ اور مریضوں کی چیختی ہوئی دنیا سے نکل کر گھر کی دہلیز پر پہنچتا ہوں، تو میرا چھ سالہ بیٹا دوڑ کر مجھ سے لپٹ جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوشی سے زیادہ ایک خوف ہوتا ہے: "پاپا! کیا اب آپ کو دوبارہ ہسپتال جانا ہے؟"

وہ یہ نہیں پوچھتا کہ میں نے کتنی جانیں بچائیں، وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ ہسپتال نے اس کے باپ کو اس سے کتنا دور کر دیا ہے۔ پاکستان میں شاید ڈاکٹر سے زیادہ بدنصیب پیشہ کوئی نہیں جس کی اولاد کو اپنے ماں باپ کی شفقت کے بجائے 'انتظار' نصیب ہوتا ہے۔ ہم دوسروں کی اولاد کو تو زندگی کی نوید دیتے ہیں، مگر جب اپنے گھر لوٹتے ہیں تو ہمارے اپنے بچے باپ کی شفقت کو ترس رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسی 'زندہ یتیمی' کا شکار ہوتے ہیں جہاں باپ موجود تو ہے، مگر کبھی وارڈ کی اندھیری راتوں میں، کبھی او ٹی کی مشینوں کے شور میں، اور کبھی کسی سینئر کی انا کو تسکین دینے میں۔

خاص طور پر گائنی (Gynecology) کی ٹریننگ کرنے والی ان ماؤں کا دکھ تو الفاظ سے باہر ہے۔

وہ مائیں جو 30-30 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹتی ہیں، تو ان کے اندر کا سکون مر چکا ہوتا ہے۔ کیا میں صحیح کر رہی ہوں؟ کیا میں اپنے بچوں کو اگنور تو نہیں کر رہی؟ ان کے بچے مجبوراً دادی، نانی کی گود میں پل رہے ہوتے ہیں۔ اور معاشرہ؟ معاشرہ طعنے دیتا ہے، "بچے خود نہیں رکھے، بس ٹریننگ کے لیے بڑے شہر بھاگ آئیں!" کاش وہ جان سکتے کہ اس دوری کا دکھ ان بچوں سے زیادہ ان ماں باپ کو ہوتا ہے جو ہسپتال میں مریض کے پیٹ کا آپریشن تو کر رہے ہوتے ہیں، مگر ان کے اپنے دل کے ٹکڑے ان سے دور ان کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔

اور پھر ہسپتال کی وہ ظالمانہ سیاست!

گائنی ڈیپارٹمنٹ میں جب میرٹ کی دھجیاں اڑتی ہیں، جب کوئی صرف اس لیے "کنگ" بنا پھرتا ہے کیونکہ وہ کسی کا 'فیورٹ' ہے، اور کوئی محنتی ڈاکٹر رات بھر لیبر روم کی چکی میں پس رہا ہوتا ہے، تو تب احساس ہوتا ہے کہ یہ سفید کوٹ صرف خدمت کا نام نہیں، بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے سیاست کا ایک کھلونا بن چکا ہے۔ جب ایک محنتی ڈاکٹر اپنی حق تلفی دیکھتی ہے، تو وہ صرف اپنی ڈیوٹی نہیں ہارتی، وہ اپنا اعتماد ہارتی ہے۔

لوگ اکثر بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں، "ڈاکٹر صاحب تو بہت کماتے ہوں گے، روز اتنی سرجریاں جو کرتے ہیں۔" انہیں یہ نہیں معلوم کہ اس سفید کوٹ کے اندر کیا کچھ دفن ہے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال میں تنخواہ اتنی ہے کہ عزت نفس برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اور پرائیویٹ سیکٹر میں سرجن کی محنت کا نچوڑ ہسپتال کے مالکان کھا جاتے ہیں۔ کارپوریٹ ہسپتالوں میں پریکٹس کا موقع صرف 'سینئر لیول' کے چند لوگوں تک محدود ہے، اور بیچارہ جونیئر یا مڈ-سینئر ڈاکٹر نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔

کئی بار جی چاہتا ہے کہ یہ سب چھوڑ دوں، لیکن پھر وہی ذمہ داری آڑے آ جاتی ہے۔ یہ سیاست، یہ تھکن، یہ نیند کی کمی—سب اس "زندگی" کی قیمت ہے جو ہم دوسروں کو لوٹا رہے ہوتے ہیں۔ میں نے سیکھا ہے کہ سکون کہاں ملتا ہے۔ کبھی اپنی فیملی کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات میں، تو کبھی ان خاموش لمحوں میں جب میں اپنے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کے فیصلے کر رہا ہوتا ہوں یا اپنے خوابوں کے لیے نئے منصوبے بنا رہا ہوتا ہوں۔

گزشتہ پوسٹس کے فیڈ بیک سے مجھے احساس ہوا کہ ہسپتالوں میں سہولیات اور نگہداشت کا فقدان ایک بڑا المیہ ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہسپتال کا انتظامی بحران ہو یا دواؤں کی کمی، موقع پر موجود On-duty ڈاکٹر کو ہی سب کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ ہم سہولیات فراہم کرنے والے ادارے نہیں، ہم تو صرف علاج کرنے والے ہاتھ ہیں۔ جب ہاتھ خالی ہوں اور پیچھے سسٹم کھوکھلا ہو، تو آپ خود بتائیں، ہم کہاں تک لڑیں؟

ہم بے حس نہیں، ہم بے بس ہیں۔ ہمیں سہولیات مت دیں، بس ہمیں اس سسٹم میں سانس لینے کی جگہ دے دیں تاکہ ہماری انسانیت زندہ رہ سکے
۔
اگر آپ کے آس پاس کوئی ڈاکٹر ہے، تو اس سے "کتنا کما لیتے ہو" کے بجائے کبھی یہ پوچھ کر دیکھیں کہ "کیا تم آج اپنے بچوں سے مل پائے تھے؟" یا "کیا آج تمہارے ساتھ ڈیپارٹمنٹ میں انصاف ہوا؟"

ہم سفید کوٹ پہن کر دوسروں کے دکھ تو بانٹ لیتے ہیں، مگر اپنے اندر کا بوجھ بانٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ہسپتا ل نہیں ہے

22/06/2026

کنسنٹ فارم (Consent Form) کیا ہوتا ہے؟

کنسنٹ فارم اس تحریری اجازت کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مریض یا اس کے اہلِ خانہ کسی ڈاکٹر کو دستخط کے ساتھ یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ ان کے مریض مطلوبہ طبی طریقۂ کار انجام دے۔

لیکن کنسنٹ فارم کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا۔ اس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض یا اس کے لواحقین کو اس طریقۂ علاج، آپریشن یا پروسیجر سے وابستہ ممکنہ خطرات اور پیچیدگیوں سے آگاہ کیا جائےکہ یہ بھی ہو سگتی ہیں ۔ اگر خدا نہ خواستہ کوئی پیچیدگی پیدا ہو جائے تو یہ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ ڈاکٹر کی لاپرواہی ہو۔ ہر آپریشن، ہر پروسیجر اور ہر ڈیلیوری میں کچھ نہ کچھ خطرات موجود ہوتے ہیں، چاہے ڈاکٹر کتنا ہی تجربہ کار کیوں نہ ہو۔ بعض اوقات انسانی حدود اور قدرتی عوامل بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

مثلاً نارمل ڈیلیوری (SVD) کے دوران اگر آلات استعمال کرنے پڑ جائیں یا اضافی قوت لگانی پڑے تو بھی کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر فرشتہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک انسان ہوتا ہے، اور انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطی یا کسی چیز کے نظر سے اوجھل رہ جانے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ یہ تصور کہ ڈاکٹر سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے یا وہ ہر حال میں ہر نتیجے کی ضمانت دے سکتا ہے، حقیقت پسندانہ نہیں۔

یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا کوئی ڈاکٹر جان بوجھ کر اپنے مریض کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے؟ آخر اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا؟ اکثر مریضوں سے ڈاکٹر کی کوئی ذاتی جان پہچان بھی نہیں ہوتی۔ بہت سی چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم اور قدرت کے فیصلوں کے تابع ہوتی ہیں، جن پر کسی انسان کا مکمل اختیار نہیں ہوتا۔

جن مغربی ممالک کی مثالیں ہم دیتے ہیں، وہاں بھی بعض مریض صرف علاج کے انتظار میں، مہینوں یا سالوں کی تاخیر کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اگرچہ وہاں کے طبی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، پھر بھی پیچیدگیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

ڈیلیوری کے دوران پیدا ہونے والی چند معروف پیچیدگیوں میں شامل ہیں:
Shoulder dystocia , clavicle fracture , birth trauma hypoxic ischmia
جبکہ ماں کی طرف سے ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:

PPH , RETAINED PLACENTA ,perineal tear ,endometritis and utrine rupture

یہ تمام پیچیدگیاں دنیا بھر میں، حتیٰ کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھی جاتی ہیں۔ اگر وہاں کے بہترین نظام اور انتہائی تربیت یافتہ ڈاکٹر (جو کہ ہر پاکستانی سجھتا ہے ) ہونے کے باوجود یہ مسائل پیش آ سکتے ہیں، تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر چیز انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتی۔

اللہ تعالیٰ ہر بچے کو صحت عطا فرمائے، والدین کو صبر دے اور بیمار بچوں کو جلد صحت یاب فرمائے۔ بچوں میں ہڈیوں کی نشوونما اور ان کی بھرنے کی صلاحیت بہت اچھی ہوتی ہے، اس لیے اکثر اوقات وہ جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کسی پیچیدگی کا علاج یا اصلاح ممکن ہو تو وہ بھی بالآخر ڈاکٹر ہی انجام دیتے ہیں۔

ذرا سوچیے

Address

Muhammed Khan Hospital, Kalabagh Kot Chandna Road, Opposite Muzafer Petrol Pump
Kalabagh

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 12:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr inayat Khan child specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category