Al-Mustafa Clinic

Al-Mustafa Clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Mustafa Clinic, Medical and health, Shop no 51 oppsit to thana masjid thana market phse 2, Khushabad.

🌟 Dr. Asab Aftab – MBBS, RMP 🌟
💉 General Physician | Graduate of Faisalabad Medical University
🩺 2+ Years of Trusted Experience in Patient Care
✅ Dedicated to Accurate Diagnosis & Effective Treatment
💙 Passionate about improving lives through compass

22/09/2025
13/09/2025

🟥 چھوٹےبچوں میں نزلہ زکام اور سانس کی انفیکشن کی وجہ سے ناک کے اندرونی حصے میں رطوبتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں جسکی وجہ سے چھوٹے بچے ڈسٹرب رہتے ہیں۔ بعض اوقات اسکی وجہ سے ناک بند ہو جاتا ہے اور بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ بچے چونکہ اپنے ناک کی صفائی خود نہیں کر سکتے تو اس صورت میں مائوں کو بچوں کے ناک کی صفائی کا طریقہ آنا چاہیے۔ اس سےناک کی اندرونی رطوبتیں باہر نکل آتی ہیں، بچے کو سانس لینے میں آسانی محسوس ہوتی ہے، اور بچہ کمفرٹیبل ہو جاتا ہے۔
🟥 چھوٹے بچوں کی بند ناک کھولنے کے لیے ان اقدامات پر عمل کریں۔ اس مقصد کیلئے آپ کو درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہے اور یہ ہر اچھی فارمیسی پر دستیاب ہوتی ہیں۔
1). Saline Nasal Drops
2). Bulb Syringe/Bulb Sucker
دو طرح کے بلب سرنج\بلب سکر ملتے ہیں۔
Diposable and Reusable
(اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی لے سکتے ہیں)۔
👈 بچے کو اپنی گود یا بیڈ پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا سر اور سینہ تھوڑا اونچا رہے۔
Saline Nasal Drops 👈
کے 2 یا 3 قطرے ایک نتھنے میں ڈالیں اور چند سیکنڈ انتظار کریں تاکہ قطرے ناک میں چلے جائیں۔
👈 بلب سرنج کو پیچھے سے دبائیں تاکہ اس میں سے ہوا باہر نکل جائے۔ (بچے سے تھوڑا پیچھے رکھ کر)
پھر بلب سرنج کی ٹپ اسی دبائی ہوئی حالت میں بچے کے ناک کی اس سائیڈ میں داخل کریں جس میں قطرے ڈالے ہیں۔ اب بلب سرنج کو آہستہ سے چھوڑیں، اس سے سکشن پریشر بنے گا جو بچے کی ناک سے رطوبت اور زکام کھینچ لے گا۔
👈 بلب سرنج کو دوبارہ پیچھے سے دبا کر سنک یا کپ میں اس کے مواد کو نکال دیں۔
👈 ناک کی دوسری سائیڈ کی بھی اسی طرح صفائی کر لیں۔
👈 بچے کی کنڈیشن کے مطابق یہ عمل دن میں 1-3 بار کر سکتے ہیں۔ اور کچھ دن تک جاری رکھ سکتے ہیں۔
🟥 اگر آپ کا بچہ بےچین ہے تو دوسرے فرد سے مدد لیں، جو کہ بچے کے سر اور ہاتھوں کو پکڑنے میں مدد کرے گا۔
نتھنوں کو صاف کرنے کے لیے گرم واش کلاتھ یا کاٹن سویب کا استعمال کریں۔
🟥 اس کے ساتھ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات جاری رکھیں۔

07/09/2025
03/09/2025

پاکستان میں صرف تقریباً ہر دو میں سے ایک بچہ پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پیتا ہے. یہ شرح المناک حد تک کم ہے اور یہ کمی بچوں کی صحت، ملکی معیشت دونوں پر بھاری پڑتی ہے۔ ہر سال ہزاروں بچے ایسی بیماریوں سے جان گنوا بیٹھتے ہیں جن سے صرف ماں کا دودھ انہیں بچا سکتا تھا۔ دوسری طرف فارمولہ دودھ پر ہر سال کروڑوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جو گھر کے بجٹ پر بھی بوجھ ڈالتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر دنیا بھر میں ہر بچہ پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پیے، تو ہر سال دس لاکھ سے زائد بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں اس کم شرح کی ایک بڑی وجہ وہ غلط فہمیاں ہیں جو نسل در نسل چلی آ رہی ہیں اور ماؤں کو دودھ پلانے کے بجائے فارمولہ کی طرف مائل کرتی ہیں۔
آئیے ان کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔

سوال: کیا پہلا دودھ (کولسٹرم) گاڑھا اور پیلا ہونے کی وجہ سے بچے کے لیے نقصان دہ ہے؟
جواب: نہیں! کولسٹرم بچے کی پہلی ویکسین ہے، جو اینٹی باڈیز اور غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے اور بچے کو بیماریوں سے بچاتی ہے۔

سوال: گرمی میں ماں کا دودھ کافی نہیں، بچے کو پانی پلانا ضروری ہے؟
جواب: نہیں، ماں کے دودھ میں 88٪ پانی ہوتا ہے۔ چھ ماہ تک بچے کو پانی کا ایک قطرہ بھی دینے کی ضرورت نہیں۔

سوال: دودھ پلانے سے جسم کی شیپ خراب ہو جاتا ہے؟
جواب: یہ غلط تصور ہے۔ دودھ پلانے سے بچہ دانی سکڑتی ہے اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے ، یہ ماں کے لیے صحت بخش عمل ہے۔

سوال: گھی اور لڈو زیادہ کھانے سے دودھ بڑھتا ہے؟
جواب: اصل میں دودھ بڑھنے کا تعلق مناسب آرام، پانی کی کافی مقدار اور ذہنی سکون سے ہے، نہ کہ صرف خاص کھانوں سے۔

سوال: سی سیکشن کے بعد دودھ پلانا ممکن نہیں؟
جواب: ممکن ہے! صحیح پوزیشن، مدد اور رہنمائی کے ساتھ زیادہ تر مائیں کامیابی سے دودھ پلا سکتی ہیں۔

سوال: دودھ کم آنے کا مطلب ماں کمزور ہے؟
جواب: نہیں۔ دودھ کی مقدار پر زہنی تناؤ، پلانے کی مقدار اور بچے کے صحیح چوسنے جیسے عوامل زیادہ اثر ڈالتے ہیں۔

سوال: ہر دو گھنٹے بعد بچے کو جگا کر دودھ پلانا ضروری ہے؟
جواب: شروع میں ہاں، لیکن جیسے ہی بچے کا وزن درست بڑھنے لگے، اسے زیادہ دیر سونے دیا جا سکتا ہے۔

سوال: زکام یا بخار میں دودھ پلانا بند کرنا چاہیے؟
جواب: ہرگز نہیں! ماں کا دودھ بچے کو اضافی قوتِ مدافعت دیتا ہے۔ بس ماسک پہنیں اور دوا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

یاد رکھیں !
دودھ پلانا صرف خوراک دینے کا عمل نہیں، یہ محبت، تحفظ اور اعتماد کا رشتہ ہے۔ فارمولہ مہنگا ہے، لیکن ماں کا دودھ بے قیمت خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

27/08/2025

5 things to know about non-sugar sweeteners 👇

24/08/2025

بچہ کھانا نہیں کھاتا۔
زیادہ تر مائیں اس ایک مسئلے کی وجہ سے بہت پریشان رہتی ہیں۔ کوشش کرتے ہیں حل ڈھونڈنے کی 🙂

عمر 6 ماہ سے کم :
6 ماہ سے کم عمر بچے کو کسی بھی قسم کا کھانا، جوس، پتلی خوراک کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی نا ہی ارد گرد کے لوگوں کا پریشر لینے کی ضرورت ہے۔ 6 ماہ کی عمر تک ماں کا دودھ بچے کی صحت کے لیئے کافی ہے مزید کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔

عمر 6 ماہ سے ایک سال:
اس عمر میں بچہ ایک دم سے سب کچھ کھانا نہیں شروع کر سکتا۔ بچہ پہلے صرف دودھ پیتا آرہا تھا تو اب آج ہم نے ٹھوس غذا شروع کروائی اور آج ہی بچے نے کھانا شروع کر دی ایسا ممکن نہیں، ذائقہ (taste develop) آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ جب ہم بھی کچھ نیا ٹرائے کرتے ہیں تو کچھ وقت لگتا ہے اس چیز کو قبول کرنے میں ، اسی طرح بچے بھی ایک انسان ہیں ان کے بھی احساست، پسند نا پسند ہے۔
اب کرنا کیا ہے بی ایل ڈبلیو (blw) سے شروع کریں جو پھل یا سبزی سخت ہے اس کو تھوڑا نرم کر لیں بھاپ دے کر ۔ بچے کے سامنے رکھ دیں ، جتنا بچے کا دل کرے گا وہ اتنا کھا لے گا۔ اگر ہم خود پتلی کر کے غذا دیں گے تو ہم بچے کو زیادہ بھی کھلا سکتے ہیں اور کم بھی۔ تو بچے کو اپنی مرضی سے کھانے دیں۔
پہلے سبزیاں اور پھل دیں پھر آہستہ آہستہ اگلے مہینوں میں جو بھی گھر میں کھانا بن رہا ہے وہ بغیر نمک کے نکال لیں اور بچے کو دیں روٹی کے ساتھ۔
میٹھا دینے کی ضرورت نہیں بچے کی ضرورت کے مطابق میٹھا پھلوں سے مل جاتا ہے۔
اس عمر میں بچہ کھانا سیکھتا ہے، جیسا ہم کریں گے ویسے ہی بچے کریں گے، ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا میں بچے کو ساتھ بٹھائیں بچے کی عادت بنے گی کھانا کھانے کی۔
یاد رہے ایک سال تک بچے کی اصل ضرورت اور اصل غذائیت ماں کا دودھ ہے اس لیئے ہمیشہ پہلے ماں کا دودھ پلایا جائے پھر اس کے آدھا پون گھنٹے بعد ٹھوس غذا دی جائے۔
اگر لگے کہ بچہ پھر بھی کچھ نہیں کھا رہا تو ماں کا دودھ پلانے کے آدھا گھنٹہ، پون گھنٹے یا ایک گھنٹے بعد دیں ۔ جب بچہ کو بھوک لگے گی وہ لے گا کھانا۔
غذا دینے کا مقصد بچے کو کھانا کھانا سکھانا ہوتا ہے۔

ایک سال سے دو سال تک:
ایک سال کے بعد بھی بچے ماں کے دودھ سے غذائیت حاصل کرتے ہیں۔ اور کھانا کھانا سیکھے چکے ہوتے ہیں پچھلے 6 ماہ میں تو آسانی سے کھانا نہیں کھاتے۔
لیکن اگر آپ کا بچہ نہیں کھا رہا تو اصل کام یہی ہے کہ مل کر کھانا کھایا جائے اور بچے کو ساتھ شامل رکھا جائے۔
اب ایک سال بعد پہلے ٹھوس غذا دی جائے گی یعنی کھانا پھر اس کے بعد بچے کو ماں کا دودھ پلایا جائے گا آدھے، پونے گھنٹے بعد۔
ایک سال کے بعد ہم بچے کو وہی کھانا دے سکتے جو ہم خود کھا رہے ہوتے ہیں۔
بچے کر ہر 2 سے ڈھائی گھنٹے بعد کچھ کھانے کو دیں، درمیانی وقفہ میں کچھ نہ دیں اگر آپ چاہتے ہیں بچہ اچھی طرح کھانا کھائے۔
کھانوں کے درمیانی وقفہ میں پانی دیں اور کھانا کھانے کے بعد ماں کا دودھ پلائیں۔
بچوں کو جب بھوک لگتی ہے وہ کھاتے ہیں، اگر ابھی اس وقت بچہ نہی کھا رہا ، بچے کا موڈ نہیں ہے تو کوئی پریشانی کی بات بہیں کچھ دیر بعد دے دیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچے نے ابھی کھانا نہیں کھایا اور ہم نے اسے کوئی جنک فوڈ دے دیا چپس، سلانٹی، بسکٹ وغیرہ۔

2 سال سے بڑے بچے:
بہت سی مائیں پریشان رہتی ہیں بچہ کچھ نہیں کھا رہا تو مجبوری میں فیڈر دینا پڑتا ہے، کچھ تو جائے پیٹ میں، اور یہاں ہم سب سے بڑی غلطی کر جاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو فیڈر لگانے کی ضرورت نہی
دودھ دینے کے لیئے گلاس، کپ اور بہت سے برتن ہیں وہ دے سکتے، فیڈر سے دانت خراب ہو جاتے ہیں بچوں کے۔
دوسری بات 2 سال کے بعد بچے کو 500 ملی لیٹر سے زیادہ دودھ پینے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے، اگر بچہ دو کپ سے زیادہ دودھ پیئے گا تو آئرن ڈیفشنسی اینیما کا شکار ہو جائے گا، اس بیماری میں بچے کو آپ جتنا مرضی آئرن دیں وہ بچے کے جسم میں جذب ہی نہیں ہو گا کیونکہ دودھ نے جذب کرنے ہی نہیں دینا۔
ساتھ کھانا کھائیں۔
بچے کو نہیں پسند تو چھوڑ دیں تھوڑی دیر جب بھوک لگے کی بچہ فورا آ کے کھا لے گا۔
اگر اب نہیں کھانا کھا رہا تو مائیں بھاگتی ہیں میں کچھ اور بنا دیتی ہوں یا باہر سے کچھ منگوا دیتی ہوں۔
یہی سے عادات خراب ہوتی ہیں اور بچہ گھر کا کھانا نہیں کھاتا۔ ہو سکتا ہے کوئی ایک چیز ، کوئی ایک سبزی یا ایک پھل نا پسند ہو بچے کو لیکن گھر کے ہر کھانے پہ بچے کا منع کرنا اور ماں کا باہر سے کچھ منگوا کر دینا مسائل کو جنم دیتا ہے۔
بچے کا پیٹ دودھ سے نا بھریں اسے غذائیت سے بھرپور کھانا دیں۔

بڑے بچوں کو روزانہ 45 سے 90 گرام بیف کھانا چاہیئے کیونکہ اس میں آئرن بچے کی صحت کے لیئے بے حد ضروری ہے۔
اب سوال آتا ہے اتنا مہنگا گوشت روز کہاں سے دیں تو یہ تقریبا ایک مہینے کا دو کلو بنتا ہے اور اس کو روز کے حساب سے تقسیم کر کے بچے کو دیں کباب بنا کے، سالن بنا کے، یا جس طرح بچہ پسند کرے۔
اسے کے علاوہ پالک میں آئرن موجود ہے بیف نہیں دینا چاہتے تو پالک ضرور دیں اس کے علاوہ لال لوبیا بھی دے سکتے ہیں۔
اب سوال آتا ہے آئرن جسم میں جذب کیسے ہو اس کے لیئے وٹامن سی ضروری ہے جو کے کھٹے پھل سے ملے گا، سٹرابیری ، ٹماٹر، گہری سبز سبزیوں سے۔
کوشش کرتی رہیں بچے کھانا کھانے لگ جائیں گے۔

20/08/2025

یہ سوال اکثر والدین کے ذہن میں آتا ہے کہ ڈاکٹر کیوں ایک سال سے کم عمر بچوں کو گائے، بھینس یا بکری کا دودھ نہ دینے کی ہدایت کرتے ہیں، حالانکہ ہمارے معاشرے میں یہ عام معمول ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سائنسی اور طبی حقائق پر مبنی ہے، جنہیں جاننا ہر والدین کے لیے ضروری ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قدرت نے ہر جاندار کا دودھ اس کی مخصوص نسل کے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ گائے کا دودھ گائے کے بچھڑے کے لیے موزوں ہے، کیونکہ اس کے جسمانی تقاضے، ہاضمہ اور نشوونما انسان کے بچے سے بالکل مختلف ہیں۔ اسی طرح جیسے ایک بالغ انسان جانوروں کی خوراک ہضم نہیں کر سکتا، ویسے ہی ایک نوزائیدہ بچہ گائے کے دودھ کو صحیح طریقے سے ہضم نہیں کر پاتا۔

اگر کسی وجہ سے ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو تو سب سے مناسب متبادل فارمولا دودھ ہے، جو اگرچہ گائے کے دودھ سے بنایا جاتا ہے لیکن اسے اس قدر پروسیس کیا جاتا ہے کہ اس کی ساخت ماں کے دودھ کے قریب ہو جاتی ہے۔ اس میں ایسے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں جو نومولود کی نشوونما اور ہاضمے کے مطابق ہوتے ہیں۔

گائے کے دودھ میں آئرن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور جو تھوڑی بہت ہوتی ہے، وہ بھی بچے کے جسم میں جذب نہیں ہو پاتی۔ نتیجتاً، بچے میں خون کی کمی (انیمیا) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح گائے کے دودھ میں پروٹین اور منرلز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو بچے کے نازک گردوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس دودھ میں موجود چکنائی کی اقسام بھی نومولود کے لیے مناسب نہیں ہوتیں، اور بعض بچوں میں الرجی (دودھ سے حساسیت) پیدا ہو سکتی ہے، جس سے آنتوں سے خون رسنے لگتا ہے – جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتا لیکن مائیکروسکوپ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ سب عوامل بچے کے ہاضمے، خون کی کمی اور دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں۔ چونکہ ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو بچے کے دماغ کی بہتر نشوونما میں مدد دیتے ہیں، اس لیے یہ بچے کے لیے سب سے مکمل غذا ہے۔ جبکہ گائے کا دودھ چونکہ بچھڑے کے تیز جسمانی بڑھوتری کے لیے ہوتا ہے، اس میں پروٹین زیادہ ہوتا ہے، مگر انسانی بچے کو دماغی ترقی پہلے درکار ہوتی ہے، جس کی گائے کا دودھ مناسب معاونت نہیں کرتا۔

بچہ اگرچہ گائے کا دودھ پی کر بظاہر ٹھیک نظر آ رہا ہو، تب بھی ہمیں اس کی اندرونی صحت، جیسے آئرن کی سطح، گردوں پر دباؤ یا ذہنی نشوونما کا اندازہ ظاہری صحت سے نہیں لگ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سال کی عمر تک جانوروں کا دودھ نہیں دینا چاہیے۔ ایک سال کے بعد بچے کا نظامِ ہضم اور گردے اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ وہ مناسب مقدار میں گائے کا دودھ ہضم کر سکتے ہیں، لیکن تب بھی احتیاط ضروری ہے۔

والدین کو فیصلے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم ان تک سائنسی بنیادوں پر معلومات پہنچائیں تاکہ وہ بہتر اور محفوظ فیصلے کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو صحت مند رکھے۔ آمین۔

اگر آپ کو مزید رہنمائی درکار ہو تو ضرور سوال کریں یا ہمارا صفحہ وزٹ کریں۔

ڈاکٹر ارشد محمود (MBBS, FCPS)
چائلڈ اسپیشلسٹ – چلڈرن اسپتال لاہور

20/08/2025

پولیو ہمارے بچوں کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ جب ہم احتیاط چھوڑ دیتے ہیں تو پولیو وائرس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ہر وہ بچہ جو پولیو کے قطروں سے محروم رہ جائے، خطرے میں آ جاتا ہے — اور پوری کمیونٹی بھی۔💧👨‍👩‍👧‍👦

Bakht kakar fans Deputy Commissioner Quetta Deputy Commissioner Mastung Pakistan Polio Eradication Initiative Deputy Commissioner Musakhel Chief Secretary Balochistan EPI Balochistan The Expanded Programme on Immunization - Pakistan

Address

Shop No 51 Oppsit To Thana Masjid Thana Market Phse 2
Khushabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Mustafa Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share