16/06/2026
آج ایک couple (میاں بیوی ) موٹاپے کی دوا کے سلسلے میں مطب پر آئے۔ حالات دونوں کے کپڑوں اور چہرے سے عیاں تھے۔ دونوں میاں بیوی کا وزن کچھ زیادہ تھا اور ان کے ساتھ دو ننھے بچے بھی تھے جو دکان میں کھیل کود میں مصروف ہو گئے ۔ گفتگو کے دوران خاتون نے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"حکیم صاحب! انہیں بھی سمجھائیں، یہ لڑتے بہت ہیں اور اپنی صحت کا بھی بالکل خیال نہیں رکھتے۔ بھینسوں کے لیے چارہ لینے جانا ہو یا ڈیرے پر جانا ہو، ہر جگہ موٹرسائیکل پر جاتے ہیں، پیدل نہیں چلتے ۔اپنی صحت کا خیال نہی رکھتے
میں نے مسکرا کر ان دونوں کو مخاطب کیا اور کہا
"آپ دونوں کی عمر تقریباً 30 سے 35 سال ہے، اور ماشاء اللہ آپ کے یہ بچے ابھی تین چار سال کے ہیں۔ ایک بات غور سے سنیں۔ کیا آپ نے اپنے اردگرد ایسے بچے نہیں دیکھے جن کے والد دنیا سے چلے گئے ہوں؟"
انہوں نے جواب دیا: "جی، بہت سے۔"
میں نے کہا:
"رشتہ دار اور محلے دار یقیناً ایسے بچوں کو بھوکا مرنے نہیں دیتے کسی نہ کسی طرح روٹی کا انتظام ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک باپ جو اپنے بچوں کے مستقبل، تعلیم ، کئیر پلاننگ شخصیت سازی میں کردار ادا کرتا ہے، وہ کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکتا۔اس لیے اب صرف اپنے لیے نہیں، اپنے بچوں کے لیے جئیں۔ ان کے لیے اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ دواؤں پر انحصار کم کریں اور اپنی روزمرہ زندگی کو بہتر بنائیں۔
روزانہ کچھ وقت پیدل چلنے کے لیے نکالیں، ورزش کریں، چکنائی، میٹھے اور مصنوعی چیزوں سے پرہیز کریں، نیند پوری کریں اور جلد سونے کی عادت اپنائیں۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ مہینے میں ایک بار اپنے بجٹ کے مطابق گھر والوں کو کہیں باہر لے جائیں، کھانا کھائیں، ہنسیں بولیں اور اپنے بچوں کے بچپن کو انجوائے کریں، کیونکہ یہ وقت دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔
یقین جانیں، اس کے ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بندہ ایک دن تازہ ہو جاتا ہے نئی توانائی محسوس کرتا ہے ۔
اور غربت کا رونا رونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں۔ کوئی دوسرا آ کر آپ کی زندگی نہیں بدل سکتا۔ لوگ زیادہ سے زیادہ اتنی مدد کر سکتے ہیں کہ وقتی ضرورت پوری ہو جائے، لیکن اپنی کلاس بدلنے کے لئیے کوشش بحرحال خود ہی کرنا پڑتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت مند ہاتھ پاؤں دیے ہیں، کام کرنے کی طاقت دی ہے اور بظاہر کسی بڑی جسمانی معذوری میں مبتلا نہیں کیا۔ لہٰذا خود کو سنواریں، اپنی صحت بہتر بنائیں یہ یاد رکھیں کہ اب ہمیں اپنے بچوں کے لئیے جینا ہے ۔
حکیم مظفر علی زیدی