Dr. Seema Saeed

Dr. Seema Saeed Homeopath. Hijama Master. Acupuncturist. Al-Karim Health Care wishes to provide a healthy future by correct classical homeopathic treatment.

Al-Karim Health Care - Physician Online

Our team comprises of Doctors who are keen to help the sick, and their only mission is to bring about permanent relief and restore the sick to health without further complicating the case.We assure to alleviate your sufferings in the best possible manner provided your given correct and honest history. As the Technology and Life Style has changed today, Qual

ity Care can be offered in the comfort of your Home. Clinic Overview
Site Provides, Herbal & Homoepathic Treatment | Hair Care | Skin Care | Body Care | Men and Women About Health | Homoeopathic Philosophy|and Herbs
Psychological or mental disorder Depression,Epilepsy Hydrophobia, Hysteria ,Self-Abuse,
Headache, migraine Meningitis,

Influenza, nasal polyps nose block
Lungs disorders ..Asthma, Bronchitis, Whooping Cough, , , , Cough,

stomach disorder.. mouth ulcers .Acidity , Colic, Constipation, Dyspepsia, , Fever, Gastric Ulcer, Diarrhea, Dysentery
Joints pain Gout, Arthritis sciatica cramps
Anemia, Angina
Lever disorders .. Jaundice Diabetes
Female problems Leucorrhea, menstrual cycle disorder, sterility Impotence,
UTI and kidneys stone .
,
Sleep disorder & Dream, Nightmare insomnia
Skin problems : Ulseration, ,Irritation, Itching Wounds, ,carbuncle, Chicken Pox ,burns Eczema , heel Cracks,Dandruff, Nettle-Rash, Haemorrhoids, hernia,,Mumps
Warts, Worms ... specialy Homoepathic Treatment for Hair fall balness, hair growth

1. کراچی کا کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہدلیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ...
26/04/2026

1. کراچی کا کچرا کنڈی اور 9 سالہ شاہد
لیاری، کراچی۔ 9 سالہ شاہد۔ قد اتنا چھوٹا کہ کچرے کے ڈرم میں جھانکنے کے لیے بھی اینٹ پر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ باپ نشے کی حالت میں مر چکا تھا، ماں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی تھی۔
گھر میں بس ایک ہی خواب تھا: 17 سالہ بڑی بہن سدرہ ڈاکٹر بنے۔ سدرہ نے بارہویں جماعت میں پوزیشن لی تھی۔ دماغ کمپیوٹر جیسا، مگر فیس کے پیسے نہیں تھے۔
صبح 5 بجے شاہد بوری لے کر نکلتا تھا۔ کچرا کنڈیاں، گلیاں، دکانیں۔ پلاسٹک، لوہا، ردی چنتا تھا۔ شام کو کباڑی کو بیچ کر 80 سے 100 روپے ملتے تھے۔
2. باجی کی کتابیں اور بھائی کی بوری
سدرہ کا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا۔ سالانہ فیس 2 لاکھ روپے۔ ماں رو پڑی: "بیٹی، مجھے معاف کر دینا، ہم غریب ہیں۔"
شاہد نے ماں کی گود میں سر رکھا: "امی، آپ نہ روئیں۔ باجی ڈاکٹر بنے گی، میں ہوں نا!"
اگلے دن سے شاہد نے دو شفٹیں لگا لیں۔ صبح 4 سے 8 بجے تک کچرا، پھر اسکول۔ پھر شام 4 سے رات 10 بجے تک دوبارہ کچرا چننا۔ رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے بیٹھ کر خود بھی پڑھتا تھا۔
سدرہ روتی تھی: "بھائی، تم پڑھو، میں کام کر لوں گی۔"
شاہد ہنس کر کہتا: "باجی، دو دماغ خراب کرنے سے بہتر ہے ایک ڈاکٹر پکا بن جائے۔ آپ بس پڑھیں۔"
3. سردی، طعنے اور ضدی بھائی
سردی کی رات تھی۔ شاہد کو 104 بخار تھا، پھر بھی بوری اٹھا کر نکل گیا۔ کباڑی نے کہا: "مر جاؤ گے پاگل!"
شاہد نے جواب دیا: "چاچا، جب میری باجی کے ہاتھ میں اسٹیٹھوسکوپ ہوگا تب ہی میرا بخار اترے گا۔"
محلے والے طعنے دیتے تھے: "کچرا چننے والا، بہن کو ڈاکٹر بنائے گا؟ خواب دیکھنا چھوڑ دو!"
شاہد کچھ نہ کہتا۔ بس ہر شام سدرہ کی فیس کے پیسے گنتا اور شکر ادا کرتا۔
4. آٹھ سال بعد، سول اسپتال
8 سال گزر گئے۔ شاہد اب 17 سال کا ہو چکا تھا۔ خود میٹرک میں پوزیشن لی، مگر کالج نہیں گیا۔ "باجی کا فائنل ایئر ہے۔"
نتیجہ آیا۔ سدرہ نے MBBS میں ٹاپ کیا۔ پورے کراچی میں نام ہو گیا۔ اخبار میں تصویر چھپی: "کچرا چننے والے کی بہن ڈاکٹر بن گئی۔"
سول اسپتال میں پہلی نوکری ملی۔ پہلی تنخواہ 85 ہزار روپے۔ سدرہ نے وہ لفافہ شاہد کے ہاتھ پر رکھا اور زار و قطار رونے لگی۔
"یہ تمہاری کچرے کی کمائی ہے، بھائی! میرے ہاتھ میں جو اسٹیٹھوسکوپ ہے، اس کی ڈوری تمہاری بوری سے بندھی ہے۔"
5. آج
آج ڈاکٹر سدرہ لیاری میں "شاہد کلینک" چلاتی ہے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔
اور شاہد؟ اس نے کچرا چننا نہیں چھوڑا، مگر اب اس کی اپنی کباڑ کی دکان ہے۔ 20 بچے اس کے پاس کام کرتے ہیں، مگر ایک شرط ہے: "دن میں 2 گھنٹے میری دکان پر پڑھو گے، فیس میں دوں گا۔"
دیوار پر ایک فریم لگا ہے۔ ایک طرف سدرہ کی ڈگری، دوسری طرف شاہد کی پھٹی ہوئی بوری۔
نیچے لکھا ہے:
"کچرے سے کامیابی تک کا سفر — اگر محبت ہو تو منزل ضرور ملتی ہے۔"
شاہد کہتا ہے: "لوگ کہتے ہیں میں نے بہن کو ڈاکٹر بنایا، مگر سچ یہ ہے کہ باجی کے خواب نے مجھے انسان بنایا۔"

15/04/2026

دنیا کے 50 بہترین دیسی سپر فوڈز اور ان کے فوائد۔۔۔ 🌹🌹🌹🌹🌹
(ترتیب: زیادہ سے کم طاقتور)

1. اسپیرولینا (Spirulina)
دنیا کا سب سے طاقتور سپر فوڈ،
60% پروٹین اور بہترین اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور،
قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور جسم کو ڈیٹاکس کرتا ہے،
خون کی کمی (اینیمیا) میں مفید ہے۔

2. چیا سیڈز (Chia Seeds)
فائبر اور توانائی کا خزانہ،
دل کی صحت بہتر بناتا ہے اور بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے،
زیادہ فائبر کی وجہ سے وزن کم کرنے میں مددگار ہے اور
دماغی صحت اور یادداشت کے لیے بہترین ہے۔

3. بیجنگ جنسنگ (Ginseng)
قدرتی انرجی بوسٹر،
تھکن، ذہنی دباؤ اور کمزوری کو دور کرتا ہے،
یادداشت اور دماغی صلاحیت بہتر بناتا ہے اور
قوت مدافعت اور مردانہ طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔

4. میکا روٹ (Maca Root)
ہارمونی بیلنس کے لیے بہترین،
ہارمونی مسائل، بانجھ پن اور کمزوری کے لیے مفید،
قدرتی انرجی بوسٹر اور اسٹیمینا بڑھانے والا اور
خواتین کے لیے حیض کی بے قاعدگی میں فائدہ مند۔

5. ہلدی (Turmeric)
قدرتی اینٹی بائیوٹک،
جوڑوں کے درد، السر اور ورم میں مفید،
جسم میں زہریلے مادے ختم کرتا ہے اور
دماغی صحت اور جلد کے لیے بہترین۔

6. زیتون کا تیل (Olive Oil)
دل کی بہترین دوا ہے،،
کولیسٹرول کم کرتا ہے اور دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے،
جلد اور بالوں کو خوبصورت بناتا ہے اور
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔

7. شہد (Honey)
قدرتی شفا بخش دوا اور ٹانک ہے،
جراثیم کش، ہاضمہ بہتر کرنے والا اور قوت مدافعت بڑھانے والا،
کھانسی، زخم اور تھکن کے لیے بہترین ہے،
دل، جگر اور آنتوں کی صحت بہتر کرتا ہے۔

8. اخروٹ (Walnut)
دماغی طاقت کا خزانہ ہے،
دماغی صلاحیت، یادداشت اور نیند کے لیے مفید ہے،
دل کی بیماریوں سے بچانے والا اور
اومیگا 3 سے بھرپور ہے۔

9. کدو کے بیج (Pumpkin Seeds)
طاقتور غذائیت سے بھرپور غذا،
پروسٹیٹ اور مردانہ صحت کے لیے بہترین،
زنک اور میگنیشیم سے بھرپور، ہڈیاں مضبوط کرتا ہے اور
نیند بہتر بناتا ہے۔

10. بادام (Almonds)
سپر نٹ، سپر غذا،
دماغ اور دل کی صحت کے لیے مفید،
وزن کم کرنے اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار،
جلد کو جوان اور چمکدار بناتا ہے۔

11. سبز چائے (Green Tea)
وزن کم کرنے کا راز،
میٹابولزم بڑھا کر وزن کم کرتا ہے،
دل اور دماغی صحت کے لیے مفید ہے اور
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور مشروب ہے۔

12. ناریل کا تیل (Coconut Oil)
صحت مند چکنائی کا خزانہ ہے،
جگر، دماغ اور وزن کم کرنے کے لیے بہترین،
جلد اور بالوں کو خوبصورت بناتا ہے اور
بیکٹریا اور وائرس کے خلاف کام کرتا ہے۔

13. ایووکاڈو (Avocado)
بہترین سپر فروٹ مانا جاتا ہے،
دل کی صحت بہتر کرتا ہے اور جلد کو نکھارتا ہے،
اومیگا 3 اور فائبر سے بھرپور ہے اور
بلڈ شوگر کنٹرول میں مددگار ہے۔

14. انار (Pomegranate)
خون بنانے والا پھل ہے،
خون کی کمی دور کرتا ہے،
دل کے لیے بہترین اور بلڈ پریشر کنٹرول کرتا ہے اور
جلد کو چمکدار اور تروتازہ بناتا ہے۔

15. کیل (Kale)
سبزیوں کی ملکہ،
وٹامن K، C اور کیلشیم سے بھرپور،
ہڈیوں اور خون کے لیے مفید اور
کینسر سے بچانے والا سپر فوڈ ہے۔

16. بیریز (Berries)
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور،
دماغی صحت اور جلد کے لیے بہترین،
قوت مدافعت اور دل کی صحت بہتر کرتا ہے اور
وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔

17. دلیہ (Oats)
صحت مند ناشتے کا بہترین انتخاب،
فائبر سے بھرپور، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کنٹرول کرتا ہے،
وزن کم کرنے میں مددگار ہے اور
ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔

18. بروکلی (Broccoli)
سبزیوں میں پاور ہاؤس،
کینسر سے بچانے والا اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور،
ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور
دل اور ہڈیوں کے لیے مفید ہے۔

19. دالیں (Lentils)
پروٹین کا بہترین ذریعہ،
ہاضمہ بہتر کرتی ہیں،
وزن کم کرنے میں مددگار اور
کولیسٹرول کم کرنے والی ہیں۔

20. لہسن (Garlic)
قدرتی اینٹی بائیوٹک،
بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے،
بیکٹیریا اور وائرس کے خلاف کام کرتا ہے اور
دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔

دیگر طاقتور سپر فوڈز
• سیب (Apple) – قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔
• ناشپاتی (Pear) – ہاضمے کے لیے بہترین۔
• انگور (Grapes) – دل کی صحت کے لیے مفید۔
• تربوز (Watermelon) – ڈی ہائیڈریشن ختم کرتا ہے۔
• آم (Mango) – وٹامن اے سے بھرپور۔
• انناس (Pineapple) – ہاضمے میں مددگار۔
• کھجور (Dates) – توانائی فراہم کرتا ہے۔
• آملہ (Amla) – بالوں اور جلد کے لیے بہترین۔
• انجیر (Fig) – قبض کے لیے مفید۔
• تل کے بیج (Sesame Seeds) – ہڈیوں کو مضبوط بنائیں۔
• فلیکس سیڈ (Flax Seeds) – اومیگا 3 سے بھرپور۔
• سویابین (Soybeans) – پروٹین کا بہترین ذریعہ۔
• مشروم (Mushrooms) – قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔
• مولی کے پتے (Radish Greens) – ڈیٹاکس میں مددگار۔
• گوبھی (Cabbage) – ہاضمے کے لیے مفید۔
• پالک (Spinach) – آئرن سے بھرپور۔
• چقندر (Beetroot) – بلڈ پریشر کنٹرول کرتا ہے۔
• دار چینی (Cinnamon) – شوگر لیول کنٹرول کرتا ہے۔
• لونگ (Clove) – دانتوں کے لیے مفید۔
• الائچی (Cardamom) – نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔
• زعفران (Saffron) – موڈ بہتر کرتا ہے۔
• سونف (Fennel) – معدے کے لیے بہترین۔
• ادرک (Ginger) – سردی زکام کے لیے مفید۔
• اخروٹ (Hazelnuts) – دماغی صحت بہتر کرتا ہے۔
• کیوی (Kiwi) – وٹامن سی سے بھرپور۔
• پپیتا (Papaya) – معدے کی صحت کے لیے۔
• گاجر (Carrot) – آنکھوں کے لیے بہترین۔
• کھیرے (Cucumber) – جلد کے لیے مفید۔
• دھنیا (Coriander) – گردوں کو صاف کرتا ہے۔
• کلونجی (Black Seed) – ہر بیماری کا علاج ہے۔

یہ سپر فوڈز صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں اور مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ استعمال سے پہلے اپنی طبیعت اور معالج کی مشاورت مدنظر رکھیں۔

خواتین میں ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) کی زیادتی — 7 اہم علامات تفصیل کے ساتھ(Dr Ahmad Homeopathic Clinic)خواتین کے جسم م...
24/02/2026

خواتین میں ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) کی زیادتی — 7 اہم علامات تفصیل کے ساتھ
(Dr Ahmad Homeopathic Clinic)
خواتین کے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون نارمل طور پر تھوڑی مقدار میں بنتا ہے (اووریز اور ایڈرینل گلینڈ سے)۔ یہ ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی طاقت اور جنسی صحت کے لیے ضروری ہے۔ لیکن جب اس کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو ہارمونل توازن بگڑ جاتا ہے، جسے طبّی زبان میں Hyperandrogenism کہتے ہیں۔ اس کی سب سے عام وجہ Polycystic O***y Syndrome (PCOS) ہے، مگر ایڈرینل مسائل یا بعض دوائیں بھی سبب بن سکتی ہیں۔
ذیل میں 1 سے 7 تک اہم علامات تفصیل سے:
1️⃣ غیر معمولی بالوں کی افزائش (Hirsutism)
اوپری ہونٹ، ٹھوڑی، سینہ، ناف کے نیچے یا رانوں پر سخت اور سیاہ بال آنا۔
یہ بال عموماً مردوں جیسے موٹے ہوتے ہیں۔
وجہ: زیادہ ٹیسٹوسٹیرون بالوں کی جڑوں (Hair follicles) کو متحرک کرتا ہے۔
2️⃣ ضدی مہاسے (Acne) اور چکنی جلد
چہرے، کمر اور سینے پر بار بار کیل مہاسے۔
جلد میں تیل (Sebum) کی زیادتی مسام بند کر دیتی ہے۔
عام کریمیں یا فیس واش اکثر اثر نہیں کرتے جب تک ہارمون درست نہ ہوں۔
3️⃣ ماہواری کی بے قاعدگی
پیریڈز کا 35–40 دن بعد آنا یا کئی ماہ تک بند رہنا۔
خون کم یا بہت زیادہ آنا۔
وجہ: بیضہ بننے (Ovulation) کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، جو عموماً PCOS میں دیکھا جاتا ہے۔
4️⃣ وزن میں اضافہ (خاص طور پر پیٹ پر)
پیٹ اور کمر کے گرد چربی بڑھنا۔
انسولین ریزسٹنس ساتھ ہو تو وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تھکن اور میٹھا کھانے کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے۔
5️⃣ بالوں کا جھڑنا (Androgenic Alopecia)
سر کے اگلے حصے یا درمیان سے بال کم ہونا۔
بال پتلے اور کمزور ہو جاتے ہیں۔
یہ مردانہ طرز کے گنج پن جیسا پیٹرن ہو سکتا ہے۔
6️⃣ آواز کا بھاری ہونا اور جسمانی تبدیلیاں
آواز میں کرختگی یا بھاری پن (شدید کیسز میں)۔
بعض خواتین میں پٹھوں کا غیر معمولی ابھار بھی ہو سکتا ہے۔
یہ علامات عموماً بہت زیادہ ہارمون بڑھنے پر ظاہر ہوتی ہیں۔
7️⃣ بانجھ پن (Infertility)
بیضہ باقاعدگی سے نہ بننے کے باعث حمل ٹھہرنے میں مشکل۔
شادی شدہ خواتین میں یہ بڑی شکایت بن سکتی ہے۔
بروقت علاج سے اکثر کیسز میں بہتری آ جاتی ہے۔
ممکنہ وجوہات
Polycystic O***y Syndrome (PCOS)
ایڈرینل گلینڈ کی خرابی
ہارمونل ادویات یا سٹیرائیڈز
انسولین ریزسٹنس
ضروری ٹیسٹ
Serum Testosterone
LH / FSH Ratio
Prolactin
Thyroid Profile
Pelvic Ultrasound
علاج کا اصول
✔ وزن کنٹرول
✔ متوازن غذا (کم میٹھا، کم پراسیسڈ فوڈ)
✔ باقاعدہ ورزش
✔ ہارمونل توازن کی درستگی
ہومیوپیتھک نقطہ نظر
مریض کی مکمل جسمانی و ذہنی علامات دیکھ کر دوا دی جاتی ہے، مثلاً:
Sepia
Pulsatilla
Lachesis
Thuja
ہر مریض کی دوا مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے خود علاج سے گریز کریں۔
📌 اگر 2 یا زیادہ علامات موجود ہوں تو ہارمونل ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
جلد تشخیص سے مسئلہ مکمل طور پر قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

روزہ اور ذیابطیس کے مریض !!روزہ آپ کے جسم کے لیے ایک لمبا فاسٹنگ پیریڈ ہے، اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو اس دوران شوگر ...
19/02/2026

روزہ اور ذیابطیس کے مریض !!
روزہ آپ کے جسم کے لیے ایک لمبا فاسٹنگ پیریڈ ہے،

اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو اس دوران شوگر لیول میں تیزی سے کمی یا اضافہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ روزہ رکھنے سے پہلے اپنے لائف سٹائل پر کام کریں

سحری آپ کے لیے سب سے اہم کھانا ہے، اسے ہرگز نہ چھوڑیں۔ ایسی غذا لیں جو دیر سے ہضم ہو اور دیر تک توانائی دے، جیسے گندم کی چوکر سمیت روٹی، دال، انڈا، گوشت،دہی، سبزی ، لیکن میٹھی چیزیں، میٹھے مشروبات اور بہت زیادہ تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں کیونکہ یہ پہلے شوگر تیزی سے بڑھاتی ہیں اور پھر اچانک گرا دیتی ہیں۔ اپنے کھانوں میں غیر ضروری نمک کا اضافہ نہ کریں تاکہ دن میں پیاس اور کمزوری محسوس نہ ہو۔

سحری و افطاری میں پروٹین اور فائبر نہ کھانا آپ کی سوچ سے بھی بڑی غلطی ہے۔

پروٹین معدے کو آہستہ خالی کرتا ہے، جس سے کاربوہائیڈریٹس آہستہ جذب ہوتے ہیں اور شوگر ایک دم نہیں بڑھتی۔ یہ دیر تک پیٹ بھرا رکھتا ہے، کمزوری کم کرتا ہے اور مسلز(پٹھوں) کو سپورٹ دیتا ہے، جبکہ مسلز ہی گلوکوز کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔

انڈا، چکن، مچھلی، دالیں، چنے اور سادہ دہی سحری اور افطار دونوں میں بہترین انتخاب ہیں۔

فائبر کاربوہائیڈریٹس کے جذب کی رفتار کم کرتا ہے، جس سے شوگر آہستہ آہستہ خون میں شامل ہوتی ہے اور انسولین پر اچانک دباؤ نہیں پڑتا۔ یہ انسولین ریزسٹنس(مزاحمت) بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے اور رمضان میں ہونے والے قبض جیسے مسائل سے بھی بچاتا ہے۔

سبزیاں، سلاد، چوکر والی روٹی اور بیج روزانہ پلیٹ کا حصہ ہونے چاہییں۔
افطار میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ سارا دن بھوکے رہنے کے بعد ایک دم زیادہ کھا لیتے ہیں۔ آپ آہستگی سے افطار کریں، متوازن کھانا کھائیں جس میں پروٹین، سبزی اور مناسب مقدار میں کاربوہائیڈریٹس ہوں۔

تلی ہوئی چیزیں، جلیبی، شربت اور بہت زیادہ سفید آٹے کی اشیاء روزانہ کی عادت نہ بنائیں کیونکہ اس سے شوگر تیزی سے اوپر جاتی ہے۔

روزے کے دوران شوگر چیک کرتے رہنا بہت ضروری ہے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر شوگر 70 سے کم ہو جائے، چکر آئیں، پسینہ آئے یا کمزوری محسوس ہو تو فوراً روزہ توڑ دیں، اسی طرح اگر شوگر بہت زیادہ بڑھ جائے تو بھی روزہ جاری رکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

یاد رکھیں مسئلہ روٹی یا چاول نہیں، مسئلہ انہیں اکیلا کھانا ہے۔ جب پلیٹ میں پروٹین اور فائبر شامل ہوں گے تو وہی کھانا آپ کے حق میں کام کرے گا، ورنہ وہی چیز شوگر کو 250–300 تک لے جا سکتی ہے۔

افطار کے بعد ہلکی واک مفید ہے لیکن سخت ورزش نہ کریں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے اپنی دواؤں یا انسولین کے اوقات اور مقدار کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے باقاعدہ مشورہ کریں، خود سے تبدیلی نہ کریں، کیونکہ صحیح پلاننگ کے ساتھ ہی آپ محفوظ طریقے سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شاہد ندیم

اگر آپ کی شوگر عام طور پر 200 کے آس پاس رہتی ہےتو روزوں میں شدید بھوک ، پیاس ، سر درد ، کمزوری، تھکاوٹ کے لیے تیار رہیںا...
17/02/2026

اگر آپ کی شوگر عام طور پر 200 کے آس پاس رہتی ہے
تو روزوں میں شدید بھوک ، پیاس ، سر درد ، کمزوری، تھکاوٹ کے لیے تیار رہیں
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ سحور و افطار میں روٹی چاول نہ کھائو
روزہ کچھ نہیں کہے گا
مسئلہ روٹی یا چاول نہیں ہوتے۔
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جسم انسولین کو صحیح طرح جذب نہیں کر پا رہا۔
اس کو بہتر کرنے کے لیے واک ایکسرسائز کی روٹین بنائیں۔
بھوک و پیاس سے بچنے کے لیے ،سحری میں صرف پیٹ بھر لینا حل نہیں ہے۔
دو پراٹھے اور چائے پی کر سونا آسان ہے
لیکن دن بھر شوگر سنبھالنا پھر مشکل ہو جاتا ہے۔
پلیٹ میں پروٹین ہو، تھوڑا فائبر ہو، مناسب کاربوہائیڈریٹس ہوں
تب جا کر جسم سکون سے چلتا ہے شوگر کنٹرول رہتی ہے۔
افطار پر اصل امتحان شروع ہوتا ہے ۔اکثر مریض افطار میں اچانک بہت زیادہ کھا لیتے ہیں
اور پھر دو گھنٹے بعد شوگر بہت اوپر چلی جاتی ہے اور کچھ دیر بعد کمزوری آن گھیرتی ہے
پھر ہم کہتے ہیں روزہ کمزور کر رہا ہے۔
نہیں
جلدی اور غلط ترتیب کمزور کرتی ہے۔
افطار میں بھی فائبر پروٹین اور مناسب مقدار میں کاربوہائیڈریٹس لیں
جبکہ میٹھے مشروبات سے مکمل پرہیز اختیار کریں
اگر شوگر 70 سے نیچے چلی جائے، ہاتھ کانپیں، پسینہ آئے
تو فوراً روزہ کھول دیں۔
اگر 300 کے قریب پہنچ جائے تو بھی ضد نہ کریں۔
اپنا خیال رکھنا عبادت کے خلاف نہیں ہے۔
اور یاد رکھیں، شوگر چیک کرنا روزہ نہیں توڑتا۔
لیکن نہ چیک کرنا نقصان دے سکتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ
روٹی چاول بھی کھائیں
اور رینڈم 150 کے آس پاس
فاسٹنگ 100 کے قریب آئے
تو بس عادت اور ترتیب بدلنی ہوگی۔
ڈاکٹر شاہد ندیم

12/02/2026
26/01/2026



بچے دانی فورا نکلوا دیں ! ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کچھ دن پہلے فون پہ میسج کی گھنٹی بجی ۔ اٹھا کر دیکھا تو ایک الٹرا ساؤنڈ رپور...
15/01/2026

بچے دانی فورا نکلوا دیں !

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

کچھ دن پہلے فون پہ میسج کی گھنٹی بجی ۔ اٹھا کر دیکھا تو ایک الٹرا ساؤنڈ رپورٹ تھی اور ایک میسج ۔

“ میں فلاں کی بہن ہوں ، آپ کو فالو کرتی ہوں ۔ میں نے الٹرا ساؤنڈ کروایا تھا، رپورٹ آپ کو بھیج رہی ہوں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے “

یوں تو رہنمائی فرمانے کے لیے ہمہ وقت ہم تیار رہتے ہیں مگر اس کے لیے بیک گراؤنڈ جاننا ازحد ضروری ہوتا ہے ۔حکیم صاحب تو ہم ہیں نہیں کہ پردے کے پیچھے بیٹھی خاتون کی کلائی پہ بندھا دھاگہ پکڑ کر تشخیص کر ڈالیں ۔

ساتھ میں کچھ نازک مزاج بھی ہیں سو عام حالات میں ادھورے پیغام پہ طبعیت برہم ہو جاتی ہے مگر یہاں معاملہ شناسا کی بہن کا تھا سو مزاج پہ قابو پاتے ہوئے پانچ چھ سوال لکھے ۔ الٹرا ساؤنڈ رپورٹ دیکھنے کی زحمت ہم نے نہیں کی ۔ وہ بعد کی بات ہے ، دیکھ لیں گے ۔

عمر ؟
ازدواجی حثیت ؟
بچے ؟
تکلیف ؟

جواب ملا ؛ عمر بیالس برس ہے ۔ شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں ہوں ۔ تین چار ماہ پہلے ماہواری کا انداز کچھ بدل گیا ۔ ایک مہینے کی بجائے ڈیڑھ مہینے بعد آنے لگی ۔ میں نے ڈاکٹر کو چیک کروایا ۔ انہوں نے دوا کھانے کو دی ۔ ماہواری پھر سے نارمل ہو گئی ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ہی مجھے الٹرا ساؤنڈ کروانے کا کہا تھا۔ الٹرا ساؤنڈ دیکھ کر ڈاکٹر نے کہا بچے دانی فورا نکلوا دیں ۔

اب رپورٹ دیکھنے کی باری تھی ۔

بچے دانی کی دیواروں میں تین رسولیاں نظر آئی ہیں ۔ ایک کا حجم 4*3.1 سینٹی میٹر ہے ، دوسری 3.5*2.5 سینٹی میٹر اور تیسری 1.7*1.6 سینٹی میٹر ہے ۔
بچے دانی کی اندرونی جھلی نارمل ہے ، دونوں بیضہ دانیاں نارمل ہیں ۔

رپورٹ پڑھ کر ہم کچھ چکرائے ۔ اس رپورٹ کو دیکھ کر ہم نے پھر سے پوچھا ، آپ کو تکلیف کیا ہے ؟
جواب ملا ؛ کچھ نہیں ۔

کیا ماہواری زیادہ آتی ہے ؟
نہیں ۔

کیا بار بار آتی ہے ؟
نہیں ۔

کیا پیٹ کے نچلے حصے میں مثانے پر بوجھ پڑتا ہے ؟
نہیں ۔

جی چاہا قہقہہ لگا کر ہنسیں اور پھرجا کر ڈاکٹر صاحبہ سے دست بستہ ملاقات کی جائے اور ان سے ڈاکٹری کی تعلیم ہی لے لی جائے ۔

ہمارا جواب تھا؛ بچے دانی نکلوانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

پھر کیا کروں ؟ حیرت بھرا سوال ۔

کچھ نہیں … ہمارا جواب ۔

کیا کسی دوا کا استعمال کرنا ہو گا ؟ ان کا اگلا سوال ۔

آپ کو کیا تکلیف ہے ؟ ہمارا سوال ۔

کچھ نہیں … ان کا جواب ۔

پھر کس بات کی دوا دوں آپ کو ؟ ہمارا سوال۔

پھر یہ .. یہ الٹراساؤنڈ رپورٹ .. وہ ہکلاتے ہوئے بولیں ۔

بھول جائیں اسے .. ہم نے کہا ۔

وہ .. وہ رسولیاں …

جی ہیں .. دیکھ لی ہم نے رپورٹ .. ہمارا جواب ۔

ان کا کیا کرنا ہے ؟ انہوں نے پوچھا ۔

کچھ نہیں .. بس سال چھ مہینے بعد ایک الٹرا ساؤنڈ دوبارہ کروا لیجیے گا ..حجم اور ماہیت دیکھنے کے لیے … ہم نے سمجھایا ۔

پھر .. پھر .. ڈاکٹروں نے کیوں کہا کہ بچے دانی نکلوا دو ؟ انہوں نے بے چینی سے پوچھا ۔

کیونکہ آپ مریض نہیں ، کلائنٹ ہیں .. تو کچھ تو بیچا جائے گا نا آپ کو .. ہم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

صاحب اگر آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو آپ کو ان رسولیوں کے بارے میں بتاتے چلیں ۔

بچے دانی خاص قسم کے مسلز سے بنی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ مسلز آپ ہی آپ ضرورت سے زیادہ پھلنا پھولنا اور بڑھنا شروع کرتے ہیں اور پتھر جیسی سخت رسولیاں بنا دیتے ہیں ۔ بچے دانی میں بننے والی ان رسولیوں کو فائبرائڈ کہتے ہیں ۔

فائبرائڈ ز کا حجم ایک بیر سے لے کر تربوز کے سائز تک کا ہو سکتا ہے۔ جیسے ان صاحبہ کی پہلی رسولی ڈیڑھ انچ کی ، دوسری ایک انچ کی اور تیسری آدھے انچ کی تھی ۔ ماپنے والی ٹیپ پہ دیکھ لیں کہ ایک انچ کتنا بڑا ہوتا ہے اور پھر خود فاصلہ کریں کہ کھجور ، جامن اور بیر کے سائز کی رسولیوں والی بچہ دانی کو فورا نکلوانے کا مشورہ کیوں ؟ جب کہ خاتون کو کوئی تکلیف ہی نہیں ۔

رسولی نامی لفظ کا فوبیا ہمارے معاشرے میں اس قدر ہے کہ ہر رسولی کینسر سمجھی جاتی ہے جبکہ پچانوے فیصد رسولیاں عام سی ہوتی ہیں جیسے کسی عضو میں کوئی گٹھلی بن جائے ۔

اب آپ بتائیں کہ جب کوئی تکلیف نہیں ، درد نہیں ، ماہواری میں زیادہ خون نہیں پھر آپریشن کس چیز کا کیا جائے — چھوٹی یا درمیانے سائز کے لیموں جیسی رسولیوں کا جو رگ پٹھے سے بنی گھٹلیاں ہیں ۔

آپریشن تب کیا جاتا ہے جب یہ رسولی خربوزے جتنی بڑی ہو جائے، درد ہونے لگے یا ماہواری کا خون کوئی ندی نالہ بن جائے۔

لیکن جناب ہمارے ہاں پرائیویٹ ہسپتالوں کی روزی روٹی چونکہ انہی آپریشنز پر ہوتی ہے سو وہاں بیر جتنے فائبراؤڈ کے لیے مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ آپریشن کروائیں اور نکلوا دیں ۔

لوگ رسولی کا نام سنتے ہی اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ کچھ سوال جواب کیے بنا آپریشن پر رضا مند ہو جاتے ہیں ۔ جان لیجیے ، چھوٹے چھوٹے فائبراؤڈ اور جن کے ساتھ ماہواری نارمل ہو ، نکلوا نا دانش مندی نہیں ۔ ہاں ہر چھ مہینے بعد الٹرا ساؤنڈ کروا لینا چاہئے وہ بھی اس لیے کہ اگر فابراؤڈ نامی رسولی میں کوئی تبدیلی آنے لگے تو اسے حل کیا جائے ۔

یہ بھی یاد رکھیے کہ ایسی بہت سی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں جن میں بچے دانی نکلوانا ہی آخری حل ہوتا ہے ۔ پھر کیسے جانا جائے کہ بچے دانی کب نکلوانی ہے اور کب نہیں ؟

صاحب ، ڈاکٹری ایک آرٹ ہے اور اس آرٹ میں ہر مریض دوسرے سے مختلف ہے اور ہر کسی کا علاج بھی اس کے جسم کے مطابق کیا جانا چاہئے ( مالی فائدے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ، مگر پھر پرائیویٹ ہسپتال کیسے چلیں گے ؟ ) ۔

کب ؟ کیسے ؟ کیوں ؟ کا آرٹ خواتین کو سیکھنا چاہیے، جیسے ایک لباس ہر کسی کو پورا نہیں آ سکتا بالکل ویسے ہی ایک طریقہ علاج سب کے لیے نہیں ہوتا ۔

پڑھیے ، جانیے ، سمجھیے اور حفاظت کیجیے اپنے جسم کی …
یہی ہے گائنی فیمنزم !

پیشانی جھوٹی کیسے ہو سکتی ہے؟ جدید نیورو سائنس اور قرآن کا ایک اور زندہ معجزہ 🧠✨کیا انسان کا جسم جھوٹ بولتا ہے یا اس کی ...
08/01/2026

پیشانی جھوٹی کیسے ہو سکتی ہے؟
جدید نیورو سائنس اور قرآن
کا ایک اور زندہ معجزہ 🧠✨

کیا انسان کا جسم جھوٹ بولتا ہے یا اس کی روح؟ کیا "پیشانی" (ماتھا) گناہ گار ہو سکتی ہے؟
آج سے چودہ سو سال پہلے، مکہ کی سرزمین پر جب بدترین دشمنِ اسلام "ابو جہل" نے نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ العلق میں ایک انتہائی عجیب اور سخت تنبیہ نازل فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"ہرگز نہیں! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے، وہ پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے۔" (سورۃ العلق: 15-16)
یہاں رک کر ایک لمحے کے لیے غور کریں۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ "ابو جہل جھوٹا ہے"، بلکہ یہ الفاظ استعمال کیے: "ناصِیَةٍ کَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ" (وہ پیشانی جو جھوٹی ہے اور خطا کار ہے)۔
صدیوں تک مفسرین اور عربی زبان کے ماہرین اس آیت پر غور کرتے رہے کہ "پیشانی" کا جھوٹ یا گناہ سے کیا تعلق؟ پیشانی تو گوشت اور ہڈی کا ایک ٹکڑا ہے۔ جھوٹ تو انسان بولتا ہے۔ بظاہر یہ ایک استعارہ لگتا تھا۔
لیکن آج اکیسویں صدی میں، میڈیکل سائنس اور اناٹومی نے اس استعارے کے پیچھے چھپی حیران کن حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
جدید سائنس نے جب انسانی دماغ کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ ہماری کھوپڑی کے بالکل سامنے والے حصے (پیشانی) کے اندر دماغ کا ایک خاص حصہ ہوتا ہے جسے "پری فرنٹل کارٹیکس" (Prefrontal Cortex) کہا جاتا ہے۔
یہ دماغ کا "سی ای او" (CEO) ہے۔ سائنسدانوں نے فنکشنل ایم آر آئی (fMRI) اسکینز کے ذریعے دریافت کیا ہے کہ یہ حصہ انسان کی شخصیت، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی (Decision Making) کا مرکز ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں "جھوٹ" تخلیق ہوتا ہے۔
جب کوئی انسان سچ بولتا ہے تو دماغ کا یہ حصہ نارمل رہتا ہے، لیکن جوں ہی انسان جھوٹ بولنے کا ارادہ کرتا ہے یا کوئی غلط کام (گناہ) کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے، تو دماغ کے اسی پیشانی والے حصے میں شدید برقی سرگرمی (Electrical Activity) شروع ہو جاتی ہے۔ اگر اس حصے کو نکال دیا جائے یا یہ ناکارہ ہو جائے، تو انسان اخلاقی فیصلے کرنے اور جھوٹ گھڑنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے:
ساتویں صدی عیسوی کے عرب کے صحرا میں، جہاں سرجری اور نیورو سائنس کا کوئی تصور بھی نہ تھا، وہاں نازل ہونے والی کتاب نے گناہ اور جھوٹ کی نسبت "دل" یا "زبان" کے بجائے "پیشانی" کی طرف کیوں کی؟
اگر یہ کتاب کسی انسانی ذہن کی تخلیق ہوتی، تو وہ "جھوٹا آدمی" کہتا۔ لیکن خالقِ کائنات نے وہ لفظ چنا جو اناٹومی (Anatomy) کے اعتبار سے 100 فیصد درست ہے۔ اس نے جھوٹ کے "منبع" (Source) کی نشاندہی کی۔
یہ ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن (نعوذ باللہ) پرانے قصوں کی کتاب ہے۔ کیا کوئی انسانی عقل 1400 سال پہلے دماغ کے اس باریک ترین فنکشن کو جان سکتی تھی؟
یہ آیت اس بات کی حتمی دلیل ہے کہ قرآن اسی ذات کا کلام ہے جس نے اس دماغ کو تخلیق کیا اور جو جانتا ہے کہ انسان کے خیالات اور گناہ کہاں جنم لیتے ہیں۔

ویجائنا یا بچہ دانی (uterus) نہ ہو تو لڑکی کا کیا کریں؟ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی “سنا کچھ تم نے؟”“کیا؟”“عشرت کی منجھلی اٹھارہوی...
18/12/2025

ویجائنا یا بچہ دانی (uterus) نہ ہو تو لڑکی کا کیا کریں؟

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

“سنا کچھ تم نے؟”

“کیا؟”

“عشرت کی منجھلی اٹھارہویں میں لگ گئی اور اب تک ماہواری شروع نہیں ہوئی “

“ہائے یہ کیا غضب ہوا؟ کیا وجہ ہوئی آخر؟”

“سنا ہے اس کے جسم میں بچے دانی / رحم ہی نہیں ہے”

“یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی لڑکی کا رحم ہی نہ ہو؟ اے بہن وہ تو ہیجڑا ہوئی نا پھر “

“ہیجڑوں جیسی لگتی تو نہیں ہے۔ نازک نین نقش بھی لڑکیوں والے ہیں، آواز بھی مہین سی ہے۔ لڑکی دکھتی ہے بھئی”

“لو اور سنو، ماہواری کے بنا کسی کو عورت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ہیجڑوں کے یہی تو مسائل ہوتے ہیں، نہ ادھر کے، نہ ادھر کے”

کسی محفل میں یہ گفتگو ہم نے اتفاقاً سن لی جس کی تپش روح تک جا پہنچی اور ہم نے بے اختیار سوچا کہ کیا عورت بچے دانی/ رحم کے بغیر کچھ بھی نہیں؟ اگر عورت کو بچے دانی/ رحم کی میزان میں ہی تول کر اس کی حیثیت کا فیصلہ کرنا ہے تب تو ہر لڑکی کی پیدائش پہ مبارک بھی کچھ یوں دینی چاہئیے

“مبارک ہو، آپ کے گھر بچے دانی آئی ہے”

برا مت مانئیے اور شرمائیے بھی نہیں کیونکہ یہی تو ہیں ہمارے معاشرے کی اقدار جہاں پاجامے کے اندر کی دنیا انسان کے مقام کا تعین کرتی ہے۔

ایک سوچ در آتی ہے، اگر بچے دانی/ رحم کا خالق کچھ خام مال زمین پہ بھیج دیتا ہے تو اس کا حساب کتاب اس انسان سے کیوں؟

ہمیں بے اختیار وہ بچی یاد آگئی جس کی پریشان حال ماں اسے ہسپتال لے کر آئی تھی۔

ڈری سہمی سولہ سترہ سالہ بچی اس سوال کے عذاب سے بارہا گزر چکی تھی کہ اسے ماہواری کیوں نہیں آتی؟ اس کے ساتھ کی سب لڑکیاں ماہواری کے مرحلے سے گزر چکی تھیں۔ سو اس کے لئے مسلہ کیا تھا آخر؟

بچی کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بنا کسی جرم کے وہ سزا کاٹ رہی تھی اور نہ جانے کب تک بے شمار سوال و جواب کا نشانہ بننا اس کا مقدر تھا۔

الٹراساؤنڈ کی مشین نے جسم کے اندر کا حال کھول کر بیان کر دیا تھا جس کی تائید ایم آر آئی (MRI) نے بھی کی تھی۔ بچی کے جسم میں بیضہ دانیاں یا اووریز تو موجود تھیں لیکن پیدائشی نقص کے طور پہ بچے دانی یا رحم نہ ہونے کے برابر، بہت ہی چھوٹے حجم کے ساتھ، بس اصل کی بجائے اس کی نشانی ہی سمجھیے۔

بیرونی جنسی اعضا کسی کمی بیشی کے بغیر اپنی اصلی ہئیت میں تھے۔

ہمارے لئے اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کروموسومز چیک کروائے جائیں تاکہ گڑبڑ کی بنیاد پتہ چل سکے۔ لیجئیے جناب کروموسومز کا نتیجہ نکلا، 46 XX , یعنی جنیاتی طور پہ عورت !

تصویر اب مکمل ہو چکی تھی۔

ایک عورت جو دیکھنے میں عورت نظر آرہی ہے۔ ماں باپ کی طرف سے حاصل کردہ کروموسومز بھی ٹھیک ہیں ۔ ہارمونز بھی موجود ہیں کہ چھاتی بن چکی ہے۔ لیکن رحم یا بچے دانی غائب یا نہ ہونے کے برابر…… لیجئے جناب معمہ حل ہو چکا۔ اس صورت حال کو مئیر روکیٹینسکی کسٹر ہاسر سنڈروم کہتے ہیں (Mayer-Rokitansky-Küster-Hauser Syndrome)

یہ طویل اور مشکل نام ان چار ڈاکٹرز کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اس بیماری کو شروع میں دریافت کیا اور دنیا کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

حمل کے ابتدائی مرحلے میں جب اعضا بن رہے ہوتے ہیں اور جسم یہ تعین کر رہا ہوتا ہے کہ جنیٹک کوڈنگ کے مطابق کیا کچھ بنے گا؟ اس وقت کروموسومز نارمل ہونے کے باوجود متعلقہ جینز میں کچھ ایساردوبدل یا میوٹیشن ہوتی ہے کہ رحم اور ویجائنا یا تو بن ہی نہیں پاتے، یا بے حد چھوٹے سائز کے بنتے ہیں۔

ایم آر کے ایچ (MRKH) سنڈروم پانچ ہزار بچیوں میں سے ایک کو ہو سکتا ہے۔ سنڈروم کی علامات میں کافی ورائٹی پائی جاتی ہے لیکن ایک عنصر جو سب میں لازم ہوتا ہے، وہ ہے ماہواری کا نہ آنا۔

ایسی بچیوں کی تشخیص کا مرحلہ بلوغت کے وقت ہی سامنے آتا ہے جب بظاہر نارمل نظر آنے والی لڑکی کو ماہواری شروع نہیں ہوتی اور ماں باپ کے لئے یہ سوال عذاب بن جاتا ہے کہ اب کیا ہو گا؟

اس سوال کی شدت اور اذیت کا مقابلہ کسی بھی اور صورت حال سے نہیں کیا جا سکتا کہ معاشرہ انسان کو انسان اس وقت تک نہیں سمجھتا جب تک صنفی شناخت کی مہر مکمل نہ ہو۔

صنفی شناخت میں کجی ویسی ہی ہے جیسے جام کے بقیہ اعضا میں کوئی کمی بیشی ہو۔ جس طرح معاشرہ لنگڑے پن، لولے پن، اندھا ہونے کو قبول کرتا ہے اسی طرح ماہواری کے نہ آنے یا رحم کی غیر موجودگی کے ساتھ بھی بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

بس معاشرے کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ ضروری نہیں کہ ہر عورت حاملہ ہو سکے۔ ایسے لوگوں کے لئے جدید سائنس نے بچہ پیدا کرنے کا خواب تو پورا کر دکھایا ہے اگر بیضہ دانی سے انڈہ لے کر سروگیٹ عورت کے رحم میں رکھوانا قبول ہو تو۔ اور اگر بچہ نہیں چاہئیے تو پھر ویسے ہی ستے خیراں!

مان لیجئے کہ ڈی ایس ڈی Disorders of sexual differentiation کے متعلق آگہی ہر گھر کی ضرورت ہے وہ گھر چاہے چیچو کی ملیاں میں ہو یا ڈیفنس میں۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

17/12/2025

🌿 دھاتی زیورات سے الرجی

(Metal Allergy / Contact Dermatitis)

بہت سے لوگ جب دھاتی زیورات استعمال کرتے ہیں—جیسے انگوٹھی، بالیاں، چین، بریسلیٹ یا گھڑی—تو کچھ ہی دیر میں جلد پر خارش، لالی یا دانے بن جاتے ہیں۔ یہ حالت "میٹل الرجی" یا "کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس" کہلاتی ہے۔

---

🔍 دھاتی زیورات سے الرجی کیوں ہوتی ہے؟

عمومی طور پر الرجی Nickel (نِکل) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
زیادہ تر سستے یا مصنوعی زیورات میں نِکل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
کچھ لوگوں میں Copper (تانبا)، Chromium (کرومیم) یا Cobalt سے بھی الرجی دیکھی جاتی ہے۔

جب یہ دھاتیں جلد کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہیں، تو مدافعتی نظام انہیں نقصان دہ سمجھ کر الرجی کی علامات پیدا کرتا ہے۔

---

📌 علامات (Symptoms)

دھاتی زیورات پہننے کے چند گھنٹوں یا دنوں بعد درج ذیل علامات ظاہر ہوسکتی ہیں:

1️⃣ جلد پر لالی
2️⃣ خارش یا جلن
3️⃣ چھوٹے چھوٹے پانی والے دانے
4️⃣ جلد خشک ہو کر پھٹنا
5️⃣ زیور والی جگہ کا سوج جانا
6️⃣ مسلسل الرجی کی صورت میں جلد کا کالا یا موٹا ہونا

اکثر یہ علامات کان کی لَول، انگلیوں، گردن، کلائی یا ناف کے آس پاس ظاہر ہوتی ہیں۔

---

🧪 کن لوگوں میں یہ الرجی زیادہ ہوتی ہے؟

حساس جلد والے افراد

وہ لوگ جو روزمرہ میں دھاتی زیورات زیادہ پہنیں

جنہیں پہلے سے ایگزیما یا اسکن الرجی رہی ہو

خواتین میں نِکل الرجی زیادہ پائی جاتی ہے

---

🛑 کن دھاتوں سے سب سے زیادہ الرجی ہوتی ہے؟

1️⃣ Nickel (نِکل) – سب سے عام
2️⃣ Copper (تانبا)
3️⃣ Chromium
4️⃣ Cobalt
5️⃣ Mixed alloys (مختلف دھاتوں کا ملاپ)

---

🩺 علاج (Treatment)

✔ فوری علاج

متاثرہ جگہ کو صابن سے دھو کر خشک کریں

Anti-allergic cream یا Hydrocortisone لگائی جا سکتی ہے

اگر بہت خارش ہو تو ڈاکٹر کی ہدایت پر antihistamine لیا جا سکتا ہے

زیور فوراً اتار دیں

✔ گھریلو علاج

ناریل تیل

ایلوویرا جیل

ٹھنڈی پٹی (cold compress)

زیتون کا تیل

یہ سب جلد کو آرام دیتے ہیں اور سوزش کم کرتے ہیں۔

---

🌿 ہومیوپیتھک ادویات (اگر چاہیں)

نوٹ: صحیح دوا ہمیشہ مکمل کیس کے مطابق دی جاتی ہے
عمومی طور پر درج ذیل دوائیں فائدہ دیتی ہیں:

Sulphur

Graphites

Rhus tox

Mezereum

Natrum mur

Calcarea carb

Arsenicum album

Petroleum

Hepar sulph

Lycopodium

Sepia

Thuja

Merc Sol

Apis mellifica

🛡 بچاؤ (Prevention)

نِکل فری یا hypoallergenic زیورات استعمال کریں

سونے یا چاندی کے زیورات پہنیں (خالص)

دھاتی گھڑی یا بریسلیٹ کے نیچے transparent nail polish لگا دیں

زیور نرم کپڑے سے صاف کرتے رہیں

لمبے وقت تک پسینہ آنے کی حالت میں زیور نہ پہنیں

---

📌 کب ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟

اگر الرجی 3–5 دن میں ٹھیک نہ ہو

پانی والے چھالے بن جائیں

بخار، شدید سوجن یا پیپ ہو

الرجی بار بار واپس آئے
















Copied

HDr.seema Saeed
What's app Online clinic 03310242426

Address

Karachi
75850

Opening Hours

Monday 20:00 - 22:00
Tuesday 20:00 - 22:00
Wednesday 20:00 - 22:00
Thursday 20:00 - 22:00
Friday 20:00 - 17:00

Telephone

+923310242426

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Seema Saeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Seema Saeed:

Share

Category