10/08/2026
*بابوں کے چکر نہیں، اللہ سے تعلق چاہیے*
ایک عورت اپنی پریشانیاں لے کر ایک جعلی بابا کے پاس پہنچی۔ بابا نے ساری بات غور سے سنی اور کہا:
بابا: بیٹی! تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر کچھ خرچ آئے گا۔
عورت: کتنا خرچ؟
بابا: ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر گزرے ہیں، سب کے نام پر ایک ایک روپیہ صدقہ کر دو۔
عورت بھی سمجھ دار تھی۔ بولی:
"ٹھیک ہے بابا! آپ باری باری سب کے نام لیتے جائیں، میں ایک ایک روپیہ آپ کے سامنے رکھتی جاؤں گی۔"
یہ سنتے ہی بابا بے ہوش ہو گیا۔
واقعی لالچ بری بلا ہے؛ جو دوسروں کی مجبوری کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنائے، آخرکار خود اپنی چال میں پھنس جاتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پریشانی میں انسان جلدی کسی سہارے کی تلاش کرتا ہے، مگر ہر ہاتھ بڑھانے والا مددگار نہیں ہوتا، بعض ہاتھ جیب کی طرف بھی بڑھ رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾
"اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"
{ سورۃ غافر: 60}
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔"
{جامع ترمذی: 2516}
لہٰذا ہر مشکل میں بابوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے بجائے اللہ کے دروازے پر دستک دیں، دعا کریں اور جائز اسباب اختیار کریں۔
جس کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو، اسے جعلی سہاروں کے پیچھے بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔
مجبوری کو کسی کے کاروبار کا ذریعہ نہ بننے دیں؛ ایمان، عقل اور شریعت کے ساتھ قدم اٹھائیں۔
جعلی عاملوں سے بچیں؛ اللہ تعالیٰ سے جڑیں۔ کیونکہ جس کا سہارا اللہ ہو، اسے کسی بابے کے دروازے پر جھکنے کی ضرورت نہیں۔