Dr. Sohail Ahmed

Dr. Sohail Ahmed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Sohail Ahmed, Doctor, Lahore.

اللہ ﷻ جس معالج کا دستِ شفاء چُن لے پھر کیا مذائقہ کہ آٹواِمیون Auto-immune disease (ناقابلِ شفاء، ناقابلِ واپسی irrever...
30/10/2024

اللہ ﷻ جس معالج کا دستِ شفاء چُن لے پھر کیا مذائقہ کہ آٹواِمیون Auto-immune disease (ناقابلِ شفاء، ناقابلِ واپسی irreversible, incurable) مرض بھی شفاء کی جانب گامزن ہو جائے۔ شفاء من جانب اللہ🥳

مزاجی دوا کا کرشمہ😍
The miracle of Constitutional remedy

Get an appointment👇
ڈاکٹر سہیل احمد کے آفیشل واٹس اپ پر خوش آمدید💐 کیا آپ صحت سے متعلق کسی مسئلہ کا شکار ہیں ؟
⭕اپنا نام، عمر، وزن، قد، شادی کا سٹیٹس، مکمل پتہ اور اپنے مرض کے بارے مختصراً بتائیں اور لیب رپورٹس سینڈ کر دیجیے۔ آنلائن علاج کی سہولت خصوصاً کلینک تک نا پہنچنے والوں کے لیے مہیا کی جاتی ہے۔
برائے مہربانی وقت ضائع کرنے سے گریز کیجیے۔
مکمل علاج اور تفصیلات کے لیے آپ کے آنلائن عکاج کی اپوائنٹمنٹ بُک ہونے پر 6 گھنٹوں کے اندر آن کال ہسٹری اور کیس ٹیکنگ کرنے کے لیے ٹائم دے دیا جائے گا۔ جس میں تقریباً آدھا یا ایک گھنٹہ آپ سے مختلف سوالات اور مرض کے بارے معلومات لی جائے گی۔
⭕نوٹ: پہلی بار کلینک وزٹ کرنے کو ترجیح دیں۔ اس کے بعد آنلائن علاج اور فالو اپس جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

📲ہر بار کلینک آنے سے پہلے کال کر کے دستیابی کنفرم کر لیں۔

📍ایڈریس: *نیشنل ہومیوپیتھک کلینک*👇

⭕مارننگ Morning کلینک*: علی پارک بالمقابل جامع مسجد فیضانِ سنت، میجر مصطفٰے شہید روڈ ائیرپورٹ لاہور کینٹ۔
📍Google Map Ali Park Clinic https://maps.app.goo.gl/f13obYNP2i3y4hNx5?g_st=ac

📅 اوقات کار علی پارک کلینک: صبح 11 تا شام 4 تک۔ ناغہ بروز اتوار

⭕*ایوننگ Evening کلینک*: گلدشت ٹاؤن، 49, C بلاک، بالمقابل بیت الاسلام سکول، دوگیج بازار، ضرار شہید روڈ نزد رینجرز پنجاب لاہور کینٹ۔
📍Google Map Guldasht Town Clinic
https://maps.app.goo.gl/iLiECS36CbSSN31T8?g_st=ac

📅اوقات کار گلدشت ٹاون کلینک: شام 5 تا 9 بجے تک۔ ناغہ بروز اتوار

🔖آنے سے پہلے ٹائم لینا لازم ہے۔ شکریہ
🔖نوٹ: دوا اور علاج چیک اپ فیس سینڈ کرنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔
اپوائنٹمنٹ بُکنگ اور ٹائم کنفرم کرنے کے لیے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کریں۔👇

پاکستان🇵🇰03253100003📲

اوورسیز، یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطٰی، اسٹریلیا، ایشیا🇬🇧
+44 7512 703454📲

🏧 اکاؤنٹ ٹائٹل: سہیل احمد
1⃣جازکیش اکاؤنٹ: 03209425319
2⃣ایزی پیسہ اکاؤنٹ: 03253100003
3⃣میزان بینک اکاؤنٹ: 02630110830754
IBAN : PK88MEZN0002630110830754

کلینک کنسلٹیشن فیس -/1500 روپے
آنلائن کنسلٹیشن فیس: 2000
اوورسیز چیک اپ فیس: 5000
انٹرنیشنل کنسلٹیشن فیس برائے فارنرز: 10000

ڈاکٹر سہیل احمد کے آفیشل واٹس اپ پر خوش آمدید💐 کیا آپ صحت سے متعلق کسی مسئلہ کا شکار ہیں ؟⭕اپنا نام، عمر، وزن، قد، شادی ...
29/10/2024

ڈاکٹر سہیل احمد کے آفیشل واٹس اپ پر خوش آمدید💐 کیا آپ صحت سے متعلق کسی مسئلہ کا شکار ہیں ؟
⭕اپنا نام، عمر، وزن، قد، شادی کا سٹیٹس، مکمل پتہ اور اپنے مرض کے بارے مختصراً بتائیں اور لیب رپورٹس سینڈ کر دیجیے۔ آنلائن علاج کی سہولت خصوصاً کلینک تک نا پہنچنے والوں کے لیے مہیا کی جاتی ہے۔
برائے مہربانی وقت ضائع کرنے سے گریز کیجیے۔
مکمل علاج اور تفصیلات کے لیے آپ کے آنلائن علاج کی اپوائنٹمنٹ بُک ہونے پر 6 گھنٹوں کے اندر آن کال ہسٹری اور کیس ٹیکنگ کرنے کے لیے ٹائم دے دیا جائے گا۔ جس میں تقریباً آدھا یا ایک گھنٹہ آپ سے مختلف سوالات اور مرض کے بارے معلومات لی جائے گی۔
⭕نوٹ: پہلی بار کلینک وزٹ کرنے کو ترجیح دیں۔ اس کے بعد آنلائن علاج اور فالو اپس جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

📲ہر بار کلینک آنے سے پہلے کال کر کے دستیابی کنفرم کر لیں۔

📍ایڈریس: *نیشنل ہومیوپیتھک کلینک*👇

⭕مارننگ Morning کلینک*: علی پارک بالمقابل جامع مسجد فیضانِ سنت، میجر مصطفٰے شہید روڈ ائیرپورٹ لاہور کینٹ۔
📍Google Map Ali Park Clinic https://maps.app.goo.gl/f13obYNP2i3y4hNx5?g_st=ac

📅 اوقات کار علی پارک کلینک: صبح 11 تا شام 4 تک۔ ناغہ بروز اتوار

⭕*ایوننگ Evening کلینک*: گلدشت ٹاؤن، 49, C بلاک، بالمقابل بیت الاسلام سکول، دوگیج بازار، ضرار شہید روڈ نزد رینجرز پنجاب لاہور کینٹ۔
📍Google Map Guldasht Town Clinic
https://maps.app.goo.gl/iLiECS36CbSSN31T8?g_st=ac

📅اوقات کار گلدشت ٹاون کلینک: شام 5 تا 9 بجے تک۔ ناغہ بروز اتوار

🔖آنے سے پہلے ٹائم لینا لازم ہے۔ شکریہ
🔖نوٹ: دوا اور علاج چیک اپ فیس سینڈ کرنے کے بعد شروع کیا جائے گا۔
اپوائنٹمنٹ بُکنگ اور ٹائم کنفرم کرنے کے لیے درج ذیل نمبرز پر رابطہ کریں۔👇

پاکستان🇵🇰03253100003📲

اوورسیز، یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطٰی، اسٹریلیا، ایشیا🇬🇧
+44 7512 703454📲

🏧 اکاؤنٹ ٹائٹل: سہیل احمد
1⃣جازکیش اکاؤنٹ: 03209425319
2⃣ایزی پیسہ اکاؤنٹ: 03253100003
3⃣میزان بینک اکاؤنٹ: 02630110830754
IBAN : PK88MEZN0002630110830754

کلینک کنسلٹیشن فیس -/1500 روپے
آنلائن کنسلٹیشن فیس: 2000
اوورسیز چیک اپ فیس: 5000
انٹرنیشنل کنسلٹیشن فیس برائے فارنرز: 10000
فیس سینڈ کرنے کے بعد سکرین شوٹ بھیج دیں۔ تاکہ آپ کو چیک اپ کے لیے اپوائنٹمنٹ اور ٹائم کنفرم کیا جا سکے۔ شکریہ
National Homoeopathic Clinic Lahore

ہیپاٹائٹس اے ( Hepatitis-A ) صرف 16 دنوں میں ٹاٹا بائے بائے 🎉شفاء من جانب اللہ ☝🏾 کلاسیکل ہومیوپیتھی کے کرشمات
16/10/2024

ہیپاٹائٹس اے ( Hepatitis-A ) صرف 16 دنوں میں ٹاٹا بائے بائے 🎉
شفاء من جانب اللہ ☝🏾 کلاسیکل ہومیوپیتھی کے کرشمات

الله ہر چیز پر قادر ہے✊ہو گا وہی جو منظورِ خدا ہے👉ٰعدل و انصاف کا گھٹیا نظام پاکستان کا ہو یا مغربی ممالک کا، آپ مان لیں...
17/09/2023

الله ہر چیز پر قادر ہے✊
ہو گا وہی جو منظورِ خدا ہے👉

ٰعدل و انصاف کا گھٹیا نظام پاکستان کا ہو یا مغربی ممالک کا، آپ مان لیں کہ وہ جو رب ہی وہی سب ہے۔ اور وہ سب کچھ دیکھتا ہے، جانتا ہے، سُنتا ہے۔

وتعذ و من تشاء وتذل من تشاء❤
صدارتی ریفرنس کے بعد حلف بھی صدر نے ہی لیا۔
محترم چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو بلاوجہ ستانے والے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اب انہی سے رحم کی بھیک مانگیں گے۔ کیا آپ اپنی آنکھوں سے مکافاتِ عمل نہیں دیکھتے ؟

میرے باغات                      تحریر: ڈاکٹر سہیل احمد یااللہ تیرا ہی آسرا ہے، لگتا ہے میں کسی غلط جگہ پھنس گیا ہوں، کچھ...
27/07/2023

میرے باغات
تحریر: ڈاکٹر سہیل احمد

یااللہ تیرا ہی آسرا ہے، لگتا ہے میں کسی غلط جگہ پھنس گیا ہوں،
کچھ اسی طرز کے فقرے میری زبان سے ناچاہتے ہوئے بھی ادا ہونے لگے۔
ریل کا سفر جو کہ پشاور کی جانب رواں تھا، میں تبلیغی جماعت والے گروہوں کے سلوک سے بہت مغموم ہوا۔ دکھاتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔
نیند کے عالم میں کبھی اس برتھ سِیٹ پر دھکے کھاتا اور کبھی نیچے فرش پر بیٹھ کر سو جاتا۔ چادر یا کوئی لِیر نہیں تھی جس کو بدن پر اوڑھ کر سردی کی شدت سے بچ سکتا، اچانک ایک برتھ خالی نظر آئی، کچھ سوچے سمجھے بغیر اس پر چڑھ دوڑا، سخت میٹھی نیند میں تھا کہ تبلیغی جماعت کے بڑی بڑی داڑھیوں والے اصلی مسلمان اس کیبن میں داخل ہونے لگے، اور اپنی سیٹیں ٹکٹوں کے ساتھ میچنے لگے، میں دل ہی دل میں سوچنے لگا، " شکر ہے کہ یہ برتھ جس پر میں لیٹا ہو یہ دین سے پیار کرنے والے افراد کی بُک کردہ سیٹ ہے اب یہ میری نیند کا بھی کوئی بہتر حل نکال لینگے،
اتنے میں یک دم دو غصیلی آوازیں پڑیں، " ارے او بھائی چل اُٹھ اِدھر سے، جلدی کرو، نیچے آوٴ "
میں خود کو اچانک سنبھالنے لگا، کیونکہ نیند کے عالم میں ناگوار آوازیں یا کوئی بھی پریشر اکثر گھبراہٹ کا سبب بنتا ہے۔ بحرحال میں ہمدردی حاصل کرنے کی آخری ناکام کوشش کرنے لگا، اپنے آپ کو پنجابی محسوس کرواتے ہوئے مخاطب ہوا، " اچھا جی اے تہاڈی سِیٹ اے ؟
مگر وہ سب اصلی مسلمان تھے میری باتوں میں کیونکر آتے۔

ان سب نے مجھے واپس ٹرین کے فرش پر سونے کے لیے مجبور کر دیا۔

یوں پھر دل ہی دل میں کچی نیند کے عالم میں خود کو الزام دینے لگا، کاش صبح جلدی اُٹھ گیا ہوتا تو اس وقت تُو بھی ٹکٹ ہولڈر شہنشاہوں میں شمار ہوتا، موجودہ شب گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اتنے میں واللہ عالم کوئی پڑوس سے نیک طبیعت شخص میرے پاس آ کر کہنے لگا بیٹا کس سٹیشن سے بیٹھے اور کہاں جانا ہے؟
میں: جی لاہور سے آیا ہوں اور پشاور سٹیشن پر اُتر جاوٴں گا۔
بیٹا آپ ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ جاؤ۔ اور یوں وہ خیرخواہ شخص مجھے اپنی بیوی اور جواں سالہ بیٹی کی موجودگی میں ٹیک لگا کر سونے کی جگہ مہیا کرنے میں کامیاب ہو گیا،
بیٹا آپ لاہور میں کس جگہ سے ہو ؟
جی میں مشرقی لاہور ائیرپورٹ کے قریب رہتا ہوں۔
پشاور کس سلسلے میں جا رہے ہو؟
جی دوست سے تعلیمی امُور پر کچھ ملاقاتیں طے شدہ تھیں اور خود بھی پشاور گھُومنے کے لیے بہت متجسس تھا۔
یونہی بات سے بات نِکلتی گئی اور میرا اچھا خاصہ تعارف لیا گیا۔
اب میری باری آنے لگی، میں بیوی اور بیٹی کی موجودگی میں ہِچکچا رہا تھا،
کچھ باتیں انہوں نے خود ہی آشکار کر دیں۔۔۔ بیٹا میں آرمی میں ہوں اور ٹیکسلا میں ڈیوٹی ہے اب ٹیکسلا سے واپس ہمراہ فیملی اپنے آبائی گھر پشاور چھٹیوں پر جا رہا ہوں۔ میں تو کہتا ہوں آوٴ آپ بھی ہمارے ساتھ چلو۔
میں دل میں اجنبیت کا ڈر محسوس کرتے ہوئے معزرت کرنے لگا۔

وہ شخص مجھے انتہائی پُرخلوص، حوصلہ افزائی کرنے والا اور تجربہ کار معلوم ہو رہا تھا۔ بات سے بات نکلتی گئی اور دلچسپی کے سبب میری نیند اُڑھ گئی، ان کے کچھ حالات و واقعات سُن کر میں بھی اپنی روداد سنانے لگا،

اچھا تو بیٹا آپ ان لوگوں سے بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہو؟ میرے تعلیمی کیرئیر میں زہنی ازیّتیں دینے والے مفاد پرستوں اور حسد میں مبتلا دشمنان کا سن کر سوال کرنے لگے۔
میں: جی میں کوئی دعوٰی تو نہیں کر سکتا مگر میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بعد اُن سب کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔
بیٹا وہ سب آپ سے دُور ہوئے یا کر دیے گئے، اس میں وجہ یہ ہے کہ آپ سب سے ہمدردی کرتے گئے اور سب کو اپنے خلاف کرتے گئے، ایک وقت آیا کہ ان سب کے مفادات آپ کو مائنس کرنے پر ہی محفوظ رہ سکتے تھے تو وہ سب اکٹھے ہو گئے، اور آپ کے اپنوں کو بھی آپ سے دور کر دیا۔
اب آپ ان کے لیے کیا کرو گے؟
"جی میں ان سب سے بدلہ لونگا"
بیٹا آپ بہت سطحی اور چھوٹے زہن سے سوچ رہے ہو"
اگر آپ میں یہ خداداد صلاحیتیں موجود ہیں تو آپ ان پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنے معاملات اور کام کاج پر توجہ دو اور جلد اُن کی آنکھیں کھولنے کا سبب بنو، جب آپ خود مختار، آزاد حیثیت میں آگے بڑھو گے، خود ہی بوس بنو گے، خود ہی رہنما بنو گے، لِنکس اُن سب سے زیادہ ہونگے تو آپ کو معلوم ہے کیا ہو سکتا؟
میں خاموشی سے سر ہلاتا رہا،
وہ سب پرِندے جو تمہارا وقت دیکھ کر تم سے دور ہوئے یا پھر زبردستی مفادات کی آڑ میں کچھ لوگوں نے تمہارے پرندے زبردستی تُم سے دُور کر دیے تھے اور وہ پرندے بدگمان ہو کر اُڑھتے گئے،
میری بات ماننے سے جلد تم درخت لگانے میں کامیاب ہو جاؤ گے، بلکہ تم درخت تک محدود نہیں رہو گے، باغات تک یہ سلسلہ چل نکلے گا، تمہارے سارے خفا پرندے ایک ایک کر کے تمہارے باغات میں واپس آنا شروع کر دینگے، تمہاری شاخوں، پتوں، ٹہنیوں، میں بیٹھ کر چہکنے لگیں گے، تم جس کو چاہو اجازت دینا جس کو چاہو اُڑھا دینا۔ مگر تم ایک لیڈر تب ہی بنو گے جب بدلہ لینے کی بجائے اپنے باغات کی دیکھ بھال شروع کر دو گے، نئی نئی رنگ و نسل کے پرِندے آئیں گے، مختلف سٹیٹس، مختلف تمنائیں لیکر آئیں گے، اپنے غیر سب آئیں گے، اہلِ وطن اور وطنِ غیر سے بھی آئیں گے، تمہارے پاس وقت کم پڑنے لگے گا، تم اُن پرندوں کو زمہ داریاں سونپنے لگو گے، یوں تم ایک کارواں بنانے میں کامیاب ہو جاؤ گے، تمہاری اچھائیوں اور تمہاری ہمدردیوں کو سب نے استعمال ہی کیا ہے مگر تم ایسا مت کرنا۔ یہ ساری گیم اللہ کے ہاتھ میں ہو گی، نیت صاف ہوئی تو تمہارے باغات کی سیر کو تمہارے دُشمنِ جاں بھی ترسنے لگیں گے۔ تُم سب کو سِنے سے لگا لینا، کسی کا مان کسی کا بھرم مت ٹُوٹنے دینا۔
دِل ہی دِل میں سوچنے لگا میں اِن کے ساتھ گھر چلا جاتا ہوں مگر بے صبرا ہوا جا رہا تھا کہ کب سٹیشن پر اُتروں اور ان کی غیر موجودگی میں یہ سب باتیں ڈائری میں لِکھ لوں، باتوں کی اہمیت جو بھی ہو، جس وقت وہ حوصلہ اور نصیحت مِلی، اس کی نزاکت بہترین تھی۔
یقین جانیں درختوں کی بھرمار ہو چکی، میرے باغات لگنے شروع ہو گئے ہیں، ان باغات کا ایک ایک پتا دِل سے بنا ہوا ہے، میرا کارواں چلنے لگا ہے، شام و سحر حسِین ہونے لگی ہیں۔
مگر تبلیغ والے اصلی مسلمان میرے دل سے نکلنے کا نام نہیں لے رہے۔ آپ بتائیے تبلیغی جماعت والوں کے حسنِ سلوک کو کیسے بھُولا جا سکتا ہے؟

24/07/2023

کلائی کی گِلٹی اور اے ڈی ایچ ڈی
*A cured case of & *
پہلے پندرہ دن کچھ خاص بہتری نہیں آ سکی، دوسرے وزٹ پر اسبابِ مرض causative factors اور مزاج مزید واضح ہونے پر ڈوز تبدیل کر دی گئی، بچے کی والدہ نے ڈوز دینے کے اگلے دن ہی کال پر بتا دیا کہ گِلٹی بالکل غائب ہو گئی ہے۔ اس بات پر میرے پاس حیرانی کے سِوا کچھ نہیں تھا۔ یعنی شفاء من جانب اللہ❤

A cured case of Wrist Tumor & ADHD

ِلٹی

ڈاکٹر سے شاہ جی بننے تک کا سفر           تحریر: ڈاکٹر سہیل احمد خوش قسمتی کہہ لیں یا کچھ اور ۔۔۔ رنگ تو سارے اللہ جی کے ...
12/07/2023

ڈاکٹر سے شاہ جی بننے تک کا سفر
تحریر: ڈاکٹر سہیل احمد

خوش قسمتی کہہ لیں یا کچھ اور ۔۔۔ رنگ تو سارے اللہ جی کے ہی تخلیق کردہ ہیں۔ حسبِ معمول جو جوڑا ہتھے چڑھا، وہی پہن لیا۔ آج بروز سوموار ایک فیملی میرے پاس علاج کی غرض سے تشریف لائی۔ جس بھلی عورت نے مریضوں کو ریفر کیا، مریض اسی عورت کو بطور اٹینڈنٹ بنا کر لے آئے تاکہ ہمارے علاج کے لیے اچھی سفارش ہو سکے۔
آئیے اب آپ کو قصہ سناؤں کہ میں شاہ جی کیسے بنا ۔۔۔ ؟
خاتون ڈاکٹر صاحب مجھے فلاں فلاں بیماری اتنے عرصے سے ہے، میں بالکل تندرست تھی مگر جب میرا شوہر انگلینڈ گیا تو میں بہت بیمار رہنے گی، ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ میرے شوہر نے باہر دوسری شادی کر لی ہے۔ میں شدید صدمے سے دوچار ہو گئی اس صدمے کی حالت میں ایک سال گزرا تھا کہ میرا جواں سالہ بیٹا ایک حادثے میں فوت ہو گیا (آنسوؤں کے ساتھ رو پڑی) اور مجھے یوٹرس (بچہ دانی) میں بڑی فائبرائیڈ گلٹی نکل آئی، مہینے میں تین تین بار ماہواری آنے لگی، میرا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا، شوگر لاحق ہو گئی، رات کی نیند ایک خواب بن کر رہ گئی، بھوک اور پیاس مکمل ختم ہو گئی، بالآخر میرا آپریشن کر کے یوٹرس نکال دیا گیا، اس کے بعد مزید میرا جسم دردوں سے بھر گیا اور سوچوں سے جان نہیں چھُوٹتی، کچھ دنوں تک بیٹی کی شادی بھی ہے، میں نے لاہور کا ہر ہسپتال اور کلینک آزما لیا مگر مجھے آرام نہیں آیا، اب آپ کے پاس ہم بہت مان سے لائے گئے ہیں۔

معزز قارئین مریضہ عورت کا ان سب سے بڑا مسئلہ جو میں ان کے انداز میں بیان کرنے سے قاصر ہوں تاکہ توہین بھی نا ہو اور احترام بھی قائم رہے۔ "دراصل عورت کو ان سب کے ساتھ ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ کنٹرول واٹری، بدبودار، ویجائنا کے رستے سے ڈسچارج ہوتا تھا جو کہ لیکوریا بالکل نہیں تھا، یہ اکثر ہسٹیریا کی شکار نروس، حساس عورتوں کو ہوتا ہے خصوصاً ایسی عورتیں جن کا رحم نکال دیا گیا ہو، اور اس مرض کو اکثر خواتین تا قبر برداشت کرتی ہیں۔
میں نے تقریباً چالیس منٹس تک ہسٹری لی تھی کہ مریضہ کہنے لگی " ڈاکٹر صاحب آپ شاہ جی ہیں ؟
میں: جی نہیں تو ۔۔۔
مریضہ: ایسی سچی اور پوشیدہ باتیں تو شاہ جی بھی نہیں بتاتے تو پھر آپ کیسے بتا رہے؟
میں: کیا آپ کو شاہ جی اچھے نہیں لگتے؟
مریضہ: اچھے لگتے اسی لیے تو آپ سے پوچھ رہی ہوں ۔۔۔
میں: اکثر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کے خفیہ پیغام اور لوگوں کے بارے معلومات بھیجی جاتی ہیں، اور اب تک آپ پانچ سات لوگ مار بیٹھی ہیں کیونکہ ان کے مرنے سے کچھ دن پہلے آپ کے گمان میں وہ سب ڈال دیا جاتا ہے یا آپ کو بزریعہ خواب معلوم ہو جاتا ہے، اور ویسے بھی آپ لوگوں کی نیتیں بہت پہچان لیتی ہیں آپ کی چھٹی حِس بھی بہت ایکٹو اور مضبوط ہے۔
مریضہ: ڈاکٹر آپ وقعی شاہ جی ہیں یا پھر آپ دم تعویذ والے عمل بھی کرتے ہیں۔
میں: میں صرف ڈاکٹر ہوں جس کو آپ جسم اور دماغ کے ساتھ رُوح کا بھی ماہر سمجھ سکتی ہیں۔ مگر میں کوئی عامل وامل نہیں ہوں۔
مریضہ: ڈاکٹر آپ نے کالا سُوٹ، کالی ویسکوٹ اور کالی ہی چپل پہنی ہوئی ہے۔
میں: رنگ تو سارے اللہ کے تخلیق کردہ ہیں۔ میں سبز لباس میں ہوتا تو آپ مجھے درباری کہتی؟
مریضہ: ڈاکٹر صاحب آپ کی کتابوں کے ساتھ دو تسبیح بھی پڑی ہیں۔
میں: جی پڑی ہیں۔
مریضہ: بھلا ڈاکٹر صاحب آپ سائکولوجسٹ بھی ہیں" اس طرح کی باتیں تو وہی دماغ کے ڈاکٹر ہی پُوچھتے ہیں۔
میں: مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں سوچنے لگا آخر یہ مجھے زبردستی اللہ ولی ثابت کیوں کرنا چاہتی ہیں ؟ اتنے میں مریضہ پُکار اُٹھیں ڈاکٹر صاحب آپ مجھے جلدی سے ٹھیک کر دیں میں نے آپ کو اپنی بیٹی کی شادی پر بھی بلانا ہے، اور سب کو بتاؤں گی کہ اس ڈاکٹر نے مجھے ٹھیک کیا ہے۔
(Mind inciting others😄)
پچپن علامات و بیماریاں 🐍La کی ہوں اور 8 علامات و بیماریاں ign کی ہوں تو ہم کیا دینگے ؟

آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں یہاں پر وہی دینگے جو فرق 22 کروڑ عوام اور تین شخصیات (چیف آف آرمی سٹاف، وزیراعظم، اور چیف جسٹس) کی پاور میں ہے۔
بتائیں حالات کیسے ہیں وقت کی نزاکت کا تقاضا کیا ہے کہ بائیس کروڑ عوام کی طاقت زیادہ یا اِن تین ہستیوں کی جو بریکٹ میں لِکھ دی گئی ہیں؟
بس پھر علاج بالمثل کے قوانین کے حقیقی پیروکار کو پچپن علامات کو اگنور کرنے کے پس پردہ منطق و اسباب معلوم ہونے چاہییں۔ اور تین شخصیات کی طاقت کا اندازہ اور وقت کی نزاکت کا بھی علم ہونا چاہیے۔ میرے معزز قارئین یہاں مریضہ کونسٹیٹیوشنل 🐍La کی مریضہ ہیں مگر ان کے اوُپر ign کی تہہ layer غالب ہے یعنی ہسٹیریکل
نروس
حساس
تازہ, اچانک صدمے اور ان کے بداثرات
روئے جانے کو دل کرنا
اکثر اداس
صدموں کے بعد زیادہ خاموشی اور تنہائی پسندی
سر کا ہر وقت بھاری محسوس ہونا اور ہر وقت اجتماعِ خون والا سردرد،
مریضہ کی نمایاں تہہ prominent layer
Ign
اُترنے کے بعد ممکن ہے 🐍La کی علامات پچپن سے بڑھ کر اسی ہو جائیں یعنی Ign تمام رستے صاف کر کے 🐍La کی پکچر کھُلی کتاب کی طرح ظاہر کر دے گی۔ ایک اور منطق ہانیمن نے آرگینن آف میڈیسن میں بارہا اسبابِ مرض کو دُور کرنے پر زور دیا ہے۔ اور یقیناً اس کیس میں ign کی تمام علامات اسبابِ مرض causative factors کا درجہ رکھتی ہیں۔ اور اس سے پہلے مزاجی دوا 🐍La کسی صورت بھی نہیں دی جائے گی۔ اور نا ہی La🐍 پچپن علامات کے ساتھ کوئی کارنامہ دکھا پائے گی، "ہر چیز وقت پہ چمکتی اور وقت پہ ہی اچھی اور موثر لگتی ہے، اگر مناسب انتظار اور وقت کی نزاکت کا سہارا لیا جائے تو رُوھڑی بھی سونا اگلتی ہے، بِنا وقت تو ایک ملک کا جرنل بھی پیرس جا کر گالیاں کھا آتا ہے، آپ نے اکثر ڈاکٹروں کو پریشان دیکھا ہو گا کہ کونسیٹیوشنل دینے کے باوجود مایوس اور پریشان ہو رہے ہوتے ہیں۔ بھئی مختلف مٹیریاز پڑھ کر مریض ٹھیک نہیں کیے جا سکتے۔ آرگینن آف میڈیسن فِنگر ٹپس پر ہونی چاہیے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت تین ہستیوں کی پاور بائیس کروڑ سے کہیں زیادہ ہے۔ جب ہنگامی حالات بدلیں گے تب بائیس کروڑ کی اہمیت سامنے آئے گی۔ اور اُن ہنگامی حالات کو مثبت یا منفی تبدیل کرنے کی زمہ داری اور بائیس کروڑ کا پریشر تین ہستیوں پر ہی عائد ہوتا ہے۔ اور وہ ہستیاں ign ہی ہیں جس کی علامات کے نمبرز فقط چند ہیں۔ مگر وقت اسی کا ہے۔

بحرحال اس مریضہ کو ign 200 دی گئی اور ساتھ 🐍Lac کا پاسپورٹ بننے کے لیے بھیج دیا ہے۔ ایک Q بھی دیا گیا ہے جس کا نام Valeriana ہے۔ یہ کیوں دیا گیا ہے ؟ آپ صرف بورک کو ہی پڑھ لیں تو کافی و شافی ہوگا۔

گزارش ١: اس کیس میں ادویات کے نام مختصر لکھنے کی واحد وجہ تحریر دیکھنے والے مریضوں کو سیلف میڈیکیشن سے بچانا ہے۔
٢- ریڈار مشین / کمپیوٹر کے زیعے علامات ڈال کر دوائی دینے سے اختلاف کی میری بنیادی وجہ ہی تین ہستیوں اور بائیس کروڑ کی طاقت والی مثال ہے، جس کی تصدیق آرگینن آف میڈیسن کرتی ہے۔
٣- اس تحریر کا مقصد کسی شاہ جی یا شیعہ بھائی کی توہین نہیں بلکہ حقائق سے روشناس کروانا تھا۔
اہلسنت حنفی ہونے کے باوجود باقی فرقوں سے وابستہ افراد کا بیٹا بھی ہوں، بھائی اور دوست بھی ہوں، خاندانی تعلقات بھی قائم ہیں۔ سب میرے اپنے ہیں۔ اور ایسے اپنوں کا سلسلہ ہزاروں میں ہے۔
بحرحال آپ سب دعا کریں کہ میں واقعی شادی پر جاؤں اور شاہ جی شاہ جی کہلاؤں😄 مگر تب تک مریضہ کا ستر فیصد ٹھیک ہونا لازم ہے۔ نہیں تو شادی کا کارڈ نہیں مِلے گا۔

نصیحت: رنگ تو سارے رب کے ہیں جتنا ہو سکے لطف اندوز ہوں۔

آغازِ سحر ❤
10/07/2023

آغازِ سحر ❤

آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈرObsessive-compulsive disorder - OCDایک زہنی بیماری  ایک سوال بار بار  سوچناایک عمل بار بار  دہراناڈ...
07/07/2023

آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر
Obsessive-compulsive disorder - OCD

ایک زہنی بیماری
ایک سوال بار بار سوچنا
ایک عمل بار بار دہرانا
ڈپریشن، مایوسی، خودکشی اور اس کا کامیاب شافی علاج ڈاکٹر سہیل احمد کے سنگ۔

تعارف:
" اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے"۔ " اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے"۔ "وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے"۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس رویے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر، کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پہ تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔

اگر :
آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،

یا

آپ کے دل میں بار بار تقاضہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی کام کو بار بار کریں مثلاً ہاتھ بہت بار دھوئیں ،

تو آپ کو آبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر (او سی ڈی OCD )ہو سکتا ہے۔

یہ زہنی عارضہ بچوں، جوانوں، بزرگوں، مردوں اور خواتین میں یکساں پایا جاتا ہے۔

او سی ڈی کے مریضوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
(عائشہ) "مجھے ڈر لگتا رہتا ہے کہ مجھے دوسروں سے کوئی بیماری لگ جائے گی ۔ میں گھنٹوں اپنے گھر کو بلیچ سے صاف کرتی رہتی ہوں تاکہ جراثیم مر جائیں ، اور اپنے ہاتھ دن میں بہت دفعہ دھوتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ کسی بھی کام کے لیے مجھے گھر سے باہر نہ جانا پڑے۔ جب میرے میاں اور بچے گھر آجاتے ہیں ، تو میں ان کے جوتے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی اتروا دیتی ہوں۔ میں ان سے تفصیل سے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں کہاں گئے تا کہ پتہ چلے کہ کہیں وہ کسی گندی جگہ مثلاً اسپتال وغیرہ تو نہیں گئے تھے۔ میں ان کو گھر آنے کے بعد مجبور کرتی ہوں کہ وہ فوراً کپڑے بدلیں اور اچھی طرح نہائیں۔ مجھے احساس بھی ہوتا ہے کہ کہ میرے یہ اوہام احمقانہ ہیں۔ میرے گھر والے اس عادت سے تنگ آچکے ہیں، مگر میں اتنے عرصے سے یہ سب کچھ کر رہی ہوں کہ میں اب اپنے آپ کو روک نہیں سکتی۔

او سی ڈی کی علامات:
آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر میں بنیادی طور سے دو طرح کی علامات ہوتی ہیں۔

۱۔ وہم کے خیالات۔ (آبسیشنز Obsessions)


۲۔ (کمپلشنز Compulsions)
ایسے کام جن کو بار بار کرنے کے لیے مریض اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے۔

آبسیشنز (وہم کے خیالات)۔
مریضوں کے ذہن میں بار بار کچھ خیالات، وہم، شک اور وسوسے آتے ہیں جو گھنٹوں تک آتے رہتے ہیں۔ عام طور سے یہ وہم بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ تشدد پر مبنی یا جنسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ فضول خیالات ہیں۔ مریض ان کو بار بار اپنے ذہن میں آنے سے روکنے یا ان کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ خیالات ذہن سے نہیں نکلتے۔ مریض کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ہی خیالات ہیں لیکن یہ اس کی مرضی کے خلاف ذہن میں آتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں کوبار بار اس طرح کے خیالات آتے ہیں کہ وہ کسی کو مار دیں یا برا بھلا کہیں۔ حالانکہ لوگ ان خیالات کو صحیح نہیں سمجھتے اور ان پر عمل نہیں کرتے لیکن یہ خیالات بہت ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔بعض دفعہ مریضوں کو دن بھر اس طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں کہ وہ جراثیم یا گرد سے آلودہ ہیں یا ان کو کوئی بڑی بیماری مثلاً کینسر یا ایڈز لگ جائے گی۔

کمپلشنز (بار بار کو ئی کام بلا وجہ دہرانا)
اس بیماری کے بہت سے مریض بعض کام بے شمار دفعہ دہراتے ہیں، مثلاً بعض لوگ ایک ایک گھنٹے تک ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ، یا پچاس پچاس دفعہ چیک کرتے ہیں کہ دروازہ کہیں کھلا تو نہیں رہ گیا۔ اکثر مریضوں کو پتہ ہوتا ہے وہ یہ کام کر چکے ہیں اور اسے دوبارہ کرنا فضول کام ہے اور بیکار ہے، مثلاً ہاتھ صاف ہیں یا دروازہ کھلا ہے لیکن ان کے دل میں اس کام کو پھر کرنے کا شدید تقاضہ پیدا ہوتا ہے اور اگر وہ اس کام کو پھر نہ کریں اور اس سے رکنے کی کوشش کریں تو شدید گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ بعض دفعہ مریض اس طرح کے کام بار بار اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ یہ کام نہیں کریں گے تو ان پر یا ان کے گھر والوں پہ کوئی بڑی مصیبت آ جائے گی۔

او سی ڈی کتنا عام ہے؟
عام طور سے دو فیصد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں میں اس بیماری کی شرح برابر ہے۔

او سی ڈی کس حد تک شدید ہو سکتا ہے؟
او سی ڈی اگر بہت شدید ہو تو باقاعدگی سے کام کرنا، گھر والوں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا یا خاندان کے معاملات میں دلچسپی لینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر مریض اپنے کمپلشنز میں اپنے گھر والوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرے تو وہ پریشان اور ناراض ہو سکتے ہیں۔

جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہے، کیا وہ پاگل ہوتے ہیں؟
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہو وہ ذہنی اعتبار سے بالکل صحیح ہوتے ہیں لیکن بہت دفعہ وہ اس بیماری کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ لوگ کہیں انھیں پاگل نہ سمجھیں ۔ حالانکہ مریض پریشان ہوتے ہیں کہ اس بیماری کی وجہ سے کہیں وہ اپنے آپ پہ قابو نہ کھو بیٹھیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔

او سی ڈی کس عمر میں شروع ہوتا ہے؟
او سی ڈی عام طور سے لڑکپن میں یا بیس بائیس سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔ علامات کبھی شروع ہوتی ہیں، کبھی خود ہی ختم ہو جاتی ہیں اور پھر دوبارہ آ جاتی ہیں ، مگر مریض عام طور سے اس وقت تک مدد کے لیے رجوع نہیں کرتے جب تک یہ بیماری شروع ہوئے ہوئے کئی سال نہ ہو چکے ہوں۔

اگر او سی ڈی کا علاج نہ کروایا جائےتو کیا ہو گا؟
اگر بیماری ہلکی ہو تو بہت سے لوگ علاج کے بغیر ہی بہتر ہو جاتے ہیں۔ اگر بیماری درمیانے درجے یا شدید نوعیت کی ہو تو عموماً ایسا نہیں ہو تا، گو کہ وقتی طور سے کبھی کبھی علامات بہتر ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی بیماری وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ خراب ہوتی چلی جاتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کی علامات ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی حالت میں زیادہ بگڑ جاتی ہیں۔ علاج سے عام طور سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

او سی ڈی کی بیماری کیوں ہو جاتی ہے؟
جینز(Genes)۔
او سی ڈی کی بیماری بعض لوگوں میں موروثی ہوتی ہے اس لیے کبھی کبھی ایک خاندان میں ایک سے زیادہ لوگوں کو ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ (اسٹریس)۔
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہوتی ہے ان میں سے تقریباً ایک تہائی لوگوں میں یہ ذہنی دباؤ والے حالات اور واقعات کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

زندگی میں تبدیلی۔
ایسے وقت جب کسی پہ اچانک سے اور زیادہ زمہ داریاں آ جا ئیں، مثلاً بالغ ہو جانا، بچے کی پیدا ئش یا نئ نوکری ملنا، اسوقت او سی ڈی کی علامات سامنے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

دماغی تبدیلی۔
ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم لیکن ریسرچرز کے مطابق اگر کسی میں او سی ڈی کی بیماری تھوڑے عر صے سے زیادہ سے موجود ہو تو ان لوگوں کے دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونن کے عمل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

شخصیت۔
جو لوگ بہت زیادہ صفائی پسند، با سلیقہ اورہر کام ایک خاص اصول اوراعلی معیار کے مطابق کرنے والے ہوتےہیں میں ان میں او سی ڈی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ خصوصیات فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائیں تو او سی ڈی کی طرف جا سکتی ہیں۔

ڈھنگ۔/سوچنے کا انداز
تقریباً ہم سب کے ذہنوں میں بعض دفعہ عجیب و غریب خیالات آتے ہیں، "کیا ہو گا اگر میں اس گاڑی کے سامنے آ جاؤں، کہیں میں اپنے بچے کو نقصان نہ پہنچادوں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ لیکن بعض لوگ اپنے خیالات میں بھی اخلاقیات کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خیالات بھی نہیں آنے چاہیئیں۔ اس طرح کے لوگ یہ فکر کرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس طرح کے خیالات دوبارہ نہ آ جائیں اور جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں ان میں یہ خیالات اور بڑھ جاتے ہیں۔

او سی ڈی کیوں ختم نہیں ہوتا؟
بعض دفعہ او سی ڈی کے مریض اپنی علامات کو کم کرنے کے لیے جو کوششیں کرتے ہیں انھیں سے ان کے خیالات بڑھتے ہیں، مثلاً:

آبسیشنز کو ذہن سے باہر نکالنے کی کوشش کرنا اور کوشش کرنا کہ یہ خیالات ذہن میں نہ آئیں۔اس کوشش سے عام طور سے یہ خیالات بڑھ جاتے ہیں۔

کمپلشنز کو بار بار انجام دینے سے، کاموں کو بار بار چیک کرنے سے، یا لوگوں سے بار بار تسلی طلب کرنے سے کچھ دیر کے لیے تو گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے ، لیکن اس سے مریض کا یہ خیال اور پختہ ہو جاتا ہے کہ ان کاموں کو کرنے سے کوئی بری بات ہونے سے رک جاتی ہے، اس لیے اگلی دفعہ ان کاموں کو بار بار کرنے کے لیے پریشر اور بڑھ جاتا ہے۔

ایسے"صحیح" خیالات ذہن میں لانا جن سے "برے خیالات" ختم ہو جائیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور انتظار کریں جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ ختم ہو جائے۔

اپنی مدد آپ کرنا۔
اپنے آبسیشنز کا سامنا کریں۔ یہ آپ کو سننے میں عجیب سا لگے گا مگر اس سے اپنے خیالات پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔ اپنے آبسیشنز کو بول کر ریکارڈ کر لیں اور انھیں بار بار سنیں، یا انھیں لکھ لیں اور بار بار پڑھیں۔ آپ کو یہ با قاعدگی سےروزانہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے کرنا ہوگا جب تک کہ آپ کی گھبراہٹ کم نہ ہو جا ئے۔

کمپلشنز سے رکنے کی کوشش کریں مگر آبسیشنز کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔

گھبراہٹ دور کرنے کے لئے شراب نہ پیئیں ۔

اگر آپ کے خیالات آپ کو مذہبی اعتبار سے پریشان کرتے ہیں تو کسی عالم سے بات کر کے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کہیں آپ کے خیالات او سی ڈی کی وجہ سے تو نہیں ہیں۔

او سی ڈی کا علاج۔
میں دو طریقے استعمال ہو تے ہیں۔ CBT او سی ڈی کے لئے

Exposure and Response Prevention (ERP) and Cognitive Therapy (CT)

Exposure and Response Prevention (ERP)
یہ طریقئہ علاج گھبراہٹ اور کمپلشنز کو ایک دوسرے کو بڑھانے سے روکتا ہے۔ اگر انسان کسی ذہنی دباؤ والی صورتحال میں کافی وقت تک رہے تو آہستہ آہستہ وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے۔اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاج میں مریض کو ان حالات کا سامنا کروایا جاتا ہے جن میں اس کو وہم ہوتے ہیں مثلاً گرد آلود چیز کو چھونا لیکن اس کے تقاضے پہ عمل کرنے سے روکا جاتا ہے مثلاً بار بار ہاتھ دھونا ، جب تک اس کی گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔اس علاج کو اچانک پورا کرنے کے بجائے بتدریج کرنا بہتر ہے۔

ان چیزوں کی فہرست بنا ئیں جن سے آپ کو بہت گھبراہٹ ہوتی ہے یا جن سے آپ دور رہتے ہیں۔

ان حالات یا خیالات کو اپنی فہرست میں سب سے نیچے رکھیں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے، اور ان کو اوپر رکھیں جن سے آپ کو سب سے زیادہ

گھبراہٹ ہوتی ہے ۔

سب سے پہلے ان حالات کا سامنا کریں جن سے آپ کو سب سے کم گھبراہٹ ہوتی ہے اور پھر ان چیزوں کی طرف آئیں جن سے زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ اگلے درجے پہ اس وقت تک نہ جا ئیں جب تک اس سے نچلےوالے درجے میں گھبراہٹ کم نہ ہو جائے۔

اس مشق کو روزانہ ایک دو ہفتے تک کریں۔ ہر بار اس کو اتنی دیر تک کریں جب تک آپ کی گھبراہٹ انتہا سے کم از کم آدھی نہ ہو جائے۔ شروع میں اس میں آدھہے سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

آپ ایک سائیکو تھراپسٹ کے ساتھ ان اقدام کی مشق کر سکتے ہیں، مگر زیادہ تر وقت آپ کو یہ خود ہی کرنا ہو گا ۔ اس کو اسی رفتار سے کریں جسے آپ آرام سے برداشت کر سکیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر دفعہ آپ کی گھبراہٹ پوری ختم ہو، بس اتنی کم ہونا ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کر سکیں۔- یاد رکھیں کہ آپ کی گھبراہٹ:

تکلیف دہ ضرور ہے مگر یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔

بلا آخر دور ہو جا ئے گی۔

مستقل مشق کے ساتھ کم ہوتی چلی جائے گی۔

کو کرنے کے دو اہم طریقے ہیں:ERP

رہنما ئی کے ساتھ اپنی مدد آ پ کرنا۔
آپ کسی کتاب ، ٹیپ ، وڈیو، ڈی وی ڈی یا کسی سوفٹ وئیر کی رہنما ئی لیں۔ آپ کبھی کبھی کسی پیشہ ور تھراپسٹ سے صلاح مشورہ اور مدد لے سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اس وقت بہتر ہے جب آپ کو ہلکا او سی ڈی ہو اور آپ کو خود پراتنا اعتماد ہو کہ آپ اپنی مدد آپ کے طریقے خود استعمال کر سکیں۔

سائیکولوجسٹ کی زیر نگرانی اکیلے یا گروپ میں علاج:
یہ ملاقات کے ذریعے یا فون پر ہو سکتا ہے۔ یہ عموماً شروع میں ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے اور۴۵ سے ۶۰ منٹ تک ہوتا ہے۔

ایک مثال:
احمد روزانہ آفس جانے کے لئے گھر سے وقت پہ نہ نکل پاتا، کیونکہ اس کو بہت سی چیزوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی تھی۔ اس کو پریشانی رہتی تھی کہ کہیں گھر نہ جل جا ئے یا اس کے یہاں چوری نہ ہو جا ئے اگر اس نے گھر کی ہر چیز کو پانچ بار نہ دیکھ لیا ہو۔ اس نے ان سب چیزوں کی فہرست بنا رکھی تھی جن کو اس نے دیکھنا ہوتا تھا ۔ فہرست کچھ اس طرح تھی:

1۔ دیکچی (سب سے کم ڈر لگتا تھا)

2۔ چا ئے کی پتیلی

3۔ چولہا

4۔ کھڑکی یا کھڑکیاں

5۔ دروازے (سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا )

اس نے علاج پہلے مرحلے سے شروع کیا ۔ دیکچی کو بہت بار دیکھنے کے بجا ئے ، وہ اسے صرف ایک بار دیکھتا تھا۔ ابتداء میں اسے بہت گھبراہٹ ہوتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو دوبارہ دیکھنے سے روکا۔ اس نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو ہر چیز کو دیکھنے کو بھی نہیں کہے گا اور نہ ہی اس سے تسلی مانگے گا کہ گھر حفاظت میں ہے ۔ اس کا خوف آہستہ آہستہ دو ہفتوں میں کم ہوتا گیا۔ پھر وہ دوسرے مرحلے (چا ئے کی پتیلی) پر گیا اور اس طرح آگے بڑھتا گیا۔ آخر کار ، وہ اپنے گھر سے بغیر

سب چیزوں کو دیکھے نکل جاتا تھا اور کام پر وقت پر پہنچتا تھا۔

Cognitive Therapy (CT)
کاگنیٹیو تھراپی ایک نفسیاتی علاج ہے جس میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ آپ کو اپنے آبسیشنز سے تکلیف ہونا کم ہو جائے بجا ئے اس کے کہ آپ ان سے چھٹکارہ پا لیں۔ یہ اس وقت کار آمد ہے اگر آپ آبسیشنزسے پریشان ہوں لیکن آپ کو کمپلشنز نہ ہوتے ہوں۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات۔
یاد رہے او سی ڈی کے لیے لی جانے والی دوائیاں وقتی طور پر علامات کم کرتی ہیں۔ کیونکہ اینٹی ڈپریسنٹ ڈرگز صرف دماغ کو سُن کر سکتی ہیں۔ مگر بعد میں بھیانک نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔

ان طریقئہ علاج سے کتنا فائدہ ہوتا ہے؟
Exposure Response Treatment (ERP)

ای آر پی کا علاج مکمل کرنے والے لوگوں میں سے تقریباً تین چوتھائی لوگوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ جو لوگ بہتر ہو جاتے ہیں، ان میں سے ایک چوتھائی کو مرض کی علامات کچھ عرصے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتی ہیں اور انہیں مزید علاج کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

ادویات۔
تقریباً ساٹھ فیصد لوگ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اوسطاً ان کی علامات تقریباً آدھی رہ جاتی ہیں۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات او سی ڈی کو واپس آنے سے روکتی ہیں ۔ یہ اثر علامات ختم ہونے کے کئی سال بعد تک موثر رہتا ہے۔جو لوگ ادویات بند کر دیتے ہیں ان میں سے تقریباً آدھے لوگوں میں اگلے کچھ مہینوں میں علامات واپس آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر دوا کے ساتھ کوگنیٹو بیہیویئر تھراپی بھی کروائی جائے تو علامات واپس آنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

کون سا طریقہ کار میرے لئے بہتر ہے۔ ادویات یا سائیکو تھراپی؟
ایکسپوژر ریسپونس ٹریٹمنٹکسی ماہرانہ مشورے کے بغیر بھی لی جا سکتی ہے (ہلکےمرض میں)۔ کافی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ، اور سوائے شروع میں تھوڑی گھبراہٹ بڑھنے کے اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ دوسری طرف اس کے لئے بہت حوصلہ افزائی اور مشقت کی ضرورت ہوتی ہے اور شروع میں گھبراہٹ بڑھتی ہے ۔

سی بی ٹی اور ادویات سے ایک ہی جتنا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو ہلکے درجے کی او سی ڈی ہے تو صرف سی بی ٹی سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی بیماری نسبتاًشدید ہے تو پھر آپ سی بی ٹی یا ادویات دونوں طریقوں سے علاج کروا سکتے ہیں۔ اگر آپ کا او سی ڈی بہت شدید ہے تو ادویات اور سی بی ٹی کا ایک ساتھ استعمال آپ کے لئے بہتر ہو گا۔ اپنے سائیکائٹرسٹ سے ضرور مشورہ کریں جو آپ کو اور زیادہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

دیگر نفسیاتی مسائل مثلاً گھبراہٹ، ڈپریشن یا شراب نوشی کا بھی علاج کیا جا ئے۔

آپ کے گھر والوں کے ساتھ مل کر انھیں مشورہ دینا اور ان کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کرنا۔

کیا مجھے علاج کے لئے ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا؟
ہسپتال میں داخلے کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب:

آپ کی بیماری بہت شدید ہو، آپ خود اپنی دیکھ بھال نہ کر سکیں، یا آپ کو خود کشی کے خیالات آنے لگیں۔

آپ کو کو ئی اور شدید نفسیاتی مسائل ہوں مثلاً ایٹنگ ڈس آرڈر، شیزوفیرینیا، یا بہت شدید ڈپریشن۔

آپ بیماری کی علامات کی وجہ سے کلینک نہیں پہنچ سکتے۔

مریض کے گھر والوں اور دوستوں کے لئے مشورے۔
او سی ڈی کے مریضوں کا رویہ بعض اوقات گھر والوں کے لیے بہت پریشان کن ہو تا ہے۔ یہ یاد رکھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے رویے سے جان بوجھ کر آپ کے لئے مشکل نہیں کھڑی کرنا چاہ رہا بلکہ اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ مریض کو یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگے کہ اسے علاج کی ضرورت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ او سی ڈی کے بارے میں پڑھیں اور کسی ماہر سے بات کریں۔

او سی ڈی کے بارے میں آپ خود معلومات حاصل کریں ۔

آپ ایکسپوژر ٹریٹمنٹ میں مدد کر سکتے ہیں کہ اپنے عزیز کی طرف اپنا رویہ بدلیں؛ ان کی ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں جن سے انھیں گھبراہٹ ہوتی ہے، ان کے کمپلشنز میں حصہ نہ لیں، اور ان کو بار بار تسلیاں مت دیں کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔

اس بات سے پریشان مت ہوں کہ اگر مریض کو تشدد پہ مبنی خیالات آتے ہیں تو وہ ان پہ عمل کر گزرے گا۔ ایسا ش*ذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

ان سے پوچھیں کہ کیا آپ ان کے ساتھ ان کے ہومیوپیتھ سائکائٹرسٹ سے ملنے جا سکتے ہیں۔

Address

Lahore
03209425319

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Sohail Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category