07/06/2026
"ڈاکٹر بہت کمارہا ہے"
"ڈاکٹر حرام کھا رہا ہے"
"ڈاکٹر صرف پیسہ دیکھتا ہے"
ایک ڈاکٹر کی جدوجہد اس دن شروع نہیں ہوتی جب وہ سفید کوٹ پہنتا ہے، بلکہ اس دن سے شروع ہو جاتی ہے جب بچپن میں اس کے ہاتھ میں کتاب تھمائی جاتی ہے۔ اس کے والدین اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، خاندان اس کی تعلیم کے لیے وقت، وسائل اور امیدیں لگاتا ہے، اور برسوں تک پورا گھر اس کے خواب کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔
پھر وہ ایک ایسی فیلڈ کا انتخاب کرتا ہے جسے دنیا کی مشکل ترین فیلڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک ایسی راہ جس پر قدم رکھنے سے بھی بہت سے لوگ گھبراتے ہیں۔ پانچ سال کی کڑی تعلیم، مسلسل امتحانات، ذہنی دباؤ، نیند سے محروم راتیں اور پھر ہاؤس جاب، ٹریننگ اور اسپیشلائزیشن کا طویل سفر۔
جب ہم میں سے اکثر لوگ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار رہے ہوتے ہیں یا زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، تب ایک ڈاکٹر ایمرجنسی، وارڈ یا آپریشن تھیٹر میں کسی کی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔
اووربرڈن ہسپتالوں میں کام کرنا، اپنی تنخواہ سے کئی گنا زیادہ ذمہ داری اٹھانا، مسلسل ذہنی دباؤ برداشت کرنا اور اپنی زندگی کے 35 سے 40 سال اس پیشے کو دینا کوئی معمولی بات نہیں۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ جب برسوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد کامیابی اس کے قدم چومنے لگتی ہے تو ہم اس کی داستانِ جدوجہد بھول جاتے ہیں۔ پھر آوازیں اٹھنے لگتی ہیں کہ "ڈاکٹر بہت کما رہا ہے"، "ڈاکٹر حرام کھا رہا ہے" یا "ڈاکٹر صرف پیسہ دیکھتا ہے"۔
کسی بھی ڈاکٹر کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی موجودہ حیثیت نہیں، اس سفر کو دیکھیے جس نے اسے یہاں تک پہنچایا ہے۔ اس سفید کوٹ کے پیچھے صرف ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی کی محنت، قربانیاں، محرومیاں اور انسانوں کی خدمت کا جذبہ چھپا ہوتا ہے۔
کامیابی چند لمحوں میں نظر آ جاتی ہے، مگر اس کامیابی تک پہنچنے میں اکثر ایک پوری زندگی لگ جاتی ہے۔ 🩺❤️