29/07/2026
السلامُ علیکم!
یہ تحریر کسی فرد، کسی نام یا کسی مخصوص صفحات و چینلز کے خلاف نہیں۔ یہ ایک احساس ہے، ایک فکر ہے، ایک دُکھ ہے جو آج کے آنلائن ماحول کو دیکھ کر دل میں جاگتا ہے۔ میں خود ایک قلم کار ہوں، اسی معاشرے کا حصہ ہوں، اسی دور کی آنکھ سے سب دیکھ رہی ہوں، اسی دور کے شور میں سانس لے رہی ہوں۔ اسی لیے یہ بات الزام نہیں، خود احتسابی ہے۔ یہ تحریر کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کو اس کے اصل مقام کی یاد دہانی کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اشرف المخلوقات بنایا ہے خدارا خود کو جانور مت ثابت کریں۔
آج فیس بک اور یوٹیوب پر ناولوں کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض کہانیاں نہیں رہ گئیں، وہ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک تربیت بن چکا ہے۔ لفظ اب صرف لفظ نہیں رہے، وہ نظریہ بن گئے ہیں۔ جب قلم بے لگام ہو جائے تو وہ صرف کاغذ کو نہیں چیرتا، وہ معاشروں کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس زخم کو وقتی تفریح، ریٹنگ، پیسہ اور ویوز کے نام پر خوبصورت بنا کر پیش کروا رہے ہیں۔
انسان کی فطرت میں تجسس ہے، جذبات ہیں، خواہشات ہیں۔ ادب ان سب کا آئینہ ہوتا ہے، مگر آئینہ اگر دھندلا ہو جائے تو چہرہ بگڑ کر دکھائی دیتا ہے۔ فحش نگاری کو ناول کہنا، گندگی کو حقیقت کہنا اور بے حیائی کو آزادی کے نام پر بیچنا، یہ سب صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور قلم کی آزادی سب سے زیادہ امانت دار ہاتھ مانگتی ہے۔
تربیت کسی کتاب سے نہیں، ماحول سے ہوتی ہے۔ آج ایک نوجوان لڑکی یا لڑکا جب ادب کے نام پر وہ سب پڑھتا ہے جو اس کے ذہن، اس کے جذبات اور اس کے رشتوں کو مسخ کر دے، تو اس کے بعد ہم اس سے اخلاق، حیا اور ضبط کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ الفاظ خاموش ہوتے ہیں مگر اثر چیخ کر بولتا ہے۔ جو کچھ ہم لکھتے ہیں، وہ کسی نہ کسی دل میں گھر کرتا ہے، کسی نہ کسی سوچ کو راستہ دیتا ہے، کسی نہ کسی خواہش کو جگاتا ہے۔
قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں، یہ تربیت کا ہتھیار بھی ہے۔ ایک لکھنے والا اگر یہ کہے کہ وہ صرف لکھ رہا ہے، اثر اس کی ذمہ داری نہیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی زہر بیچ کر کہے کہ پینا یا نہ پینا خریدار کا مسئلہ ہے۔ لفظ جب دل میں اترتا ہے تو وہاں سوال نہیں کرتا، اجازت نہیں مانگتا، بس جگہ بنا لیتا ہے۔ اسی لیے قلم کار کا فرض عام انسان سے کہیں زیادہ حساس ہوتا ہے۔
ہم محبت کو جسم تک محدود کر کے پیش کر رہے ہیں، حالانکہ محبت کا سب سے خوبصورت پہلو وہ احترام ہے جو انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔ محبت وہ لمس ہے جو بغیر چھوئے دل کو تھام لیتا ہے، وہ خاموشی ہے جو شور سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ محبت برہنگی، بے غیرتی کی محتاج نہیں، محبت کو نگاہوں کی بے باکی کی ضرورت نہیں۔ اصل محبت تو وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، گرا نہ دے۔
نکاح کو ہم نے کہانیوں میں، انتقام، قید، بوجھ اور ہوس کی تصویر بنا دیا ہے، حالانکہ نکاح انسان کے جذبات کو عزت دینے کا نام ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو خواہش کو ذمہ داری میں ڈھالتا ہے، محبت کو تحفظ دیتا ہے اور انسان کو تنہائی کے گناہ سے بچاتا ہے۔ جس گناہ سے بچانے خدا نے نکاح کا پاکیزہ اور حیا کے موتی میں بند رشتہ متعارف کیا.. آپ اُس کو اتنی بے حیائی و بے غیرتی سے سرِ عام عُریاں کرکے کیا خدا کا مقابل کر رہے ہیں؟؟؟
ادب اگر نکاح کو قید اور بے راہ روی کو آزادی بنا کر دکھائے گا تو نئی نسل کس راستے کو حق سمجھے گی؟
یہ کم عقل لڑکیاں.. یہ نفس کی غفلت میں ڈوبے لڑکے کس طرح حق پر قائم رہ سکیں گے؟
دشمنی بھی انسانیت کے دائرے میں رہ کر ہوتی ہے۔ ناولز میں دشمنی کے نام پر جو درندگی دکھائی جا رہی ہے، وہ نہ حقیقت ہے نہ بہادری۔ کسی عورت کی تذلیل، کسی مرد کی حیوانی تصویر کشی، کسی رشتے کی پامالی، یہ سب صرف سنسنی پیدا کرتے ہیں، شعور نہیں۔ طاقت کا اصل اظہار ضبط ہے، اور ضبط وہ صفت ہے جو ادب میں کم اور شور میں زیادہ نظر آنے لگی ہے۔
شرم اور لحاظ کمزوری نہیں، انسان ہونے کی نشانی ہیں۔ جن معاشروں میں لفظوں سے حیا چھین لی جائے، وہاں جسموں سے پردہ بہت جلد اتر جاتا ہے۔ یہ بھول گئے ہیں کہ ہر جملہ عوامی ہوتا ہے، ہر تحریر کسی نہ کسی ذہن کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ جو پڑھنا چاہے پڑھے، جو نہ چاہے نہ پڑھے، ایک آسان مگر غیر ذمہ دارانہ جواز ہے۔
آپ شاید بھول چکے ہوں مگر آپ کا ہر لفظ روز قیامت آپ کے سامنے لاکر کھڑا کیا جائے گا.. اور نہ صرف آپ کے سامنے مگر ہر پڑھنے والا بھی برابر کا شریک ہوگا،
محبت، خواہش، غصہ، انتقام، سب انسانی جذبات ہیں۔ مسئلہ جذبات نہیں، ان کی پیشکش ہے۔ ادب کا کام جذبات کو قابو دینا ہوتا ہے، انہیں بھڑکانا نہیں۔ ایک اچھا لکھنے والا قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ایک غیر ذمہ دار لکھنے والا اسے صرف محسوس کرواتا ہے، بغیر انجام کے، بغیر حد کے۔
ہم میں سے ہر ایک کو خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ہم کس طرح کا ادب، طریقہ، کلچر اگلی نسل کو دے رہے ہیں۔ وہ راستہ جو عورت کو محض جسم بنا دے، مرد کو درندہ دکھائے، رشتوں کو کھیل بنا دے، اور اتنے قبیح و کبیرہ گناہوں کو نارملائز کر دے؟ یا وہ ادب جو احساس جگائے، انسان کو انسان کے قریب لائے، محبت کو باوقار بنائے اور خواہش کو حد میں رکھے؟
یہ تحریر کسی فتویٰ کا اعلان نہیں، بحیثیتِ شعیہ مسلمان ایک فکر ہے، ایک ذمہ داری اور احساس... ایک دعا ہے۔ دعا اس لیے کہ شاید کسی ایک دل میں یہ بات اتر جائے کہ قلم امانت ہے، اور امانت میں خیانت صرف دنیا میں نہیں، آخرت میں بھی جواب مانگتی ہے۔ ہم سب غلطی کر سکتے ہیں، میں بھی، آپ بھی۔ مگر غلطی پر اصرار اور اصلاح سے انکار اصل جرم ہوتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ادب میں تلخی نہ ہو، حقیقت نہ ہو، اندھیرا نہ ہو۔ اندھیرا دکھانا جرم نہیں، اندھیرے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا جرم ہے۔ زخم دکھانا شفا کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر زخم کو لذت بنا دینا ظلم ہے۔
اگر یہ تحریر کسی ایک لکھنے والے کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ وہ اگلی لائن لکھنے سے پہلے ایک لمحہ رک جائے، تو میرا مقصد پورا ہو گیا۔ ہم سب اس معاشرے کے ذمہ دار ہیں، اور قلم کار اس ذمہ داری میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ لفظوں کی عزت کیجیے، یہ آپ کی بھی عزت کریں گے۔ احساس کو زندہ رکھیے، یہی انسان ہونے کی دلیل ہے۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ مجھ سے میرے قارئین کو ہمیشہ ایک ہی شکایت رہی ہے کہ میں قسطیں تاخیر سے دیتی ہوں۔ یہ درست ہے کیونکہ یہی حال دیکھ کر ایک وقت آیا کہ میں نے لکھنا ترک کردیا۔ مگر پھر میں واپس لوٹی کہ برائی کو برائی نہیں فقط اچھائی ہی مات دے سکتی ہے۔
اس گندگی بھرے ماحول میں ایک شفاف قطرے کی قطرے کی طرح لوگ موجود ہیں اور اِسی امید پر میں بھی واپس آئی ہوں کہ شاید کسی دن یہ شفاف قطرے ملکر گندگی کے دلدل کو ایک خوبصورت سمندر میں بدل ڈالیں۔
سچ کہوں تو اِس تاخیر کی وجہ سستی نہیں، بے حسی نہیں، بلکہ ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو مجھے اپنے قلم کے سامنے جواب دہ رکھتا ہے۔ جن لوگوں نے میرے ناول پڑھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے محبت جیسے خوبصورت رشتے کو کبھی رسوا نہیں ہونے دیا، نہ کبھی اپنی ماں باپ کی دی ہوئی تربیت پر سوالیہ نشان لگنے دیا اور نہ ہی لگنے دوں گی۔ کیونکہ درحقیقت انسان کا قلم اس کی شخصیت اور اس کی تربیت کا عکاس ہوتا ہے۔ آپ اندر سے جو ہوتے ہیں، لفظوں کے ذریعے وہی دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔ میں شکر ادا کرتی ہوں کہ کم از کم میری روح پر یہ بوجھ نہیں کہ میں کسی اور کو اپنے ساتھ جہنم کی آگ میں دھکیلنے کا سبب بن رہی ہوں۔ مجھے لکھتے ہوئے پانچ برس سے زیادہ ہو چکے ہیں، اور اس سارے سفر میں میں نے کبھی پیسوں کے لیے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔ نہ کبھی کسی ڈرامے یا فلم کے ولگر مناظر چرا کر انہیں ناول کا لبادہ پہنا کر قسط پر قسط دیے بیچا، اور نہ ہی ایسی خواہشات کبھی دل میں پالیں۔ میرا مقصد صرف اور صرف یہ رہا ہے کہ آپ لوگوں کو اِس پریشانی بھرے دور میں دو پل کی خوشی دے سکوں، رشتوں کے خوبصورت اور پاکیزہ احساسات کو لفظوں میں سمو کر محسوس کروا سکوں۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے چینل یا صفحے پر سو لوگ پڑھتے ہیں یا دو سو، بس اتنا جانتی ہوں کہ جو بھی پڑھتے ہیں وہ یقیناً معیاری لوگ ہیں، وہ لوگ جو لفظوں کی حرمت اور احساس کی قدر جانتے ہیں۔ آپ سب کا دل سے بہت شکریہ۔
اگر آپ رائے سے متفق ہیں تو اپنی رائے کا اظہار کیجیئے ۔ برائی کو مات دینے میں حصہ بنے۔پوسٹ شئیر کیجیئے۔
یقین خدا نیتوں کا حال جاننے والا ہے۔❤️
تحریر : عین فاطمہ
🌹