Dr Wasim Akram

Dr Wasim Akram Physician / Internal medicine

23/04/2026

ہر معاشرے میں دو طرح کے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔

ایک وہ جو اپنے علم، مہارت، اور professionalism میں بہت مضبوط ہوتے ہیں۔
اور دوسرے وہ جن تک عوام کی رسائی آسان ہوتی ہے، جو لوگوں کی زبان میں لوگوں کے مسائل سمجھتے اور حل کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ایک اچھے ڈاکٹر کو ان دونوں کا مجموعہ ہونا چاہیے۔

اتنا competent کہ اپنے شعبے کا حق ادا کر سکے۔
اور اتنا عوامی کہ اپنی زمین، اپنے لوگوں، اور اپنے معاشرے کا حق ادا کر سکے۔

کیونکہ طب صرف بیماری کا علاج نہیں، اعتماد، رہنمائی، اور انسانوں سے تعلق کا نام بھی ہے۔

آغا خان یونیورسٹی سے کریٹیکل کیئر اور ایمرجنسی میڈیسن پڑھنے کے بعد جب واپس اپنے شہر آیا تو ایمرجنسی کیسز ڈیل کرنے کے بے ...
18/02/2026

آغا خان یونیورسٹی سے کریٹیکل کیئر اور ایمرجنسی میڈیسن پڑھنے کے بعد جب واپس اپنے شہر آیا تو ایمرجنسی کیسز ڈیل کرنے کے بے انتہا شوق اور جذبے کیساتھ کام شروع کردیا۔
میں نے اپنے کلینک کو "ایمرجنسی ریسپانس یونٹ" بنا رکھا ہے۔

میں ایک چھوٹے سے کلینک میں جدید الات رکھنے کا شوقین ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اگر کوئی سیریس مریض بھی آجائے جس کو میں ڈیل کر سکتا ہوں تو صرف شدید حالت میں ریفر کروں ورنہ میں یہ چیزیں کلینک پر خود ڈیل کر لیتا ہوں اور گزشتہ تین سالوں سے تمام معاملات الحمدللہ بہترین چل رہے ہیں۔میں نے اپنی پریکٹس کے دوران اینافیلاکٹک شاک کے بہت سے مریض کلینک پر ڈیل کر چکا ہوں، جن میں سے ایک پچھلے دنوں میرے کلینک میں آیا تھا۔ میرا بیک گراؤنڈ ایمرجنسی میڈیسن اور کریٹیکل کیئر کا ہے، اس لیے میں نے اپنے چھوٹے سے کلینک میں وہ تمام سہولیات جمع کر رکھی ہیں جو دیگولر مائینر ایمرجنسی کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔
یہ سب شاید میری روزمرہ کی ضرورت نہ ہو، لیکن ہمیشہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر کسی کی جان بچانے میں مدد کر سکوں اس سے بڑا صدقہ کوئی نہیں ہوگا!!! میں کلینک پر کئی دفعہ ایمرجنسی مینیج کر کے مریض ہسپتال ریفر کر چکا ہوں جس کی وجہ سے بے شمار مریضوں کی اللہ کی طرف سے جان بچی ہے ۔وہ الگ بات ہے کہ کہنے کے باوجود مریض عموماً میرے مہنگے آلات واپس کر کے نہیں جاتے اور ہسپتال چھوڑ کر آجاتے ہیں یا گم کرآتے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل کہانی پر:

گزشتہ دنوں ایک مریض میرے پاس لایا گیا، جس کو مکھی کے کاٹنے کے بعد Anaphylactic shock کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مریض صاحب دیسی تو تھے، لیکن نئی نئی دولت کے بعد ان کے انداز میں کچھ "امارت کے اسٹائل" کی چھاپ آ چکی تھی۔ انہیں شدید بے ہوشی، ہائپوٹینشن اور سانس لینے میں دشواری کے ساتھ لایا گیا۔ اکسیجن سیچوریشن 70 پر گر چکی تھی، بلڈ پریشر ناپید تھا، اور پورا جسم لال (جلد پر سرخ دانے) سے بھرا ہوا تھا –

میں نے فوراً اینافیلاکٹک شاک کے پروٹوکول کے مطابق علاج شروع کیا.پہلا epinephrine IM دیا – کوئی خاص ردعمل نہیں۔guidelines ki timing کے مطابق دوسرا شاٹ لگایا – ابھی تک مریض دشواری میں تھا۔ تیسرے شاٹ کے بعد بلڈ پریشر میں معمولی بہتری آئی۔چوتھے شاٹ کے بعد مریض vitally stable ہو گیا جسم سے لال نشان تقریبا غائب ہو گئے بلڈ پریشر پلس اکسیجن سیچوریشن سب تقریبا نارمل ہونے لگے۔ وائٹلز تو کچھ بہتر ہو گئے تھے، لیکن خارش ابھی بھی تھوڑی بہت باقی تھی اس کو اینٹی ہسٹامین اور ہائیڈرو کورٹسون دیا گیا تھا اس کے ساتھ جلد پہ لگانے کے لیے کیلا مائن لوشن دیا گیا تھا اور اس کو سارے معاملے کے بارے میں سمجھایا گیا تھا کہ اپ جس کنڈیشن میں ائے تھے وہ بہت خطرناک تھی اب اس کنڈیشن سے باہر نکل ائے ہیں اور جو تھوڑی تھوڑی خارش ہے یہ کچھ دیر میں چلی جائے گی۔


مگر مریض صاحب کو میری بات سے کوئی سکون نہیں ملا۔ وہ مسلسل شکایت کرتے رہے: "ڈاکٹر صاحب، یہ خارش تو فوراً ختم کریں! میں علاج کرانے بڑے بڑے ہسپتالوں میں جاتا ہوں وہاں تو ایسا علاج ہوتا ہے وہاں ویسا علاج ہوتا ہے"

میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اینافیلاکٹک شاک ایک زندگی کے لیے خطرناک حالت ہوتی ہے اور انہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ اس سے باہر نکل آئے ہیں خارش اگرچہ اپ کو تنگ کر رہی ہے اور اس کے لیے اپ کو دوائی بھی دی گئی ہے برائے مہربانی تھوڑی دیر انتظار کریں یہ خارش ختم ہوگی تو ہم آپ کو گھر بھیجیں گے، لیکن اس کو کوئی بات سمجھ نہیں ارہی تھی کہ وہ موت سے واپس آیا ہے اس میں صرف فکر یہ تھی کہ جو ہلکی ہلکی خارش ہو رہی ہے یہ کیوں نہیں جا رہی۔ اتنے میں میں اپنے دفتر میں گیا، تو سنتا ہوں کہ مریض صاحب اپنی اہلیہ سے کہہ رہے ہیں:

"کس کنجر ڈاکٹر کے پاس لے آئے ہو؟ یہ تو خارش کا بھی ٹھیک سے علاج نہیں کر سکتا! چلو کسی دوسرے ہسپتال چلتے ہیں!"

یہ کہہ کر وہ اٹھے، اپنے ڈیزائنر کپڑے سنبھالے، اور مجھے ایسے گھور کر چلے گئے جیسے مکھی نے نہیں ڈاکٹر نے کاٹا تھا ۔ڈسپنسر نے مجھ سے پوچھا: " بھائی، اس کی فیس کیا لینی ہے؟

میں یہ کہہ کر خاموش ہوگیا کہ اس کی فیس اللہ تعالی سے ہی وصول کریں گے اور مریض کو بغیر کسی فیس کے جانے دیا۔

اس طرح کے بے شمار واقعات دیکھ چکا ہوں شروع شروع میں تو میں بدظن نہیں ہوتا تھا لیکن لوگوں کا مسلسل یہی رویہ دیکھ کر محسوس کرتا ہوں کہ شاید مریض کی تکلیف لینے سے مریض تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اپنے رویے سے آپ کو تکلیف ضرور دے جاتا ہے۔
ایسے میں اب اکثر وبیشتر ایمرجنسی کیسز دیکھنے کو دل ہی نہیں کرتا،اور خدا نخواستہ اگر مریض نہ بچا سکے تو جو قتل کا الزام عائد ہوتا ہے اسکے داغ کو دھونا شاید اس زندگی میں ممکن نہیں!

میرا یہ پیغام پڑھیں،سبق حاصل کریں،آگے پھیلائیں اور اپنے ڈاکٹرز سے تعاون کریں تاکہ وہ آپکو ایمرجنسی کے معمولی حالات میں سو سو کلومیٹر دور ہسپتالوں میں ریفر نہ کرے جہاں جاتے جاتے مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں۔

منقول
ڈاکٹر انصب جلیل کی وال سے

02/12/2025

✨ قبل از وقت انزال (Premature Ej*******on) قابلِ علاج مسئلہ ✨

ڈاکٹر وسیم اکرم

میڈیکل اسپیشلسٹ – لاہور جنرل ہسپتال
احمد کلینک

---

✔ یہ ایک عام مگر مکمل طور پر قابلِ علاج مسئلہ ہے

زیادہ تر مرد اس مسئلے کا سامنا کرتے ہیں،
اور 90٪ مریض بہتر ہو جاتے ہیں۔

---

✔ علامات

چند لمحوں یا 1–2 منٹ میں انزال ہو جانا

کنٹرول نہ رہنا

ذہنی دباؤ، ٹینشن یا تعلقات میں مسائل

---

✔ علاج کے مؤثر طریقے

🏥 میڈیکل ٹریٹمنٹ

روزانہ یا ضرورت کے مطابق دوائیاں

ٹاپیکل کریم / اسپرے

قدرتی سپلیمنٹس (اگر ضرورت ہو)

🧘 ٹریننگ و مشقیں

اسٹارٹ–اسٹوپ تکنیک

اسکوئیز تکنیک

پیلوک فلور / کیگل ورزشیں

💬 کونسلنگ

ذہنی دباؤ کم

کارکردگی بہتر

---

✔ محفوظ • خفیہ • مؤثر علاج

📍 احمد کلینک

ملاقات کے لیے رابطہ کریں:
0347-7721986

26/09/2024
اگر اس گرمی میں بھی کسی کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں یا ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے تو اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں۔ آئرن کی کمی۔ ج...
22/05/2024

اگر اس گرمی میں بھی کسی کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں یا ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے تو اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں
۔ آئرن کی کمی
۔ جسمانی وزن کم ہونا
۔ نیند کی کمی
۔ تھائیرائیڈ کا مسئلہ
۔ پانی کی کمی
۔ ذیابیطس
اگر یہ مسئلہ مستقل ہو اور ساتھ قبض کی بھی شکایت ہو یا بال گر رہے ہوں تو اپنے گلے کے غدود کا ایک ٹیسٹ TSH) کراکر اپنے معالج کو دکھائیں۔

خوش رہیں صحت مند رہیں

ڈاکٹر وسیم اکرم
لاہور جنرل ہسپتال
رحمت میڈی کئیر کلینک

Opening soon. Inshallah.
18/05/2024

Opening soon. Inshallah.

24/02/2024

امراضِ دل سے بچنے کے چار سنہری اصول!

چار ایسی بہترین عادات جن سے دل کے امراض کا امکان بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔

1۔ ”تمباکو نوشی سے اجتناب"
دل کی صحت کے لئے تمباکو نوشی سے دور رہیں۔ تمباکو کے استعمال سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے اور صحت کے مختلف پہلوؤں پر اثر ڈالتا ہے۔ اپنے دل کو صحتمند رکھنے کے لئے تمباکو سے متعلق عادتوں کو ترک کریں اور صحتمند زندگی کی راہ میں قدم بڑھائیں۔

2۔ “وزن پر قابو"
دل کی صحت کے لئے وزن کا قابو رکھیں۔ زیادہ وزن اور موٹاپے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ صحتمند زندگی کے لئے مناسب وزن کی حفاظت کریں۔ ایک صحتمند وزن کے ساتھ، آپ اپنے دل کو مضبوط رکھ سکتے ہیں اور زندگی کی کیفیت میں بہتری حاصل کر سکتے ہیں۔

"ان چاروں عادات کو اپنانے سے دل کے امراض کا امکان تقریباً 40٪ تک کم ہو جاتا ہے۔"

3۔ “دن میں کم سے کم پانچ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال"
دل کے لئے صحتمند خوراک میں پانچ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال شامل کریں۔ یہ آپکے دل کی صحت میں بہتری کر سکتا ہے اور آپکو صحتمند زندگی کی راہ میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

"ان چاروں عادات کو اپنانے سے لوگ بقیہ لوگوں کی نسبت 14 سال زیادہ زندگی جی پاتے ہیں۔"

4۔ “ہفتے میں کم سے کم 150 منٹ کی متوسط درجے کی ورزش"
دل کی صحت کے لئے ہفتے میں کم سے کم 150 منٹ کی معتدل درجے کی ورزش ضروری ہے۔ یہ آپکے دل کو مضبوط رکھتا ہے اور دلیہ بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ صحتمند زندگی کے لئے یہ اہم ہے کہ آپ معمولی ورزش کو اپنی روزانہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔

"ان میں سے کسی ایک عادت کو اپنانے سے بھی زندگی میں خاص فرق پڑتا ہے۔"

صحتمند زندگی کے لئے چار عام اقدامات: صحتیاب رہیں، ہر دن خود کو بہتر بنائیں۔ 🌱💪

Regards,
Dr Wasim Akram





اسلام و علیکم ڈاکٹر صاحبوعلیکم السلام تشریف رکھیں۔ اپنی علامات کے بارے میں کچھ بتائیےڈاکٹر صاحب مجھے سات دن سے تیز بخار،...
01/01/2024

اسلام و علیکم ڈاکٹر صاحب

وعلیکم السلام تشریف رکھیں۔ اپنی علامات کے بارے میں کچھ بتائیے

ڈاکٹر صاحب مجھے سات دن سے تیز بخار، کھانسی اور جسم میں درد تھا۔ بہت علاج کیا لیکن زیادہ بہتری محسوس نہیں ہو رہی۔ابھی کھانسی موجود ہے اور کمزوری بہت محسوس ہو رہی ہے۔

اچھا تو کیا علاج کیا آپ نے

پہلے دو دن 500 ملی گرام والی ایزومیکس Azomax سٹور والے سے لے کرصبح شام کھائی۔ لیکن دو دن میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ پھر سٹور والے کے مشورے سے 3 دن موکسی فلاکسی سین moxifloxacin کھائی لیکن اس سے بھی کھانسی نہیں رکی۔ پھر محلے کے کمپاونڈر سے تین دن آکسی ڈل oxidil کے انجکشن ڈیکاڈرون Decadron کے ساتھ مکس کر کے لگوائے۔ اس نے کھانسی روکنے کے لئے دو دن لنکو سین Lincocin کے انجکشن بھی لگائے ہیں۔

ان سب کے باوجود آرام نہیں آیا؟

نہیں ڈاکٹر صاحب۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا اچھا طاقت والا ٹیکہ اور اینٹی بائیوٹک والا ٹیکہ لگے کہ کمزوری اور کھانسی سے فوری آرام آ جائے۔۔۔۔۔

علاج کا یہ طریقہ کار آج کل وائرل انفیکشن کا شکار ہونے والا ہر مریض کم و بیش اسی ترتیب سے بتا رہا ہے۔ وائرل انفیکشن میں اینٹی بایوٹک دوائی کا بے دریغ اندھا دھند استعمال ان مفید دوائیوں کے خلاف جراثیمی مدافعت پیدا کر رہا ہے۔ اگر ہم نے اسے نہ روکا تو ٹائیفائیڈ اور دیگر بیکٹیریائی انفیکشن کا علاج کرنے کے لئے مستقبل میں کوئی اینٹی بایوٹک نہیں بچے گا۔

اینٹی بایوٹک کا استعمال مستند ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کریں۔

Good news for Punjab residents! The following institutions and hospitals are set to offer free TPA round the clock to ac...
23/12/2023

Good news for Punjab residents! The following institutions and hospitals are set to offer free TPA round the clock to acute ischemic patients. This service is available if the patient reaches one of the mentioned centers within 4.5 hours of the onset of a stroke. A remarkable 94% of patients receiving TPA within the recommended time experience clinical improvement.
پنجاب والوں کے لیے خوشخبری!
درج ذیل ادارے اور ہسپتال فالج کے مریضوں کو مفت TPA فراہم کر رہے ہیں۔
اگر مریض فالج کے آغاز میں ہی 4 یا 5 گھنٹے کے اندر اندر مذکورہ مراکز میں سے کسی ایک پر پہنچ جائے۔ اور تجویز کردہ وقت کے اندر TPA حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاۓ تو 94% مریض میں بہتری آ سکتی ہے ۔







زیادہ سے زیادہ share کریں تاکہ کسی کا فائدہ ہو سکے

کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟ تو یہ ہے ہمارے ہاں استعمال ہونے والی ایک عام انیٹی بائیوٹک "اگمینٹن" (augmentin) جو میری نظر می...
23/11/2023

کیا یہ درست ہے یا نہیں ؟
تو یہ ہے ہمارے ہاں استعمال ہونے والی ایک عام انیٹی بائیوٹک "اگمینٹن" (augmentin) جو میری نظر میں میڈیکل سائنس کا ایک خوبصورت "جگاڑ" ہے۔

اگمینٹن کی گولی میں "amoxicillin" نام کی ایٹنی بائیوٹک ہوتی ہے، اور سب اینٹی بائیوٹکس کی طرح یہ بھی بیکٹیریال انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ amoxicillin کا تعلق اینٹی بائیوٹکس کے سب سے بڑے گروپ "beta lectum antibiotics" سے ہے۔ یہ ساری اینٹی بائیوٹکس بیکٹریا کی سیل وال پر حملہ کرکے بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں۔

لیکن بیکٹیریا بھی بڑا چالاک ہے، اس نے اتنی ساری اینٹی بائیوٹکس کا ایک ہی علاج نکالا۔ کچھ بیکٹیریا ایسا انزائم (beta lactamase) بنانے لگ گئے جو ان اینٹی بائیوٹکس کو ناکارہ کر دیتا ہے۔ یعنی جو اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا کو "توڑنے" آئیں، بیکٹیریا نے انہیں ہی "توڑ" دیا۔

یہاں پر آتا ہے ہمارا "جگاڑ"۔ ہم نے بیکٹیریا کے اس انزائم کو پکڑا اور کچھ ایسے کیمکلز لے کر آئے جو اس انزائم کو ناکارہ کردے۔ ایسا ہی ایک کیمکل "clavulanic acid" ہے۔ جو بیکٹیریا کے اینٹی بائیوٹک ناکارہ کرنے والے انزئم کو ہی ناکارہ کر دیتا ہے۔

تو ہم نے اپنی amoxicillin کو اس clavulanic acid کے ساتھ ملا دیا اور یوں بن گئی ہماری اگمینٹن !!!

یعنی پہلے ہم نے بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک بنائی، تو بیکٹیریا نے اس کے جواب میں انزائم بنا لیا تو ہم نے اس کا بندوبست بھی کرلیا۔ اسی طرح ہمارے پاس مختلف اینٹی بائیوٹکس اور کیمکلز کی جوڑیاں اور دو مختلف اینٹی بائیوٹکس کے کمبینیشن موجود ہین

لیکن کیا اس طرح ہم بیکٹیریا سے جیت گئے ؟ وقتی طور پر تو ہاں لیکن لگتا ہے بیکٹیریا پھر سے بازی بدل دے گا، بلکہ ایسے بیکٹیریا بھی موجود ہیں جو تقریباً سب اینٹی بائیوٹکس کو فیل کر چکے ہیں۔

یہ "antibiotic resistance" کی جنگ ہے، جس میں بیکٹیریا ایک عرصے کے بعد ایک اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتا ہے۔ ویسے تو یہ کام "ارتقائی اصولوں" کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن ہم انسانوں کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس کا بلا ضرورت اور غلط استعمال اس عمل کو شدید کر دیتا ہے، جس میں ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا نقصان ہے، کیونکہ آج جو بیکٹیریا آسانی سے ختم ہو رہا ہے کل کو وہی بیکٹیریا مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

ہمارے پاکستان میں سرکاری رپورٹس بتاتی ہیں کہ کس طرح انسان اور جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔ خود میں بھی اس غلط کام کا نشانہ بن چکا ہوں۔ گیارہ سال کی عمر میں میری ٹانگ کے پٹھوں میں اندرونی چوٹ لگی، اور اب میں جانتا ہوں کہ اس وقت مجھے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میرا علاج کرنے والے "ڈاکٹر صاحب" نے مجھے مہینے کے لیے یہی اگمینٹن لکھ دی۔ افسوس۔۔۔

ہر سال یہ ہفتہ (18 - 24 نومبر) عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس اور antibiotic resistance کی آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے، تو آپ بھی دیکھیں کہ کہیں آپ غیر ضروری اور غلط طریقے سے اینٹی بائیوٹکس تو استعمال نہیں کر رہے۔۔۔!!!

04/11/2023

رات کی ایمرجنسی ڈیوٹی بھی بہت سخت ہوتی ہے کبھی کبھار ہم دوڑ بھاگ کر کر کے اتنا تھک جاتے ہیں کہ اپنا آپ بھی سنبھال نہیں پاتے رات کے بعد پھر اگلے دن کی مارننگ ڈیوٹی بھی ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔
آج رات کی ڈیوٹی صبح آٹھ بجے ختم ہونی تھی لیکن آخری مریض آئی۔سی۔یو میں شفٹ کرت کرتے صبح 9 بج گئے رات ساری کھانا نہیں کھایا تھا-
9 بجے میں فری ہو کر کنٹین چلا گیا اس کے بعد او۔پی۔ڈی میں جانا تھا میں نے سوچا کچھ کھا کر پھر او پی ڈی چلا جاوں گا۔
یہ سوچ کر ابھی کنٹین جا کر بیٹھا ہی تھا اور کھانا آرڈر کرنے لگا تھا کہ ایک صحافی آ گیا کیمرہ ہاتھ میں پکڑے میری وڈیو بنانے لگا
"یہ دیکھیں ناظرین ڈاکٹر صاحب کی غیر ذمہ داری کا اندازہ لگائیں آٹھ بجے ان کی ڈیوٹی شروع ہونی تھی اور 9 بجے ڈیوٹی پر آئے ہیں اور آتے ہی کنٹیں پر چائے نوش فرمانے لگ گئے ہیں اور یہ دس بجے تک یہیں بیٹھیں رہیں گے وغیرہ وغیرہ"
میں بہت تھکا ہوا تھا اس کے ساتھ بحث کرنے کی نہ ہمت تھی نہ طاقت نہ میں اس کے سوالوں کا جواب دے سکتا تھا میں کھانا بھی آرڈر نہ کر سکا وہ میری وڈیو بناتا رہا اور میں خاموش بیٹھا رہا آخر میں وہ مجھے کہنے لگا کہ میں آپ کے ایم۔ایس اور سیکرٹری ہیلتھ تک یہ وڈیو پہنچاوں گا میں نے کہا ٹھیک ہے اب جاو وہ کہنے لگا میں ابھی ایم۔ایس آفس جا کر رپورٹ کرتا ہوں۔
وہ ایم۔ایس آفس میں چلا گیا وہاں جا کر دیکھا تو ایم۔ایس بھی ابھی نہیں آیا تھا میری بھوک مر چکی تھی میں ایسے ہی اٹھا اور او۔پی۔ڈی میں جا کر بیٹھ گیا راستے میں وہ مجھے ملا اور میں نے اس سے پوچھا کہ ایم۔ایس کو بتا آئے ہو کہنے لگا وہ ابھی تک خود نہیں آئے۔
تھوڑی دیر میں ایم۔ایس بھی آ گئے انہوں نے آتے ہی اس صحافی سے اسکا کارڈ اور لائسنس یا رجسٹریشن کارڈ مانگا لیکن اس سے کچھ بھی برآمد نہیں ہو سکا-
یہ دو ٹکے کا صحافی بعد میں پتا چلا کہ میٹرک فیل ہے اور اس کے پاس کو آفیشل اتھارٹی موجود نہیں بس ڈاکٹروں یا دوسروں کو پانچ سو یا ہزار کے لیے بلیک میل کرنے آتا ہے تھوڑی دیر میں وہ معافیاں مانگنے تک آ گیا تھا اور پھر رونے لگ گیا۔
کیا کوئی ان صحافیوں سے پوچھے گا کہ جب ہم شام آٹھ کی بجائے رات دس بجے تک ایکسٹرا ڈیوٹی کرتے ہیں تب یہ کدھر ہوتے ہیں؟
جب باقی عوام عید کی چھٹیاں منا رہی ہوتی ہے ڈاکٹر ایمر جنسی میں ذلیل ہو رہے ہوتے ہیں؟
بہرحال اسے میرے کہنے پر چھوڑ دیا گیا باہر نکلتے نکلتے وہ مجھے پھر دھمکی دے گیا کہ تجھے میں بعد میں دیکھ لوں گا۔
میں نے دو بجے تک او پی ڈی ڈیوٹی کی اور چائے بسکٹ وہیں منگوا لیے کھانے کے ساتھ ساتھ ہاتھ دھوئے بغیر مریض بھی دیکھتا رہا دو بجے کے بعد ٹانگوں میں شدید درد اور بخار کے ساتھ گھر پہنچا، گھر پہنچتے ہی دو پیناڈول گولیاں کھائیں اور سو گیا، سونے سے پہلے دل میں شدید مایوسی آئی کہ سسٹم کتنا غیر منصفانہ ہے لیکن پھر میں سو گیا-
اگلے دن صبح پھر بخار ہو گیا 8 بجے ڈیوٹی پہ بھی جانا تھا چھٹی لینے کی کوشش کی وہ بھی نہ مل سکی اگلی ڈیوٹی پھر پیناڈال کھا کر کی۔
ایک ایمرجنسی ڈیوٹی اتنا تھکا دیتی ہے کہ پورا ہفتہ اس کی تھکاوٹ نہیں جاتی۔
(ڈاکٹر نعیم)

Address

Green Plus Pharmacie
Lahore

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 16:00 - 20:00

Telephone

+923167794450

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Wasim Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Wasim Akram:

Shortcuts

Share

Category