19/01/2026
*ہم گل پلازہ کے حادثے کی تفصیلات جان کر دل تھامے بیٹھے تھے۔۔۔۔*
بیٹا بولا:" دو روز قبل ہمارے دفتر کی چودہ منزلہ عمارت(میلبرن) میں سیفٹی الارم بج اٹھے۔ایسے میں فورا لفٹیں بند ہو جاتی ہیں۔گھبرائے ہوئے لوگ لائنیں بنا کر زینہ اترنے لگے۔
آن کی آن میں بلڈنگ خالی ہو گئی۔۔
پولیس اور متعلقہ حکام پہنچ گئے۔
آدھے گھنٹے بعد علم ہوا کہ کسی نے کچن میں ٹوسٹر کھلا چھوڑ دیا تھا اس سے کوئی چنگاری نکلی تو بلڈنگ کے الارم بج اٹھے۔
اسی دن دفتر کی ہر منزل پر نوٹس لگ گئے کہ انسانی جان بہت قیمتی ہے ٹوسٹر احتیاط سے بند کریں۔ ائندہ ایسے واقعات نہیں ہونا چاہیے جس سے پریشانی پھیلے۔"
جب ہم "تیسری دنیا" کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ دنیا نہیں جہاں
معاش کم ہو۔۔
جہاں سڑکیں نہ ہوں۔۔۔
جہاں تعلیم اور صحت کی سہولت نہ ہوں۔۔
*تیسری دنیا کی سادہ سی تعریف یہ ہے، "جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہ ہو"۔*
کراچی میں آگ لگنے کے پچھلےدو برس میں ڈھائی سے تین ہزار واقعات ہوئے ہیں ۔۔
جن میں کچھ بہت سنگین نوعیت کے ہیں۔۔
سوال تو یہ ہے کہ کیا کسی بھی حادثے کے بعد یہ سروے کیا گیا کہ کتنے تجارتی اور رہائشی مراکز میں فائر سیفٹی سسٹم ہیں؟
کہاں کہاں غیر قانونی تعمیرات ہیں؟
کہاں پرانے( برطانوی دور کے) انفراسٹرکچر ہیں۔
اکثر جگہوں پر تو شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کیا برقی وائرنگ کا کوئی معیار، کوئی انسپیکشن ہے ؟
کراچی جیسا تین کروڑ سے زیادہ آبادی کا ساٹھ فیصد سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر۔۔
یہاں گنجان آبادیوں کے بیچ گودام،ہول سیل مارکیٹس۔۔۔
تو احتیاط کتنی بڑھ جانی چاہیے۔
گل پلازہ حادثے کی ویڈیوز دیکھ کر کلیجہ منہ کو آ رہا ہے وہ دکاندار جنہوں نے زیرو سے کاروبار شروع کیا آج پھر زیرو پر آ گئے۔۔ وہ اپنی کروڑوں کی جلتی ہوئی دکانوں کو روڈ کے کنارے بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔۔
یہ تو کچھ کم ہے کتنے ہیں جن کے پیارے سینٹر کے اندر ہیں اور رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔۔
ظلم تو یہ کہ متاثرین کہہ رہے ہیں ہم پولیس سے کہہ رہے ہیں مدد کو ائے وہ کہہ رہے ہیں آپ ریسکیو والوں پر دباؤ ڈالیں
کے وہ آپ کی مدد کو آئیں۔۔
فائر بریگیڈ کی گاڑیاں کھڑی ہیں تو پانی نہیں ہے پیٹرول نہیں۔۔
یہ ہیں حفاظتی اقدامات ۔۔۔
کیا اس قیامت خیز واقعے کے بعد کوئی سروے ہوگا کہ۔۔۔۔۔
کتنی عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ ہیں۔۔
فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کس کے پاس ہے۔۔
کیا فائر الارم درست کام کر رہے ہیں ۔۔۔
مغرب ان حادثات سے اس لیے محفوظ نہیں کہ وہ زیادہ ذہین ہیں بلکہ وہ زیادہ ذمہ دار ہیں۔۔
انسانی جان کی زیادہ قیمت ہے۔
کیا پچھلے بڑے بڑے سانحات پر کہیں ذمہ داروں کا تعین ہوا ۔۔
بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر کہیں کوئی چالان ہوئے۔
کسی کو جیل بھیجا گیا۔
کسی کے لائسنس منسوخ ہوئے۔ کسی کو جرمانے دینا پڑے۔
بات اتنی ہے کہ۔۔۔
جب جان کی قدر "قانون" بنے گی
جب احتیاط" عبادت" سمجھ کر کی جائے گی
*اور معاشرے میں جواب دہی "اخلاق" ہوگی وہاں حادثات خبر نہیں بنتے ائندہ کے لیے* *احتیاطی تدابیر بنتے ہیں* ۔۔
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.