EMT Medical professional.

EMT Medical professional. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from EMT Medical professional., Doctor, Karachi garden, Karachi.

22/01/2023

C- Section

ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اب تو آپ کو آپریٹ ہی کروانا پڑے گا۔ مگر ناصرف میرا بلکہ میرے شوہر کا بھی یہی خیال تھا کہ ہمیں تھوڑا انتظار اور کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی تجویز کے مخالف جاتے ہوئے ہم نے انتظار کا فیصلہ کیا اور اسی روز میری نارمل ڈیلیوری ہو گئی۔‘

اسلام آباد کی رہائشی سائرہ حفیظ مزید بتاتی ہیں ناصرف پہلے بچے کی پیدائش بلکہ ان کی دوسری زچگی کے دوران بھی یہی کچھ ہوا۔ ’میں ہسپتال گئی اور داخل ہو گئی مگر نارمل ڈیلیوری نہیں ہو رہی تھی۔ اگلے روز ڈاکٹر میرے پاس آئیں اور بتایا کہ ہم آپ کو لیبر روم لے کر جا رہے ہیں اور آپ کی ڈیلیوری کروا دیں جو کہ نارمل ہونے کے چانس نہیں ہیں۔ مجھے دوبارہ وہاں پر سٹینڈ لینا پڑا کہ مجھے نارمل ڈیلیوری کروانی ہے۔‘

’میں نے ڈاکٹر کی تجویز کی مخالفت اس لیے کی تھی کیونکہ میں نے اس پر ریسرچ کر رکھی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نارمل ڈیلوری کی طرف جاتے ہیں تو خرچہ ایک لاکھ تک ہوتا ہے مگر اگر سی سیکشن کی طرف جاتے ہیں تو خرچہ بڑھ کر ڈھائی سے چار لاکھ تک ہو سکتا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ پریگنینسی کے دوران ہی ڈاکٹر لڑکیوں کے دماغ میں یہ بات بٹھا دیتے ہیں کہ سی سیکشن بچہ پیدا کرنے کا آسان طریقہ ہے۔‘

دنیا میں صدیوں تک بچوں کی پیدائش اکثر گھروں میں ہوا کرتی تھی۔ میڈیکل سائنس کی ترقی اور سی سیکشن سے جہاں ایک طرف ہر سال لاکھوں خواتین اور اُن کے بچوں کی جانیں بچائی جاتی ہیں وہیں اس کے غیر ضروری استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں سی سیکشن سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اور بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر پرائویٹ ہسپتالوں میں اس کی شرح زیادہ ہے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والی نبیلہ بتاتی ہیں کہ ’وہ میری پہلی دفعہ تھی اور بہت سی نئی ماؤں کی طرح مجھے معلوم نہیں تھا کہ کیا چل رہا ہے۔ جب ڈاکٹر نے مجھے کچھ پیچیدگیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اُن کو گوگل بھی کیا اور لوگوں سے بھی بات کی، مگر چونکہ جیسا ہوتا ہے عین وقت پر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔‘

’ذہن میں ایک ڈر تھا کہ کچھ غلط ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جب آپ نو ماہ کا سفر کر کے آ رہے ہوتے ہیں تو دماغ میں یہی ہوتا ہے کہ کوئی چانس نہیں لینا۔ ڈاکٹر بھی آپ کو تجویز کر رہے ہوتے ہیں کہ سی سیکشن کی صورت میں ڈیلیوری کے لیے آپ اپنی پسند کا ٹائم سلیکٹ کر سکتی ہیں، دن سلیکٹ کر سکتی ہیں وغیرہ۔‘

نبیلہ کا پہلا بچہ بھی سی سیکشن سے ہوا۔

تاہم ڈاکٹرز کے حوالے سے ہر خاتون کا تجربہ ایک سا نہیں ہوتا مثلاً دہلی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرنے والے تین سالہ بچے کی ماں، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، بتاتی ہیں کہ وہ سیزیریئن سیکشن سرجری کے لیے پوری طرح سے تیار تھیں لیکن ان کے ڈاکٹر نے انھیں نارمل ڈیلیوری کا مشورہ دیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ایک پروفیشنل عورت کے طور پر میں نے سوچا تھا کہ میں ڈیلیوری کے دوران درد اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سی سیکشن سرجری کو ترجیح دوں گی۔ لیکن میرے ڈاکٹر نے مجھے سمجھایا کہ اگر طبی طور پر ضرورت نہ ہو تو سی سیکشن درحقیقت مجھے یا میرے بچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘

انھوں نے دوستوں سے سنا تھا کہ ڈاکٹر سیزیریئن سیکشن سرجری کو ترجیح دیتے ہیں لیکن جب ان کے ڈاکٹر نے نارمل ڈلیوری کے فوائد اور نقصانات کی وضاحت کی تو نارمل ڈیلیوری کے لیے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

سی سیکشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے واقعات میں دنیا بھر میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر پاکستان اور انڈیا میں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں سی سیکشن سرجری کی شرح سنہ 1990 میں تقریباً سات فیصد تھی جو 2021 میں بڑھ کر 21 فیصد ہو گئی ہے اور اس رجحان میں اضافہ جاری ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں سرکاری صحت کے اداروں کے مقابلے نجی اداروں میں سی سیکشن کرنے کی شرح زیادہ ہے۔

پاکستان میں انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سی سیکشن کے ذریعے بچوں کے پیدائش کی شرح لگ بھگ 22 فیصد ہے یعنی ہر 100 میں سے 22 بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہو رہے ہیں۔ جبکہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں سی سیکشن کے ذریعے پیدائش کی شرح 28 فیصد تک ہے۔ یاد رہے کہ 2013 میں یہ شرح صرف 14 فیصد تھی۔

اگر انڈیا کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو وہاں 21.5 فیصد بچے سی سیکشن کے ذریعے پیدا ہو رہے ہیں۔ 2016 میں انڈیا میں یہی شرح 17.2 فیصد تھی۔ جبکہ انڈیا کے پرائیوٹ ہسپتالوں میں سی سیکشن کی شرح لگ بھگ 48 فیصد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سی سیکشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی قابل قبول شرح 10 فیصد تک ہونی چاہیے۔

دنیا بھر میں ’نارمل ڈیلیوری‘ کو ماں اور بچے دونوں کی صحت اور زندگی کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے اور ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سی سیکشن سرجری صرف طبی وجوہات کی بنا پر کی جانی چاہیے خاص طور پر جب ’نارمل ڈیلیوری‘ سے ماں اور بچے کے لیے خطرات لاحق ہوں۔

انڈیا میں نارمل ڈیلیوری کی حامی ڈاکٹر نوتن پنڈت کہتی ہیں کہ آج کل ’ہر کوئی ڈیلیوری کی متوقع تاریخ کو پیدائش کی تاریخ کے طور پر لے رہا ہے۔ جبکہ یہ ایک متوقع تاریخ ہے اور اسی لیے اسے پیدائش کی متوقع تاریخ کہا جاتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن جب بچہ اس دن، یا اس دن سے پہلے نہیں پیدا ہوتا ہے تب لوگ ’اینڈیوسڈ لیبر‘ یعنی غیر قدرتی طریقے سے لیبر کروا دیتے ہیں۔ بچے کو اپنے آپ پیدا ہونے دینا چاہیے۔‘

انڈیا کے ایک ہستال میں گائناکالوجی کی سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر رینو جین سیزیریئن سیکشن کے ذریعے ڈیلیوری میں اضافے کے تین اہم وجوہات کی نشاندہی کرتی ہیں: ماں کو نارمل ڈیلیوری میں درد کا خوف، ماں کی دوسری ڈیلیوری میں سیزیریئن سیکشن کے زیادہ امکانات کیونکہ پہلی ڈیلیوری سیزیریئن سیکشن تھی، تیسرا اور طرز زندگی میں تبدیلیاں جیسے کہ عام عمل و حرکت میں کمی یا غیر صحت بخش کھانے کے عادات۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کھانے کی بُری عادات سے حمل میں وزن بڑھنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین کا خود سے ’لیبر‘ میں جانے کے امکان کم ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ان میں طبی طور پر ’لیبر‘ کرانا پڑتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’اور سائنسی اعداد و شمار کے مطابق اس طرح کے لیبر میں نارمل لیبر کے مقابلے میں سیزیریئن سیکشن کے واقعے زیادہ ہوتے ہیں‘۔

وہ ایشیائی ممالک میں ایک اور عام وجہ کی نشاندہی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’حمل کے دوران ہوئی ذیابیطس بچے کے جسامت کو بڑھاتی ہے جس سے نارمل ڈیلیوری کے امکانات کم ہوتے ہیں اور اس سے سیزیریئن سیکشن سرجری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

حال میں پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر بھی حمل میں تاخیر کرنے والی خواتین بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے سیزیریئن سیکشن سرجری کو ترجیح دیتی ہیں۔

ڈاکٹر نوتن کہتی ہیں کہ نارمل حالات میں ’بہت جلدی ہسپتال جانا بھی سیزیریئن کا باعث بن سکتا ہے۔ جب آپ لیبر کی پوری طرح سے شروعات کا انتظار نہیں کرتے ہیں تو پھر سیزریئن کا مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ ہسپتال کا پروٹوکول یہ ہے کہ ہسپتال آنے کے 24 گھنٹوں کے اندر عورت کی ڈیلیوری کرا دی جائے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’جب لیبر کنٹریکشن میں 5، 10 منٹ کا فاصلہ ہو تب ماں کو ہسپتال جانا چاہیے۔‘

انگلینڈ میں مقیم ڈاکٹر سعدیہ خان کہتی ہیں کہ ’ڈاکٹر جانتے ہیں کہ اس میں کم وقت لگے گا۔ اس میں ان کا ذاتی مالی فائدہ بھی ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’جو ہماری بیسٹ پریکٹس ہے وہ یہ ہے کہ ہم جہاں کوشش ہو نارمل ڈیلیوری کی طرف رجحان بڑھائیں۔ اور خواتین کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کریں کہ کیوں سی سیکشن سے بہتر طریقہ نارمل ڈیلیوری ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’مریض کو یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ انھیں سیزیریئن کی ضرورت ہے یا نارمل ڈیلیوری سے بھی بچے کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ انکو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ سیزیرئین کے چند اہم نشانیاں ہیں۔ ہر معاملے میں سیزیریئن نہیں کیا جاتا، یہ نارمل پریکٹیس نہیں ہے‘۔

ترقی یافتہ ممالک میں سیزیریئن سیکشن سرجری کی شرح کو کم کرنے کی کوششیں بہت حد تک ناکام رہی ہیں لیکن چند اقدامات ایسے ہیں جس سے آہستہ آہستہ اس رجحان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر ماں کی بہتر ’کاونسیلینگ‘ کافی مددگار ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر جین کہتی ہیں کہ ’میں عام طور پر دیکھتی ہوں کہ میرے پاس جب جوڑے آتے ہیں تو ماں ڈری ہوتی ہے کہ اس سے نارمل ڈیلیوری نہیں ہو پائیگی۔ ان میں خود اعتماد کی کمی نظر آتی ہے۔‘

ڈاکٹر رینو جین کہتی ہیں ’سیزیریئن سیکشن سرجری میں اضافہ ہونے کے کچھ وجوہات کو ہم روک سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر خاتون کو پر اعتمادی فراہم کرنا۔ ڈیلیوری اور لیبر پر ماں کی پہلے ہی کونسیلنگ کریں، انھیں سمجھائیں کہ لیبر کا عمل کیا اور کیسے ہوتا ہے، وہ اس کے دوران وہ کیا توقع کر سکتی ہیں، لیبر میں ہونے والے درد سے نجات کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں‘۔

وہ کہتی ہیں، ’میرے تجربے میں اگر 100 عورتیں سیزیریئن سیکشن سرجری کے لیے آتی ہیں تو مناسب کاؤنسیلینگ کے بعد ان میں سے 60-70 فیصد نارمل لیبر میں جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں‘۔

عام طور پر ہنر مند ڈاکٹر سیزیریئن سیکشن سرجری کی تجویز اس وقت کرتے ہیں جب نارمل ڈیلیوری میں طبی طور پر ماں یا بچے کو خطرے کے امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن جب طبی وجوہات کی بناء پر اس کی ضرورت نہ ہو تب، ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اگر ڈاکٹر اور حاملہ خواتین کچھ بنیادی باتوں کو ذہن میں رکھیں تو سیزیریئن سیکشن سرجری کے غیر ضروری واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیزیریئن سیکشن کو کم کرنے کے لیے چند ممالک نے کچھ اقدامات اٹھائیں ہیں لیکن اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

نیند کا فالج کیا ہے؟ یہ ایک خاص جن ہے جسے "الکابوس" کہا جاتا ہے جو نیند میں آپ پر حملہ کرتا ہے۔ حملے کی علامات اس وقت ہو...
07/12/2022

نیند کا فالج کیا ہے؟ یہ ایک خاص جن ہے جسے "الکابوس" کہا جاتا ہے جو نیند میں آپ پر حملہ کرتا ہے۔ حملے کی علامات اس وقت ہوتی ہیں جب کوئی شخص سو رہا ہوتا ہے اور اپنے سینے پر کسی بھاری چیز کو دبانے کا تصور کرتا ہے، اسے نچوڑتا ہے اور سانس روکتا ہے، اس وجہ سے وہ نہ بول سکتے ہیں اور نہ حرکت کرسکتے ہیں، اور ان کی حرکت میں رکاوٹ کی وجہ سے ان کا دم گھٹ جاتا ہے۔ ایئر ویز جب جن چلا جاتا ہے، تو آپ گھبراہٹ میں ہوا کے لیے ہانپتے ہوئے فوراً جاگ جاتے ہیں۔ مغربی سائنسدان اس رجحان کو "نیند کا فالج" کہتے ہیں لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ یہ ایک جن ہے جو لوگوں کی نیند کے دوران حملہ آور ہوتا ہے۔ تو ہم اپنے آپ کو اس جن کے حملے سے کیسے بچائیں؟ ہم اس سنت کی پیروی کرتے ہیں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سوتے تھے۔
1. وضو کی حالت میں سونا۔
2. سونے سے پہلے اپنی تمام فرض نمازیں ضرور پڑھیں۔
3. اپنے بستر پر چڑھنے سے پہلے، بستر کو تین بار صاف کریں۔
4. 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھیں۔ آیت الکرسی پڑھیں
5. 3 کل (سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس) پڑھیں۔
6. (اگر ممکن ہو تو ان شاء اللہ) سورۃ الملک پڑھیں۔
7. اپنے دائیں طرف سونا۔
8. روزانہ جتنا ممکن ہو صدقہ دیں۔
9. سونے کے وقت موبائل استعمال نہ کریں, گانے نہ سنیں اور اپنے آپ کو شیطان سے دور رکھیں، درود پاک پڑھیں.
10. مشکل وقت میں اللہ سے مدد مانگنے کی عادت ڈالیں، پھر جب حالات آپ کے قابو سے باہر ہوں گے تو آپ اللہ سے مدد مانگیں گے اور صرف اسی سے امید رکھیں گے انشاء اللہ.
اگر آپ کے اوپر اقدامات کرنے کے بعد بھی علامات برقرار رہتی ہیں تو وہ آپ سے سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ طبی مشورہ لیں۔
اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے اور ہمارے صغیرہ اور کبیرہ کے گناہوں کو معاف فرما۔ آمین!

25/07/2022

Posted for confirming authenticity of information.
پاکستانی ماوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ: بچوں کا سر بنانا

جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ، پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔ گردن کو اسطرح رکھنا کہ سر بالکل سیدھا رہے، خاص تکیوں کا استعمال، سر پر اینٹ رکھنا تک شامل ہیں۔
جو عورت سر بنانے میں بہت expert مانی جائے گی اور اپنی کامیابی کے قصے سناتی نظر آئیگی اسکے بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا جیسا اس تصویر میں left میں دکھایا گیا ہے جو کہ بالکل بھی نارمل نہیں ہے۔
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔ سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head syndrome کے بچوں میں

● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
● فہم و فراست ( یعنی cognitive skills)
● جذباتیات (یعنی emotional intelligence)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔

تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟

تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی شکل اختیار کرنے دیں جو کہ گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔

ڈاکٹر فرح عثمان

07/07/2022
01/07/2022
وٹامن ای۔          Vitamin E ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﺋﻒ ﻣﯿﮟﺍﯾﮉ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . :) ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﺘ...
28/06/2022

وٹامن ای۔ Vitamin E

ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻻﺋﻒ ﻣﯿﮟﺍﯾﮉ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩُﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . :)
ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟﺍﺏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ :(
ﻣﺮﺩﻭﮞﮐﻮ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﺒﯿﺚ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﻮﭘﺎﺯ جسے سن یاس بھی کہتے ہیں، ﺟﻠﺪﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ، ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ، PCOS ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺅ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ ﺑﮭﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮐﺮﺩﯼ ﮨﮯ۔

ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﭨﭗ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ، ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ، ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ، ﻓﺮﯾﮑﻠﺰ، ﺳﺎﻧﻮﻻ ﭘﻦ، ﮔﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﯿﺎﭘﺎ، ﺍﻧﺮﺟﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺗﮭﮑﻦ ﺭﮨﻨﺎ، ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﭼﮍﭼﮍﺍﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔
ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺵ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﯽ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺣﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ EVION 400 MG ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻧﯿﻠﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﻣﯿﮟﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ . ﺍﻣﭙﻮﺭﭨﮉ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮔﺮﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻟﯿﮟ .
خوراک استعمال ﮐﺮﻧﺎ ﺻﺮﻑ 400 ملی گرام ﻭﺍﻻ ﮨﯽ ﮨﮯ،
600 ﺍﻭﺭ 200 ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟﮐﺮﻧﺎ .

ﻧﮑﺘﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺻﺒﺮ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ . ﻭﯾﺴﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟﮨﺮ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﭩﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ .
ﻭﭨﺎﻣﻦ E ﮐﮯ ﺟﺎﺩﻭﺋﯽ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻭﺍﻻ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮨﺮ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﭩﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ہفتہ دو ہفتہ بھر استعمال کریں'پھر دو دن وقفہ کریں
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﮐﻨﻔﺮﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﻻﻧﮓ ﭨﺮﻡ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺍﯾﻔﯿﮑﭧ سے اجتناب کریں۔
چ
ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﻼ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺣﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺍﺛﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺳﮑﻦ ﭘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺮﺟﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﮑﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻟﮧ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺪﯼ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺳﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭨﺎﺋﭧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﯾﮧ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﮯ۔

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﺗﮫ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﻓﯽ ﻣﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻞ ﻣﺎﮈﻟﺰ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﺲ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ .
ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﻧﻮﺧﺸﮑﯽ، ﻧﻮ ﮨﺌﯿﺮ ﻓﺎﻝ ﻧﻮ ﺑﺎﻟﭽﺮ ﻧﻮ ﮔﻨﺞ ﭘﻦ۔ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺗﯿﺮﺑﮩﺪﻑ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔

ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮﻧﺲ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺑﻨﺪﮦ ﮈﭘﺮﯾﺲ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻟﻮ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺰ ﻻﺋﻒ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔
ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮏ، ﺳﮑﻦ ﭨﺎﺋﭧ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﻏﺎﺋﺐ، ﺑﺎﻝ ﮔﮭﻨﮯ ﺳﯿﺎﮦ، ﭼﮩﺮﮦ ﻓﺮﯾﺶ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺍﻍ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﺒﮧ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ؟؟؟۔

ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎتا ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺮﯾﮉﺯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﺴﭧ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ.
ﺟﻦ ﮐﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﺍﯾﻨﯿﻤﯿﺎ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍُﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ.
ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﻮ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، . ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺳﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ .

مردانہ طاقت کیلئے بڑھاپے میں بھی کارآمد وٹامن ای۔۔۔
یہ وٹامن ای ہے ۔
میاں بیوی کے درمیان جنسی عمل ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسانی بڑھوتری کا سبب ہے بلکہ اس سے زیادہ انسان کی جذباتی تسکین کا ذریعہ بھی ہے ۔ اس فعل کو بڑھانے اور زیادہ دیر تک لطف اندوز ہونے کے لئے۔
اس کی کمی سے جنسی ہارمون اور غدود نخامیہ کا ہارمون دونوں کم ہوجاتے ہیں۔ یہ وٹامن بانجھ پن کو دور کرنے اوراسقاط حمل کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ .
ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 15 ﻣﻨﭧ ﻭﺍﮎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﯿﮟ گے۔

وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہونے والی علامات
🎗️ وٹامن ای کی کمی کی علامات
عصبی پٹھوں کی کمزوری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمیں پٹھوں کی کمزوری ہوتی ہے ہمارے اعصابی نظام کے لئے وٹامن ای بہت ضروری ہے یہ اہم آکسیڈنٹ میں شامل ہے۔اس کی کمی کی وجہ سے پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
چلنے میں دشواری
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے جس وجہ سے انسان پیدل چلنے سے تھک جاتا ہےاور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
نظامِ انہظام کے مسائل
وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمارا نظامِ انہظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتا۔وٹامن ای کی کمی ہمارے مدافعتی خلیوں کو روکتی ہے اس لئے بڑی عمر کے لوگوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔

14/06/2022
12/05/2022

ہم پاد (fart) کیوں کرتے ہیں؟
فلیٹولنسFlatulence اور فلیٹسflatus طبی اصطلاحات ہیں جسے عام طور پر فارٹنگfarting کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ لوگ کھلے عام پاد پر بات کرنے کا رجحان نہیں رکھتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جو ہر کوئی کرتا ہے۔
درحقیقت، کچھ تحقیق کے مطابق، اوسطاً ایک شخص دن میں تقریباً 12-25 بار گیس(پد) سے گرتا ہے۔
جسم ہضم کے عمل کے ایک حصے کے طور پر آنتوں میں گیس پیدا کرتا ہے۔ ایک بار جب یہ گیس جسم کے اندربن جاتی ہے، تو اسے کسی نہ کسی طرح خارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر مقعد کے ذریعے پیٹ پھولنے کے طور پر یا منہ سے ڈکار burp کی طرح خارج ہوتا ہے۔کچھ آنتوں کی گیس ہوا سے حاصل کی جاتی ہے جسے لوگ کھاتے ہوئے، چیونگم چباتے ہوئے، پائپ سے مشروب پیتے ہوئے، یا سگریٹ نوشی کرتے وقت نگل جاتے ہیں۔آکسیجن، نائٹروجن، اور کاربن ڈائی آکسائیڈ بنیادی بیرونی گیسیں ہیں جو جسم کے اندر پائی جاتی ہیں۔ وہ اس چیز کو بناتے ہیں جسے خارجی ہوا exogenous air کہا جاتا ہے۔آنتوں کی گیس جسم کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بڑی آنت میں موجود بیکٹیریا خوراک کو توڑ دیتے ہیں۔ اسے اینڈوجینس گیس کہتے ہیں۔اینڈوجینس گیس endogenous gas بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور کچھ لوگوں کے لیے میتھین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں تھوڑی مقدار میں دیگر گیسیں بھی شامل ہو سکتی ہیں، جیسے کہ ہائیڈروجن سلفائیڈ، جس وجہہ سے پادوں سے بدبو آتی ہے۔تاہم، بدبو صرف تقریباً 1 فیصد گیس پر لاگو ہوتی ہے زیادہ تر تقریباً بدبو سے پاک ہے.یعنی صرف ایک فیصد لوگوں کی پاد ہی بدبو دارہوتے ہیں .غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹ گیس کی ایک عام وجہ ہیں، کیونکہ معدہ اور چھوٹی آنت ان کھانوں کو توڑ نہیں سکتے۔ اس کے بجائے، یہ کاربوہائیڈریٹ بڑی آنت میں چلے جاتے ہیں، جہاں بیکٹیریا ان کو توڑنا شروع کر دیتے ہیں، اس عمل میں آنتوں میں گیس خارج ہوتی ہے۔

مِرگی: تمام اقسام قابلِ علاج ہیںمِرگی جسے انگریزی میں ایپی لیپسی "Epilepsy" اور عرفِ عام میں جھٹکے کی بیماری کہا جاتا ہے...
23/04/2022

مِرگی: تمام اقسام قابلِ علاج ہیں
مِرگی جسے انگریزی میں ایپی لیپسی "Epilepsy" اور عرفِ عام میں جھٹکے کی بیماری کہا جاتا ہے، دُنیا بَھر میں دماغی امراض میں سب سے عام عارضہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پوری دُنیا میں 50 ملین سے زائد افراد اس عارضے کا شکار ہیں، جن میں سے 80 فیصد کا تعلق ترقّی پذیر مُمالک سے ہے۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے، تو یہاں مرض کی شرح تقریباً ایک فیصد ہے، جب کہ زیادہ تر مریض 30سال سے کم عُمر ہیں۔

مِرگی سے متعلق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2 ملین یعنی 20 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ تاہم، شہری آبادی کی نسبت دیہی علاقوں میں مرض کی شرح بلند ہے، کیوں کہ بدقسمتی سے ہماری پس ماندہ آبادی، گاؤں دیہات میں کئی غیر حقیقی تصوّرات عام ہیں، جو علاج معالجے میں بھی رکاٹ کا سبب بنتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں علاج کی شرح 1.9 فیصد ہے، جب کہ شہروں میں یہ شرح 27 فیصد تک ہے۔ دراصل مِرگی کو اس کی علامات کے باعث کسی جادو ٹونے کا اثر، جن بھوت یا کسی مافوق الفطرت شے کا تسلّط سمجھا جاتا ہے اور اکثریت علاج معالجے کے لیے اتائیوں، پیروں، فقیروں ہی سے رجوع کرتی ہے، جہاں علاج کے نام پر مریضوں کے ساتھ انتہائی غیر مناسب سلوک کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض والدین نہ تو اپنے بچّوں کا علاج کرواتے ہیں اور نہ ہی کسی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔جب کہ اکثریت اسے ناقابلِ علاج مرض سمجھتی ہے، حالاں کہ ادویہ کے ذریعے نہ صرف اس پر قابو پانا سہل ہے، بلکہ مریض تندرست ہوکر اپنی زندگی عام افراد کی طرح گزار سکتا ہے۔

مِرگی ایک دماغی بیماری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ میں جو برقی کرنٹ پایا جاتا ہے، اگر اُس کرنٹ کے نظام میں کچھ گڑبڑ واقع ہو جائے، تو نتیجے میںیہ مرض دورے کی صور ت ظاہر ہوتا ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے دماغ میں پایا جانے والا برقی کرنٹ جب وقتی طور پر بےقابو ہو جائے، تو نتیجے میں جسم پر دورے کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، جسے طبّی اصطلاح میں ’’مِرگی‘‘ کہتے ہیں۔

دورے کی عام علامات میں پٹّھوں کا کھنچاؤ، جسم کا اکڑنا، بدحواسی، اچانک بے ہوشی طاری ہونا، کھڑے کھڑے ٹھوکر کھائے بغیر نیچے گرجانا، منہ کا ٹیڑھا ہوجانا، وقتی طور پر سانس رُکنا( جس کی وجہ سے ہونٹ نیلے پڑسکتے ہیں)، منہ سے جھاگ نکلنا، دانتوں تلے زبان کا آجانا، بول وبراز خطا ہو جانا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بیماری عُمر کے کسی بھی حصّے میں لاحق ہوسکتی ہے، لیکن بچّوں میں اس کی شرح بُلند ہے۔ نوجوانوں میں مِرگی سے متاثرہ نئے مریض نسبتاً کم پائے جاتے ہیں۔

مِرگی کا عارضہ عُمربھر مریض کو اپنی لپیٹ میں رکھ سکتا ہے، البتہ نوجوانی میںاس کے دوروں کی شدّت یا تو بہت ہی کم ہوجاتی ہے یا پھر ختم ہوجاتی ہے۔ یہ ایک طویل المدّت مرض ہے، جس میں ادویہ کا استعمال کئی برسوں تک جاری رہتا ہے۔ اِس کی ابتدائی علامات ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہیں۔ تاہم ،زیادہ تر مریض دورے سے قبل چند مخصوص کیفیات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مثلاً گھبراہٹ، خوف، تیز دھڑکن، چکّر آنا یا آنکھوں کے سامنے تارے سے آجانا، اشیاء کا حجم چھوٹا یا بڑا نظر آنا وغیرہ وغیرہ۔

وقت گزرنے کے ساتھ مریض کو ان مخصوص علامات کے شروع ہوتے ہی اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ اب اُسے مِرگی کا دورہ پڑنے والا ہے۔ مرض لاحق ہونے کی وجوہ کے حوالے سےحتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی وجہ دورے کا سبب بن سکتی ہے، البتہ بعض اوقات چند وجوہ دورے کی محرک بن سکتی ہیں، جن میں کم خوابی، تیز رفتار جھولا جھولنا، تیزی سے جھلملاتی روشنیاں دیکھنا، نشہ آور ادویہ کا استعمال، شدید تھکاوٹ، ٹی وی یا کمپیوٹر کا زائد استعمال، شدید بخار اور ذہنی امراض وغیرہ شامل ہیں۔

جب کہ بعض کیسز میں چند غدود کے افعال میں بےقاعدگی بھی اس مرض کا سبب بنتی ہے، تو کبھی دماغ پر لگنے والی کوئی چوٹ بھی اس مرض کا شکار کردیتی ہے۔ البتہ نوزائیدہ یا کم عُمر بچّوں میں تیزبخار مِرگی یا بعض اوقات کسی اور ذہنی پس ماندگی کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر مرگی کے مریض کو یہ علم ہو جائے کہ کون سی وجہ دورے کا سبب بن سکتی ہے، تو وہ ان وجوہ سے اجتناب برت کے دورے سے ممکنہ طور پر محفوظ رہ سکتا ہے۔مِرگی کی درست تشخیص دماغی امراض کا ایک ماہر معالج ہی کرسکتا ہے۔

یوں تو مِرگی کی کئی اقسام ہیں، لیکن سب سے عام قسم "tonic-clonic" یا "Convulsive seizures" ہے۔اس سے متاثرہ مریض دورے سے قبل چیخ مارتا ہے اور چند لمحوں کے لیے اس کا پورا جسم اکڑ جاتا ہے، جس کے بعد جھٹکے لگنے لگتے ہیں۔ یہ کیفیت چند منٹ برقرار رہتی ہے، پھر وہ نڈھال یا تو بے ہوش ہوجاتا ہے یا پھر سوجاتا ہے۔ دورے کے دوران چوٹ لگنے اور دانتوں تلے زبان آکر کٹ جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے، نیز، بول و براز بھی خطا ہوسکتا ہے۔

عمومی طور پر دورے کا دورانیہ 2 سے 4 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ مرگی کی اس قسم میں دورے روزانہ بھی پڑ سکتے ہیں اور دِن میں کئی بار بھی۔ یا پھر ان میں کئی مہینوں کا طویل وقفہ بھی آسکتا ہے ۔مرگی کی دوسری قسم"partial seizure"کہلاتی ہے، جو جسم کے کسی ایک حصّے کو متاثر کرتی ہے۔ دورے کے دوران اس مخصوص حصّے میں جھٹکے لگتے ہیں۔ اِسی طرح ایک اور قسم "Myoclonic jerks seizure" ہے، جس میں جسم کا صرف ایک ہی پٹّھا متاثر ہوتا ہے۔ ایک اور قسم "Complex partial seizure" میں دورے کی ابتدا جھٹکے کی صُورت جسم کے کسی ایک حصّے سے ہوتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ جھٹکے بتدریج بڑھتے ہیں اور پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ایک دوسری قسم "Atonic seizure" یا"Drop seizure"ہے۔اس میں جسم کے تمام پٹّھے ایک دَم کچھ دیر کے لیے بےجان ہوجاتے ہیں۔ مرگی کی ایک شدید قسم"Status epilepticus"ہے، جس میں دورے کادورانیہ پانچ منٹ سے طویل ہوتاہے، جب کہ بعض کیسز میں دورے بار بار اتنی جلدی پڑتے ہیں کہ مریض پچھلے دورے سےابھی بہتر ہی نہیں ہوپاتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔مرگی کی ایک اہم قسم "Temporal lobe epilepsy"ہے۔

اس کی علامات انتہائی پیچیدہ ہوتی ہیں۔ اس کے شکار مریضوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونے کے ساتھ جذبات و خیالات میں تبدیلی کے علاوہ حرکت کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ مریضوں کا طرزِعمل بہت تبدیل ہوجاتا ہے اور ان سے غیرمتوقع افعال سرزد ہونے لگتے ہیں۔ بعض مریض غصّے کی حالت میں جنونی کیفیت میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان دوروں کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی طوالت کے بارے میں وثوق سے کچھ کہا جاسکتا ہے۔

بعض اوقات یہ دورے مہینوں اور کبھی برسوں پر محیط ہوتے ہیں۔ مِرگی کی حتمی تشخیص کا کوئی لیبارٹری ٹیسٹ نہیں ہے۔ عام طور پرتشخیص مریض کے دورے کی کیفیت دیکھ کر یا پھر اہلِ خانہ سے سُن کر کی جاتی ہے۔ عمومی طور پر مریض کی فیملی ہسٹری، بچپن سے لے کر دورہ پڑنے تک کی عُمر تک کی مکمل معلومات وغیرہ درکار ہوتی ہیں۔ تاہم، مرض کی تشخیص میں سی ٹی اسکین، ای ای جی(Electro encephalogram)اور ایم آر آئی معاون ثابت ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ مرگی میں مبتلا مریضوں کی اکثریت کا علاج گھر پر ممکن ہے، البتہStatus Epilepticusسے متاثرہ مریضوں کو کچھ عرصے کے لیے اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔چوں کہ ادویہ کے استعمال کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے،تویہ صرف نیورولوجسٹ کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کی جائیں کہ ایک معالج ہی یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ دوا کب، کیوں اور کتنے عرصے تک استعمال کرنی ہے۔ اگر بچّوں کو بخار کے دوران دو یا دو سے زائد بارجھٹکے لگیں، تو ان کا علاج مستقل بنیادوں پر ادویہ کے ذریعےممکن ہے،لہٰذا والدین کم عُمری کے بخار پرخاص توّجہ دیں کہ بعض اوقات معمولی سے کوتاہی بھی اس عارضے کے لاحق ہونے کی وجہ بن سکتی ہے۔

مِرگی سے متاثرہ بعض مریض بچپن ہی سے کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کا شکار ہو تے ہیں یا کسی جسمانی یا ذہنی مرض کے سبب مِرگی کے دورے پڑنا شروع ہوتے ہیں۔ ان عوارض میں ذہنی پس ماندگی، ارتکازِتوجہ میں کمی، یاسیت،اسکول جانے سےانکار (School Refusal) سائیکوسس اور آٹزم وغیرہ اہم ہیں، جنہیں عموماً نظر انداز کردیا جاتا ہے۔یاد رکھیے، اگر مناسب علاج کروالیا جائے تو ان طبّی مسائل پر بھی بہت حد تک قابوپانا سہل ہوسکتا ہے۔ ذہنی پس ماندگی میں بچّے کی ذہنی نشوونما بتدریج یا پھر کسی ابتدائی مرحلے ہی میں رُک جاتی ہے، جس کا سبب دورانِ حمل ماں کا مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونا یا دوسری وجہ نوزائیدہ بچّوں میں شدید بخار یا زخم کا ہونا ہوسکتی ہے۔

ذہنی پس ماندگی کے شکار بچّوں کی جوں جوں عُمر بڑھتی ہے، روزمرّہ معمولات انجام دینے کا عمل سُست ہوتاجاتاہے۔ ایسے بچّے بسا اوقات جسمانی کم زوری کا بھی شکار ہوسکتے ہیں۔ ارتکازِ توّجہ میں کمی کے شکار بچّے بظاہر بالکل تن درست دکھائی دیتے ہیں، لیکن حد سے زیادہ شرارتی ہوتے ہیں اور کسی ایک جگہ ٹِک کربیٹھ نہیں پاتے ۔یہی وجہ ہے کہ اپنی بےچین طبیعت کے سبب ان کا کوئی بھی کام درست طریقے سےانجام پاتا ہے اور نہ ہی وہ توجہ سے پڑھ پاتے ہیں۔ ان بچّوں میں چڑچڑےپن، اُداسی، بے سبب رونے، دیر تک سوتے رہنے یا جلد جاگ جانے، تعلیم پر توجہ نہ دینے، خوراک میں کمی اور یاسیت کی علامات عام پائی جاتی ہیں۔ بچّے کا اسکول جانے سے انکار ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کا سبب اساتذہ یا کلاس فیلوز کے روّیے ہوسکتے ہیں، جن کے حل کے لیے اسکول کے ماحول، اساتذہ اور ہم جماعتوں کے روّیوں کا جائزہ لینا اور اس ضمن میں مناسب مشاوت ضروری ہے ۔بعض اوقات اسکول تبدیل کرکے بھی یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔

یہاں ان سب عوامل کا تذکرہ یوں ضروری ہے کہ اگر خدانخواستہ بچّے کو مِرگی کے ساتھ درج بالا شکایات بھی ہوں، خاص طور پر یاسیت کا عارضہ لاحق ہو، تو پھر علاج خاصا مشکل ہوجاتاہے۔اس صورت میں ذہنی امراض کے ماہرمعالج سے تفصیلی معائنہ اور نفسیاتی تجزیہ کروانا ناگزیر ہوجاتا ہے، تاکہ درست تشخیص اور مناسب علاج ہوسکے۔مِرگی سے متاثرہ بچّوں کے والدین پر یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر خاص نظر رکھیں۔ اگر معمول سے ہٹ کرکوئی بات نظر آئے، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ تصوّر ات بھی عام ہیں کہ مِرگی کا عارضہ اعصابی تھکن، محبّت میں ناکامی، شادی میں تاخیر، جسمانی کم زوری، احساسِ کم تری یا برتری، کاروبار میں نقصان کے سبب بھی اپنا شکار بنالیتا ہے۔بعض افراد سمجھتے ہیں کہ اگر مریض کو جوتا سُنگھا دیا جائے، تو دورہ ختم ہوجاتا ہے ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرگی چھوت کا مرض ہے۔ نیز، پانی دیکھنے یا آگ کے قریب جانے سے بھی دورہ پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مریض معمول کی زندگی بسر نہیں کرسکتے، پڑھنے لکھنے اور ملازمت کے قابل نہیں رہتے، تو ان سب باتوں میں رتّی بھر صداقت نہیں۔

یہ تمام تصوّرات لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔یاد رکھیے،مِرگی سے متاثرہ زیادہ تر مریضوں کی ذہنی استعداد نارمل ہوتی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نمایاں امور انجام دے سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسے بےشمار معروف افراد موجود ہیں، جنہوں نے مِرگی کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باوجود ایک نارمل فرد کے طور پر زندگی گزاری۔ مولانا عبدالستّار ایدھی بھی اس مرض سے متاثر تھے،اس کے باوجود انہوں نے دُنیا بَھر میں خدمت خلق کے حوالے سے کام کیا۔ پھر امریکی صدر روز ویلٹ سمیت دیگر کئی معروف افراد بھی اس مرض میں مبتلا رہے۔

یہ افراد تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں، کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں میں حصّہ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح ملازمت بھی کرسکتے ہیں اور شادی بھی۔ مِرگی سے متعلق جہاں عوام النّاس میں معلومات عام کرنے کی اشد ضرورت ہے،وہیں ہر شہری پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی ایسے متاثرہ کو جانتے ہیں، جو علاج سے محروم ہے، تو نہ صرف مریض ،بلکہ اُس کے اہلِ خانہ کی بھی رہنمائی کریں۔ یاد رہے، پاکستان میں چند فلاحی اداروں اور تمام سرکاری اسپتالوں میں مِرگی کے مفت علاج کی سہولت دستیاب ہے۔
دورہ پڑنے کی صُورت میں اہلِ خانہ بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں، تو بہتر ہے۔ اوّل تو خود کو پُرسکون رکھیں اور مریض کو مناسب جگہ پر لٹا دیں۔ اردگرد کی اشیاء ہٹا دیں، تاکہ مریض اور ان اشیاء کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ جھٹکوں کے دوران مریض کے ہاتھ، پائوں دبائو سے روکنے کی کوشش نہ کریں، ورنہ ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔نیز، کوئی شے کھلانے یا پلانےسے بھی اجتناب برتا جائے۔ اگر سڑک پر چلتے چلتے دورہ پڑجائے، تو مریض کو فوراً وہاں سے ہٹا دیں۔

دورہ پڑنے کی صُورت میں اہلِ خانہ بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں، تو بہتر ہے۔ اوّل تو خود کو پُرسکون رکھیں اور مریض کو مناسب جگہ پر لٹا دیں۔ اردگرد کی اشیاء ہٹا دیں، تاکہ مریض اور ان اشیاء کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ جھٹکوں کے دوران مریض کے ہاتھ، پائوں دبائو سے روکنے کی کوشش نہ کریں، ورنہ ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔نیز، کوئی شے کھلانے یا پلانےسے بھی اجتناب برتا جائے۔ اگر سڑک پر چلتے چلتے دورہ پڑجائے، تو مریض کو فوراً وہاں سے ہٹا دیں۔

عینک وغیرہ اُتار دیںاور اگر گلے میں ٹائی، مفلر ہو تو اُسے ڈھیلا کردیں۔ دورے کے بعد مریض کو کروٹ کے بل لٹا دیں اور اگر منہ میں رطوبت وغیرہ ہو، تو صاف کردیں۔ دورہ ختم ہونے کے بعدبعض مریض ذہنی طور پر ماؤف ہوجاتے ہیں،مگریہ کیفیت بھی وقتی ہوتی ہے،لہٰذا مریض کو کچھ یاد دلانے کی کوشش نہ کی جائے۔اگروہ سونا چاہے، تو آرام کرنے دیں اورجب تک خود بیدار نہ ہو، زبردستی نیند سے نہ اُٹھائیں۔ علاوہ ازیں، مریض معالج کی ہدایات پر سختی سے عمل کریںاورمتوازن غذا استعمال کرنے کے ساتھ َھرپور نیند لیں۔ایک صحت مند فرد کی طرح زندگی گزاریں اور خود کو مصروف رکھیں، تاکہ دھیان بار بار مرض کی طرف نہ جائےاور ذہنی دباؤ سے بھی دُور رہا جاسکے۔ البتہ مشینری کے استعمال سے گریزکریں اورجب تک معالج اجازت نہ دے ڈرائیونگ بھی نہ کی جائے۔

علاج کے ساتھ معالج سے مشورہ کرکےیوگا اور ورزش بھی کی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں، متاثرہ مریضوں کا مذاق ہرگز نہ اڑائیں۔ ان کے ساتھ محبّت، نرمی اور شفقت سے پیش آئیں کہ یہ بھی ہمارے معاشرے کا حصّہ ہیں اور دیگر مریضوں کی طرح ہماری خصوصی توّجہ کے طالب بھی۔ ان کا علاج اور تحفّظ ہم سب کا دینی، اخلاقی اور معاشرتی فریضہ ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہماری تھوڑی سی توّجہ اور ہمّت افزائی سے متاثرہ افراد نہ صرف اپنے خاندان، بلکہ معاشرے کے لیے بھی مفیدثابت ہوں.

06/03/2022
صحت_ﺍﻟﺮﭦ !..ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻣﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺁﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﺟ...
30/01/2022

صحت_ﺍﻟﺮﭦ !..
ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻻﺯﻣﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﯾﻤﺮﺟﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺁﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺴﺎ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺑﮕﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﮈﺍﮐﭩﺮ Available ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﺒﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺮ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Panadol, Panadol Extra, Releif
ﻧﺰﻟﮧ، ﺯﮐﺎﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Arinac Fort
ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ، ﻣﻮﺷﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Flygel, Imodium, ORS
ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Caflam 50, Spasrid
ﮨﺎﺋﯽ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Cepoten
ﺳﯿﻨﮯ ﯾﺎ ﮔﻠﮯ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Augmentin
ﺍﻟﭩﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Gravinate tablet
ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Gaviscon syp
Mucan syp
ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺳﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Risek 20, Zantac
ﺯﺧﻢ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ
PolyFax, payodin, ﺯﺧﻢ ﭘﭩﯽ
ﺩﺍﻧﺖ ﯾﺎ ﺩﺍﮌﮪ ﺩﺭﺩ ﮐﮯﻟﯿﮯ
CalmoX 625 mg
Caflam 50
ﭘِﮭﻨﺴﯽ ﭘﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯﻟﯿﮯ
Double sptran
ﺑﭽﻮﮞ / ﺑﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ
Brofin syp
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﮯﻟﯿﮯ
Panadol Drop
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺩﺭﺩ ﯾﺎ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
Colic Drops
ﻧﻮ ﻧﮩﺎﻝ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻥ ﭘﯿﻤﭙﺮﺯ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﺧﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ
Hydrozole Cream
ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯﻟﺌﮯ
Pulomonol, Hydriline, Siroline, Cough Rest
ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ
ﺷﮑﺮﯾﮧ
ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ

Address

Karachi Garden
Karachi
6667

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

03101126126

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when EMT Medical professional. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category