Aynn Fatima Writer

Website Contact the practice

Aynn Fatima Writer "خدایا میری عزت کے لیے کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرے فخر کے لیے کافی ہے تو میرا پروردگار ہے۔"
(247)

السلامُ علیکم!یہ تحریر کسی فرد، کسی نام یا کسی مخصوص صفحات و چینلز کے خلاف نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک فکر ہے، ایک دُکھ ہ...
29/07/2026

السلامُ علیکم!

یہ تحریر کسی فرد، کسی نام یا کسی مخصوص صفحات و چینلز کے خلاف نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک فکر ہے، ایک دُکھ ہے جو آج کے آنلائن ماحول کو دیکھ کر دل میں جاگتا ہے۔ میں خود ایک قلم کار ہوں، اسی معاشرے کا حصہ ہوں، اسی دور کی آنکھ سے سب دیکھ رہی ہوں، اسی دور کے شور میں سانس لے رہی ہوں۔ اسی لیے یہ بات الزام نہیں، خود احتسابی ہے۔ یہ تحریر کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کو اس کے اصل مقام کی یاد دہانی کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اشرف المخلوقات بنایا ہے خدارا خود کو جانور مت ثابت کریں۔

آج فیس بک اور یوٹیوب پر ناولوں کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض کہانیاں نہیں رہ گئیں، وہ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک تربیت بن چکا ہے۔ لفظ اب صرف لفظ نہیں رہے، وہ نظریہ بن گئے ہیں۔ جب قلم بے لگام ہو جائے تو وہ صرف کاغذ کو نہیں چیرتا، وہ معاشروں کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس زخم کو وقتی تفریح، ریٹنگ، پیسہ اور ویوز کے نام پر خوبصورت بنا کر پیش کروا رہے ہیں۔

انسان کی فطرت میں تجسس ہے، جذبات ہیں، خواہشات ہیں۔ ادب ان سب کا آئینہ ہوتا ہے، مگر آئینہ اگر دھندلا ہو جائے تو چہرہ بگڑ کر دکھائی دیتا ہے۔ فحش نگاری کو ناول کہنا، گندگی کو حقیقت کہنا اور بے حیائی کو آزادی کے نام پر بیچنا، یہ سب صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور قلم کی آزادی سب سے زیادہ امانت دار ہاتھ مانگتی ہے۔

تربیت کسی کتاب سے نہیں، ماحول سے ہوتی ہے۔ آج ایک نوجوان لڑکی یا لڑکا جب ادب کے نام پر وہ سب پڑھتا ہے جو اس کے ذہن، اس کے جذبات اور اس کے رشتوں کو مسخ کر دے، تو اس کے بعد ہم اس سے اخلاق، حیا اور ضبط کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ الفاظ خاموش ہوتے ہیں مگر اثر چیخ کر بولتا ہے۔ جو کچھ ہم لکھتے ہیں، وہ کسی نہ کسی دل میں گھر کرتا ہے، کسی نہ کسی سوچ کو راستہ دیتا ہے، کسی نہ کسی خواہش کو جگاتا ہے۔

قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں، یہ تربیت کا ہتھیار بھی ہے۔ ایک لکھنے والا اگر یہ کہے کہ وہ صرف لکھ رہا ہے، اثر اس کی ذمہ داری نہیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی زہر بیچ کر کہے کہ پینا یا نہ پینا خریدار کا مسئلہ ہے۔ لفظ جب دل میں اترتا ہے تو وہاں سوال نہیں کرتا، اجازت نہیں مانگتا، بس جگہ بنا لیتا ہے۔ اسی لیے قلم کار کا فرض عام انسان سے کہیں زیادہ حساس ہوتا ہے۔

ہم محبت کو جسم تک محدود کر کے پیش کر رہے ہیں، حالانکہ محبت کا سب سے خوبصورت پہلو وہ احترام ہے جو انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔ محبت وہ لمس ہے جو بغیر چھوئے دل کو تھام لیتا ہے، وہ خاموشی ہے جو شور سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ محبت برہنگی، بے غیرتی کی محتاج نہیں، محبت کو نگاہوں کی بے باکی کی ضرورت نہیں۔ اصل محبت تو وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، گرا نہ دے۔

نکاح کو ہم نے کہانیوں میں، انتقام، قید، بوجھ اور ہوس کی تصویر بنا دیا ہے، حالانکہ نکاح انسان کے جذبات کو عزت دینے کا نام ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو خواہش کو ذمہ داری میں ڈھالتا ہے، محبت کو تحفظ دیتا ہے اور انسان کو تنہائی کے گناہ سے بچاتا ہے۔ جس گناہ سے بچانے خدا نے نکاح کا پاکیزہ اور حیا کے موتی میں بند رشتہ متعارف کیا.. آپ اُس کو اتنی بے حیائی و بے غیرتی سے سرِ عام عُریاں کرکے کیا خدا کا مقابل کر رہے ہیں؟؟؟
ادب اگر نکاح کو قید اور بے راہ روی کو آزادی بنا کر دکھائے گا تو نئی نسل کس راستے کو حق سمجھے گی؟
یہ کم عقل لڑکیاں.. یہ نفس کی غفلت میں ڈوبے لڑکے کس طرح حق پر قائم رہ سکیں گے؟
دشمنی بھی انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہوتی ہے۔ ناولز میں دشمنی کے نام پر جو درندگی دکھائی جا رہی ہے، وہ نہ حقیقت ہے نہ بہادری۔ کسی عورت کی تذلیل، کسی مرد کی حیوانی تصویر کشی، کسی رشتے کی پامالی، یہ سب صرف سنسنی پیدا کرتے ہیں، شعور نہیں۔ طاقت کا اصل اظہار ضبط ہے، اور ضبط وہ صفت ہے جو ادب میں کم اور شور میں زیادہ نظر آنے لگی ہے۔

شرم اور لحاظ کمزوری نہیں، انسان ہونے کی نشانی ہیں۔ جن معاشروں میں لفظوں سے حیا چھین لی جائے، وہاں جسموں سے پردہ بہت جلد اتر جاتا ہے۔ یہ بھول گئے ہیں کہ ہر جملہ عوامی ہوتا ہے، ہر تحریر کسی نہ کسی ذہن کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ جو پڑھنا چاہے پڑھے، جو نہ چاہے نہ پڑھے، ایک آسان مگر غیر ذمہ دارانہ جواز ہے۔
آپ شاید بھول چکے ہوں مگر آپ کا ہر لفظ روز قیامت آپ کے سامنے لاکر کھڑا کیا جائے گا.. اور نہ صرف آپ کے سامنے مگر ہر پڑھنے والا بھی برابر کا شریک ہوگا،

محبت، خواہش، غصہ، انتقام، سب انسانی جذبات ہیں۔ مسئلہ جذبات نہیں، ان کی پیشکش ہے۔ ادب کا کام جذبات کو قابو دینا ہوتا ہے، انہیں بھڑکانا نہیں۔ ایک اچھا لکھنے والا قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ایک غیر ذمہ دار لکھنے والا اسے صرف محسوس کرواتا ہے، بغیر انجام کے، بغیر حد کے۔

ہم میں سے ہر ایک کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ہم کس طرح کا ادب، طریقہ، کلچر اگلی نسل کو دے رہے ہیں۔ وہ راستہ جو عورت کو محض جسم بنا دے، مرد کو درندہ دکھائے، رشتوں کو کھیل بنا دے، اور اتنے قبیح و کبیرہ گناہوں کو نارملائز کر دے؟ یا وہ ادب جو احساس جگائے، انسان کو انسان کے قریب لائے، محبت کو باوقار بنائے اور خواہش کو حد میں رکھے؟

یہ تحریر کسی فتویٰ کا اعلان نہیں، بحیثیتِ شعیہ مسلمان ایک فکر ہے، ایک ذمہ داری اور احساس... ایک دعا ہے۔ دعا اس لیے کہ شاید کسی ایک دل میں یہ بات اتر جائے کہ قلم امانت ہے، اور امانت میں خیانت صرف دنیا میں نہیں، آخرت میں بھی جواب مانگتی ہے۔ ہم سب غلطی کر سکتے ہیں، میں بھی، آپ بھی۔ مگر غلطی پر اصرار اور اصلاح سے انکار اصل جرم ہوتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتی کہ ادب میں تلخی نہ ہو، حقیقت نہ ہو، اندھیرا نہ ہو۔ اندھیرا دکھانا جرم نہیں، اندھیرے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا جرم ہے۔ زخم دکھانا شفا کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر زخم کو لذت بنا دینا ظلم ہے۔

اگر یہ تحریر کسی ایک لکھنے والے کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ وہ اگلی لائن لکھنے سے پہلے ایک لمحہ رک جائے، تو میرا مقصد پورا ہو گیا۔ ہم سب اس معاشرے کے ذمہ دار ہیں، اور قلم کار اس ذمہ داری میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ لفظوں کی عزت کیجیے، یہ آپ کی بھی عزت کریں گے۔ احساس کو زندہ رکھیے، یہی انسان ہونے کی دلیل ہے۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ مجھ سے میرے قارئین کو ہمیشہ ایک ہی شکایت رہی ہے کہ میں قسطیں تاخیر سے دیتی ہوں۔ یہ درست ہے کیونکہ یہی حال دیکھ کر ایک وقت آیا کہ میں نے لکھنا ترک کردیا۔ مگر پھر میں واپس لوٹی کہ برائی کو برائی نہیں فقط اچھائی ہی مات دے سکتی ہے۔
اس گندگی بھرے ماحول میں ایک شفاف قطرے کی قطرے کی طرح لوگ موجود ہیں اور اِسی امید پر میں بھی واپس آئی ہوں کہ شاید کسی دن یہ شفاف قطرے ملکر گندگی کے دلدل کو ایک خوبصورت سمندر میں بدل ڈالیں۔
سچ کہوں تو اِس تاخیر کی وجہ سستی نہیں، بے حسی نہیں، بلکہ ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو مجھے اپنے قلم کے سامنے جواب دہ رکھتا ہے۔ جن لوگوں نے میرے ناول پڑھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے محبت جیسے خوبصورت رشتے کو کبھی رسوا نہیں ہونے دیا، نہ کبھی اپنی ماں باپ کی دی ہوئی تربیت پر سوالیہ نشان لگنے دیا اور نہ ہی لگنے دوں گی۔ کیونکہ درحقیقت انسان کا قلم اس کی شخصیت اور اس کی تربیت کا عکاس ہوتا ہے۔ آپ اندر سے جو ہوتے ہیں، لفظوں کے ذریعے وہی دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔ میں شکر ادا کرتی ہوں کہ کم از کم میری روح پر یہ بوجھ نہیں کہ میں کسی اور کو اپنے ساتھ جہنم کی آگ میں دھکیلنے کا سبب بن رہی ہوں۔ مجھے لکھتے ہوئے پانچ برس سے زیادہ ہو چکے ہیں، اور اس سارے سفر میں میں نے کبھی پیسوں کے لیے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔ نہ کبھی کسی ڈرامے یا فلم کے ولگر مناظر چرا کر انہیں ناول کا لبادہ پہنا کر قسط پر قسط دیے بیچا، اور نہ ہی ایسی خواہشات کبھی دل میں پالیں۔ میرا مقصد صرف اور صرف یہ رہا ہے کہ آپ لوگوں کو اِس پریشانی بھرے دور میں دو پل کی خوشی دے سکوں، رشتوں کے خوبصورت اور پاکیزہ احساسات کو لفظوں میں سمو کر محسوس کروا سکوں۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے چینل یا صفحے پر سو لوگ پڑھتے ہیں یا دو سو، بس اتنا جانتی ہوں کہ جو بھی پڑھتے ہیں وہ یقیناً معیاری لوگ ہیں، وہ لوگ جو لفظوں کی حرمت اور احساس کی قدر جانتے ہیں۔ آپ سب کا دل سے بہت شکریہ۔
اگر آپ رائے سے متفق ہیں تو اپنی رائے کا اظہار کیجیئے ۔ برائی کو مات دینے میں حصہ بنے۔پوسٹ شئیر کیجیئے۔
یقین خدا نیتوں کا حال جاننے والا ہے۔❤️

تحریر : عین فاطمہ
‪‬🌹

"اچھا ٹھیک ہے بس، اب رونا بند کریں۔ ویسے ہی ساری شرٹ خراب کر دی ہے آپ نے میری۔""تت.. تمہیں اِس شرٹ کی پڑی ہے؟" اُس سے زر...
29/07/2026

"اچھا ٹھیک ہے بس، اب رونا بند کریں۔ ویسے ہی ساری شرٹ خراب کر دی ہے آپ نے میری۔"
"تت.. تمہیں اِس شرٹ کی پڑی ہے؟"
اُس سے زرا سا دور ہوکر بھاری لہجے میں بمشکل پوچھتی سنہری آنکھوں میں کافی صدمہ تھا۔ بھیگی آنکھوں کا وہ قاتلانہ حُسن مہزیار کو چند لمحے گُنگ کرگیا۔ وہ لڑکی اپنی دلفریب خوبصورتی سے اتنی بے خبر و لاپروا کیسے رہ لیتی تھی ...؟
ہاں وہ رہ سکتی تھی ... کیونکہ وہ منتزہ تھی۔
اُس کا کردار اُس کے چہرے سے کئی گنا زیادہ حَسین تھا۔
وہ صورتوں کی نہیں بلکہ دلوں کی خوبصورتی پر مرنے والی لڑکی تھی ..
"ہاں .. تو یہ میری پسندیدہ شرٹ ہے۔ ایک بہت اچھی اور پیاری لڑکی نے ٹریننگ کی کامیابی پر گفٹ کی تھی۔"
اپنے جذبات قابو کیے وہ اب کافی اطمینان سے بتا رہا تھا۔
دوسری جانب اُس کے منہ سے 'اچھی اور پیاری لڑکی' سُن کر منتزہ کے آنکھوں میں نمی کے ساتھ ساتھ ایک چبھتی ہوئی چمک بھی ابھر آئی ...
لیکن وہ ہمارا پیارا سا ہمدرد میمنا اُس کی طرف متوجہ کہاں تھا؟ وہ تو اپنی شرٹ کی نظر اتارنے میں مصروف تھا جو اُس کے آنسوؤں سے دائرے کی صورت بھیگی ہوئی تھی۔ منتزہ نے خفگی سے اپنے گال رگڑے، پھر شرٹ کو گھورا۔
"کہہ تو ایسے رہا ہے جیسے آنسو نہیں، تیزاب گرا دیا ہو شرٹ پر ..سیلفش!
میں یہاں اتنی ایموشنل ہوں اور اِسے کسی اور کی گفٹ کی ہوئی شرٹ کی پڑی ہے۔ کیسا عجیب انسان ہے۔ بیوی کی تو فکر ہی نہیں۔"
وہ منہ میں ناگواری سے بڑابڑائی۔ اُس لمحے تمام دکھ عنقا ہوگیا تھا کیونکہ ازلی میدان فتح کردینے والی فطرت پورے جوش و خروش سے سر اٹھا چکی تھی۔
"اا.. ایسے کونسے سُرخاب کے پَر لگے ہوئے ہیں؟ دوسری لے لینا۔" کوشش کے باوجود بھی اپنے تاثرات چھپانے سے قاصر تھی۔ مہزیار نے اُس کی طرف دیکھا۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی مگر آنکھوں میں وہی گہرائی۔۔
"یہ میرے لیے سُرخاب کے پروں سے زیادہ انمول ہے۔ ایک کیا، اِس کے بدلے سو بھی دوسری لے آؤں تو اِس کی خاصیت کم نہیں ہوگی۔"
بس یہی جملہ کافی تھا۔ منتزہ کے اندر جیسے کچھ بھڑک اٹھا۔ دل میں ایک عجیب سی کسک، ایک ناپسندیدہ سا احساس ... جسے وہ خود بھی نام نہ دے سکی۔
کتنا ظالم تھا وہ؟
ایک تو اتنے پرسنل مومنٹ پر کسی تیسری کا ذکر لے آیا تھا .. اوپر سے ابھی اُس کی شان میں قصیدے بھی پڑ رہا تھا!!
بس منتزہ شاہد کے صبر کی انتہا یہیں تک تھی ..
اگلے ہی لمحے اُس نے بغیر سوچے دونوں ہاتھ اُس کے سینے پر رکھے اور پوری طاقت سے کھینچ دیا۔ بٹن تو ٹوٹے ہی ساتھ کالر کے پاس سے کپڑا چرچرا کر پھٹ گیا۔
"منتزہ..." مہزیار ایک دم پیچھے ہٹا۔ اُس کے چہرے پر خالص حیرت تھی۔
"یہ کیا کیا آپ نے؟"
"آئندہ میرے سامنے دوسری لڑکیوں سے لئے ہوئے تحفوں کی خوبیاں بیان مت کرنا۔ بیوی ہوں تمہاری، ضامن بھائی نہیں جن کے آگے تم اپنی ایکس کے فلیکس مارو۔"
اُس کا لہجہ اب مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہی پرانی نڈر، بے باک سی منتزہ۔۔۔
مہزیار چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔ جیسے ابھی تک یقین نہ آ رہا ہو کہ یہ سب واقعی ہوا ہے۔ وہ تو اُس کا موڈ بحال کرنے زرا سا تنگ کر رہا تھا۔ مگر میڈم نے موڈ بحال ہونے پر یہ کارنامہ سرانجام دے دیا تھا۔
اب شیرنی کی کچھار میں ہاتھ ڈالے گا تو ایسا ہی ہوگا ناں؟
وہ خفا تاثرات لیے مڑ کر جانے لگی تو اُس نے فوراً اُٹھ کر حسب عادت اُس کے دوپٹے کا سرا تھاما۔
"چھوڑو میرا ڈوپٹہ ورنہ اب تمہارا سر پھاڑ ....." وہ نم آنکھوں میں ٹھیک ٹھاک تیش سے پلٹی تھی پر ...
"تقویٰ ..
تقویٰ نام ہے اُس دوسری لڑکی کا ... اور وہ کوئی ایکس، وائے نہیں ... بہن ہے میری۔
آپ کی نند! " بڑے سکون سے دھماکہ کیا گیا۔
ایک لمحہ ...
بس ایک لمحہ لگا تھا ...
منتزہ کا چہرہ یکدم انار کی مانند سُرخ ہو گیا۔ آنکھوں میں شرمندگی، جھنجھلاہٹ اور بے بسی ایک ساتھ اُتر آئے۔ اُس کی نظر بے اختیار اُس کے پھٹے ہوئے کالر پر گئی... پھر فوراً جھک گئی۔ اب وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

Ⓐⓨⓝⓝ Ⓕⓐⓣⓘⓜⓐ Ⓝⓞⓥⓔⓛⓢ

"ناشتہ تم نے منگوایا ہے؟ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔" اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔ہنوز خاموشی رہی ... جیسے اُس کی آواز ہوا میں کہیں گ...
25/07/2026

"ناشتہ تم نے منگوایا ہے؟ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔" اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
ہنوز خاموشی رہی ... جیسے اُس کی آواز ہوا میں کہیں گم ہو گئی ہو۔ اُس نے لب دانتوں میں لیکر چھوڑا۔
"مم... میرا غصہ خود پر کیوں نکال رہے ہو؟ پلیز کچھ کھا لو۔ تمہاری میڈیسن بھی نہیں ہیں، اور یہ زخم .... "
مہزیار اچانک پلٹا۔ بس ایک لمحہ... مگر وہ لمحہ منتزہ کی پوری دنیا ہلا گیا۔ وہ جملہ مکمل نہ کرسکی۔
"جس طرح آپ کی فکر کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے .. اُسی طرح آپ کو بھی میری فکر کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔
ویسے بھی میں نے آپ پر ترس کھا کر ہیرو بننے یہ نکاح کیا تھا ... آپ نے نہیں مس رپورٹر، سو ڈونٹ!"
لہجہ دھیما ضرور تھا پر زرا سی بھی لچک نہ تھی۔ اتنا سرد جو منتزہ کی ہڈیوں کو جما گیا۔ وہ کمرے میں آ کر صوفے کی پشت پر سر ٹکائے آنکھیں بند کر گیا۔
وہ وہیں کھڑی تھی ... سُن ہوئی ...
گویا کسی گہرائی میں دھکیل دی گئی ہو۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو کر اُس کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔
کچھ لمحے لگے، اُس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور آہستہ کمرے میں آئی۔ اُس کے عین مقابل ۔۔
"مم... میرا وہ مطلب نہیں تھا۔" آواز ٹوٹ رہی تھی، لب کانپ رہے تھے، جیسے ضبط کی دیوار کسی بھی لمحے گرنے والی ہو۔
مہزیار چپ رہا۔ آنکھیں ہنوز چھت پر جمی تھیں، خالی... بالکل خالی۔ اُسے رات سے زیادہ دکھ اب ہوا تھا۔ اُس کے سامنے اُس لڑکی کے دل کو بے دردی سے توڑا گیا تھا اور وہ کچھ بھی نہیں کرسکا تھا۔
وہ اُس کے پاس کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
خاموشی بدستور قائم رہی۔ نہ کوئی جواب، نہ کوئی حرکت۔۔
"آئی نو، میں نے جو بھی کہا وہ بہت غلط تھا۔"
وہ بہت مشکل سے لفظوں کو جمع کیے اُسے منانے کے لیے وضاحت دے رہی تھی پر خاموشی کی دیوار ہنوز درمیان حائل رہی جیسے وہ اُس کے وجود کو محسوس ہی نہ کر رہا ہو۔
"مہزیار .. "
اب اُس کے صبر کا بند ٹوٹ گیا۔ آنسو بے آواز ملائم رخسار بھگونے لگے۔ تکلیف یہ نہیں تھی کہ وہ ناراض تھا ... تکلیف یہ تھی کہ وہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔
وہ ہر بار اُس کی خاموشی کو سمجھ جانے والا ہمدرد، اُس کے الفاظ سننے کے باوجود بھی نظرانداز کر رہا تھا۔
وہ بے چینی سے داڑھ پیستی اُٹھ گئی۔ مٹھیاں سختی سے بند کیے خود کو یکجا کرنے کی کوشش کی، گال رگڑے مگر نظر پھر اُسی وجیہہ چہرے پر جا ٹکی جو اپنی بے نیازی میں بھی نجانے کیسے اُس کے سکون کا سبب بن بیٹھا تھا۔

"کیا بات ہے؟ آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ آپ تو عُروبہ صاحبہ کے گھر تھیں نا ... وہاں کچھ ہوا ہے؟" آواز دھیمی تھی مگر آنکھوں میں...
22/07/2026

"کیا بات ہے؟ آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ آپ تو عُروبہ صاحبہ کے گھر تھیں نا ... وہاں کچھ ہوا ہے؟" آواز دھیمی تھی مگر آنکھوں میں فکر کا جل تھا۔
"تم سے مطلب؟ ہٹو سامنے سے۔" اُس نے سردگی سے کہا، نگاہیں اُس کے چہرے سے ہٹا کر۔ وہ ایک قدم بھی نہیں ہلا۔
"مہزیار ... ہٹو۔" وہ زچ ہوکر غرائی۔
"شوہر ہوں آپ کا۔"
الفاظ میں استحقاق تھا۔
"آپ کے تمام مسائل جاننے کا سب سے پہلا حق میرا ہے۔ رات کے دس بج رہے ہیں ... اس وقت آپ اکیلے یہاں کیسے آئیں؟ میں نے منع کیا تھا نا!"
وہ رکا اور اُس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔
"لُک ... تنہائی میں ہمارے درمیان جو بھی ہو، مگر سب کے سامنے آپ مجھے اس طرح خود سے لاتعلق ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتیں منتزہ۔"
لہجہ سنجیدہ ہوا۔ عودی آنکھوں میں ناراضگی کے پیچھے کہیں کچھ اور بھی تھا ... فکر شاید، یا کچھ اور جس کا نام وہ خود نہیں جانتا تھا۔
یہ سننا تھا کہ منتزہ کے ضبط کا بند بھی ٹوٹ گیا ...
"شوہر؟" اُس نے غصے میں دونوں ہاتھوں سے اُسے دھکا دیا۔ وہ بمشکل ایک قدم ہی پیچھے ہوا ...
تحیر اور تشویش کا عجیب ملاپ اُس کے چہرے پر۔
"بیس بار کالز کیے تمہیں ... بیس بار! مگر تم تو صبح کا بدلہ لینے کے موڈ میں تھے نا؟ تو تمہیں کیا پرواہ میں کس حال میں ہوں؟" آواز کانپ رہی تھی، گلا بھرا ہوا۔
"منتزہ!!"
"یو نو واٹ ..." آواز ٹوٹی تو ٹوٹی رہی۔
"تم لائف میں نہیں تھے تو مجھے کسی سے اتنی امید بھی نہیں ہوتی تھی ...
اور یہی ٹھیک تھا ...
پر نجانے کیوں میری زندگی بار بار تمہارے ہی سامنے مجھے اتنا بے بس کرنے لگی ہے۔ مجھے نہیں چاہیے تمہاری ہمدردی ... تمہارا ساتھ ..
میں اپنے مسائل میں ہمیشہ سے اکیلی تھی اور ہوں .. رہو تم مصروف۔"
ضبط سے سرخ گالوں پر کب سے روکے آنسو اب بے قابو ہو کر گر رہے تھے۔ وہ کس ٹوٹی، خوفزدہ حالت میں اپنے بکھرے وجود کو کھینچتی یہاں تک پہنچی تھی ... وہی جانتی تھی۔ ہر قدم ایک جنگ تھا، ہر سانس ایک بوجھ۔
"آئیم سو سوری ..." اُسے اس طرح روتے دیکھ وہ اندر سے ہل گیا۔ آواز نرم ہوگئی، وضاحت سینے سے نکلی۔

Ⓐⓨⓝⓝ Ⓕⓐⓣⓘⓜⓐ Ⓝⓞⓥⓔⓛⓢ

السلامُ علیکم!
نئی قسط پوسٹ کردی گئی ہے کافی محنت ضائع ہونے کے بعد کیوں کہ میری بنائی گئی پہلی دو وڈیوز کرپٹ ہوگئیں۔ اسی لیے تاخیر سے پوسٹ کی۔
بہرحال قسط کیسی لگی اپنی رائے ضرور دیجئے۔ اور بہت اچھا لگتا ہے جب آپ لوگ پڑھ کر کمنٹس بھی کرتے ہیں۔
خوش رہیں❤️

السلامُ علیکمامید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے۔مجھے میرے ناول دل دھڑکنے لگا کے حوالے سے کافی کنٹس اور میسجز موصول ہوتے رہتے ہ...
19/07/2026

السلامُ علیکم
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے۔
مجھے میرے ناول دل دھڑکنے لگا کے حوالے سے کافی کنٹس اور میسجز موصول ہوتے رہتے ہیں جن میں سے اکثر کا میں جواب بھی نہیں دے پاتی ...
لہذا ایک ساتھ سب کو مطلع کردوں کہ میرے پاس سے میرے تمام ناولز ڈلیٹ ہوچکے ہیں جن میں دل دھڑکنے لگا بھی شامل تھا۔ میرے پاس بھی اس کا فیسبک لنک نہیں ہے۔ پی ڈی ایف تو اس ناول کا نہ آیا نہ آئے گا۔
خیر میری کوشش ہے کہ یارا ناول کے مکمل ہونے کہ بعد میں ڈی ڈی ایل دوبارہ پوسٹ کردوں۔
شکریہ!

"کتنی جلدی غصہ آتا ہے نا آپ کو…"لہجہ چھیڑتا ہوا تھا، مگر نیت میں اپنائیت صاف جھلک رہی تھی۔"اور اُتنی جلدی واپس بھی چلا ج...
17/07/2026

"کتنی جلدی غصہ آتا ہے نا آپ کو…"
لہجہ چھیڑتا ہوا تھا، مگر نیت میں اپنائیت صاف جھلک رہی تھی۔
"اور اُتنی جلدی واپس بھی چلا جاتا ہے۔"
منتزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے، بغیر کسی جھجک کے خوش دلی سے اعتراف کیا۔ جیسے یہ بات اُس کے لیے کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک سچ ہو جس پر اُسے فخر ہو۔
"جانتی ہیں، ایسے لوگ بہت…"
مہزیار نے جملہ پورا کرنا چاہا، مگر اگلے ہی لمحے منتزہ نے مزے لیتے ہوئے اُس کی بات اچک لی۔
"پیارے، سچے، بڑے دل کے مالک، اور تمہارے سامنے کھڑی لڑکی جیسے حَسین ہوتے ہیں… ہے نا؟"
لہجے میں شوخی تھی، آنکھوں میں خود اعتمادی اور مسکراہٹ میں وہ معصوم سی شرارت جو سامنے والے کو لاجواب کر دے۔
وہ چند لمحے اُسے یونہی دیکھتا رہ گیا۔ آنکھیں ذرا سی تنگ، تاثرات میں قائلانہ تاسف بھی تھا اور دلکشی بھی۔۔
"اا.. ایسے بُت بن کر کیا دیکھ رہے ہو؟"
اُس نے اُس کی مسلسل خاموشی محسوس کر کے تذبذب سے پوچھا۔
"رہنے دیجیے… پھر کہیں گی، 'میں موقع پرست، دو نمبر پولیس والا، اپنے سامنے کھڑی پیاری، سچی، بڑے دل والی اور .." وہ رکا۔
"بے انتہا حسین بیوی کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہوں۔' "
پھر تھوڑا جھک کر اور دھیمے سے کہتے ہوئے اُس کے پاس سے گزر گیا۔ مردانہ پرفیوم کی بھینی سی مہک اتنی مسحور کُن تھی کہ منتزہ کی سانس لمحہ بھر کو اُلجھ گئی۔
وہ کمرے میں داخل ہو گیا، اور وہ وہیں جم سی گئی۔ ہتھیلیاں برف کی سلوں کی مانند سرد ہو چکی تھیں۔ دل کی دھڑکنیں تیز، اور پیٹ میں اُٹھتا بے نام سا ہیجان…
"تف ہے .. "
اُس نے آنکھیں سختی سے بند کر کے ماتھے پر چاروں انگلیاں ماریں۔

Ⓐⓨⓝⓝ Ⓕⓐⓣⓘⓜⓐ Ⓝⓞⓥⓔⓛⓢ

قسط نمبر 27 پوسٹ ہوچکی ہے۔ اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

کچھ منٹ میں وہ دونوں بہادر آباد فوڈ اسٹریٹ پہ موجود تھے۔ "ہائے بہادر چچا کے گول گپے .. " اپنے پسندیدہ گول گپوں کا ٹھیلا ...
15/07/2026

کچھ منٹ میں وہ دونوں بہادر آباد فوڈ اسٹریٹ پہ موجود تھے۔
"ہائے بہادر چچا کے گول گپے .. "
اپنے پسندیدہ گول گپوں کا ٹھیلا دیکھ منتزہ کی تو بانچیں ہی کِھل اُٹھیں۔ وہ بغیر لمحے کی دیری کیے گاڑی سے اترتے اُس مقام پر جا کھڑی اپنی دیرینہ رشتہ داری نکالے شروع ہوچکی تھی۔
کیا اُس لڑکی کو یہاں لیکر آنے والے کا کوئی خیال بھی آیا تھا؟
مہزیار نے حیرت سے اُسے دیکھا پھر ماتھا سہلاتے خود بھی اتر کر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا ہوگیا۔ اسٹریٹ لائٹس کی تیز روشنیوں میں سُنہری مسکراتی آنکھیں اُس کے اندر راحت کا انوکھا احساس بیدار کر گزری۔ آس پاس کی دنیا سے بے نیاز وہ اور اُس کے گول گپے۔۔
اچھے خاصے گھرانے سے ہونے کے باوجود بھی اُس میں زرہ برابر بھی ناز نخرے، تفریق یا گھمنڈ کا احساس نہیں تھا۔
فطری سادگی، خلوص اور اپنائیت سے بھرپور اُس کی شخصیت ہر ایک کو کسی مقناطیس کی مانند اپنی جانب مائل کرلیتی تھی۔
اُسی کشش کے تحت وہ بغیر پلکیں جھپکے اُس کی خوشی دیکھ رہا تھا پھر اُس نے بھی اپنا موبائل نکالا اور دل کے ہاتھوں مجبور ہوئے اُس کی گول گپے کھاتی ہوئی ایک دلکش تصویر کیمرے میں قید کرلی۔
"خُرافاتی مورنی۔" تصویر کو دو انگلیوں سے زوم کرتے دیکھ اُس کے لب مبہم مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ عودی آنکھوں میں الگ ہی احساس کی چمک تھی۔
علی مہزیار اور کسی لڑکی کی تصویر اتارے...
ہمم .. کسی لڑکی نہیں ..
بیوی .. اپنی بیوی کی تصویر ...
ہاں وہ زرا زرا سی بات پر سرخ ہوجانے والا میمنا اتنا تو کرسکتا تھا .. آفکورس سب سے چھپ کر ...
منتزہ کی کئی دلکش تصویریں سیو کرکے اُس نے پھر ایک تصویر فوڈ اسٹریٹ کی بھی لی اور ضامن کو بھیج دی۔
ضامن جو ٹیم کے ساتھ ایک جگہ پہنچے تفتیش کر رہا تھا موبائل دیکھ پہلے حیران ہوا، پھر ناسمجھی سے سوالیہ نشان بھیجا۔ مہزیار کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
"تم نے ہی بتایا تھا، یاد کرو۔"
"ہیں؟ میں نے؟ پر کیا؟" وہ اُس کا جواب پڑھتا تصویر کو زوم کیے غور کرنے لگا جب نظر بہادر چچا کے گول گپوں کے بینر پر پڑی۔
"اوہ بھائی صاحب .." ضامن کی پُرجوش چیخ پر محب اور بابر چونک کر پلٹے۔ وہ خجلات سے نفی میں سر ہلاتے زرا کونے میں آیا اور مہزیار کو کال ملائی۔
"کہا تھا نا، تیرا ہونے لگا ہوں۔"
"بکواس مت کر!" وہ داڑھی سہلاتے مصنوعی خفگی سے کہتا پھر خود ہی اُسے سب کچھ بتا گیا۔
"مطلب وہ تیرے لیے فکرمند تھیں .. میرے بدھو یار۔"
"ایسی بھی کیا فکر جو اپنی جان کا ہی خیال نہ رہے؟"
"اِسی کو محبت کہتے ہیں جناب .. جب کوئی انسان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آپ کی فکر کرے۔"
"کم آن ضامن، یہ ہماری ڈیوٹی ہے۔ تو کیا ہمیں سب سے محبت ہوئی؟" اُس کے جواب پر ضامن کا دل کیا اُس کو پکڑ کر زوردار لاتیں مارے۔
یہ آدمی اتنا خوبرو ہوکر اتنا خشک کیسے تھا؟
"آپ سے محبت کی بات کرنا بیکار سے بھی زیادہ بیکار ہے علی مہزیار .. جسٹ گیٹ لاسٹ۔" وہ تلملا کر کال کاٹ گیا۔ مہزیار حیرت سے فون کو تک رہا تھا۔ جب منتزہ پاس آئی۔
" یہ لو کھاؤ .. "
تو آ ہی گیا تھا ہماری تتلی کو اپنے شرمیلے سے بھنورے کا خیال ..
"نو، آئی ڈونٹ ڈو اسٹریٹ فوڈز ۔" وہ فوراً انکاری ہوا۔
"شروع ہوگیا نوابوں کی باقیات۔" منتزہ کلس گئی۔
"میں نے پوچھا نہیں ہے، کہہ رہی ہوں کھاؤ مطلب کھاؤ ۔۔"
" ارے پر میں نے آپ سے کہا میں نہیں ...."
اُس کی مزاحمت اپنے منہ میں زبردستی ڈالے جانے والے گول گپے کے سبب دم توڑ گئی تھی۔ مہزیار نے فوراً لمبی لمبی پلکیں بند کیں۔ کان سُرخ ہوگئے۔ منہ انگارہ ...
منتزہ سے ہنسی ضبط کرنا محال ہوا۔
"تچ تچ ایس ایس پی مہزیار! یہ پہاڑ جیسا دراز قد .. اور نازک لڑکیوں جیسے نخرے؟"
اتنے کیوٹ سے ایکسپریشنز دیکھ وہ بہت محظوظ ہوئی۔
"کیسا لگا؟ "
"اتنا تیکھا کیسے کھاتی ہیں آپ؟؟" وہ مرچی سے سُرخ ہوا اُس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ اور جل رہا تھا۔
"ایسے ۔۔" منتزہ نے اُس کے سوال پر ایک اور گول گپا اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈالا اور مزے سے آنکھیں بند کر لیں۔ چند لمحے مہزیار بغیر پلکیں جھپکے اُسے دیکھے گیا جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔
"تمہارا زخم اگر ابھی تازہ نہ ہوتا تو میں تمہیں یہ اسپیشلی میڈ فار منتزہ گول گوپے اور کھلاتی ..
پر فی الحال زیادہ مرچی تمہارے لیے مضر ہے۔ اِس لیے نیکسٹ ٹائم۔"
اُس نے چباتے ہوئے بتاتے آخری گول گپا بھی منہ میں ڈالا اور پھر آنکھیں میچ گئی۔
وہ مبہوت سا اُسے دیکھے جا رہا تھا۔

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

کیا اُسے پتا تھا وہ اپنی لاپرواہی میں بھی کسی کے دل کی دنیا تہہ و بالا کرنے کا ہنر جانتی ہے؟
"اِسی کو محبت کہتے ہیں جناب .. جب کوئی انسان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آپ کی فکر کرے۔"
ضامن کا جملہ پھر سے سماعتوں سے ٹکرایا تو وہ ہوش میں آیا۔
"نو وے .. میں کبھی آپ کو اپنی وجہ سے خطرے میں پڑنے نہیں دوں گا۔ ہمیشہ آپ کی حفاظت کروں گا۔" اُس نے خود سے کوئی مضبوط سا عہد باندھ کر اپنی جیب سے رومال نکالے دھیمے سے ہاتھ بڑھا کر اُس کی بھیگی تھوڑی صاف کی۔
"اتنے پسند ہیں آپ کو یہ گول گپے؟ "
لہجے کا دھیما پن اور وہ عنایت منتزہ کو ایک پل کے لیے برف کر گئی۔
فضا اور بھی ٹھنڈی سی محسوس ہوئی تو وہ خفت سے رومال تھام کر اپنا چہرہ صاف کرنے لگی۔
"سب لڑکیوں کو پسند ہوتے ہیں۔" چہرے کا رنگ گلابی ہوا تھا .. بس یونہی۔
"تقویٰ کو تو نہیں ہیں۔" وہ دوبدو بولا۔
"کیسے نہیں ہیں؟ کبھی کھانے ہی نہیں دیے ہونگے تمہارے نوابی ہائجین نے اُس بیچاری کو ...
بولو کھلائے کبھی؟"
وہ آئبرو اُٹھائے مستفسر ہوئی۔ اُس کا سر ایمانداری سے نہ میں ہلا۔
"دیکھا!! جانتی تھی میں ...
خود تو ہو ہی بزرگ روح، اُسے بھی انجوائے کرنے نہیں دیتے۔
بہادر چچا، دو پلیٹ پیک کردیں۔"
اُسے جھاڑ کر وہ ایڑیوں کے بل اونچے ہوئی بہادر چچا سے بولی۔
بزرگ؟ ارے بھئی اتنے پیارے سے جان جوان میمنے کو یہ کیا کہہ دیا تھا اِس ظالم لڑکی نے!
"ایکسکیوزمی کون بزرگ .. ؟ بس پانچ، چھ سال بڑا ہوں گا آپ سے ...
اور آپ ہی نے تو کہا میرا زخم تازہ ہے۔ پھر یہ دو پلیٹ کیوں؟" کان گلابی ہوچکے تھے اور نقوش خائف.. منتزہ کو نظریں ٹکانا دشوار ہوا۔
"دیکھا کیسے بزرگوں کی طرح بات بات پہ چڑ جاتے ہو۔ اچھی خاصی سیلری ہے پھر بھی دو پلیٹ ایکسٹرا کے پیسہ دیتے تمہیں کلیجے میں درد ہو رہا ہے۔ دے لوں گی میں پیسے ...
بل گیٹس نہ سہی پر تم سے تو زیادہ ہی امیر ہوں۔۔ کنجوس میمو! "
"واٹ .. ؟؟ آپ کو میں ... میں کنجوس لگتا ہوں ؟؟" وہ کلس کر قدم بڑھائے نیم خفگی سے پوچھ رہا تھا۔
"اور میمنے بھی۔"
منتزہ کی پلکیں زرا نہ جھپکیں۔ انداز ایسا تھا کہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔
"آہ .." اُس کی ڈھٹائی پر وہ اخیر ضبط سے مٹھیاں بند کیے وہ چپ چاپ پیسے دے آیا۔
"زندگانی بڑی خوبصورت ہوئی، جنت اب اور کیا ہوگی کہیں ۔۔۔ جو میں سب کی ہمدرد ہوں ۔۔ لا لا لا لا۔۔" اُس کے ہاتھ سے شاپر لیے مزے سے متبادل لیرکس گنگناتے وہ پیسنجر سیٹ پہ جا بیٹھی۔
"یہ خٗرافات ..؟ اور مجھ سے محبت؟ ایمپاسیبل! یہ بس مجھے اریٹیٹ کرنے کے لیے بنی ہیں۔" اُس نے دانت پیستے سوچ کر اُسے تیکھی نظر سے گھورا اور پھر ڈرائیونگ سنبھال لی۔

Ⓐⓨⓝⓝ Ⓕⓐⓣⓘⓜⓐ Ⓝⓞⓥⓔⓛⓢ

السلامُ علیکمامید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔میں جانتی ہوں وہ چند لوگ جو بہت محبت سے مجھے پڑھتے ہیں اُنہیں اپنی تاخیر سے ک...
15/07/2026

السلامُ علیکم
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔
میں جانتی ہوں وہ چند لوگ جو بہت محبت سے مجھے پڑھتے ہیں اُنہیں اپنی تاخیر سے کافی مایوس کیا ہے مگر میں گزشتہ ایک سال سے کچھ ذاتی مسئلے مسائل میں گرفتار ہوں جس وجہ سے کچھ لکھنے یا پوسٹ کرنے کا موقع اور دل بالکل بھی نہیں ہوتا۔
مگر چونکہ ایک چیز شروع کی تھی تو اُس کو مکمل کرنے کی ذمہ داری کا احساس مجھے بخوبی ہے اور مجھے جب جب وقت ملا اور مائنڈ ریلیکس ہوا ، میں نے اِسی کام کو انجام دیا ہے۔
اقساط لکھ رکھی ہیں کوشش ہے مکمل بھی ہوجائے اس بار .. کیونکہ میری عادت نہیں کہانی کے کسی پہلو کو تشنہ رکھنے کی لہذا کوشش ہے کہ کہانی اسی انداز سے مکمل کروں جس سوچ کے ساتھ شروع کی تھی۔
آپ کی دعاؤں کی طلبگار ہوں اور بالخصوص میری والدہ کی صحت و سلامتی کے لیے ضرور دعا کریں❤️
جزاک اللہ
یوٹیوب پر قسط پوسٹ کی ہے اگلی بھی انشاءاللہ آج یا کل دوپہر پوسٹ ہوجائے گی۔

آپ کی رائٹر :
عین فاطمہ

‏اسلامی جمہوریہ ایران سے آئی یہ باحجاب صحافی خاتون دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت (Professionalism) کا ...
12/04/2026

‏اسلامی جمہوریہ ایران سے آئی یہ باحجاب صحافی خاتون دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت (Professionalism) کا تعلق آپ کی قابلیت، اعتماد اور کام سے ہے، نہ کہ لباس کی بیہودگی سے۔ حیا کے دائرے میں رہ کر بھی آسمان چھوا جا سکتا ہے۔
رپورٹنگ یا کسی بھی شعبے کے لیے بیہودہ نمائش، چست لباس اور بے پردگی کی نہیں، بلکہ علم، قابلیت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔❤️

عین فاطمہ

08/04/2026

حقیقی امتِ مسلمہ ایران کو فتح مبارک🇮🇷❤️✨
بیشک خدا جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے🕊️

عین فاطمہ

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aynn Fatima Writer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Aynn Fatima Writer:

Shortcuts

Share

Category