Dr Shoaib Adil

Call

Dr Shoaib Adil Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Shoaib Adil, Doctor, Wapda Town Lahore, Lahore.

13/08/2026
ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور اسٹاف پر چیخنے سے پہلے صحت اور تعلیم کا بجٹ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں سے اپنا حق مانگیں شکریہ
13/06/2026

ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور اسٹاف پر چیخنے سے پہلے صحت اور تعلیم کا بجٹ دیکھیں اور اپنے حکمرانوں سے اپنا حق مانگیں شکریہ

Eid Mubarak to all!
27/05/2026

Eid Mubarak to all!

Tayyab Arif Butt gem 💎
22/03/2026

Tayyab Arif Butt gem 💎

بندہ مار سے بندہ پرور ڈاکٹر،
دروغ برگردن راوی،
مجھے اللہ نے دوسری بات اپنی "رحمت" کا مستحق ٹھہرایا تو میں رب کے فیصلے پر بڑا راضی ہوا، اب خوشی کی یہی کیفیت طاری تھی کہ ھسپتال کی نرس بھاگم بھاگ میری جانب آئی کہ آپکی نوزائیدہ بیٹی کے جسم کی رنگت نیلی ہو رہی ہے اسے فوری طور پر "نرسری" لیجانا ہو گا، میں نے اپنی والدہ کو ساتھ بٹھایا انہوں نے بیٹی کو سنبھالا اور ھم چند لمحوں میں سول ھسپتال گوجرانوالا پہنچ گئے،
اللہ بھلا کرے وہاں موجود ڈیوٹی ڈاکٹرز کا کہ انہوں نے فوری ٹریٹمنٹ کیا اور 2 سے 3 گھنٹے انڈر آبزرویشن رکھنے کے بعد ھمیں جانے کی اجازت دے دی، میں خدا کا شکر بجا لاتے ہوے گھر واپس آیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی خواب خرگوش میں چلا گیا،
لیکن وہ کہتے ھیں نا کہ
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھکو
مجھ سوتے کو نیند سے یہ کہہ کر بیدار کیا گیا بیٹی دوبارہ نیلی پڑ رہی ہے میں ہڑبڑا کر اٹھا اور دوبارہ سے اپنی گاڑی منیر چوک کی جانب دوڑا دی، مگر اب کی بار ایک چیز مختلف ہوئی اور وہ یہ کہ میں سول ھسپتال کی بجاۓ منیر چوک میں واقع اک نجی ھسپتال میں جا پہنچا جہاں امراض بچگان کے ڈاکٹر فواد (فرضی نام) کو دکھایا تو انہوں نے رسمی کاروائی ڈالتے ہوے بی ایس آر چیک کروانے کو کہا، جب بی ایس آر چیک کروا کے ڈاکٹر کیجانب پلٹے تو موصوف جا چکے تھے، میں جُز بُز تو ہوا لیکن کیا ہی کہہ سکتا تھا، خیر باہر نکلا تو ڈاکٹر صاحب سے باہر ریمپ پر ہی ٹاکرا ہو گیا انہیں میں نے بی ایس آر کی ویلیوز دکھائیں تو وہان بھی جناب نے کمال تجاہل عارفانہ برتتے ہوۓ کہا کہ ٹھیک ہے آپکی بیٹی لے جائیں آپ اسے،
ڈاکٹر صاحب کی یہ سرد مہری غصہ تو دلا رہی تھی لیکن میں خاموش رہا،
یہاں کے اب اک اور امراض بچگان کی ڈاکٹر سمین (فرضی نام) کی جانب قصد کیا (وہ بھی اپنا ھسپتال بناۓ بیٹھی تھیں) جب ادھر پہنچے تو انہوں نے بیٹی کو چیک کرنے کے بعد ایسا اعلان کیا کہ میرا تو اپنا جسم کاٹو تو خون نہیں کی مثال بن گیا، موصوفا کہنے لگیں بچے کا رسپانس اچھا نہیں، (رسپانس اسکو کہتے ھین جب بچے کے ہاتھ میں انگلی رکھی جاۓ تو وہ مٹھی بینچ لے، پیر کے تلوے میں ہلکا سی ضرب لگائی جاۓ تو پیر اکڑاۓ وغیرہ) لہذا ردعمل تاخیر سے ہے کہتے ہوۓ انہوں نے فرمایا کہ بلڈ شوگر/گلوکوز کا انتہائی کم اور تاخیری ردعمل ہونا اس چیر کی نشانی ہے کہ بچی کے دماغ پر اثر ہو چکا ہے اور اسکا دماغ اپنی عمر سے پیچھے ہی رہے گا، میں نے کنسنٹ دیتے ہوے علاج شروع کرنے کا کہا، اس ننھی سی جان کو کینولا پاس کیا گیا اور پھر ٹیکہ در ٹیکہ در ٹیکہ، اس دوران فیملی پریشر یہ بننے لگا کہ نیائیں چوک میں واقع اک مشہور و معروف بچوں کے ڈاکٹر یاسر (فرضی نام) کو دکھایا جاۓ، میں شائد اتنی جلدی بیٹی کو شفٹ کرنے کا فیصلہ نہ کرتا لیکن جہاں موجود تھا اس ھسپتال کی نرسری میں بچوں کی بجاے میل اور فی میل نرس کی ایک دوسرے کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھنا مجھے یہ ابھارنے لگا کہ عشق اندھا ہوتا ہے اور محبوب کی موجودگی میں دنیا جاۓ بھاڑ میں، لہذا میں نیائیں چوک پہنچ گیا، وہاں بھیڑ دیکھ کر یوں لگا کہ جیسے کوئی شے بانٹی جا رہی ہے اور عوام انتظار میں ھیں خیر میری جب باری آئی اور ڈاکٹر صاحب نے بیٹی کو چیک کیا تو انکے الفاظ ہتھوڑے کی طرح میرے سر میں لگے، ڈاکٹر صاحب کہنے لگے "بچی کے دل میں سوراخ ہے" میں جو پہلے ہی زندہ نعش بنا ہوا تھا میں نے ہمت مجتمع کرتے ہوے پوچھ لیا کہ آپ کس طرح یہ تشخیص کر سکتے ھیں تو ڈاکٹر صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے میری جانب دیکھا اور گویا ہوے فلاں ھسپتال کی نرسری لیجائیں وہاں بتاؤنگا (ڈاکٹر صاحب اس ھسپتال میں پریکٹس کرتے ھیں)، میں نے بچی کو پکڑا اور واپس گھر آ گیا،
گھر آ کر بچی ماں کے حوالے کی اور خود سوچوں میں مگن دماغ لئے گھر میں ہی ٹہلنے لگا،
بچی جو مسلسل رو رہی تھی اچانک اس کی رونے کی آواز آنا بند ہو گئی، رونے کی آواز بن ہونا بھی شائد میری سانسیں بند ہونا تھا میں فوری کمرے کی جانب لپکا مگر جو دیکھا اسے منظر نے ساری ذھنی و جسمانی تھکن اتار دی، بچی دودھ پی رہی تھی اور بعد ازاں ڈکار بھی لیا،
میرے دل میں ڈاکٹر سمین اور ڈاکٹر یاسر (فرضی نام) کے جملے گونج رہے تھے، میں نے فیصلہ کیا کہ دوبارہ سے بیٹی کو سول ھسپتال دکھاؤں، خیر میں اگلے دن پھر سول ھسپتال موجود تھا اور پھر وہاں اک ایسا فرشتہ صفت ڈاکٹر ملا جس نے تمام مغالطے دور کر دئیے،
ڈاکٹر طیب عارف بٹ جو چلڈرن وارڈ میں ڈاکٹرز روم میں براجمان تھے انہیں جا کر میں نے بچی کو چیک کرنے کی درخواست کی (آوٹ ڈور میں اس وجہ سے نہ گیا کہ میرے ذھن میں تھا کہ پیچھے رومز میں پروفیسرز بیٹھے ہونگے انہیں چیک کرواتا ہوں)
ڈاکٹر طیب نے بغیر کسی حیل و حجت بچی کو چیک کیا اور بتایا کہ بے بی ٹھیک ہے، میں جو دماغ کا پیچھے رہ جانا اور دل میں سوراخ والی باتیں سن رہا تھا میں کیسے بے بی ٹھیک ہے والے جملے پر یقین کرتا، میں نے درخواست کی کہ براہ مہربانی دوبارہ چیک کریں یاد رہے میں نے انہیں بالکل بھی نہیں بتایا تھا کہ میں مختلف ڈاکٹرز کو دکھا چکا ہوں اور وہ یہ کہہ رہے، ڈاکٹر طیب نے دوسری بار بھی یہی کہا کہ الحمداللہ بے بی ٹھیک ہے، لیکن ساتھ انہوں نے سوال بھی داغ دیا کہ کیا ماجرہ ہے آپ بار بار کیوں اصرار کر رہے ھیں اور بے بی کو کینولا کیوں لگوایا ہے، پھر میں نے لیٹ رسپانس، دماغ کا پیچھے رہ جانا، دل میں سوراخ غرض ہر بات جو ڈاکٹرز کہہ چکے تھے وہ بتائی تو ڈاکٹر طیب نے دوبارہ رسپانس ریٹ اور دیگر وائیٹلز چیک کرتے ہوۓ یہ کہا کہ بے بی ٹھیک ہے، میری آنکھون میں آنسو تھے اور میں دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا ابھی میں ڈاکٹر طیب کا بھی شکریہ ادا کرنا ہی چاھتا تھا کہ وہ سیٹ سے اٹھے اور خود مجھے اور بے بی کو ساتھ نرسری لےجا کر بچی کو لگا کینولا بھی آؤٹ کروا دیا،
آج کے دن میری بیٹی 3 سال کی ہو چکی ہے اور الحمدللہ صحتمند اور کھیلتی بھاگتی ہے، لیکن میں تب بھی سوچتا تھا اور آج بھی سوچتا ہوں کہ جن ڈاکٹرز نے مسیحائی کا دعوٰی کیا ہوتا ہے کیا وہ ایسے نوزائیدہ بچوں پر بھی تجربے کرتے اور انکے ماں باپ کے جذبات کے کھیلتے ھیں، کیا انہیں ڈاکٹر کہا جانا بھی اس شعبے کی تذلیل نہیں؟ لیکن پھر یاد آتا ہے کہ وہ سب جنہیں میں نے ماضی میں دکھایا وہ اپنے ھسپتال بنا چکے تھے اور وہاں انکا مقصد مسیحائی نہیں بلکہ کمائی اور بس کمائی ہے،
میں آج کے دن۔بھی اللہ کے بعد ڈاکٹر طیب کا شکر گزار ہوں اور جب بھی کبھی مجھے ضرورت پڑے تو ڈاکٹر طیب کے پاس ہی اپنے بچوں کو لے جاتا ہوں۔کیونکہ وہ شخص مسیحائی کرتا ہے کمائی نہیں،

❄️ بچوں میں سینے کے انفیکشن کی وجوہات 🌡️🦠🩻⚡ وائرل انفیکشنز – نزلہ، زکام، فلو (سب سے عام وجہ)⚡ بیکٹیریل انفیکشنز⚡ کمزور ق...
16/01/2026

❄️ بچوں میں سینے کے انفیکشن کی وجوہات 🌡️🦠🩻
⚡ وائرل انفیکشنز – نزلہ، زکام، فلو (سب سے عام وجہ)
⚡ بیکٹیریل انفیکشنز
⚡ کمزور قوتِ مدافعت – بچوں خصوصاً ننھے بچوں کا مدافعتی نظام ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتا
⚡ سرد موسم اور اچانک درجۂ حرارت میں تبدیلی
⚡ بیمار افراد سے رابطہ – گھر کے افراد یا دوسرے بچے
⚡ گرد و غبار، دھواں اور آلودگی – خاص طور پر سگریٹ کا دھواں
⚡ گھر میں ہوا کا مناسب گزر نہ ہونا
⚡ ماں کا دودھ نہ پینا یا جلدی دودھ چھڑانا
⚡ غذائی کمی یا خون کی کمی (انیمیا)
⚡ الرجی یا دمہ
⚡ صفائی کا خیال نہ رکھنا
💥 احتیاطی تدابیر (PREVENTION) 💥
سینے کے انفیکشن سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
💫 بچے اور دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھ بار بار دھلوائیں
💫 کھانسی یا زکام والے افراد سے بچے کو دور رکھیں
💫 دھوئیں سے مکمل پرہیز کریں (بچے کے قریب سگریٹ نوشی نہ کریں)
💫 گھر کو صاف ستھرا اور گرد سے پاک رکھیں
💫 گھر میں تازہ ہوا کا مناسب انتظام کریں
💫 موسم کے مطابق کپڑے پہنائیں (نہ زیادہ گرم، نہ زیادہ ہلکے)
💫 متوازن اور صحت بخش غذا دیں (پھل، سبزیاں، انڈے، دودھ)
💫 اگر ممکن ہو تو ماں کا دودھ جاری رکھیں
💫 تمام حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوائیں
💫 بچے کو زیادہ سے زیادہ پانی اور مائعات دیں (پانی، دودھ، سوپ)
💫 سردیوں میں رات کے وقت گرم کپڑوں کا استعمال کریں

15/01/2026

Your Lungs Are Not Ashtrays!
Smoking Doesn’t Kill You Today — It Books a Date!

سگریٹ پینے والوں کے فنی بہانے اور ان کا سادہ جواب:

1️⃣ “جس نے سگریٹ پی وہ بھی مر گیا، جس نے نہیں پی وہ بھی مر جانا ہے”
👉 درست، مگر فرق مرنے کے طریقے کا ہے۔
سگریٹ والا اکثر سانس، دل، فالج یا کینسر سے تڑپ تڑپ کر جاتا ہے۔
2️⃣ “میں نے تو کئی ڈاکٹر سگریٹ پیتے دیکھے ہیں”
👉 ڈاکٹر کا سگریٹ پینا، سگریٹ کا صحت مند ہونا ثابت نہیں کرتا۔
ڈاکٹر بھی انسان ہیں، فرشتہ نہیں۔
3️⃣ “فلان 30 سال سے سگریٹ پی رہا ہے، اسے کچھ نہیں ہوا”
👉 ابھی نہیں ہوا، مگر
سگریٹ قرض کی بیماری ہے — سود سمیت بعد میں وصول ہوتی ہے۔
4️⃣ “میرے دادا نے ساری عمر سگریٹ پی، 90 سال جئے”
👉 ایک دو مثالیں اصول نہیں بنتیں۔
لاکھوں قبروں میں پڑے لوگ گواہی نہیں دے سکتے۔

15/01/2026

Prevention is better than cure
— بچاؤ علاج سے بہتر ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی صحت پالیسی اس اصول کے بالکل الٹ سمت میں چل رہی ہے۔
ہم وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں بیماری شور مچاتی ہے، نہ کہ وہاں جہاں اسے خاموشی سے روکا جا سکتا ہے۔ بڑے ہسپتال، نئی عمارتیں، مہنگی مشینری اور تیسرے درجے کی سہولیات سیاسی کامیابی کی علامت بن چکی ہیں، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر — جو سب سے سستا اور سب سے زیادہ جانیں بچانے والا شعبہ ہے — مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔
دنیا بھر کا تجربہ واضح ہے۔ مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام:
بیماریوں کو ابتدائی مرحلے میں روک لیتا ہے
ہسپتالوں پر دباؤ کم کرتا ہے
قومی صحت کے اخراجات گھٹاتا ہے
اور عوام کی اوسط عمر اور معیارِ زندگی بہتر بناتا ہے
جن ممالک نے فیملی میڈیسن، کمیونٹی ہیلتھ اور بروقت اسکریننگ کو ترجیح دی، وہ کم وسائل میں بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستان نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا۔
ہمارے بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور رورل ہیلتھ سینٹرز (RHCs) اکثر صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔ ضروری ادویات، بنیادی لیبارٹری سہولیات، تربیت یافتہ عملہ اور واضح ریفرل سسٹم کی کمی معمول بن چکی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ:
ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہیپاٹائٹس، حاملہ خواتین کی پیچیدگیاں اور بچوں کی قابلِ علاج بیماریاں بروقت تشخیص کے بغیر بڑھتی رہتی ہیں، حتیٰ کہ مریض ایمرجنسی کی حالت میں بڑے ہسپتال پہنچتے ہیں — جہاں علاج مہنگا، پیچیدہ اور اکثر تاخیر کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ محض وسائل کی کمی نہیں۔
یہ سوچ کا بحران ہے۔
پاکستان صحت پر اپنی مجموعی قومی آمدن کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے، اور اس محدود بجٹ کا بڑا حصہ بھی بیماری کے بعد علاج پر لگ جاتا ہے، نہ کہ:
بچاؤ (prevention)
اسکریننگ
نگرانی (surveillance)
اور صحت آگاہی
اسی لیے ہمارا نظام ہمیشہ بحران میں رہتا ہے — ان پیچیدگیوں سے لڑتا ہوا جو روکی جا سکتی تھیں۔
دوسری طرف برطانیہ، کینیڈا اور اسکینڈینیوین ممالک میں ہسپتال نظام کی بنیاد نہیں بلکہ آخری سہارا ہوتے ہیں۔ اصل طاقت فیملی فزیشن، نرسز اور کمیونٹی ہیلتھ ٹیمیں ہوتی ہیں جو مریض کو بیماری سے پہلے سنبھال لیتی ہیں۔
پاکستان کے پاس بھی بنیاد موجود ہے:
لیڈی ہیلتھ ورکرز کا وسیع نیٹ ورک
حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام
ہزاروں BHUs اور RHCs
اور تربیت یافتہ ڈاکٹر
کمی صرف تین چیزوں کی ہے:
سیاسی عزم، مستقل سرمایہ کاری، اور نتائج پر مبنی احتساب۔
افتتاحی تختیوں اور تصویروں کی نہیں۔
جب تک بچاؤ سیاست میں اہم نہیں بنے گا:
ہسپتال بھرے رہیں گے
ڈاکٹر تھکے رہیں گے
اور مریض دیر سے تشخیص، غیر ضروری اخراجات اور تکلیف کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔
پاکستان کو مزید ہسپتالوں سے زیادہ
ایک مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کی ضرورت ہے۔
کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں،
صحتمند انسانوں سے بنتی ہیں۔

آگاہی کے لئے لوگوں کو بھیجیں ۔copied

خاموش وبا: اینٹی بایوٹک ریزسٹنس — جب دوائیں بھی ہار جائیںیہ وہ بحران ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر اندر ہی اندر پورے نظامِ ص...
03/01/2026

خاموش وبا: اینٹی بایوٹک ریزسٹنس — جب دوائیں بھی ہار جائیں

یہ وہ بحران ہے جو شور نہیں مچاتا، مگر اندر ہی اندر پورے نظامِ صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

پاکستان میں اینٹی بایوٹک اس طرح استعمال ہو رہی ہیں جیسے درد کش گولیاں ہوں۔ بخار آیا تو خود سے دوا، نزلہ ہوا تو اینٹی بایوٹک، بچے کو دست ہوئے تو بغیر ٹیسٹ کے طاقتور انجیکشن۔ فارمیسی پر کوئی روک نہیں، نسخے کے بغیر دوائیں عام ہیں، اور جعلی یا غیر معیاری اینٹی بایوٹک بھی بازار میں دستیاب ہیں۔ اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ جراثیم مضبوط ہو رہے ہیں، اور دوائیں کمزور۔

آج صورتحال یہ ہے کہ وہ انفیکشن جو کبھی تین دن میں ٹھیک ہو جاتے تھے، اب ہفتوں ہسپتال میں رکھتے ہیں۔ عام سرجری، ڈلیوری، یا چھوٹا سا زخم بھی جان لیوا ہو سکتا ہے، کیونکہ جراثیم اب دواؤں سے نہیں ڈرتے۔ یہ مسئلہ صرف ڈاکٹر یا ہسپتال کا نہیں، یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

پرائمری ہیلتھ کیئر یہاں بھی نظر انداز ہے۔ اگر بنیادی سطح پر درست تشخیص، درست دوا، اور مریض کی صحیح رہنمائی ہو تو اینٹی بایوٹک کا بے جا استعمال خود بخود کم ہو جائے۔ مگر جب BHU میں وقت نہیں، سہولت نہیں، اور نظام کمزور ہے، تو لوگ خود علاج پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ریاستی سطح پر فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز کی کمزوری، فارماسیوٹیکل مافیا کی طاقت، اور نگرانی کے فقدان نے اس بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جانوروں اور پولٹری میں بھی اینٹی بایوٹک کا بے تحاشا استعمال ہو رہا ہے، جو بالآخر ہماری پلیٹ میں آ کر ہماری صحت پر وار کرتا ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے:
اینٹی بایوٹک ریزسٹنس مستقبل کا مسئلہ نہیں، یہ حال کا بحران ہے۔
جب دوائیں بے اثر ہو جائیں گی تو نہ پیسہ بچے گا، نہ ہسپتال، نہ مہنگی مشینیں۔

حل صرف ایک ہے:
طاقتور پرائمری کیئر، ذمہ دار مریض، جوابدہ ریاست، اور باخبر معاشرہ۔

اگر ہم نے آج یہ جنگ نہ لڑی، تو کل یہ جنگ ہمارے بچوں کو لڑنی پڑے گی—بغیر ہتھیار کے۔

از قلم :
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سیریز: صحت ، ریاست اور ہم۔

Address

Wapda Town Lahore
Lahore
0423

Telephone

+923364313986

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Shoaib Adil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category