Aynn Fatima Writer

Aynn Fatima Writer "خدایا میری عزت کے لیے کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اور میرے فخر کے لیے کافی ہے تو میرا پروردگار ہے۔"
(248)

‏اسلامی جمہوریہ ایران سے آئی یہ باحجاب صحافی خاتون دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت (Professionalism) کا ...
12/04/2026

‏اسلامی جمہوریہ ایران سے آئی یہ باحجاب صحافی خاتون دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت (Professionalism) کا تعلق آپ کی قابلیت، اعتماد اور کام سے ہے، نہ کہ لباس کی بیہودگی سے۔ حیا کے دائرے میں رہ کر بھی آسمان چھوا جا سکتا ہے۔
رپورٹنگ یا کسی بھی شعبے کے لیے بیہودہ نمائش، چست لباس اور بے پردگی کی نہیں، بلکہ علم، قابلیت اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔❤️

عین فاطمہ

08/04/2026

حقیقی امتِ مسلمہ ایران کو فتح مبارک🇮🇷❤️✨
بیشک خدا جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے🕊️

عین فاطمہ

🌹*عید سعید فطر کی مبارکباد*🌹تمام اہلِ ایمان کو عین فاطمہ کی جانب سے عیدالفطر مبارک !یہ عید محبت، اخوت اور خوشیوں کا پیغا...
21/03/2026

🌹*عید سعید فطر کی مبارکباد*🌹

تمام اہلِ ایمان کو عین فاطمہ کی جانب سے عیدالفطر مبارک !
یہ عید محبت، اخوت اور خوشیوں کا پیغام لے کر آئی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو صحت، خوشحالی، امن اور برکتوں سے نوازے۔
آپ کی زندگی خوشیوں سے بھرپور ہو اور ہر دن عید جیسا مسرت بھرا ہو۔
عید کی خوشیوں کو بانٹیے، اور ہمیشہ نیکی اور بھلائی کے سفر پر گامزن رہیے۔
اسی لمحے اپنے کشمیری فلسطینی اور ایرانی عوام کے مظلوم شہداء، اور رزمندگان کے حق میں دعا اور حمایت میں آواز بلند کرنا نہ بھولیے گا۔
عید مبارک💫

عین فاطمہ

 ِ_رمضان_المبارک💔🥹السلامُ علیکم پیارے قارئینِ کرام! جیسا آپ سب کے علم میں ہے آج ہمارے ملک میں آخری روزہ ہے اور رمضان الم...
20/03/2026

ِ_رمضان_المبارک💔🥹

السلامُ علیکم پیارے قارئینِ کرام!

جیسا آپ سب کے علم میں ہے آج ہمارے ملک میں آخری روزہ ہے اور رمضان المبارک اب ہم سے رخصت ہونے کو ہے۔ یہ وہ مہینہ تھا جس نے ہمارے معمولات کو بدلا، ہماری ترجیحات کو ازسرِ نو ترتیب دیا، اور ہمارے اندر ایک خاموش مگر گہری تبدیلی پیدا کی۔ اب سوال یہ نہیں کہ رمضان کیسا گزرا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ رمضان نے ہمیں کیا بنا دیا؟
جس طرح ہم ایک چھوٹے سے تالاب میں تیراکی سیکھ کر بپھرے ہوئے سمندروں کا سامنا کرنے کی مشق کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ماہِ رمضان میں بھی ہم خود کو "معاشرے کے سمندر" میں اترنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
قرآنِ کریم کا ارشادِ گرامی ہے:
"یقیناً تمہارے لیے دن کے وقت (مصروفیات کا) ایک طویل سلسلہ ہے(تیراکی کی طرح)۔" (المزمل: 7)

رمضان میں ہماری مشق کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ جب ہم معاشرے کے دھارے میں شامل ہوں، تو وہاں موجود محرمات کو دیکھ کر بھی ان سے کنارہ کش رہیں، اور نفسانی خواہشات کے ہیجان کے باوجود خود پر قابو رکھ سکیں۔ یہی روزے کا حقیقی مدعا ہے۔۔ ایک مسلسل مشق، ایک ہمہ گیر تربیت۔
اسلام ہمیں دنیا سے فرار نہیں سکھاتا، بلکہ دنیا کے اندر رہ کر پاکیزہ رہنے کا ہنر دیتا ہے۔ یہ دین ہمیں معاشرے سے کٹنے نہیں دیتا، بلکہ اِس کی تعمیر میں حصہ لینے کا حکم دیتا ہے، اِس شرط کے ساتھ کہ ہمارا کردار بے داغ رہے۔
لہٰذا روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ آنکھوں، کانوں، زبان، دل اور نیت، سب کے ضبط کا نام ہے۔
اگر یہ ضبط ہم نے سیکھ لیا، تو رمضان کامیاب ہو گیا۔ لیکن اگر ہم نے صرف اوقاتِ سحر و افطار کو بدلا اور عادات کو نہیں، تو پھر ہمیں اپنے احتساب کی ضرورت ہے۔ کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان واضح ہے:
"کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"

آج جب رمضان ہم سے رخصت ہو رہا ہے، تو یہ لمحہ محض جدائی کا نہیں بلکہ امتحان کا ہے۔ اب اصل زندگی شروع ہوتی ہے۔ اب شیطان قید میں نہیں ہوگا، اب ماحول پہلے جیسا ہوگا، اب وہی آزمائشیں، وہی کشمکش، وہی خواہشات ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رمضان کی تربیت کا اثر ظاہر ہونا چاہیے۔ اگر ہماری نمازیں رمضان کے بعد بھی قائم رہیں، اگر ہماری نگاہیں اب بھی جھکی رہیں، اگر ہماری زبان اب بھی نرم اور پاکیزہ رہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے واقعی اِس "مختصر حوض" میں تیراکی سیکھ لی ہے۔
لیکن اگر رمضان کے جاتے ہی ہم وہی پرانے راستوں پر لوٹ گئے، تو پھر ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے واقعی کچھ سیکھا بھی تھا؟
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے رمضان گزار لیا، بلکہ یہ ہے کہ رمضان ہمیں بدل کر چلا جائے۔

آخر میں بس یہ دعا کہ اے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں رمضان کی برکتوں سے نوازا، ہمیں اِس کے بعد بھی ان نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر ثابت قدم رکھ، ہماری نیتوں کو خالص کر دے، اور ہمیں نفس کی غلامی سے آزاد کر دے۔ ہمیں اِن لوگوں میں شامل فرما جن کے لیے رمضان محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی بن جائے۔
آمین الہی آمین بحقِ محَمَّد وآلِؑ طاھرِین❤️

*زبان کو معطر کیجیئے پڑھیئے*
🌸اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ🌸

جمعۃ الوداع مبارک

طالبِ دعا: عین فاطمہ

 🍁 موجودہ حالات میں حق کا ساتھ دینا محض ایک نظریاتی دعویٰ نہیں رہا، یہ ایمان، شعور اور ضمیر کی کسوٹی بن چکا ہے۔ دنیا جس ...
18/03/2026

🍁


موجودہ حالات میں حق کا ساتھ دینا محض ایک نظریاتی دعویٰ نہیں رہا، یہ ایمان، شعور اور ضمیر کی کسوٹی بن چکا ہے۔ دنیا جس برق رفتاری سے مفادات، مصلحتوں اور خاموشیوں کے اندھیروں میں ڈوب رہی ہے، وہاں سچ پر ڈٹ جانا ایک جہاد ہے، ایسا جہاد جس کے لیے زبان نہیں، دل کی سچائی، نیت کی طہارت اور کردار کی پختگی درکار ہوتی ہے۔
آج کا انسان ایک عجیب بے حسی کا شکار ہے۔ وہ ظلم دیکھتا ہے مگر نظر چرا لیتا ہے، حق کو پہچانتا ہے مگر خاموش رہتا ہے، اور باطل کے سامنے جھکنے کو اپنی مجبوری کا نام دے دیتا ہے۔ یہی وہ غفلت ہے جو دلوں کو مردہ کر دیتی ہے۔ جب دنیا کی چمک دمک انسان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے تو خوفِ خدا اور محبتِ الٰہی آہستہ آہستہ دل سے رخصت ہونے لگتی ہے۔ پھر نہ مظلوم کی آہ سنائی دیتی ہے، نہ ظالم کی زیادتی دکھائی دیتی ہے۔
ایسے ہی تاریک ماحول میں ایران کی تنِ تنہا استقامت ایک زندہ مثال کے طور پر ابھرتی ہے۔ ایک ایسی قوم جو پابندیوں، دباؤ، سازشوں اور عظیم ہستیوں کی شہادتوں کے باوجود اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹی۔ یہ صرف سیاسی موقف نہیں، یہ ایمان کا استعارہ ہے، صبر کی تصویر ہے، اور حق پر ثابت قدمی کی روشن دلیل ہے۔ جب بڑی بڑی طاقتیں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، تب ایک تنہا قوم کا ڈٹ جانا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ سچ کی قوت تعداد میں نہیں، یقین میں ہوتی ہے۔
شہادت کمزوری نہیں، حیاتِ ابدی کا اعلان ہے۔ وہ لوگ جو حق کی خاطر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، دراصل وہ تاریخ کے سینے پر وہ چراغ جلا جاتے ہیں جو کبھی بجھتے نہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ ایک مقصد کے لیے جینے اور اسی مقصد پر مٹ جانے کا نام ہے۔
ظلم کے خلاف جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اس لمحے میں زندہ ہوتا ہے جب انسان سچ بولنے کا حوصلہ کرتا ہے، باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے، اور اپنے مفاد پر حق کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ جہاد قلم سے بھی ہوتا ہے، کردار سے بھی، اور خاموشی توڑنے سے بھی۔
مگر اس سارے منظرنامے میں ایک سب سے بڑی جنگ وہ ہے جو انسان کو اپنے ہی اندر لڑنی ہوتی ہے، اپنے نفس کے خلاف۔ ہم دوسروں کے ظلم پر تو چیخ اٹھتے ہیں، مگر اپنے اندر پلنے والی تاریکیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آج کا انسان جس تیزی سے گناہوں اور برائیوں کی طرف مائل ہو رہا ہے، وہ صرف بیرونی اثرات کا نتیجہ نہیں، بلکہ نفس کی غلامی کا انجام ہے۔ خصوصاً وہ قلم کار جو خود کو لکھاری کہتے ہیں، جب وہ اپنی تحریروں میں فحاشی، پستی اور بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں تو وہ صرف لفظوں کا کھیل نہیں کھیلتے، بلکہ انسان کی روحانیت کو زخمی کرتے ہیں، نسلوں کے ذہن مسخ کرتے ہیں۔
یہ قلم، جو حق کی آواز بن سکتا تھا، جب نفس کے ہاتھوں بک جاتا ہے تو گمراہی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو دھوکہ دیتا ہے، اور اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کس گہرائی میں گر چکا ہے۔ یہی وہ اثرات ہیں جنہوں نے ہمیں کھوکھلا کر دیا ہے، اتنا کھوکھلا کہ ہم اپنا اصل ایمان، اپنی اصل پہچان اور اپنی روحانی طاقت بھلا بیٹھے ہیں۔
حالانکہ ہمارا دین پاکیزگی ہے، قوت ہے، سربلندی ہے، حق ہے۔ یہ وہ دین ہے جو انسان کو جھکنا نہیں، اٹھنا سکھاتا ہے، بکھرنا نہیں، سنورنا سکھاتا ہے۔ مگر ہم نے اپنے نفسوں کو دنیاوی رنگینیوں کے ہاتھ بیچ دیا ہے، وقتی شہرت، عیش و عشرت اور نام و نمود کے بدلے اپنی حقیقت کھو دی ہے۔
اگر ہمیں حقیقی مسلمان بننا ہے تو سب سے پہلے اپنے نفس کو مارنا ہوگا۔ اپنی خواہشات کو اپنے اوپر مسلط ہونے سے روکنا ہوگا۔ دنیاوی شہرت، عیاشیوں اور جھوٹی چمک سے منہ موڑ کر خود کو اس خدا کا بندہ بنانا ہوگا جیسا کہ وہ ہم سے چاہتا ہے۔ جب تک انسان اپنے نفس پر قابو نہیں پاتا، وہ حق کا سپاہی نہیں بن سکتا۔
یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں شہادت سعادت بن جاتی ہے، اور انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے۔ یہ مقام الفاظ سے نہیں، کردار سے حاصل ہوتا ہے، دعووں سے نہیں، قربانیوں سے ملتا ہے۔
اب بھی وقت ہے سنبھل جانے کا۔ اب بھی وقت ہے اپنی سمت درست کرنے کا۔ اب بھی وقت ہے اپنے دل کو جگانے کا، اپنے نفس کو قابو میں لانے کا، اور خود کو اپنے خدا کے لیے تیار کر لینے کا۔
حق کا ساتھ دینا مشکل ضرور ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو سرخرو کرتا ہے، دل کو زندہ رکھتا ہے، اور انسان کو اس کے رب کے قریب لے جاتا ہے۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، مگر حق پر ڈٹ جانے والوں کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند ہو جاتا ہے۔
یہ داستان صرف کسی ایک قوم کی نہیں، یہ ہر اس دل کی داستان ہے جو ابھی زندہ ہے، جو ابھی بھی سچ کو پہچان سکتا ہے، جو ابھی بھی ظلم کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر کی نیند کو توڑیں، اپنے ضمیر کو جگائیں، اور فیصلہ کریں کہ ہمیں کس طرف کھڑا ہونا ہے، حق کے ساتھ یا خاموشی کے اندھیروں میں۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے… کون بولا تھا، اور کون خاموش رہا تھا۔

عین فاطمہ

نورِ عدالت کی شہادت💔رمضان المبارک کی ایک پُرسکون مگر پُراسرار رات تھی۔ آسمان پر زرد چاند مدھم روشنی بکھیر رہا تھا اور کو...
11/03/2026

نورِ عدالت کی شہادت💔

رمضان المبارک کی ایک پُرسکون مگر پُراسرار رات تھی۔ آسمان پر زرد چاند مدھم روشنی بکھیر رہا تھا اور کوفہ کی گلیاں گہری خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ امیرالمؤمنین مولا علی ابن ابی طالبؑ اپنی بیٹی امِّ کلثومؑ کے گھر تشریف فرما تھے۔ افطار کا وقت ہوا تو امِّ کلثومؑ نے جو کی دو روٹیاں، دودھ کا ایک پیالہ اور تھوڑا سا نمک دسترخوان پر رکھ دیا۔ مولا علیؑ نے دسترخوان کی طرف دیکھا اور نہایت شفقت سے فرمایا: "بیٹی! رسول اللہ ﷺ کو یہ پسند نہ تھا کہ ایک وقت میں دسترخوان پر دو قسم کے کھانے موجود ہوں، ان میں سے ایک چیز اٹھا لو۔" امِّ کلثومؑ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انہوں نے خاموشی سے دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ حضرت علیؑ نے نمک کے ساتھ روٹی کے چند لقمے کھائے اور نماز میں مشغول ہو گئے۔
اس رات آپؑ کے دل میں عجیب سی بے قراری تھی۔ کبھی صحن میں آ کر آسمان کی طرف دیکھتے، کبھی قرآن کی تلاوت کرتے اور کبھی زیرِ لب دعا کرتے:
"اے میرے پروردگار! میری موت کو میرے لیے بابرکت بنا دے۔"
چند دن پہلے ہی آپؑ اپنے قریبی ساتھیوں کو بتا چکے تھے کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ان کی داڑھی ان کے خون سے رنگین ہو جائے گی۔ لوگوں نے حیرت سے کہا تھا کہ اگر آپ کو اپنے قاتل کا علم ہے تو اسے گرفتار کیوں نہیں کر لیتے؟ حضرت علیؑ نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: "اسے کیسے گرفتار کیا جائے جبکہ اس نے ابھی جرم کیا ہی نہیں۔"
رات گزرتی رہی اور آخرکار فجر کا وقت قریب آ گیا۔ امِّ کلثومؑ نے اپنے والد کی بے چینی دیکھی تو روتے ہوئے عرض کیا: "بابا جان! آج آپ گھر ہی میں نماز ادا کر لیجیے۔ مسجد جانے کی ضرورت نہیں۔" حضرت علیؑ نے سکون سے فرمایا: "قضائے الٰہی سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔" فجر کی اذان ہوئی تو آپؑ گھر سے نکلنے لگے۔ دروازے کے قریب موجود بطخوں نے اچانک شور مچانا شروع کر دیا اور چند بطخوں نے آپؑ کا دامن اپنی چونچوں میں پکڑ لیا جیسے آپ کو روکنا چاہتی ہوں۔ حضرت علیؑ نے محبت سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور اپنی بیٹی سے فرمایا:
"یہ بے زبان مخلوق ہے، ان کے کھانے اور پانی کا خیال رکھنا، اگر ایسا نہ کر سکو تو انہیں آزاد کر دینا۔" یہ کہہ کر آپؑ مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔ مسجد میں ابھی اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ عبادت میں مصروف تھے اور کچھ آرام کر رہے تھے۔ انہی میں عبدالرحمن ابن ملجم بھی موجود تھا جو مسجد کے صحن میں الٹا لیٹا ہوا تھا۔ مولا علیؑ نے اسے دیکھا تو فرمایا: "اس طرح الٹا لیٹ کر سونا شیطان کا طریقہ ہے، دائیں کروٹ سویا کرو، یہ مومنوں کا طریقہ ہے۔" ابن ملجم نے کروٹ بدلی مگر خاموش رہا۔ حضرت علیؑ نے اسے نماز کے لیے جگایا اور مسجد کے اندر تشریف لے گئے۔ نماز شروع ہوئی اور نمازی صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ ابھی ہر طرف نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ پہلی رکعت کے سجدے سے حضرت علیؑ نے سر اٹھایا ہی تھا کہ اچانک اندھیرے میں ایک تلوار بجلی کی طرح چمکی۔ شبیب بن بجرہ نے وار کرنا چاہا مگر اس کی تلوار دیوار سے ٹکرا گئی۔ اسی لمحے عبدالرحمن ابن ملجم نے اپنی زہر میں بجھی ہوئی تلوار پوری قوت سے حضرت علیؑ کے سر مبارک پر دے ماری۔ زخم اتنا شدید تھا کہ تلوار ماتھے تک اتر گئی۔ مسجد میں ایک قیامت برپا ہو گئی، زمین جیسے لرزنے لگی اور نمازیوں میں کھلبلی مچ گئی۔ خون میں ڈوبے ہوئے حضرت علیؑ کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے: "ربِّ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔" لوگوں نے دوڑ کر ابن ملجم کو پکڑ لیا اور حضرت علیؑ کو سہارا دے کر اٹھایا۔ آپؑ کی داڑھی اور لباس خون سے تر ہو چکے تھے۔ اسی حالت میں آپؑ نے قرآن کی آیت تلاوت کی: "ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی میں تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔" حضرت علیؑ کو گھر لایا گیا۔ شام کے وقت جب انہیں کچھ ہوش آیا تو ابن ملجم کو ان کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت علیؑ نے کمزور آواز میں اس سے پوچھا: "ابن ملجم! کیا میں تمہارا اچھا امام نہیں تھا؟ کیا میں نے تمہارے ساتھ کبھی برا سلوک کیا تھا؟" ابن ملجم سر جھکائے خاموش کھڑا رہا پھر بولا: "کیا آپ اسے چھوڑ دیں گے جس نے جہنم کا راستہ اختیار کر لیا ہے؟" حضرت علیؑ نے اپنے بیٹے امام حسنؑ کی طرف دیکھا اور فرمایا: "بیٹے! اگر میں زندہ رہا تو میں خود فیصلہ کروں گا کہ اسے سزا دوں یا معاف کر دوں، لیکن اگر میری وفات ہو جائے تو اسے صرف ایک ہی ضرب سے قتل کرنا اور اس کے جسم کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کرنا۔" پھر فرمایا: "جب تک یہ قید میں ہے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسے وہی کھانا کھلانا جو تم خود کھاتے ہو اور وہی پانی پلانا جو تم پیتے ہو۔" امام حسنؑ دودھ کا ایک پیالہ لے کر کھڑے تھے۔ حضرت علیؑ نے فرمایا: "بیٹے! پہلے یہ دودھ میرے قاتل کو پلا دو، بھوک اور پیاس سے اس کا برا حال ہے۔" یہ سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ امام حسنؑ نے وہ پیالہ ابن ملجم کی طرف بڑھا دیا جسے اس نے ایک ہی سانس میں پی لیا۔ کوفہ کے لوگ اس منظر کو دیکھ کر سسک رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ دنیا میں علیؑ جیسا عظیم انسان شاید ہی کبھی پیدا ہو۔ وہ علیؑ جو اللہ کے گھر کعبہ میں پیدا ہوئے، رسولِ اکرم ﷺ کی گود میں پرورش پائی، ساری زندگی حق اور انصاف کے لیے لڑتے رہے اور آخرکار اللہ کے ہی گھر میں اپنے خون سے نہا گئے۔ زخم بہت گہرا تھا اور دو دن تک تکلیف برداشت کرنے کے بعد رمضان المبارک کی اکیسویں تاریخ کو وہ عظیم ہستی اپنے رب سے جا ملی۔ کوفہ کی فضا سوگوار ہو گئی، گلیوں میں آہ و بکا کی صدائیں گونجنے لگیں اور یوں تاریخ نے ایک ایسا باب رقم کیا جس میں عدل، صبر، شجاعت اور رحم دلی کی مثال ہمیشہ کے لیے امیر المومنین مولا علی ابن ابی طالبؑ کے نام سے جڑی رہ گئی۔🥹❤️
عین فاطمہ

19/02/2026

ماہِ رمضان کریم مبارک❤️ 🌙

11/01/2026

“انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اگر اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو زمین پر اس سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ کوئی جانور یا مخلوق نہیں۔ تمام انبیاء اسی انسان کی تربیت اور اصلاح کے لیے مبعوث کیے گئے، کیونکہ اگر اسے بے لگام اور بغیر نظم و ضبط کے چھوڑ دیا جائے تو وہ پوری دنیا کو تباہ کر سکتا ہے۔”
— امام خمینیؒ

Aynn Fatima Novels ✨

"ویسے بھائی ایک بات کہوں؟" کافی دیر کی خاموشی کے بعد تقی اپنا موبائل دیکھتے بولا۔"ہمم؟" منتزہ نے ہلکا سا ہنکار بھرتے اجا...
10/01/2026

"ویسے بھائی ایک بات کہوں؟" کافی دیر کی خاموشی کے بعد تقی اپنا موبائل دیکھتے بولا۔
"ہمم؟" منتزہ نے ہلکا سا ہنکار بھرتے اجازت دی۔ نگاہیں سڑک پر ہی تھیں۔
"آپ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں اتنے غور و خوض سے دیکھتے بہت اچھے لگ رہے ہو۔"
حسبِ توقع منتزہ نے حیرانی و جھنجھلاہٹ لیے فٹ سے گردن گھمائی پر اُس کے موبائل اسکرین پر اپنی اور مہزیار کی نکاح والی ایک دوسرے کو دیکھتی تصویر پر ضبط سے گلابی ہوئے اچانک بریک پر پیر رکھ دیا۔ گاڑی جھٹکے سے ٹھہر گئی۔۔
"ارے ... آرام سے۔ میں ابھی کنوارا ہی ہوں بھائی۔" تقی اُس کی دمکتی صورت دیکھ مسکراہٹ دبائے کہہ رہا تھا۔
"ی.. یہ کہاں سے آئی آپ کے پاس ... ڈلیٹ کرو۔" اُس نے موبائل چھیننا چاہا پرر وہ پیچھے کر گیا۔
"قسم سے شاکر توتلے نے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھا کام کیا ہے۔ اِسے تو اب میں فریم کروا کر گفٹ دوں گا۔"
"اُس نکمے کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گی .. پہلے آپ یہ شرافت ڈلیٹ کرو۔" وہ تلملا کر انگلی اٹھائے کہنے لگی۔
"بھائییییی ... سوچ لو اتنی پیاری تصویر ہے۔ سچ میں ڈلیٹ کردوں یا آپ کو واٹس ایپ کرکے کروں؟" تقی کے بھنوئیں اچھالتے ایک بار پھر تصویر دکھانے پر منتزہ چپ ہوگئی۔ نگاہیں بے اختیار ہی اسکرین پر جم گئی تھیں۔ نکاح کی رات سے لیکر آج صبح سحر تک مہزیار کے ہمراہ ہوئے تمام مناظر اُس کے ذہن کے پردے پر فلم کی مانند چل گزرے۔ گال کچھ اور دہک اُٹھے۔ دھڑکنیں بھی منتشر ہوگئیں۔
"بھائی آپ نے جواب نہیں دیا، بھیج دوں؟؟؟" وہ اُسے کُھویا دیکھ مسکراہٹ دبائے دھیرے سے پوچھ بیٹھا۔ آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔
"ہاں ۔۔" اُس نے بے دھیانی میں کہا۔
"مطلب ہاں؟؟"
"ہاں مم.. میرا مطلب نا۔ ڈ..ڈلیٹ کرو فوراً۔" تقی کے دہرانے پر منتزہ نے ہڑبڑا کر سیدھا ہوتے تپ کر کہا اور واپس گاڑی اسٹارٹ کردی۔

Ⓐⓨⓝⓝ Ⓕⓐⓣⓘⓜⓐ Ⓝⓞⓥⓔⓛⓢ

مکمل قسط یوٹیوب چینل پر پڑھیے۔اور ساتھ ہی قسط کیسی لگی اپنا تبصرہ ضرور دیجئے۔
ذاتی اہم مصروفیات اور طبعیت کی ناسازی کی بدولت تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں ۔
انشاء اللہ الگی قسط جلد پوسٹ ہو جائے گی۔
دعاؤں میں یاد رکھیے۔

13 رجب المرجب ولادت باسعادت عینؑ ﷲ ، نورؑﷲ ، یدؑ ﷲ ، اسدؑ ﷲ ، ولیؑ ﷲ ، امامِ مبینؑ ، حیدرِ کرارؑ ، ابوترابؑ ، شیرِ خداؑ ...
02/01/2026

13 رجب المرجب
ولادت باسعادت عینؑ ﷲ ، نورؑﷲ ، یدؑ ﷲ ، اسدؑ ﷲ ، ولیؑ ﷲ ، امامِ مبینؑ ، حیدرِ کرارؑ ، ابوترابؑ ، شیرِ خداؑ ، فاتحِ خیبرؑ ، دامادِؑ نبیﷺ ، شہنشاہِ ولایت، شیرِ یزداں، نفسِ رسولِ خدا، شاہ نجف، باب العلم، نائبِ رسولﷺ، شوہرِ بتول سلام الله علیھا، بابائے حسنین کریمین علیه السلام، حیدرِ کرّار، امام المُتقین، امام الاولین، مشکل کشا امیرِ کائنات امیرالمومنین مولا علی ابنِ حضرت ابیطالب علیه السّلام تمام عالم اسلام کو بہت بہت مبارک💞

بجانب عین فاطمہ

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aynn Fatima Writer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Aynn Fatima Writer:

Share

Category