Dr. Maria Mahmood, Paediatric Consultant

Website

Dr. Maria Mahmood, Paediatric Consultant 👶 Expert child care, now from your home! Consultant Paediatrician based in DHA Lahore

Book your WhatsApp consultation today 📱

09/09/2026
21/06/2026

ہر بچہ اپنی رفتار سے بولنا سیکھتا ہے، یہ بالکل فطری بات ہے کہ کچھ بچے جلدی بولنا شروع کرتے ہیں جبکہ کچھ کو تھوڑا زیادہ وقت لگتا ہے۔
لیکن یاد رکھیں، ہر تاخیر کو "نارمل" سمجھ کر نظر انداز کرنا درست نہیں۔

✅ عام طور پر:
• ایک سال کی عمر تک بچہ ایک آدھ لفظ بولنا شروع کر دیتا ہے۔
• ڈیڑھ سے دو سال کی عمر تک کئی الفاظ بولنے لگتا ہے،
• دو سال تک چھوٹے دو لفظوں کے جملے بھی بنانا شروع کر دیتا ہے۔

💥 اہم بات:
ہلکی تاخیر اور خطرے کی علامات میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے
✔️ اگر:
• 16 ماہ تک بچہ کوئی واضح لفظ نہ بولے،
• 18 ماہ تک دو لفظ جوڑ کر نہ بولے،
تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

✅ لیکن فوراً توجہ کی ضرورت ہے اگر:
• بچہ نام لینے پر ردِعمل نہ دے،
• پہلے بولے ہوئے الفاظ بولنا چھوڑ دے۔
یاد رکھیں: سیکھی ہوئی مہارت کا ختم ہونا (regression) کبھی بھی نارمل نہیں ہوتا۔

✅ ایک اہم پہلو، "سماعت"
بولنے میں تاخیر کی سب سے عام اور قابلِ علاج وجہ سماعت کی کمی ہو سکتی ہے، اس لیے اگر بچہ بولنے میں پیچھے ہے تو hearing test ضرور کروائیں۔

✅ زبان سیکھنے کا بہترین طریقہ:
• بچے سے بات کریں
• آنکھوں میں دیکھ کر گفتگو کریں،
• کہانیاں سنائیں،
• کھیل کے ذریعے سکھائیں۔

📱 اسکرین کے بارے میں:
• 18 ماہ سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین سے مکمل پرہیز بہتر ہے (سوائے ویڈیو کال کے)
• 2 سے 5 سال کے بچوں کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 1 گھنٹہ۔
کیونکہ اسکرین بچے کو سننے والا تو بناتی ہے، لیکن بولنے کے لیے ضروری دو طرفہ گفتگو نہیں دیتی

💥 اگر کبھی شک ہو تو انتظار نہ کریں، جلدی تشخیص اور رہنمائی بچے کے بہتر مستقبل کی ضمانتl

Address

DHA 9 Town
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Maria Mahmood, Paediatric Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category