Dr. Seema Saeed

Call Contact the practice

Dr. Seema Saeed Homeopath. Hijama Master. Acupuncturist. Al-Karim Health Care wishes to provide a healthy future by correct classical homeopathic treatment.

Al-Karim Health Care - Physician Online

Our team comprises of Doctors who are keen to help the sick, and their only mission is to bring about permanent relief and restore the sick to health without further complicating the case.We assure to alleviate your sufferings in the best possible manner provided your given correct and honest history. As the Technology and Life Style has changed today, Quality Care can be offered in the comfort of your Home. Clinic Overview
Site Provides, Herbal & Homoepathic Treatment | Hair Care | Skin Care | Body Care | Men and Women About Health | Homoeopathic Philosophy|and Herbs
Psychological or mental disorder Depression,Epilepsy Hydrophobia, Hysteria ,Self-Abuse,
Headache, migraine Meningitis,

Influenza, nasal polyps nose block
Lungs disorders ..Asthma, Bronchitis, Whooping Cough, , , , Cough,

stomach disorder.. mouth ulcers .Acidity , Colic, Constipation, Dyspepsia, , Fever, Gastric Ulcer, Diarrhea, Dysentery
Joints pain Gout, Arthritis sciatica cramps
Anemia, Angina
Lever disorders .. Jaundice Diabetes
Female problems Leucorrhea, menstrual cycle disorder, sterility Impotence,
UTI and kidneys stone .
,
Sleep disorder & Dream, Nightmare insomnia
Skin problems : Ulseration, ,Irritation, Itching Wounds, ,carbuncle, Chicken Pox ,burns Eczema , heel Cracks,Dandruff, Nettle-Rash, Haemorrhoids, hernia,,Mumps
Warts, Worms ... specialy Homoepathic Treatment for Hair fall balness, hair growth

*ہاٹ فلیش Hot Flash 5**50 سال کے بعد خواتین میں اچانک حرارت، پسینہ اور گلے کی خشکی کا احساس۔!**خواتین میں پچاس برس کے بع...
01/10/2026

*ہاٹ فلیش Hot Flash 5*
*50 سال کے بعد خواتین میں اچانک حرارت، پسینہ اور گلے کی خشکی کا احساس۔!*

*خواتین میں پچاس برس کے بعد ایک فطری تبدیلی آتی ہے جسے (سِن یاس) کہتے ہیں، انگریزی میں اسے Menopause (مینوپاز) کہا جاتا ہے۔* اس دور میں اکثر خواتین کو ہاٹ فلیش (Hot Flash) یعنی اچانک گرمی اور تپش کی کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کی عام علامات میں اچانک پسینہ آ جانا، چہرے اور گلے کا سرخ ہونا، دھڑکن تیز ہونا، گھبراہٹ محسوس ہونا، گلے اور منہ کی خشکی، نیند کا ٹوٹ جانا، جسم میں کپکپی یا گرمی کے جھونکے، سر میں بوجھ یا ہلکا درد، توجہ میں کمی اچانک بے چینی شامل ہیں۔ یہ کیفیت بعض خواتین کے لیے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔

*قدیم چین میں*
*اس کے علاج کے لیے ایک مؤثر طریقہ علاج ایکو پریشر (Acupressure) ہے، جو ہزاروں برس پرانا اور آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔* ہاٹ فلیشز کے لیے ایک خاص پوائنٹ UB 60 (یو بی 60) ہے، جو پاؤں کے ٹخنے کے بالکل پیچھے ہوتا ہے۔ اسے ڈھونڈنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹخنے کی نوک پر انگوٹھا اور انگلیاں رکھیں اور آدھا انچ نیچے آئیں، وہاں دباؤ ڈالنے پر نرمی اور گڑھا سا محسوس ہوگا، یہی یو بی UB 60 پوائنٹ ہے۔ دونوں پیروں میں اس پوائنٹ پر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور پہلی انگلی سے چٹکی بھر کر درمیانہ دباؤ ڈالنا ہے ، یعنی دبائیں اور چھوڑیں، پھر دوبارہ دبائیں اور چھوڑیں۔ یہ عمل تین تین منٹ تک کریں، اور گہری سانسیں لینا نہ بھولیں۔ یہ طریقہ *ان شا ء اللہ* فوری سکون بھی دے گا ۔

*یو بی 60 UB صرف ہاٹ فلیشز کے لیے نہیں بلکہ کئی دیگر تکالیف میں بھی فائدہ مند ہے۔* یہ پوائنٹ کمر درد، ٹانگوں کی کھنچاؤ، ایڑی کا درد، گردن کی اکڑن، سر درد اور مائیگرین، بے خوابی، گھٹنوں کا درد، دماغی دباؤ، چڑچڑاپن اور دورانِ خون کی کمی کو بھی بہتر کرتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اسے دن میں پانچ بار، خصوصاً نماز کے بعد باقاعدگی سے کیا جائے، لیکن اگر اچانک رات کو ہاٹ فلیش ہو تو فوراً کریں ۔ اس دوران گہرے سانس لینا لازمی ہے تاکہ جسم اور دماغ دونوں کو یکساں سکون اور توانائی ملے۔

*اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔*

جاوید اختر آرائیں
7 ستمبر 2025

کیا آپ کا دماغ ہر وقت الجھا رہتا ہے؟ جانیے ذہنی صحت کا 1000 سال پرانا راز جس نے آج کی جدید سائنس کو بھی حیران کر دیا ہے!...
29/09/2026

کیا آپ کا دماغ ہر وقت الجھا رہتا ہے؟ جانیے ذہنی صحت کا 1000 سال پرانا راز جس نے آج کی جدید سائنس کو بھی حیران کر دیا ہے!

ہمیں لگتا ہے کہ ذہنی دباؤ (Stress)، انزائٹی اور ڈپریشن آج کے جدید دور کی بیماریاں ہیں اور پرانے وقتوں کے لوگ ان مسائل کو صرف "آسیب" یا جادو ٹونا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے۔ لیکن تاریخ کے اوراق پلٹیں تو قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کے طبیبوں اور مفکرین نے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ایسا حیرت انگیز اور سائنسی لائف اسٹائل ماڈل پیش کیا تھا، جسے آج کی ماڈرن میڈیکل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔
اس دور کے ماہرین کا ماننا تھا کہ انسان کا دماغ اور جسم ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر جسمانی روٹین خراب ہوگی، تو دماغ کبھی پرسکون نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ذہنی سکون کے لیے جو اصول وضع کیے، آئیے ان 5 بنیادی اور انتہائی طاقتور طریقوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں:
🌬️ 1. ہوا اور ماحول کا دماغ پر اثر (Air and Environment): آج ہم اپنے دن کا 90 فیصد حصہ بند کمروں، مصنوعی روشنیوں اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں گزارتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا دل گھبراتا ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے کے طبیبوں کا نظریہ تھا کہ آپ جس ہوا میں سانس لیتے ہیں، وہ سیدھا آپ کے دماغی خلیوں (Brain Cells) اور سوچنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک کھلی، تازہ اور خوشبودار ہوا دماغی الجھنوں کو دور کرنے کی پہلی دوا تھی۔
اگر کوئی شخص ڈپریشن یا "مالیخولیا" (Melancholy) کا شکار ہوتا، تو اسے سختی سے ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ تاریک اور تنگ کمروں سے نکلے۔ مریضوں کو سمندر کے کنارے، پہاڑوں یا سرسبز وادیوں میں وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ روشن جگہیں اور تازہ آکسیجن دماغ کے اندر موجود زہریلے خیالات کو اُسی طرح صاف کر دیتی ہے جیسے تیز ہوا کسی کمرے کا دھواں نکال دیتی ہے۔ آج کی جدید 'Nature Therapy' بھی بالکل اسی اصول پر کام کرتی ہے!
🥗 2. غذا اور ہاضمہ – آپ کا دوسرا دماغ (Diet and Nutrition): جدید سائنس آج چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہمارا معدہ ہمارا "دوسرا دماغ" (Second Brain) ہے اور ہماری خوراک ہمارے موڈ کو کنٹرول کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس "Gut-Brain Connection" کو صدیوں پہلے سمجھ چکے تھے!
اس دور کے میڈیکل ماڈل کے مطابق، جسم میں چار طرح کے مائعات (Humors) ہوتے ہیں۔ جب انسان بہت زیادہ خشک، بھاری، تلی ہوئی یا باسی غذائیں (جیسے جلا ہوا گوشت، پرانی روٹی یا حد سے زیادہ مصالحے) کھاتا ہے، تو جسم میں 'Black Bile' (کالا صفرا یا خلطِ سودا) پیدا ہوتا ہے۔ یہ کالا صفرا خون کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور انسان کو شدید مایوسی، اداسی، خوف اور منفی سوچوں کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ ذہنی سکون کے لیے انہوں نے انتہائی شاندار ڈائٹ پلانز بنائے، جن میں ہلکی، تازہ، اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذائیں شامل تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ جو کھانا معدے پر بوجھ نہیں ڈالتا، وہ دماغ کو بھی ہلکا اور خوشگوار رکھتا ہے۔
🛌 3. نیند اور بیداری کا توازن (Sleep and Wakefulness): آج ہم راتوں کو دیر تک جاگ کر اسکرینز دیکھتے ہیں اور پھر نیند کی گولیاں کھاتے ہیں۔ پرانے وقتوں کے ماہرین کے نزدیک نیند صرف جسمانی آرام نہیں، بلکہ دماغ کی 'سروسنگ' (Servicing) کا وقت تھا۔ ان کا نظریہ تھا کہ دن بھر کے خیالات اور سوچ و بچار سے دماغ گرم اور خشک ہو جاتا ہے۔ بھرپور نیند اس گرم دماغ کو ٹھنڈا کرتی ہے اور اس میں ضروری نمی (Moisture) واپس لاتی ہے تاکہ اگلے دن وہ پھر سے درست کام کر سکے۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ راتوں کو جاگنا (Insomnia) اور سوچوں میں گم رہنا دماغی تاروں کو خشک کر دیتا ہے، جس سے انسان آہستہ آہستہ پاگل پن یا شدید انزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ سونا بھی نقصان دہ مانا جاتا تھا کیونکہ یہ انسان کو سست اور کاہل بنا کر ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ آج کی سائنس بھی 7 سے 8 گھنٹے کی متوازن نیند کو مینٹل ہیلتھ کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے۔
🏃‍♂️ 4. ورزش اور جسمانی حرکت (Exercise and Rest): "فارغ دماغ شیطان کا کارخانہ ہے۔" قرونِ وسطیٰ کے طبیب اس محاورے کی سائنسی حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب انسان سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھا رہتا ہے اور کوئی جسمانی مشقت نہیں کرتا، تو اس کے جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں جو سیدھا دماغ کی طرف سفر کرتے ہیں اور ڈپریشن پیدا کرتے ہیں۔
ذہنی بے چینی کے مریضوں کو باقاعدہ ورزش، تیز چہل قدمی، گھڑ سواری یا کسی بھی ایسے کام میں خود کو تھکانے کا مشورہ دیا جاتا تھا جس سے پسینہ آئے۔ پسینہ آنے سے جسم کی اندرونی غلاظت باہر نکلتی ہے، دورانِ خون تیز ہوتا ہے اور دماغ میں جمع ہونے والے منفی خیالات ٹوٹ جاتے ہیں۔ ورزش کو جسم اور دماغ کے درمیان ایک بہترین پل سمجھا جاتا تھا۔
💧 5. جسمانی ڈیٹوکس اور صفائی (Evacuation and Repletion): جسم میں موجود فضلات (Toxins) کو باہر نکالنا ذہنی علاج کا ایک انتہائی اہم حصہ تھا۔ اگر انسان کا نظامِ انہضام درست نہیں (جیسے قبض کا ہونا) تو پرانے طبیب اسے براہِ راست ذہنی دباؤ اور چڑچڑے پن سے جوڑتے تھے۔
اس کے علاوہ، اس دور میں "غسل" (Bathing) کو ایک باقاعدہ تھراپی کا درجہ حاصل تھا۔ گرم پانی کے حمام میں وقت گزارنا، خوشبودار تیل سے مساج کرنا اور جسم کو صاف ستھرا رکھنا ذہنی سکون کا سب سے طاقتور ذریعہ مانا جاتا تھا۔ گرم پانی پٹھوں کی جکڑن کو کھولتا تھا اور اعصاب کو اس حد تک پرسکون کر دیتا تھا کہ مریض کو فوراً ایک گہری اور سکون بخش نیند آ جاتی تھی۔ رونا (Crying) بھی ایک طرح کا ڈیٹوکس مانا جاتا تھا، تاکہ دل کا غبار آنسوؤں کے ذریعے باہر نکل سکے اور دماغ پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو جائے۔
👇 اب آپ کمنٹس میں بتائیں! آپ آج اپنے ذہنی صحت کے لیے ان قدیم طریقوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟

اکثر آن لائن کنسلٹیشن میں بہت تواتر سے پوچھا گیا سوال یہ ہوتا ہے کہ بغلوں، پرائیوٹ پارٹس اور ٹانگوں کے فولڈ میں عرصے سے ...
24/08/2026

اکثر آن لائن کنسلٹیشن میں بہت تواتر سے پوچھا گیا سوال یہ ہوتا ہے کہ بغلوں، پرائیوٹ پارٹس اور ٹانگوں کے فولڈ میں عرصے سے خارش ہے اور اس کی وجہ سے سیاہ، سرخ سے دھبے بن گئے ہیں جو بتدریج پھیل رہے ہیں۔اور مکمل تفصیلات پہ وہ فنگل انفیکشن نکلتا ہے۔ خواتین میں فنگل انفیکشن ایک بہت عام مسئلہ ہے، لیکن اکثر خواتین شرم یا جھجھک کی وجہ سے اس کے بارے میں بات نہیں کرتیں۔ خاص طور پر پرائیویٹ پارٹ، رانوں کے جوڑ، بغلوں اور چھاتی کے نیچے ہونے والی خارش یا جلن کو ہر بار صرف گرمی یا پسینہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھیں: فنگس صرف صفائی کی کمی نہیں

کینڈئڈا(candida)ایک ایسا خمیر (yeast) ہے جو عام طور پر جسم پر موجود رہ سکتا ہے، لیکن جب نمی، گرمی، پسینہ، رگڑ، ہارمونل تبدیلی، بعض دوائیں یا خون میں شوگر کا مسئلہ ہو تو یہ ضرورت سے زیادہ بڑھ کر انفیکشن پیدا کرسکتا ہے۔ اسی لیے ایک صاف ستھری، باقاعدگی سے نہانے والی خاتون کو بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ یہ شرمندگی کی بات نہیں، ایک طبی مسئلہ ہے۔

پرائیویٹ پارٹ میں فنگل انفیکشن :خواتین میں اسے عموماً Vaginal Candidiasis (Thrush ) کہا جاتا ہے۔
اس کی عام علامات دیکھیں:شدید خارش، خصوصاً بیرونی حصے میں ،جلن یا سوزش ،اندام نہانی کے اردگرد سرخی اور حساسیت ،پیشاب کرتے وقت بیرونی حصے میں جلن
بعض خواتین میں گاڑھا، سفید، عموماً بے بو اخراج ،ازدواجی تعلق کے دوران جلن یا تکلیف
لیکن ایک اہم بات: ہر خارش یا ہر سفید ڈسچارج فنگس نہیں ہوتا۔
بیکٹیریل انفیکشن، بعض جنسی انفیکشنز، جلد کی الرجی، ایگزیما ، سورائسس اور دوسری وجوہات بھی ایسی علامات دے سکتی ہیں۔ بار بار خود سے اینٹی فنگل استعمال کرنے کے بجائے تشخیص ضروری ہے۔
کب ڈاکٹر (سکن سپیشلسٹ )سے ضرور ملیں؟
اگرپہلی مرتبہ ایسی علامات ہوئی ہیں ،بار بار انفیکشن واپس آتا ہے ،بدبو بہت زیادہ ہے، سبز/پیلا یا غیر معمولی مادہ کا ڈسچارج
خون آ رہا ہے،پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا بخار ہے
علاج کے باوجود مسئلہ ٹھیک نہیں ہورہا۔ حمل ہو
یا بار بار فنگل انفیکشن ہورہا ہو
تو معائنہ اور ضرورت پڑنے پر باقاعدہ ٹیسٹ مناسب ہے۔ بار بار ہونے والی انفیکشن میں بعض اوقات اس کی مختلف اقسام بھی شامل ہوتی ہیں جن پر عام علاج اتنا مؤثر نہیں ہوتا۔

2. بغلوں میں فنگس کیوں ہوجاتی ہے۔بغل ایک گرم ,مرطوب اور نمی والی جگہ ہے۔پسینہ، شیونگ یا ڈیوڈرنٹ سے ، تنگ کپڑے اور جلد کی رگڑ مل کر ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جہاں فنگس بڑھ جائے۔
ایسے میں میں عموماً:سرخی + خارش + جلن + نمی + چھلنا
دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
کبھی سرخ حصے کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے دانے یا پانی سے بھرے دانے بھی نظر آتے ہیں، جو اس کی طرف اشارہ کرسکتے ہیں۔

لیکن بغل کا ہر ریش فنگس نہیں ہوتا۔ اکثر جسم کے جلدی امراض اورالرجی بھی بالکل ملتی جلتی نظر آسکتی ہیں۔
3. رانوں کے جوڑ اور چھاتی کے نیچے بھی یہی مسئلہ ہوسکتا ہے۔خاص طور پر:زیادہ پسینہ آنے والی خواتین ،گرم موسم میں
جسم کے فولڈز ہونے کی صورت میں
تنگ اور سنتھیٹک کپڑوں میں ،شوگر کے مسئلے میں فنگل انفیکشن خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے اگر ایک ہی خاتون کو بار بار بغل، زیر ناف اور زیرِ چھاتی ریش ہو رہا ہے تو صرف ہر دفعہ کریم لگانے کے بجائے ساری وجوہات بھی دیکھنے چاہئیں۔
بچاؤ کا اصل اصول: Dry, Clean & Gentle
نہانے کے بعد:جلد کو صرف دھونا کافی نہیں؛ اچھی طرح خشک کرنا بھی ضروری ہے۔
خاص طور پر:بغلیں،رانوں کے جوڑ ،زیرِ سینہ ،پیٹ کے فولڈز
ورزش یا بہت پسینہ آنے کے بعد کپڑے تبدیل کریں اور جلد کو خشک کریں۔
کپڑے : بہت زیادہ چست اور ہوا کا گزر نہ ہونے والے کپڑوں سے پرہیز کریں۔پسینہ آنے کے بعد دیر تک گیلے انڈر گارمنٹس یا جم ڈریس میں نہ رہیں۔
پرائیویٹ پارٹ کی صفائی

اندرونی پارٹس کو صابن، پرفیوم ، اینٹی سیپٹک یا مخصوص ویجائنل واش سے بار بار دھونا ضروری نہیں۔زیادہ صفائی بھی کبھی مسئلہ بن جاتی ہے۔باہر کا حصہ اچھے طریقے سے صاف رکھیں اور خوشبودار پروڈکس سے پرہیز کریں۔
شیونگ بار بارسے micro-irritation اور بالوں کا انفیکشن ہوسکتا ہے، جسے بعض اوقات خواتین فنگل ہی سمجھ لیتی ہیں۔
ایک بہت اہم بات: بلڈ شوگر
اگر کسی خاتون کو بار بار فنگل انفیکشن ہوتے ہیں تو blood glucose/HbA1c کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ذیابیطس اس میں ایک اہم رسک فیکٹر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب جسم کو مکمل لحاظ سے سمجھا جائے تو آپ فٹ رہ کر بہت سے امراض سے بچ سکتے ہیں۔
چند عام غلطیاں
ہر خارش کو فنگس سمجھ لینا
خود سے بار بار اینٹی فنگل استعمال کرنا
سٹیرائڈ والی ادویات خود سے لگانا
یہ خاص طور پر نازک جلد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اصل مسئلہ چھپا سکتے ہیں۔ بار بار ڈیٹول یا اینٹی بیکٹریل صابن کا استعمال درست نہیں۔ انفیکشن کے دوران بھی مسلسل پسینے والے کپڑوں میں رہنا۔ صرف کریم لگانے پر توجہ دینا اور باقی کی اہم وجوہات جیسے پسینہ، کپڑے ، ذیابیطس کو نظرانداز کر دینا۔ خواتین کے لیے ایک بہت اہم پیغام ہے کہ پرائیویٹ حصے میں خارش ہونا “گندگی” کی علامت نہیں۔
بغل میں فنگل ریش ہونا صفائی کی کمی نہیں۔خاتون کا جسم ہارمونز، عمر، پسینے، جلد کی حساسیت، وزن، بلڈ شوگر اینٹی بائیوٹکس اور روزمرہ زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

اس لیے شرمندگی نہیں، صحیح تشخیص ضروری ہے۔اور اگر یہ بار بار ہو رہا ہے تو صرف ہر دفعہ ایک کریم لگانا حل نہیں؛ وجہ تلاش کرنا اصل holistic approach ہے۔
امید ہے یہ تحریر آپ کو رہنمائی دے گی۔ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔
ڈاکٹر فرحین راو (انگلینڈ )
ویمن ہیلتھ ایڈووکیٹ

"ڈاکٹر صاحب، میں اپنی خوراک بھی بالکل ٹھیک رکھتی ہوں اور روزانہ واک بھی کرتی ہوں، لیکن اس بڑھتے ہوئے وزن اور چہرے کے ضدی...
15/08/2026

"ڈاکٹر صاحب، میں اپنی خوراک بھی بالکل ٹھیک رکھتی ہوں اور روزانہ واک بھی کرتی ہوں، لیکن اس بڑھتے ہوئے وزن اور چہرے کے ضدی بالوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا"—یہ وہ دکھی اور الجھا ہوا جملہ ہے جو میں اپنے کلینک میں اکثر خواتین کے منہ سے سنتا ہوں۔

یہ کسی عام لاپرواہی، غذائی بے اعتدالی یا صرف ایک جلدی مسئلے کا نام نہیں ہے۔ پولی سسٹک اووری سنڈروم محض انڈے دانی میں بننے والی چھوٹی تھیلیوں کی بیماری نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ہارمونل اور میٹابولک الجھن ہے جس نے خاموشی سے لاکھوں خواتین کے توازن کو متاثر کر رکھا ہے۔

ہماری سوسائٹی میں بالخصوص نوجوان خواتین پر خوبصورتی، متوازن جسم اور زرخیزی کے حوالے سے ایک شدید سماجی اور نفسیاتی دباؤ ہوتا ہے۔ انسان آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے جسم میں آنے والی ان تبدیلیوں کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے، اور بازار میں ملنے والی کریموں، صابنوں یا وقتی ٹوٹکوں کے پیچھے اپنی توانائیاں ضائع کرتا رہتا ہے، جبکہ خرابی کی اصل جڑ جسم کے اندرونی مواصلاتی نظام میں ہوتی ہے۔

یہ کیفیت ایک خاتون کی روزمرہ زندگی اور اس کی شخصیت کو کس طرح خاموشی سے متاثر کرتی ہے، اسے ان نمایاں علامات سے بآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے:

* ماہواری یعنی ایام کا غیر باقاعدہ ہو جانا، مہینوں تک نہ آنا، یا جب آنا تو شدید درد اور ناہموار بہاؤ کے ساتھ ہونا۔

* چہرے، ٹھوڑی، سینے اور پیٹ پر سخت، سیاہ بالوں کا غیر معمولی طور پر ابھرنا اور چہرے پر ضدی ایکنی یا دانوں کا نکلنا جو کسی کریم سے ٹھیک نہ ہوں۔

* بغیر کسی خوراک کے اضافے کے پیٹ کے نچلے حصے پر وزن کا مسلسل بڑھنا، اور سر کے بالوں کا چوٹی کی لکیر سے پتلا ہو کر تیزی سے جھڑنا

* موڈ کا اچانک بدل جانا، شدید چڑچڑاہٹ، اور ہر وقت جسم میں ایک ایسی تھکن محسوس ہونا جو کسی بھی آرام سے دور نہ ہو۔

جب ہم اس کیفیت کو فزیالوجی اور کیمیائی توازن کے زاویے سے دیکھتے ہیں، تو اس کی بنیادی جڑ انسولین ریزسٹنس میں چھپی ہوتی ہے۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں، تو لبلبہ انسولین ہارمون خارج کرتا ہے تاکہ خون میں موجود شوگر خلیات میں داخل ہو کر توانائی بن سکے۔ لیکن اس کیفیت میں جسم کے خلیات انسولین کے سگنل کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں، لبلبہ کو مزید انسولین بنانی پڑتی ہے، جس سے خون میں انسولین کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ خون میں موجود یہ اضافی انسولین انڈے دانی یعنی اووری پر جا کر اثر انداز ہوتی ہے اور اسے مردانہ ہارمونز یعنی اینڈروجنز زیادہ مقدار میں بنانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

اینڈروجنز کی اس اضافی مقدار کی وجہ سے ہر مہینے انڈے دانی کے اندر فولیکل صحیح طور پر پک کر انڈا خارج نہیں کر پاتا، جسے اوولیشن کی ناکامی کہا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ ادھورے پکے ہوئے فولیکلز اووری میں چھوٹی تھیلیوں یعنی سسٹس کی شکل میں جمع ہونے لگتے ہیں، اور یہی اینڈروجنز چہرے پر بالوں، ایکنی اور وزن کے بڑھنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ آپ کے جسم کی کوئی خامی نہیں، بلکہ انسولین اور اینڈروجنز کا ایک ایسا کیمیائی طوفان ہے جو پورے نظام کو الجھا دیتا ہے۔

ہومیوپیتھی اس کیفیت میں صرف مصنوعی ہارمونز کا متبادل فراہم کرنے یا اعضاء کو دبا دینے کے بجائے، آپ کے جسم کے اپنے میٹابولک اور ہارمونل ردعمل کو اعتدال پر لانے میں ایک گہرا اور قدرتی معاون ثابت ہوتی ہے۔ مقصود انسولین کی حساسیت کو بحال کرنا اور انڈے دانی کے قدرتی افعال کو دوبارہ متوازن کرنا ہے۔

پلسٹیلا کا پیٹرن ان خواتین کے آئینی مزاج سے گہری مطابقت رکھتا ہے جن میں ایام تاخیر سے آتے ہوں اور مقدار میں انتہائی کم ہوں۔ مریضہ کا مزاج نرم ہو، کھلی ہوا میں سکون محسوس ہو، اور ہارمونل تبدیلیوں کے باعث موڈ میں شدید حساسیت اور زاری پائی جائے۔ یہ دوا ہارمونل توازن اور جذباتی ٹھہراؤ لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس کے برعکس، سیپیا ان خواتین کی کیفیت کے لیے بہت موزوں سمجھی جاتی ہے جن کے پیٹ کے نچلے حصے میں شدید بوجھ اور کھنچاؤ رہتا ہو، چہرے پر سیاہی یا چھائیاں نمایاں ہوں، اور جو طویل ہارمونل اور ذہنی دباؤ کے بعد جذباتی طور پر خود کو شدید تھکا ہوا اور اپنے پیاروں سے بھی کٹا ہوا محسوس کرتی ہوں۔

تھوجا ان افراد کے پیٹرن کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہے جن میں اینڈروجنز کا اثر شدید ہو، چہرے پر سخت اور غیر ضروری بال ابھر رہے ہوں، اور جسم میں سسٹس یا گلٹیوں کی ساخت بننے کا رجحان زیادہ ہو۔ اس کا موازنہ اکثر لائیکوپوڈیم کے آئینی مزاج سے کیا جاتا ہے، جہاں انسولین ریزسٹنس کے ساتھ پیٹ میں گیس، نچلے حصے کا پھولنا، اور میٹھی چیزوں کی شدید خواہش پائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، ہمارے ہومیوپیتھک نظام کے وسیع کلسٹر میں کلکیریا کارب، گرافائٹس، لیکیسس، نیٹرم میور، فولیکولینم، اور آرسینک البم جیسی ادویات بھی شامل ہیں۔ کلکیریا کارب اور گرافائٹس وزن کی سستی، سردی لگنے اور ایام کی شدید بے قاعدگی کو پرسکون کرتی ہیں، جبکہ فولیکولینم ہارمونز کے توازن کو بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ تمام ادویات مریضہ کی انفرادی ہسٹری، جذباتی ساخت اور مکمل آئینی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کی جاتی ہیں۔

اگر آپ بھی ہارمونز کے اس الجھے ہوئے دھاگے اور بدلتے جسمانی نقش و نگار کی وجہ سے اندرونی گھٹن کا شکار ہیں، اور مسلسل احتیاط کے باوجود اپنا توازن نہیں پا رہیں، تو اس خاموش اذیت سے نکلنے کا ایک باعزت اور سائنسی راستہ موجود ہے۔ آپ اپنی مکمل ہسٹری اور الٹراساؤنڈ یا بلڈ رپورٹس کے ساتھ میری آن لائن کنسلٹیشن کے لیے رابطہ کر سکتی ہیں۔ ہماری مشاورت آن لائن ہوتی ہے اور ادویات کوریئر کے ذریعے نہایت رازداری کے ساتھ آپ تک باآسانی پہنچائی جاتی ہیں۔

ہومیوپیتھک علاج انفرادی علامات اور مریض کی مجموعی کیفیت (Constitutional Approach) پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی دوا کا استعمال صرف ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
Copied dr.ashfaq

🌻 ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدو کھڑا دُعا مانگ رہا ہے اور انت...
13/08/2026

🌻 ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدو کھڑا دُعا مانگ رہا ہے اور انتہائی جوش و جذبے میں کہہ رہا ہے ۔
اے میرے پروردگار ___! اے پروردگار ! تو مجھے اپنے قلیل بندوں“ میں سے بنا دے۔
یہ نرالی دُعا سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا ۔ فرمایا اس بدو کو بلا کر لاؤ۔ جب وہ شخص آیا تو امیر المؤمنینؓ نے پوچھا، بھائی یہ تم کیا دُعا مانگ رہے تھے ؟ ایسی انوکھی دُعا تو میں نے آج تک نہیں سنی ۔ تمہاری اس دُعا کا مطلب کیا ہے؟
بدو کچھ دیر رُکا اور پھر بولا حضرت آپ کو معلوم ہے۔
🌻 یہ سن کر امیر المؤمنینؓ کو اور بھی حیرت ہوئی اور فرمایا کچھ بتاؤ تو سہی ۔ مجھے کیا معلوم ہے ؟
بدو بولا ۔ امیر المؤمنینؓ آپ خوب جانتے ہیں؟
امیر المؤمنینؓ کی حیرت اور اشتیاق بڑھتا رہا۔ بولے بھی میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا
بتاؤ تو سہی۔
بدو نے کہا ـــــــ امیر المؤمنین! کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا ہے، کیا قرآن میں آپ کی نظر سے یہ آیت نہیں گزری ہے؟ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ (اور شکر گزار بندے بہت قلیل ہیں)۔ میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ الہی تو مجھے اپنے ان شکر گزار بندوں میں سے بنا دے جو بہت ”تھوڑے“ ہیں۔
🌻یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت متاثر ہوئے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا، ہر شخص عمر سے زیادہ جاننے والا ہے اور بہت دیر تک سر جھکائے سوچ میں ڈوبے رہے۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
کتاب #روشن ستارے
مولانا محمد یوسف اصلاحی

10/07/2026

میں نے بہت سے لوگوں کو لفٹ کے دروازے بند ہوتے ہی یا کسی کھڑکی کے بغیر کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک انجانی اذیت سے گزرتے دیکھا ہے۔

یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے گرد موجود دیواریں سمٹ رہی ہیں اور سانس لینا محال ہو رہا ہے۔

انسان ان جگہوں سے کترانے لگتا ہے کیونکہ یہ ڈر ذہن پر حاوی رہتا ہے کہ نہ جانے کس پل دم گھٹنے لگے اور باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے۔

یہ مسلسل خوف اور فرار کے راستے تلاش کرنے کی تھکن انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

یہ محض کوئی وہم، کمزوری یا ڈرامہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا دماغ کسی محفوظ بند جگہ کو بھی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھ لیتا ہے۔
ایسے میں جسم کا الارم سسٹم بلاوجہ بجنے لگتا ہے، اور انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کمرے میں موجود آکسیجن ختم ہو رہی ہو۔

بہت سے لوگ اس خوف کو چھپانے کی تھکا دینے والی کوشش میں اپنی روزمرہ کی زندگی کو محدود کر لیتے ہیں، اور اپنے پیاروں کو بھی اس کیفیت کے بارے میں سمجھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

* لفٹ، ہوائی جہاز یا تہہ خانے میں اچانک سانس رکنے اور سینے میں شدید جکڑن کا تکلیف دہ احساس۔
* دل کی دھڑکن کا بے قابو ہونا، ماتھے پر پسینہ آنا اور فوراً باہر بھاگنے کی ناقابل برداشت اور شدید خواہش۔
* کسی بھی محفل یا گاڑی میں ہمیشہ دروازے کے قریب بیٹھنے کی مجبوری تاکہ ضرورت پڑنے پر فرار کا راستہ کھلا ملے۔

سائنسی اعتبار سے جب کلاسٹروفوبیا کا حملہ ہوتا ہے تو دماغ کا ایک حصہ، جسے امیگڈالا کہتے ہیں، خطرے کا انتہائی شدید اور غلط سگنل جاری کر دیتا ہے۔

اس سگنل کے نتیجے میں ہائپوتھیلمک پچوٹری ایڈرینل ایکسز فوراً متحرک ہو جاتا ہے اور اعصابی دباؤ کو عروج پر پہنچا دیتا ہے۔

یہ نظام خون میں کورٹیسول اور ایڈرینالین ہارمونز کا سیلاب بھیج دیتا ہے، جس کی وجہ سے سانس کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز ہو جاتی ہے جسے ہائپر وینٹیلیشن کہتے ہیں۔

اس تیز سانس کے باعث خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح گر جاتی ہے، جو دماغ کو چکرا دینے اور سینے کے پٹھوں کو جکڑ لینے کا باعث بنتی ہے، جس سے دم گھٹنے کا حقیقی احساس ہوتا ہے۔

روایتی ادویات اکثر اعصاب کو وقتی طور پر سن کر دیتی ہیں اور نیند آور ادویات کے ذریعے ذہن کو دبا دیتی ہیں۔
مگر وہ دماغ کے اس غلط خطرے کے سگنل اور اعصابی دباؤ کو جڑ سے ٹھیک نہیں کر پاتیں، جس کی وجہ سے یہ بے قابو خوف بار بار لوٹتا ہے۔

ہومیوپیتھک طریقہ علاج اس کیفیت کو محض اعصاب کو دبا کر نہیں سنبھالتا، بلکہ یہ جسمانی ردعمل کے پیٹرن کو درست کرنے والی قدرتی کمک ہے۔
یہ ادویات انفرادی مزاج کے مطابق کام کرتی ہیں اور اعصابی توازن کو بحال کرنے میں ایک محفوظ اور سائنسی راستہ فراہم کرتی ہیں۔

یہ دماغ اور اعصابی نظام کی حساسیت کو خلیاتی سطح پر اعتدال میں لاتی ہیں تاکہ آپ بند جگہوں پر بھی پورے وقار اور سکون کے ساتھ رہ سکیں۔

آرجنٹم نائٹریکم دماغ کے پری فرنٹل کارٹیکس کی اس بے جا فعالیت کو کم کرتی ہے جو کسی بند جگہ پر جانے سے پہلے ہی خوف طاری کر دیتی ہے۔ یہ اعصابی ریشوں کو پرسکون کر کے بے چینی کو روکتی ہے۔
اس کا موازنہ ایکونائٹ سے ہوتا ہے، مگر ایکونائٹ اچانک اٹھنے والے خوف اور ایڈرینالین کے فوری طوفان کو تیزی سے کنٹرول کرنے میں زیادہ مؤثر ہے۔

موسکس ان مریضوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جنہیں بند کمرے میں اچانک ایسا محسوس ہو کہ ان کے پھیپھڑے مزید نہیں پھیل سکتے۔ یہ دوا نظام تنفس کے اعصابی ریسیپٹرز کو پرسکون کر کے آکسیجن کی کمی کے جھوٹے احساس کو ختم کرتی ہے۔
اس کا تقابل اگنیشیا سے کیا جا سکتا ہے، مگر موسکس خاص طور پر بند جگہ کے باعث پیدا ہونے والی ہسٹریکل سانس کی تنگی پر زیادہ گہرائی سے کام کرتی ہے۔

اسارم یورپیم ان لوگوں کی خاموش ضرورت ہے جن کا اعصابی نظام بند جگہ پر اتنا حساس ہو جاتا ہے کہ ہر آواز اور احساس تکلیف دہ لگنے لگتا ہے۔ یہ دماغ کے حسی خلیات کی دہلیز کو متوازن کر کے اس اعصابی دباؤ کو کم کرتی ہے۔
اگرچہ تھریڈیون بھی حسی حساسیت میں مفید ہے، لیکن ایزارم یورپیم خود کو قید محسوس کرنے کے اعصابی بوجھ اور کپکپاہٹ کو براہ راست نشانہ بناتی ہے۔

سمبل اس وقت تجویز کی جاتی ہے جب لفٹ یا چھوٹے کمرے میں جاتے ہی ویگس نرو کے متاثر ہونے سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جائے اور شدید گھبراہٹ طاری ہو۔ یہ خون کی نالیوں کے تشنج کو دور کر کے دل کے پٹھوں کو پرسکون کرتی ہے۔
اس کا موازنہ سپائیجیلیا سے کیا جاتا ہے، تاہم سمبل خاص طور پر فضائی تنگی کے باعث ہونے والے عروقی کھنچاؤ میں منفرد مقام رکھتی ہے۔

ایمبرا گریشیا اس کیفیت میں گہرا اثر دکھاتی ہے جہاں مریض کو بند جگہ کے ساتھ ساتھ وہاں لوگوں کی موجودگی سے بھی شدید گھبراہٹ اور اعصابی تھکن محسوس ہو۔ یہ حسی اعصاب کی اوور لوڈنگ کو منظم کر کے تھکاوٹ کو کم کرتی ہے۔
برائٹا کارب کے برعکس، جو عمومی ہچکچاہٹ پر کام کرتی ہے، ایمبرا گریشیا ہجوم اور بند جگہ کے مشترکہ اعصابی خوف کو بخوبی زائل کرتی ہے۔

ویلیرینا ان مریضوں کو دی جاتی ہے جن کا خود مختار اعصابی نظام بند جگہ پر اس قدر بے قابو ہو جائے کہ ٹانگوں میں مسلسل حرکت کی ضرورت محسوس ہو۔ یہ اعصابی ریشوں کی ہائپر ایکٹیویٹی کو پرسکون کر کے فرار کی خواہش کو کنٹرول کرتی ہے۔
زنکم میٹ بھی بے چین ٹانگوں کی دوا ہے، مگر ویلیرینا اس کیفیت کو دور کرتی ہے جو قید کے احساس اور ہسٹریکل گھٹن سے پیدا ہوتی ہے۔

کلکیریا سلیکاٹا جسم کی اندرونی میٹابولک رفتار کو درست کر کے اس دائمی خوف کو کم کرتی ہے جہاں مریض کو بند اور ٹھنڈی جگہوں پر سردی اور خوف محسوس ہو۔ یہ اندرونی اعصابی لچک اور استحکام پیدا کرتی ہے۔
جبکہ سلیشیا محض عام کمزوری پر کام کرتی ہے، کلکیریا سلیکاٹا گہری مقامی بے چینی اور خلیاتی سرد مہری کو بھی دور کرتی ہے۔

سٹیفیسگریا جذباتی گھٹن اور بند جگہ کے خوف کے اس مکینیکل دباؤ کو کم کرتی ہے جو پٹھوں کو جکڑ لیتا ہے اور انسان کو دفاعی پوزیشن میں لے آتا ہے۔
لائیکوپوڈیم بھی بند کمرے کی گرمی سے گھبراہٹ پیدا کرتی ہے اور نظام ہضم کو متوازن کرتی ہے، مگر سٹیفیساگریا ان اعصابی لہروں کو پرسکون کرتی ہے جو جسم کو اندرونی طور پر اکڑا دیتی ہیں۔

اس خاموش خوف کے ساتھ اپنے روزمرہ کے سفر کو محدود کرنا کوئی مستقل حل نہیں ہے، اور ایک سائنسی تشخیص آپ کو اس قید سے مکمل طور پر آزاد کر سکتی ہے۔

ڈس کلیمر:
یہ معلومات خالصتاً تعلیمی اور شعور اجاگر کرنے کے مقاصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ یہ کسی بھی طرح مستند طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہیں۔ کسی بھی بیماری کی صورت میں ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کریں اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی دوا یا علاج شروع نہ کریں۔ اس پوسٹ میں موجود معلومات کی بنیاد پر خود تشخیص یا خود علاجی سے گریز کریں۔ ڈاکٹر اشفاق احمد یا متعلقہ پلیٹ فارم اس معلومات کے کسی بھی غلط استعمال، تشریحی غلطی، یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ہومیوپیتھک علاج انفرادی علامات اور مریض کی مجموعی کیفیت (Constitutional Approach) پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی دوا کا استعمال صرف ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔
ڈاکٹر اشفاق احمد

گردن کے پٹھوں میں کھنچاؤ، کندھوں پر مستقل بوجھ اور انگلیوں میں اترنے والی وہ سنسی جو روزمرہ کے کاموں کو محال بنا دے، آپ ...
24/06/2026

گردن کے پٹھوں میں کھنچاؤ، کندھوں پر مستقل بوجھ اور انگلیوں میں اترنے والی وہ سنسی جو روزمرہ کے کاموں کو محال بنا دے، آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے سب سے حساس حصے میں پیدا ہونے والے اس بگاڑ کا اعلان ہے جسے ہم اکثر وقتی ادویات سے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس تکلیف کی اصل نوعیت کو تسلیم کرنا اور جسم کے اس میکانیکل الارم کو سمجھنا ہی مستقل شفا کی جانب پہلا قدم ہے۔

سروائیکل سپونڈائیلوسس کوئی راتوں رات پیدا ہونے والی بیماری نہیں، بلکہ گردن کے مہروں، ان کے درمیان موجود کشنز اور ہڈیوں کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا نام ہے۔

جب ہم سکرینز پر جھک کر یا غلط انداز میں بیٹھ کر گردن پر دباؤ ڈالتے ہیں تو مہروں کے درمیان کی جگہ کم ہونے لگتی ہے اور ڈسکس اپنی نمی کھو دیتی ہیں۔

اس غیر فطری دباؤ کی وجہ سے جسم خود کو سنبھالنے کے لیے مہروں کے کناروں پر ہڈی کے نئے اور نوکیلے ابھار بنانا شروع کر دیتا ہے، جو اعصاب کے لیے شدید خطرہ بن جاتے ہیں۔

اس خاموش مگر تکلیف دہ کیفیت کی علامات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ یہ مریض کی نفسیات پر بھی اثر انداز ہونے لگتی ہیں:

۔ گردن کو دائیں بائیں موڑنے پر شدید درد یا رگڑ کی آوازیں آنا، جس سے حرکت محدود ہو کر رہ جائے اور ایک خوف طاری رہے۔

۔ کندھوں سے شروع ہو کر بازو اور ہاتھ کی انگلیوں تک جانے والی وہ تیز لہر نما تکلیف جو سن پن یا چیونٹیاں رینگنے کا احساس دیتی ہے۔

۔ گردن کے پچھلے حصے سے اٹھنے والا بوجھل درد جو سر کے پچھلے حصے تک پھیل جائے اور اکثر شدید چکر آنے کا باعث بنے۔

۔ ہاتھوں کی گرفت کا کمزور ہو جانا، جس سے چیزیں پکڑنے، کپڑے نچوڑنے یا لکھنے میں دشواری محسوس ہو اور ایک عجیب سی بے بسی کا احساس ہو۔

اگر ہم اس کی پیتھالوجی کو باریک بینی سے دیکھیں تو یہ مہروں کے درمیان موجود کارٹلیج کے خشک ہونے اور ڈسک کی ہائٹ کم ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

جب ڈسک کی لچک ختم ہوتی ہے تو بائیو مکینکس کے بگاڑ کے باعث ہڈیوں کے درمیان رگڑ بڑھتی ہے اور وہاں آسٹیوفائٹس یعنی ہڈیوں کے غیر معمولی ابھار بننا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ ابھار جب سپائنل کینال یا نرو روٹس (اعصابی جڑوں) کو دباتے ہیں، تو نیوروپیتھک درد، مسل سپازم اور سگنلنگ کی شدید خرابی پیدا ہوتی ہے۔

روایتی علاج صرف پٹھوں کو وقتی طور پر ریلیکس کرنے یا اعصاب کو سن کرنے پر انحصار کرتا ہے، جبکہ مہروں کے درمیان ہونے والا کارٹلیج کا یہ بنیادی نقصان اندر ہی اندر بڑھتا رہتا ہے۔

جب تک ہڈیوں کے اس غیر معمولی رجحان کو نہ روکا جائے اور اعصاب سے مکینیکل دباؤ کو خلیاتی سطح پر کم نہ کیا جائے، یہ مرض دوبارہ پلٹ کر آتا ہے۔

ہومیوپیتھی اس کیفیت کو صرف درد کے ایک عارضے کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ ہڈیوں کے میٹابولزم اور اعصابی سوزش کے بنیادی بگاڑ پر کام کرتی ہے۔ یہ سائنسی طریقہ علاج ہڈیوں کی تعمیر نو اور اعصابی دباؤ کو خلیاتی سطح پر متوازن کرتا ہے۔

کلکیریا فلور سیلولر سطح پر کیلشیم کے میٹابولزم کو ریگولیٹ کرتی ہے اور مہروں کے گرد بننے والے نوکیلے ابھاروں (آسٹیوفائٹس) کو تحلیل کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ دوا ہڈیوں اور لچکدار ریشوں کی ساخت کو نرم کر کے اعصاب پر سے دباؤ ہٹاتی ہے، جس سے گردن کی طبعی حرکت بحال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اس کے موازنے میں ہیکلا لاوا کا دائرہ کار ان کیسز میں زیادہ نمایاں ہے جہاں ہڈیوں کے یہ ابھار بہت سخت اور شدید نوکیلے ہو چکے ہوں اور ہڈی کے ٹشو میں دائمی خرابی آ چکی ہو۔

پیرس کواڈری فولیا سروائیکل کے ان مریضوں کے اعصابی سگنلز کو درست کرتی ہے جنہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی گردن یا کندھوں پر کوئی بھاری وزن رکھا ہوا ہے۔
یہ خاص طور پر سپائنل نرو کی جڑوں کی سوزش کو کم کرتی ہے جس سے بازوؤں کا سن پن ختم ہوتا ہے۔
اس کا موازنہ ہائپریکم سے کیا جاتا ہے جو براہ راست دبے ہوئے اور زخمی اعصاب کی مائیلن شیتھ کی مرمت کر کے انگلیوں تک جانے والے الیکٹرک شاک جیسے درد کو ختم کرتی ہے۔

سمیسی فیوگا گردن اور کندھوں کے ان بڑے پٹھوں کے سیلولر سپازم کو ریلیکس کرتی ہے جو مہروں کی خرابی کی وجہ سے شدید کھنچاؤ کا شکار ہو کر سر درد کا باعث بنتے ہیں۔
یہ عضلاتی ریشوں کے اندر موجود الیکٹرولائٹ بیلنس کو بحال کر کے جکڑن دور کرتی ہے اور پٹھوں کو خون کی فراہمی بہتر بناتی ہے۔
جبکہ لیکنانتھس اس وقت بہترین متبادل بنتی ہے جب گردن کے پٹھے اس قدر اکڑ جائیں کہ مریض کے لیے گردن کو ایک انچ بھی موڑنا ناممکن ہو جائے اور گردن ایک طرف ٹیڑھی ہو کر رہ جائے۔

فارمیکا روفا ہڈیوں کے جوڑوں اور لیگامنٹس کے اندر پیدا ہونے والی اس دائمی سوزش اور ٹاکسسٹی کو ختم کرتی ہے جو سروائیکل سپونڈائیلوسس کو اندرونی طور پر بڑھا رہی ہوتی ہے۔
یہ جوڑوں کے کیپسول میں مائع کی روانی کو بہتر کر کے رگڑ کو کم کرتی ہے تاکہ مہروں کے درمیان لچک دوبارہ پیدا ہو سکے۔
اس کے برعکس روٹا گریولینس ان باریک ریشوں اور ٹینڈنز کی مائیکرو ٹیئرنگ کی مرمت کرتی ہے جو ہڈیوں کو آپس میں جوڑے رکھتے ہیں، خاص طور پر جب زیادہ جھک کر کام کرنے سے یہ کمزور پڑ چکے ہوں۔

جیلسیمیم اعصابی ترسیل کے اس بگاڑ کو نشانہ بناتی ہے جس کے نتیجے میں گردن کے پٹھوں سے دماغ تک جانے والے سگنلز متاثر ہوتے ہیں اور مریض کو شدید چکر آتے ہیں۔
یہ دماغ اور سروائیکل سپائن کے درمیان ہم آہنگی بحال کرتی ہے، جبکہ کونیم کا عمل ان چکروں پر بہت مخصوص ہے جو محض سر کو بستر پر دائیں بائیں موڑنے سے پیدا ہوتے ہیں۔

کاکولس انڈیکس سروائیکل کے ان کیسز میں ریڑھ کی ہڈی کے اعصابی مراکز کو طاقت دیتی ہے جہاں مریض گردن کے پٹھوں میں اتنی شدید کمزوری محسوس کرے کہ اس کے لیے اپنے سر کا وزن سنبھالنا بھی محال ہو جائے۔
جبکہ کالمیا ان مریضوں کے اعصابی راستوں کے درمیان پیدا ہونے والی اس حساسیت کو دور کرتی ہے جہاں گردن سے اٹھنے والا درد تیزی سے نیچے کی طرف سفر کرتا ہوا بازو کو سن کر دیتا ہے۔

درد اور بے بسی کے اس سفر میں مسلسل وقتی ادویات کھا کر معدہ خراب کرنا یا سرجری کے خوف میں جینا آپ کا مقدر نہیں ہے، اور اس بگاڑ کو جڑ سے روکا جا سکتا ہے۔

آن لائن کنسلٹیشن اور کوریئر ڈسپینسنگ کی سہولت دستیاب ہے۔

ڈس کلیمر:
یہ معلومات خالصتاً تعلیمی اور شعور اجاگر کرنے کے مقاصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ یہ کسی بھی طرح مستند طبی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہیں۔ کسی بھی بیماری کی صورت میں ہمیشہ مستند معالج سے رجوع کریں اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی دوا یا علاج شروع نہ کریں۔ اس پوسٹ میں موجود معلومات کی بنیاد پر خود تشخیص یا خود علاجی سے گریز کریں۔ ہومیوپیتھک علاج انفرادی علامات اور مریض کی مجموعی کیفیت (Constitutional Approach) پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی دوا کا استعمال صرف ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے مشورے سے کریں
Dr ashfaq Ahmed

Fibromyalgiaپٹھوں کا دکھنا اور شدید درد                  ۔  یہ عضلات کا شدید درد اور پٹھوں میں درد کرنے والی ایک عام بیم...
22/06/2026

Fibromyalgiaپٹھوں کا دکھنا اور شدید درد ۔
یہ عضلات کا شدید درد اور پٹھوں میں درد کرنے والی ایک عام بیماری ہے ، یہ عورتوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے ، تقریباً ہر 15 عورتوں میں سے 1 عورت کو یہ مسلئہ ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی پاکستان میں کافی ڈاکٹر اس کی بروقت تشخیص نہیں کر پاتے ۔ اور دوسرا اس میں NSAiDs درد والی میڈیسن جیسے Diclofenac, aceclofenic naproxen والی میڈیسن اس میں درد کا کوئی خاص فائدا نہیں دیتی۔
یہ پٹھوں کو متاثر کرنےوالی بیماری تھکن، یادداشت، نیند اور مزاج کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بیماری ذہنی دبائو، صدمے یا کسی آپریشن کی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہوئی، باقی یہ بیماری خواتین میں 15 گنا زیادہ ہوتی ہے مردوں کی نسبت۔ بہرحال یہ مسلئہ مردوں کو بھی ہو سکتا ہے۔۔۔

فائبروملجیا ایک دائمی سنڈروم کے سوا کچھ نہیں ہے جو جسمانی درد اور ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔
کلینکلی فائبروملجیا کی علامات hypothyroidism اور Arthritis ( یعنی جوڑوں کی سوزش) سے کافی ملتی جلتی ہیں۔ لیکن، اس میں سب لیبارٹری ٹیسٹ نارمل آتے ہیں ، جیساکہ
CBC, ESR, x ray, thyroid profile and RA factor etc

وجوہات ( idiopathic)
فائبرومائلجیا میں "Autoimmune Disease" کے ساتھ بہت سی علامات مشترک ہیں لیکن اسے اس زمرے کے تحت درجہ بندی نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس بیماری کی اصل وجہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے۔ لیکن کچھ ایسے عوامل ضرور ہیں جن کو ملوث سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ
1:دماغی کیمیکلز کے ارتکاز میں تبدیلیاں
2:جسمانی یا ذہنی صدمہ
3: بے خوابی
4: جینیات یعنی وراثتی
5: ماضی کے وائرل انفیکشنز وغیرہ وغیر
6: وٹامنز کمی بھی اس کے ہونے کے امکان کو زیادہ کر سکتی ہیں۔

کچھ عوامل اس کو بڑھانے کا موجب بن سکتے ہیں جیساکہ
1:جنس: یہ مرض عورت کو 15 گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
2:خاندانی تاریخ:
3: دوسری بیماریاں: اگر آپ کو لیوپس، اوسٹیو ارتھرائٹس یا روماٹک آرتھرائیٹس جیسی کوئی بھی بیماری ہو ،تو پھر آپ کو فائبرومیالجیا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔


فائبرو ملجیا کی علامات / منسلک علاماتِ
اس میں مریض کو پٹھوں کے مسائل ، جسمانی سستی و درد اور نفسیاتی مسائل کی علامتیں ہو سکتی ہیں، جیساکہ
1: پٹھوں میں اکڑاؤ اور درد کا ہونا ، جسم کے کسی بھی حصے میں یا سارے جسم میں درد محسوس ہو سکتا ہے۔
2: صبح کے وقت جوڑوں اور پٹھوں میں اکڑن محسوس ہونا اور جسمانی کمزوری و تھکاوٹ محسوس کرنا
3: معدے کا مسلئہ ہونا جیسے گیس ، مڑرو اور قبض کا ہونا
4: ہاتھوں اور پیروں میں بے حسی کا ہونا
5: عورتوں میں پیریڈز کا مسلئہ ہونا جیسے ڈیس مینوریا
6: یادداشت کی کمی کا ہونا
7: سر درد اور سر بھاری محسوس ہونا
8: آنکھوں میں دھندلا پن یا بینائی کے مسائل ہونا
9: وزن کا زیادہ ہونا اور سردی کا زیادہ لگنا
10: مزید فائبرو ملجیا کے کافی مریضوں میں نفسیاتی مسائل ڈیپریشن انزائٹی، وہم وغیرہ کی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں جیسے کہ نیند کی کمی ، چڑچڑاپن ، افسردگی ، ناامیدی ، کسی کام میں دل نہ لگنا ، اپنے اندر خطرناک بیماریوں کا سوچنا ، دل کی دھڑکن کا زیادہ ہو جانا ، ڈر ، خوف میں مبتلا رہنا وغیرہ علامتیں ہو سکتی ہیں۔


فائبروملجیا کی تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔کیونکہ یہی علامتیں اور بھی بہت سی بیماریوں میں ہوتی ہیں ۔اس لیے اس کی تشخیص سے پہلے کچھ لیب ٹیسٹ کیے جاتے ہیں ،کہ مریض کو کوئی اور بیماری تو نہیں ، باقی کوئی خاص لیبارٹری ٹیسٹ نہیں ہے جو fibromyalgia کی تشخیص کر سکے، کیونکہ اس میں سب لیبارٹری ٹیسٹ نارمل آتے ہیں، علامتوں کے ذریعے سے اس کی تشخیص کی جاتی ہیں ، 3 مہنے سے زیادہ دورانیہ ہونا اور 18 میں سے 11 tender points میں درد ہونے کی صورت میں اس کو خیال کیا جاسکتا ہے ،کچھ "ٹینڈر پوائنٹس" ہیں جن میں Fibromyalgia شدید درد کا باعث بنتا ہے۔ یہ ٹینڈر پوائنٹس بنیادی طور پر گھٹنے، کہنیوں، بچھڑے کے پٹھوں، سر کے پچھلے حصے، کولہے، سینے، گردن کے پچھلے حصے اور کندھوں پر مشتمل ہیں۔ اور دوسرا مریض کے درد کی شدت کے حساب سے اسکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


فائبروملجیا کا علاج
یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اس کا علاج لمبے عرصے تک چلتا ہے ، کیونکہ ہر فائبروملجیا کے مریضوں میں مختلف علامات ہوتی ہیں اور ہر مریض کو بدلتی ہوئی علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے انفرادی توجہ اور علیحدہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہر حال علاج کا انحصار وجہ اور اس کی شدت پر ہے, باقی اس میں اینٹی ڈپریسنٹ اور مسل ریلاکسر ادویات استعمال کی جاسکتی ہیں۔
Regards Dr Akhtar Malik

Address

Karachi
75850

Opening Hours

Monday 20:00 - 22:00
Tuesday 20:00 - 22:00
Wednesday 20:00 - 22:00
Thursday 20:00 - 22:00
Friday 20:00 - 17:00

Telephone

+923310242426

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Seema Saeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Seema Saeed:

Shortcuts

Share

Category