Shahnaz Bibi Consultant Speech Language Pathologist -

Shahnaz Bibi Consultant Speech Language Pathologist - Shahnaz Bibi is an Audiologist and speech language pathologist

Types of Speech Therapyاسپیچ تھراپی کی اقسام1۔ آرٹیکیولیشن تھراپی (Articulation Therapy)کیا ہے؟ بچوں کو آوازیں اور الفاظ...
04/06/2026

Types of Speech Therapy
اسپیچ تھراپی کی اقسام

1۔ آرٹیکیولیشن تھراپی (Articulation Therapy)
کیا ہے؟ بچوں کو آوازیں اور الفاظ صحیح طریقے سے ادا کرنا سکھاتی ہے۔
توجہ:
ر (R)، س (S)، ل (L)، ش (SH)، ج (J) جیسی آوازوں کی درست ادائیگی
فائدے:
الفاظ واضح بولنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسروں کو بات آسانی سے سمجھ آتی ہے۔

2۔ فونولوجیکل تھراپی (Phonological Therapy)
کیا ہے؟ غلط آوازوں کے پیٹرن کو درست کرتی ہے۔
توجہ:
غلط بولے گئے الفاظ کو صحیح بنانا
مثال:
tat → cat
top → stop
فائدے:
تلفظ بہتر ہوتا ہے۔
بچے الفاظ زیادہ درست بولتے ہیں۔

3۔ لینگویج تھراپی (Language Therapy)
کیا ہے؟ بچوں کو زبان سمجھنے اور استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔
توجہ:
الفاظ کا ذخیرہ بڑھانا
جملے بنانا
سوالات کے جواب دینا
کہانیاں سنانا
فائدے:
بچے اپنی بات بہتر انداز میں بیان کرتے ہیں۔
دوسروں کی بات زیادہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

4۔ فلوئنسی تھراپی (Fluency Therapy)
کیا ہے؟ ہکلاہٹ یا اٹک اٹک کر بولنے کے مسئلے پر کام کرتی ہے۔
توجہ:
آہستہ اور روانی سے بولنا
سانس پر کنٹرول
اعتماد بڑھانا
فائدے:
بولنے میں روانی آتی ہے۔
گفتگو میں اعتماد بڑھتا ہے۔

5۔ وائس تھراپی (Voice Therapy)
کیا ہے؟ آواز کی کوالٹی، پچ اور بلندی کو بہتر بناتی ہے۔
توجہ:
صاف آواز پیدا کرنا
آواز کا درست استعمال
صحت مند وائس عادات
فائدے:
آواز مضبوط، صاف اور واضح ہوتی ہے۔

6۔ اورل موٹر تھراپی (Oral-Motor Therapy)
کیا ہے؟ ہونٹوں، زبان اور جبڑے کی حرکت اور طاقت بہتر بناتی ہے۔
توجہ:
پھونک مارنے کی مشقیں
ہونٹوں کی ورزش
زبان کی ورزش
چبانے کی مشق
فائدے:
کھانے اور چبانے میں آسانی ہوتی ہے۔
بولنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
منہ کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں۔

توجہ حاصل کرنا سکھانایہ کیوں سکھائیں؟کچھ بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے چیختے، روتے، مارتے یا کھینچتے ہیں کیونکہ انہیں ابھی ص...
22/05/2026

توجہ حاصل کرنا سکھانا

یہ کیوں سکھائیں؟
کچھ بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے چیختے، روتے، مارتے یا کھینچتے ہیں کیونکہ انہیں ابھی صحیح طریقے سے مانگنا نہیں آتا۔
بچے کو آسان طریقے سے توجہ مانگنا سکھانے سے اس کی کمیونیکیشن بہتر ہوتی ہے اور frustration کم ہوتی ہے۔
سادہ مقصد
بچے کو مناسب طریقے سے یہ کہنا یا دکھانا سکھائیں:
“Excuse me”
“میرے ساتھ کھیلیں”
“دیکھیں”
“ماما”
آہستہ سے کندھے پر ہاتھ رکھنا
ہاتھ اٹھانا
AAC / اشارہ / کارڈ استعمال کرنا
آسان Teaching Steps
1
بچے کے قریب بیٹھیں۔
2
توجہ دینے سے پہلے تھوڑا انتظار کریں۔
3
بچے کو صحیح طریقے سے مانگنے میں مدد دیں۔
مثال: “ماما” کہو۔
4
جب بچہ صحیح طریقے سے توجہ مانگے تو فوراً رسپانس دیں۔
مسکرائیں، بات کریں، کھیلیں یا اس کی طرف دیکھیں۔
5
روزانہ کئی بار مختصر پریکٹس کروائیں۔

Helpful Tips
شروع میں فوراً رسپانس دیں تاکہ بچہ تعلق سمجھ سکے۔
لمبے جملوں سے پہلے آسان attention phrases سکھائیں۔
مختلف لوگوں اور جگہوں پر پریکٹس کروائیں۔
اچھے طریقے سے مانگنے پر بچے کی تعریف کریں۔
مثال:
“Very good!”
“آپ نے بہت اچھے طریقے سے attention لی!”
اگر Problem Behaviors ہوں
چیخنے، رونے یا کھینچنے پر بہت زیادہ توجہ نہ دیں۔
اس کے بجائے:
پرسکون رہیں
صحیح طریقہ remind کروائیں
جب بچہ صحیح انداز استعمال کرے تو attention دیں
یاد رکھیں
Communication ہمیشہ problem behavior سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
جب بچے آسان طریقے سے attention لینا سیکھ جاتے ہیں تو interaction زیادہ آسان اور خوشگوار ہو جاتی ہے۔

Colorful commands for kids' learning
20/05/2026

Colorful commands for kids' learning

آٹزم والے بچوں کی روزمرہ زندگی میں مدد کے آسان طریقے“اس کے بجائے یہ طریقہ آزمائیں”1. جوتوں کے تسمے باندھنے کے بجائے:ویلک...
19/05/2026

آٹزم والے بچوں کی روزمرہ زندگی میں مدد کے آسان طریقے

“اس کے بجائے یہ طریقہ آزمائیں”
1. جوتوں کے تسمے باندھنے کے بجائے:
ویلکرو والے جوتے استعمال کریں
بغیر باندھنے والے ایلاسٹک تسمے استعمال کریں
زِپ والے جوتے پہنائیں
پہلے کھلونوں والے بورڈ پر پریکٹس کروائیں
2. بٹن لگانے والے کپڑوں کے بجائے:
میگنیٹ والے بٹن استعمال کریں
اوپر سے پہننے والی شرٹس پہنائیں
بڑے بٹن والے کپڑے دیں
ڈریسنگ بورڈ یا گڑیا پر پریکٹس کروائیں
3. عام پنسل سے لکھنے کے بجائے:
موٹی پنسل یا پنسل گرِپ استعمال کریں
مارکر یا کریون دیں
ٹیبلٹ یا کی بورڈ پر ٹائپ کروائیں
ٹریسنگ والی ایپس استعمال کریں
4. خود چمچ استعمال کرنے کے بجائے:
خاص خم والے چمچ استعمال کریں
موٹے ہینڈل والے چمچ دیں
شروع میں ہاتھ پکڑ کر مدد کریں
دہی جیسی گاڑھی چیزوں سے پریکٹس کروائیں
5. بار بار زبانی یاد دہانی کے بجائے:
تصویری شیڈول استعمال کریں
ٹائمر یا الارم لگائیں
تصویری کارڈ استعمال کریں
ٹوائلٹ ٹریننگ کی روٹین بنائیں
6. صرف بول کر مانگنے پر زور دینے کے بجائے:
تصویری کارڈ استعمال کریں
اشارے یا سائن سکھائیں
AAC ایپس یا ڈیوائس استعمال کریں
پہلے پوائنٹ کرنا سکھائیں
7. عام قینچی کے بجائے:
آسان کھلنے والی قینچی دیں
لوپ قینچی استعمال کریں
پہلے کاغذ پھاڑنے کی پریکٹس کروائیں
8. خود ٹوتھ پیسٹ نکالنے کے بجائے:
پمپ والا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
پہلے سے برش پر پیسٹ لگا دیں
چھوٹی ٹیوب استعمال کریں جو آسانی سے پکڑی جا سکے
9. کھانے کے وقت زیادہ دیر بٹھانے کے بجائے:
پہلے تھوڑی دیر بٹھائیں
ویژول ٹائمر استعمال کریں
درمیان میں موومنٹ بریک دیں
پاؤں یا کرسی کی سپورٹ دیں
10. فوراً مکمل شاور دینے کے بجائے:
پہلے اسپنج باتھ کروائیں
ایک وقت میں جسم کا ایک حصہ دھوئیں
تصویری باتھ روٹین بنائیں
پسندیدہ کھلونے یا موسیقی استعمال کریں
11. مختلف موزے ملانے کے بجائے:
ایک جیسے موزے خریدیں
رنگوں کے حساب سے جوڑے بنائیں
الگ الگ ڈبوں میں رکھیں
12. صرف زبانی روٹین یاد کروانے کے بجائے:
تصویری شیڈول استعمال کریں
“پہلے یہ، پھر یہ” بورڈ استعمال کریں
چیک لسٹ بنائیں
تصویری روٹین استعمال کریں
13. سخت ڈبے کھلوانے کے بجائے:
آسانی سے کھلنے والے ڈبے دیں
پہلے ڈھکن تھوڑا ڈھیلا کریں
بڑے ڈبوں سے پریکٹس کروائیں
14. مشکل اور لمبے کام دینے کے بجائے:
کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں
تصویری ہدایات دیں
ایک ہی جگہ صفائی کا سسٹم رکھیں
15. لمبے ہاتھ سے لکھنے والے جواب کے بجائے:
ٹائپنگ کی اجازت دیں
اسپیچ ٹو ٹیکسٹ استعمال کریں
ملٹی پل چوائس دیں
جواب پر پوائنٹ کرنے دیں
16. زبردستی آئی کانٹیکٹ کروانے کے بجائے:
قریب دیکھنا بھی ٹھیک ہے
سننے اور جواب دینے پر توجہ دیں
ساتھ بیٹھ کر بات کریں
17. لمبی باہر کی ٹرپس کے بجائے:
چھوٹی ٹرپس سے آغاز کریں
ضرورت ہو تو ہیڈفون دیں
پسندیدہ چیز ساتھ رکھیں
کم رش والے وقت میں باہر جائیں
💙 والدین کے لیے اہم پیغام:
ہر بچہ مختلف ہوتا ہے، اور مختلف ہونا غلط نہیں۔
اصل مقصد بچے کی خودمختاری، کمیونیکیشن، حفاظت اور بہتر زندگی ہے۔

بچوں میں اسپیچ ساؤنڈ ڈیولپمنٹ(بچے مختلف آوازیں کس عمر تک سیکھ لیتے ہیں)ہر اسپیچ ساؤنڈ کی ایک متوقع عمر ہوتی ہے جس تک زیا...
19/05/2026

بچوں میں اسپیچ ساؤنڈ ڈیولپمنٹ

(بچے مختلف آوازیں کس عمر تک سیکھ لیتے ہیں)
ہر اسپیچ ساؤنڈ کی ایک متوقع عمر ہوتی ہے جس تک زیادہ تر بچے وہ آواز صحیح بولنا سیکھ لیتے ہیں۔
یہ عمر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بچہ آواز کو لفظ کے شروع، درمیان یا آخر میں صحیح ادا کر سکتا ہے۔

🔹 3 سال کی عمر تک:
بچے عموماً یہ آوازیں بول لیتے ہیں:
پ، ب، د، م، ن، ہ، و

🔹 4 سال کی عمر تک:
یہ آوازیں واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں:
گ، ک، ف، ت، نگ، ی

🔹 5 سال کی عمر تک:

بچے اکثر یہ ساؤنڈز صحیح بول لیتے ہیں:
v, j, s, ch, l, sh, z

🔹 6 سال کی عمر تک:
یہ نسبتاً مشکل آوازیں آ جاتی ہیں:
r، zh، voiced th

🔹 7 سال کی عمر تک:
زیادہ تر بچے یہ آواز بھی صحیح ادا کرنے لگتے ہیں:
voiceless th

⚠️ یاد رکھیں:
ہر بچے کی نشوونما مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی بچے کو آوازیں بولنے میں زیادہ مشکل ہو، الفاظ واضح نہ ہوں یا عمر کے حساب سے اسپیچ ڈیولپمنٹ پیچھے لگے تو اسپیچ تھراپسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔
📚 حوالہ:
Crowe & McLeod (2020)
American Journal of Speech-Language Pathology

اسپیچ ڈیلے آٹزم نہیں ہےیہ ایک زبان کی خرابی (Language Disorder) ہے۔اسپیچ ڈیلے آٹزم سے مختلف ہوتا ہے اور اسے آٹزم کے ساتھ...
19/05/2026

اسپیچ ڈیلے آٹزم نہیں ہے
یہ ایک زبان کی خرابی (Language Disorder) ہے۔
اسپیچ ڈیلے آٹزم سے مختلف ہوتا ہے اور اسے آٹزم کے ساتھ کنفیوز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی زبان کی خرابی ہے جو بچے کی مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر اس کی جلد تشخیص اور تھراپی شروع کر دی جائے تو بچے کی اسپیچ اور کمیونیکیشن اسکلز میں کافی بہتری آ سکتی ہے۔
اسپیچ اور لینگویج ڈس آرڈر کی اقسام

1. Expressive Language Disorder
(اظہارِ زبان میں مشکل)
الفاظ کا کم ذخیرہ
جملے بنانے میں مشکل
مناسب لفظ یاد نہ آنا
چھوٹے اور سادہ جملے
گرامر کی غلطیاں

2. Receptive Language Disorder
(سمجھنے کی زبان میں مشکل)
بولی گئی بات سمجھنے میں مشکل
ہدایات فالو کرنے میں مشکل
کہانی سمجھنے میں مشکل
سنی ہوئی معلومات پراسیس کرنے میں دشواری
مشکل جملے سمجھنے میں دقت

3. Phonological Disorder
(آوازوں کے استعمال کی خرابی)
آوازوں کی تبدیلی
کنسوننٹ بلینڈز میں مشکل
فونولوجیکل پراسیسز
آوازوں میں فرق نہ کر پانا
لفظ کے سلیبل اسٹرکچر میں غلطی

4. Articulation Disorder
(حروف کی ادائیگی کی خرابی)
مخصوص آوازیں صحیح ادا نہ ہونا
آوازوں کی تبدیلی
آوازیں چھوڑ دینا
الفاظ کا غیر واضح تلفظ
زبان کی حرکت میں مشکل

5. Apraxia of Speech
(تقریر کی موٹر پلاننگ کی خرابی)
آوازوں کی غیر مستقل غلطیاں
بولنے کی حرکات میں ہم آہنگی کی کمی
آوازوں کی ترتیب میں مشکل
بولنے میں زیادہ محنت لگنا
نقل کرکے بولنے میں مشکل

30  دن کا مثبت ڈسپلن چیلنج  —  پہلا دنموضوع: سزا اور ڈسپلن میں فرق — ہم راستہ کیوں بدل رہے ہیں؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ...
12/05/2026

30 دن کا مثبت ڈسپلن چیلنج — پہلا دن
موضوع: سزا اور ڈسپلن میں فرق — ہم راستہ کیوں بدل رہے ہیں؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب ہم بچے کو سزا دیتے ہیں تو وہ اصل میں کیا سیکھتا ہے؟

ہمیں لگتا ہے کہ سزا دینے سے بچہ "سُدھر" جائے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سزا (Punishment) کا سارا مرکز ماضی پر ہوتا ہے؛ یعنی جو غلطی ہو چکی، اس پر بچے کو درد، خوف یا شرمندگی کا احساس دلا کر اس کا بدلہ لیا جائے۔ یہ غصے اور کنٹرول کی ایک علامت ہے جس کا مقصد بچے کو اپنی طاقت کے سامنے جھکانا ہوتا ہے۔

دوسری طرف، ڈِسپلن (Discipline) کا اصل مطلب ہی "سکھانا" ہے۔ اس کا مرکز مستقبل کی بہتری اور بچے کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا ہے۔ یہ ہمدردی اور رہنمائی کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ بچہ کسی ڈر کے بغیر، شعوری طور پر اپنی اصلاح کرنا سیکھے۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جب بچے کو جسمانی سزا دی جاتی ہے، تو اس کا دماغ "Fear Mode" میں چلا جاتا ہے جہاں سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ ایسا بچہ آپ کا احترام نہیں کرتا بلکہ آپ سے دور ہونے لگتا ہے۔ وہ آپ کے سامنے تو شاید ٹھیک ہو جائے، لیکن آپ کی غیر موجودگی میں وہی غلطی دوبارہ کرے گا کیونکہ اس نے بدتمیزی کے پیچھے چھپی وجہ کو نہیں سمجھا بلکہ صرف مار سے بچنا سیکھا ہے۔

آج سے ہم اپنا راستہ بدل رہے ہیں۔ جب بھی آپ کا بچہ کوئی ایسی حرکت کرے جس پر آپ کو غصہ آئے، تو ہاتھ اٹھانے یا چیخنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال ضرور کریں: "کیا میں اس وقت اسے کوئی سبق سکھانا چاہتا ہوں یا صرف اپنا غصہ نکالنا چاہتا ہوں؟"

آج کا خیال:
اگر بچہ کوئی نقصان کر دے، تو اسے ڈانٹنے کے بجائے پیار سے اپنے ساتھ شامل کریں اور مل کر اسے ٹھیک کریں۔ اس سے بچہ اپنی غلطی چھپانے کے بجائے اس کی ذمہ داری لینا سیکھے گا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Copied

11/05/2026
🌸 “میرا بچہ بہت Hyper Active ہے… میں کیا کروں؟”آج کل بہت سے parents اپنے بچوں کے بارے میں یہی کہتے ہیں:“یہ ایک جگہ بیٹھت...
08/05/2026

🌸 “میرا بچہ بہت Hyper Active ہے… میں کیا کروں؟”
آج کل بہت سے parents اپنے بچوں کے بارے میں یہی کہتے ہیں:
“یہ ایک جگہ بیٹھتا ہی نہیں…”
“ہر وقت بھاگتا رہتا ہے…”
“ہر چیز کو ہاتھ لگاتا ہے…”
“بہت ضدی اور restless ہے…” 💔
لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیں…
کیا واقعی ہر زیادہ active بچہ “problem child” ہوتا ہے؟
یا پھر وہ صرف ایک ایسا بچہ ہے جس کے اندر energy، curiosity اور emotions بہت زیادہ ہیں؟ 🌱
بچوں کا کام ہی explore کرنا ہوتا ہے۔
وہ دوڑتے ہیں، چیزیں کھولتے ہیں، سوال کرتے ہیں، شور کرتے ہیں…
کیونکہ ان کا دماغ تیزی سے develop ہو رہا ہوتا ہے۔ ✨
کچھ بچے naturally زیادہ energetic ہوتے ہیں۔
انہیں movement کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
وہ زیادہ observe کرتے ہیں، جلد bored ہو جاتے ہیں، اور ہر وقت کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں۔
یہ ہمیشہ bad parenting کی نشانی نہیں ہوتی۔ 🤍
اصل مسئلہ اکثر بچے میں نہیں…
بلکہ ہمارے ماحول، routine اور response میں ہوتا ہے۔
📱 Excessive screen time
😴 کم نیند
🍟 unhealthy diet
🏠 بند ماحول
📣 ہر وقت ڈانٹ
یہ سب بچوں کو مزید hyper اور emotionally frustrated بنا سکتے ہیں۔
بہت سے hyper active بچے اصل میں attention نہیں…
connection مانگ رہے ہوتے ہیں۔ 💛
جب بچے کو ہر وقت یہ سننے کو ملے:
“چپ ہو جاؤ”
“پریشان مت کرو”
“تم بہت badtameez ہو”
تو آہستہ آہستہ وہ خود کو “برا بچہ” سمجھنے لگتا ہے۔ 💔
اور پھر یا تو وہ بہت aggressive ہو جاتا ہے…
یا emotionally دور۔
🌿 ایسے بچوں کے لیے کیا ضروری ہے؟
✨ Daily outdoor play
✨ Physical activities
✨ Predictable routine
✨ Healthy sleep schedule
✨ Calm parenting
✨ Emotional connection
✨ کم screen time
انہیں صرف control کرنے کی کوشش نہ کریں…
انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔ 🌸
جب بچہ بہت excited ہو
تو فوراً چیخنے کے بجائے
پہلے خود calm ہوں… پھر بچے کو regulate کریں۔
کیونکہ بچے اپنے emotions manage کرنا parents سے ہی سیکھتے ہیں۔ 🤍
یاد رکھیں…
ہر loud بچہ badtameez نہیں ہوتا۔
ہر restless بچہ spoiled نہیں ہوتا۔
اور ہر hyper active بچہ “bad child” نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی وہ صرف ایک ایسا بچہ ہوتا ہے…
جسے تھوڑی زیادہ محبت، movement اور understanding کی ضرورت ہوتی ہے۔ 🌷

Copied

Address

Taj Clinics
Karachi
0000

Opening Hours

Monday 16:00 - 22:00
Wednesday 16:00 - 22:00
Friday 16:00 - 22:00

Telephone

+923101141180

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahnaz Bibi Consultant Speech Language Pathologist - posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Shahnaz Bibi Consultant Speech Language Pathologist -:

Shortcuts

Share