Homoeopathic Dr Madad Ali Mughal

Homoeopathic Dr Madad Ali Mughal Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Homoeopathic Dr Madad Ali Mughal, Doctor, Bank stop stree no 9 Gousia Colony Walton, Lahore.

Asslam o Alaikum Alhamdulillah I'm serving in HOMEOPATHIC TREATMENT For Skin

HOMEOPATHIC CLINIC SKIN & HAIR TREATMENT CENTER

Alhamdulillah Patients are satisfied.

خواتین میں خون  کی کمی                   خواتین میں خون کی کمی (Anemia) کی بنیادی وجہ آئرن (Iron) کی کمی ہے، جو ماہواری ...
01/05/2026

خواتین میں خون کی کمی
خواتین میں خون کی کمی (Anemia) کی بنیادی وجہ آئرن (Iron) کی کمی ہے، جو ماہواری (Menstruation) میں خون کا زیادہ بہاؤ، حمل (Pregnancy)، اور غیر متوازن غذا کی وجہ سے ہوتی ہے। اس کے نتیجے میں جسم کو آکسیجن نہیں ملتی، جس سے تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنا، اور جلد کی زردی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں
زردی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔خواتین میں انیمیا کی اہم وجوہات:ماہواری (Menstruation): ماہواری کے دوران خون کا زیادہ یا طویل عرصے تک بہنا آئرن کی کمی کا سب سے عام سبب ہے۔حمل اور پیدائش (Pregnancy & Childbirth): حمل کے دوران ماں اور بچے دونوں کے لیے خون کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ آئرن کی کمی حمل میں خون کی کمی کی اہم وجہ ہے۔غذائی قلت (Nutritional Deficiency): خوراک میں آئرن، فولک ایسڈ (Folic Acid)، اور وٹامن B12 کی کمی خون کے سرخ خلیات کو کم کرتی ہے۔صحت کے دیگر مسائل: پیٹ کے کیڑے، السر، یا دائمی بیماریاں بھی خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہیں
علامات (Symptoms):
انتہائی تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہونا۔چلنے پھرنے یا سیڑھیاں چڑھنے میں سانس کا پھولنا۔چکر آنا اور سر میں درد۔جلد، زبان، اور آنکھوں کے نیچے کی جلد کا زرد ہو جانا
خوراک*Diet*1 آئرن سے بھرپور غذائیں (Iron-Rich Foods):سبزیاں: پالک، ساگ، اور بروکلی (Dark Leafy Greens) آئرن کا بہترین ذریعہ ہیں۔گوشت اور کلیجی: بیف (Beef)، چکن، اور کلیجی (Liver) میں ہیم آئرن (Heme Iron) ہوتا ہے جو جلدی جذب ہوتا ہے۔دالیں اور پھلیاں: چنے، لوبیا، اور مسور کی دال۔خشک میوہ جات: کھجور، انجیر، کشمش، اور آڑو۔بیج اور مغزیات: تل (Sesame seeds)، کدو کے بیج، اور بادام
2.وٹامن C (Vitamin C) - جذب کرنے میں مددگار:آئرن کو جسم میں جذب کرنے کے لیے وٹامن C بہت ضروری ہے
Medicines
Ferrum phos
Ferrum met
China officinalis.
Alteris farinosa
🌿 Your Health, Our Priority! 🌿

👩‍⚕️ ✨

💊 Expert in safe, Natural, and effective Homeopathic Treatments for:
• Chronic illnesses
• Skin & hair problems
• Allergies & migraines
• Digestive & hormonal issues
• Stress, anxiety & sleep disorders

📞0324 4991029 03334703983

10/01/2026

سقراط کا تصورِ علاج
سقراط کے نزدیک اصل بیماری جسم میں نہیں بلکہ نفس میں ہوتی ہے وہ کہتے تھے کہ جب تک روح اور اخلاق درست نہ ہوں جسم کبھی صحت مند نہیں ہو سکتا سقراط ذہنی اضطراب اداسی خوف اور بے سکونی کو روحانی بے ترتیبی قرار دیتے تھے ان کے نزدیک علاج کا بنیادی اصول خود شناسی سچائی پر مبنی گفتگو اور ضمیر کی اصلاح تھا سقراط کے مکتبِ فکر میں خاموشی تفکر سادہ غذا اور اخلاقی پاکیزگی کو علاج کا حصہ سمجھا جاتا تھا
بقراط کا نظریہ
بقراط جسے طب کا باپ کہا جاتا ہے نفسیاتی بیماریوں کو اخلاط کے عدم توازن سے جوڑتے تھے سودا کی زیادتی کو ڈپریشن خوف وسوسوں کی اصل قرار دیتے تھے بلغم کی زیادتی کو سستی غم اور ذہنی جمود سے جوڑا گیا ان کے نزدیک علاج میں غذا نیند ہوا پانی اور جڑی بوٹیاں بنیادی حیثیت رکھتی تھیں بقراطی علاج میں اسطوخودوس افتیمون سقمونیا شہد اور زیتون کے تیل کو دماغی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
ابن سینا کا جامع فلسفہ
ابن سینا نے القانوں فی الطب میں واضح لکھا کہ ذہنی بیماریاں حقیقی امراض ہیں وہ خوف وسواس مالیخولیا ڈپریشن اور وہم کو دماغی حرارت اور رطوبت کے بگاڑ سے جوڑتے ہیں ابن سینا کے نزدیک علاج میں مزاج کی درستگی بنیادی شرط ہے وہ نفسیاتی مریض کے لیے خوشبو موسیقی مثبت گفتگو مناسب غذا اور جڑی بوٹیوں کا استعمال لازم قرار دیتے ہیں ابن سینا مالیخولیا اور وسواس کے لیے اسطوخودوس گاؤزبان بادرنجبویہ زعفران کشمش اور شہد پر مشتمل نسخے تجویز کرتے تھے
خوارزمی اور قدیم مسلم حکماء
خوارزمی اور دیگر مسلم حکماء علم النفس کو روحانی اور طبعی علم کا مجموعہ سمجھتے تھے ان کے نزدیک خوف اور بے چینی دل اور دماغ کے ضعف سے پیدا ہوتی ہے علاج میں ذکر تلاوت خوشبو روغنِ کدو روغنِ بادام اور دماغی مقویات استعمال کرائے جاتے تھے
برصغیر کے جدید دور کے حکماء
پاکستان اور انڈیا کے معروف حکماء جیسے حکیم اجمل خان حکیم محمد سعید حکیم اختر حسین اور حکیم کبیرالدین نے نفسیاتی امراض کو سوداوی اور دماغی کمزوری سے تعبیر کیا
ان کے نزدیک ڈپریشن وسوسہ خوف اور بے خوابی کے لیے درج ذیل نسخہ عام طور پر استعمال ہوتا رہا
نسخہ نمبر ایک
اسطوخودوس پانچ گرام گاؤزبان پانچ گرام بادرنجبویہ پانچ گرام افتیمون تین گرام سب کو جوش دے کر شہد کے ساتھ صبح و شام استعمال کرایا جاتا ہے
نسخہ نمبر دو
خمیرہ گاؤزبان عنبری دس گرام روزانہ صبح نہار منہ دل و دماغ کو تقویت دیتا ہے اور خوف وسوسے کم کرتا ہے
نسخہ نمبر تین
حبِ سکون
جدوار جاوتری لونگ برابر مقدار میں باریک پیس کر چھوٹی گولیاں بنا کر رات کو ایک استعمال کرائی جاتی ہیں
وسوسے اور شدید خوف کے لیے
روغنِ کدو اور روغنِ بادام کا سر پر مساج دماغی خشکی کو ختم کرتا ہے
ہومیوپیتھی اور حکمت کا مشترکہ نکتہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم حکماء اور ہومیوپیتھی دونوں کا بنیادی اصول ایک ہے یعنی
بیماری کو دبانا نہیں
اندرونی توازن بحال کرنا
مزاج اور فرد کو دیکھ کر علاج کرنا
اسی لیے ہومیوپیتھی میں بھی Aurum Metallicum Ignatia Anacardium Stramonium Hyoscyamus Natrum Muriaticum جیسی ریمیڈیز وہی کام کرتی ہیں جو قدیم حکماء کی دماغی مقویات کرتی تھیں مگر زیادہ باریک اور گہرے انداز میں
ہومیوپیتھی قدیم حکمت کا جدید سائنسی اظہار ہے جو کم مقدار میں زیادہ اثر کے اصول پر کام کرتی ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت قدیم اور شفا کاملہ نصیب فرمائے اور ذہنی
سکون قلبی اطمینان عطا فرمائے آمین https://whatsapp.com/channel/0029VbBX4eaLY6d8Be2Dbe3w/378

16/12/2025

ERECTILE DYSFUNCTION مردانہ کمزوری مکمل قابل علاج

07/12/2025

*مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں:-*

میں آفس میں آتے ہی ایک کپ چائے ضرور پیتا ہوں۔ اُس روز ابھی میں نے پہلا گھونٹ ہی بھرا تھا کہ اطلاع ملی: کوئی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔

میں نے کہا: بھجوا دیجیے۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور شلوار قمیض پہنے گریبان کے بٹن کھولے گلے میں کافی سارا ٹیلکم پاؤڈر لگائےہاتھوں میں مختلف قسم کی مُندریاں اور کانوں میں رِنگ پہنے ہوئے ایک نیم کالے صاحب اندر داخل ہوئے۔ سلام لیا اور سامنے بیٹھ گئے۔

ان کا ڈیل ڈول اچھا تھا، اس لیے میں نے خود کو قابو میں رکھا اور آنے کا مقصد پوچھا۔ اُس نے محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا‘ پھر ٹیبل پر آگے کو جھک کر بولا ''میں بھی ایک مراثی ہوں۔ میں بوکھلا گیا، کیا مطلب.؟ وہ تھوڑا قریب ہوئے‏ اور بولے ''مولا خوش رکھے میں کافی دنوں سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا سنا ہے آپ بھی میری طرح.......... میرا مطلب ہے آپ بھی لوگوں کو ہنساتے ہیں؟‘‘

میں نے جلدی سے کہا، ہاں لیکن میں مراثی نہیں ہوں۔
“اچھی بات ہے‘‘ وہ اطمینان سے بولے ''میں نے بھی کبھی کسی کو اپنی حقیقت نہیں بتائی. میرا خون کھول اٹھا۔ عجیب آدمی ہو تم، تمہیں لگتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ یہ دیکھو میرا شناختی کارڈ... ہم یوسفزئی ہیں ۔وہ کارڈ دیکھتے ہی چہکا. “مولا خوش رکھے... وہی بات نکلی ناں.. میرا دل چاہا کہ اچھل کر اُس کی گردن دبوچ لوں‘ لیکن کم بخت ڈیل ڈول میں میرے قابو آنے والا نہ تھا۔

وہ پھر بولا مجھے نوکری چاہیے‘‘۔ میں پہلے چونکا‘ پھر غصے سے بھڑک اٹھا ''یہ کوئی کمرشل تھیٹر کا دفتر نہیں ہے‘تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہاں مراثی بھرتی کیے جاتے ہیں؟‘‘

وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا‘ پھر اپنی مندری گھماتے ہوئے بولا ''یہاں نہ سہی‘ کسی دوسرے دفتر میں ہی کام دلوا دیں۔ میں کوئی سخت جواب دینے ہی والا تھا‏ کہ اچانک میرے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا اور میں مسکرا اٹھا۔

آفس بوائے سے اُس کے لیے بھی چائے لانے کے لیے کہا اور خود اُٹھ کر اُس کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن سی اُتر آئی۔ میں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، ‏سنو! تمہیں بہت اچھی نوکری مل سکتی ہے‘ اگر تم مجھے ہنسا کے دکھا دو۔

وہ ہونقوں کی طرح میرا منہ دیکھنے لگا۔ میں نے اُس کی حالت کا مزا اٹھاتے ہوئے اُسے زور سے ہلایا ''ہیلو! ہوش کرو بتاؤ‘ یہ چیلنج قبول ہے؟؟ اُس نے کچھ دیر پھر مندری گھمائی اور نفی میں سر ہلا دیا. میں حیران رہ گیا‘ وہ مراثی ہونے کے باوجود مجھ جیسے اچھے خاصے معزز انسان سے ہار مان رہا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اُس نے عجیب سا جواب دیا ''میں نے لوگوں کو ہنسانا چھوڑ دیا ہے۔

میں اچھل پڑا ''یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس نے لمبا سانس لیا اور بیزاری سے بولا ''لوگ اب ہنسنا چھوڑ چکے ہیں۔ میں نے ایک زوردار قہقہہ لگایا ''یہ تمہاری غلط فہمی ہے.. دنیا آج بھی ہنستی ہے، مزاحیہ تحریریں پڑھتی ہے‘ مزاحیہ ڈرامے دیکھتی ہے، جگتیں پسند کرتی ہے۔ اُس نے اپنی مندری نکال کر دوسری انگلی میں پہنی. ‏اور اپنی بڑھی ہوئی شیو پر خارش کرتے ہوئے بولا ''دنیا ہنستی نہیں دوسروں کی ذلت پر خوش ہوتی ہے‘‘

میں نے پھر قہقہہ لگایا وہ کیسے؟ اُس نے قمیض کی سائیڈ والی جیب سے سستے والے سگریٹ کی مسلی ہوئی ڈبی نکالی اور میری طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا‘ میں نے ایش ٹرے اُس کے سامنے رکھ دی.

‏اُس نے شکریہ کہا اور سگریٹ سلگا کر گہرا کش لیا۔ میں اُس کےجواب کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر اُس کی آواز آئی ''آپ کا منہ فلسطین کے لومڑ جیسا ہے"۔

مجھے گویا ایک کرنٹ سا لگا اور میں کرسی سے پھسل گیا۔ میری رگ رگ میں طوفان بھر گیا۔ وہ میرے دفتر میں بیٹھ کر‏ مجھے ہی لومڑ کہہ رہا تھا‘ بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ میرا چہرہ سرخ ہو گیا‘ اس سے پہلے کہ میں اُس پر چائے کا گرم گرم کپ انڈیل دیتا‘ وہ جلدی سے بولا ''آپ کا ایک جگری دوست شہزاد ہے ناں؟‘‘

میں پوری قوت سے چلایا ''ہاں ہے...پھر؟ وہ فوراً بولا ''اُس کی شکل بینکاک کے جمعدار جیسی ہے"۔ میں نے بوکھلا کر اُس کا یہ جملہ سنا ... کچھ دیر غور کیا اور پھر بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی... میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔

تین چار منٹ تک آفس میں میرے قہقہے گونجتے رہے بڑی مشکل سے میں نے خود پر قابو پایا اور ‏دانت نکالتے ہوئے کہا ''شرم کرو... وہ میرا دوست ہے۔
میری بات سنتے ہی مراثی نے پوری سنجیدگی سے کہا ''ایسی ہنسی آپ کو اپنے اوپر لگنے والی جگت پر کیوں نہیں آئی؟ میں یکدم چونک اٹھا‘ ساری بات میری سمجھ میں آ گئی تھی...

ہمارے معاشرے میں واقعی وہ چیز زیادہ ہنسی کا باعث بنتی ہے جس میں کسی دوسرے کی ذلت کا سامان ہو‘ یہی وجہ ہے کہ سٹیج ڈراموں اور عام زندگی میں جب ہم کسی دوسرے کو ذلیل ہوتے دیکھتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ فریش ہو جاتے ہیں۔

کوئی بندہ چلتے ہوئے گر جائے، کسی کی گاڑی خراب ہو جائے‏ کسی کے پیچھے کتا دوڑ لگا دے، کسی کی بس نکل جائے اور وہ آوازیں لگاتا رہ جائے تو ہماری ہنسی نہیں رکتی۔ یہی عمل اگر ہمارے ساتھ ہو اور دوسرے ہنسیں تو ہم غصے سے بھر جاتے ہیں۔

گویا ہنسنے کے لیے کسی کا ذلیل ہونا لازمی امر قرار پا چکا ہے۔ ‏یہی رویہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں در آیا ہے. ہمیں اپنے سکھ سے اتنی راحت نہیں ملتی جتنے کسی کے دکھ ہمیں سکون دیتے ہیں۔

07/12/2025

آج ہمارا موضوع ہے۔
چھاتی کے گانٹھوں سے مراد ایک مقامی ٹکرانا ہے، چھاتی میں سوجن، جو چھاتی کے آس پاس کے ٹشو سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ خواتین میں عام، زیادہ تر چھاتی کے گانٹھ ہموار کناروں کے ساتھ سومی (غیر کینسر والے) ہوتے ہیں اور جب ہم انہیں دھکیلتے ہیں تو ہلکا سا حرکت کرتے ہیں۔ تاہم، وہ کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے چھاتی کے کسی بھی گانٹھ کو فوری طور پر ڈاکٹر کو جلد از جلد دکھایا جانا چاہیے تاکہ اس کی وجہ معلوم کی جا سکے۔

ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی چھاتی کے گانٹھوں کے کیسز کے لیے ایک بہت ہی قدرتی اور محفوظ علاج پیش کرتی ہے جو کہ غیر کینسر ہیں۔ ہومیوپیتھک ادویات چھاتی میں گانٹھوں کو بتدریج تحلیل کرنے اور سکڑنے میں مدد کرتی ہیں۔ اگر ان گانٹھوں میں موجود ہوں تو وہ درد کو سنبھالنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ سومی چھاتی کے گانٹھوں کے بہت سے معاملات میں، ہومیوپیتھک ادویات کے بروقت استعمال سے سرجیکل مداخلت کو روکا جا سکتا ہے۔ دوا ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے جسے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی نگرانی میں چھاتی کے گانٹھ کی مکمل جانچ اور وجہ کا پتہ لگانے کے بعد ہی لینا چاہیے۔ ہومیوپیتھی صرف سومی گانٹھوں کی صورت میں تجویز کی جاتی ہے۔ اگر گانٹھ کا کینسر پایا جاتا ہے، تو کسی کو فوری طور پر روایتی طریقہ علاج سے مدد لینی چاہیے۔ ہومیوپیتھی میں کینسر کی چھاتی کے گانٹھوں کے علاج کی ایک حد ہے۔ جب کسی خاتون کو چھاتی میں ایک نئی گانٹھ کا پتہ چلتا ہے، تو اسے فوری طور پر درج ذیل حالات میں ڈاکٹر سے اس کا جائزہ لینا چاہیے:

اگر گانٹھیں بڑی ہو جائیں اور ماہواری کے بعد دور نہ ہوں۔

اگر گانٹھ سخت ہے یا اس کی شکل بے ترتیب ہے۔

جب گانٹھ چھاتی کے اندر جلد/گہرے ٹشو سے چپک جاتی ہے۔

گانٹھ بغیر کسی وجہ کے زخمی نظر آتی ہے۔

چھاتی کی جلد نارنجی کے چھلکے کی طرح سرخ یا پھٹی ہوئی ہے، نپل الٹی ہو جاتی ہے۔

نپل سے خون کا اخراج ہوتا ہے۔

چھاتی کے سائز، شکل یا اس کے سموچ میں کوئی تبدیلی

چھاتی کے گانٹھوں کے علاج کے لیے سرفہرست ہومیو پیتھک ادویات
1.
یہ چھاتی کے گانٹھوں کے علاج کے لیے ایک سرکردہ ہومیوپیتھک دوا ہے۔ اس کی نشاندہی اس وقت ہوتی ہے جب چھاتی میں گانٹھ سخت ہو جائے جس میں سلائی یا چھیدنے والی قسم کا درد ہو۔ یہ چھاتی میں گانٹھ کے لئے ایک اچھی طرح سے اشارہ شدہ دوا ہے جو چوٹ کے بعد تیار ہوتی ہے۔ دودھ پلانے کے دوران دائیں چھاتی کے سخت ہونے کے ساتھ چھاتی کی سوزش کے لیے بھی یہ ایک ممتاز دوا ہے۔ اس کے ساتھ جلن کی قسم کا درد بھی ہوسکتا ہے۔ کونیم کے استعمال کے لیے خاص طور پر ماہواری سے پہلے چھاتی میں درد، درد اور سوجن ہے۔

2. - چھاتی کے گانٹھوں، سوجن چھاتی، چھاتی میں پھوڑے کے لیے
یہ چھاتی کے گانٹھ کے انتظام کے لیے دوسری سب سے اہم دوا ہے۔ اول، یہ چھاتی کے گانٹھوں کو پگھلاتا ہے، دوم، جب سرخی، سوجن اور سختی ہو تو یہ چھاتی کی سوزش کا انتظام کرتا ہے۔ چھاتی چھونے کے لیے بھی حساس ہوتی ہے، جلنے والے درد اور بخار کے ساتھ۔ آخر میں، یہ چھاتی میں پھوڑے (پیپ ہونے والی گانٹھ) کے انتظام کے لیے اشارہ کیا جاتا ہے۔

3. سخت گانٹھوں کے لیے
یہ چھاتی میں گانٹھوں اور گرہوں کو تحلیل کرنے کے لئے بہت مؤثر ہے، عام طور پر اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب گانٹھ سخت ہوں۔

4. چھاتی میں سخت، دردناک نوڈس کے لیے
یہ ایک قدرتی دوا ہے جو فائیٹولاکا ڈیکنڈرا پلانٹ سے تیار کی جاتی ہے جسے عام طور پر 'پوک روٹ' اور 'ریڈ انک پلانٹ' کہا جاتا ہےe خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دوا چھاتی میں سخت، تکلیف دہ نوڈس کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے فائدہ مند ہے جو چھونے کے لیے حساس ہیں۔ ماہواری کے دوران درد بڑھ جاتا ہے۔ بعض اوقات درد متاثرہ طرف کے بازو تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ چھاتی کی سوجن پر قابو پانے کے لیے ایک مفید دوا ہے جب چھاتی میں سوجن، دردناک، سخت اور زخم ہو۔ یہ mammary abscess کے انتظام کے لیے بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال کا آخری اشارہ دودھ چھڑانے کے بعد چھاتی کی سختی ہے۔

5. - نوجوان لڑکیوں میں چھاتی کے گانٹھوں کے لیے
یہ پلسیٹیلا نگریکن کے پودے سے تیار کیا جاتا ہے جس کا مشترکہ نام 'ونڈ فلاور' اور 'پاسک فلاور' ہے۔ اس کا تعلق Ranunculaceae خاندان سے ہے۔ یہ چھاتی کے گانٹھوں کے علاج کے لیے ایک موثر دوا ہے جو نوجوان لڑکیوں میں پائے جاتے ہیں۔ پلسیٹیلا کی ضرورت کے معاملات میں وہ تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔ بلوغت سے پہلے چھاتیوں سے پتلی، دودھ سفید سیال خارج ہونے پر بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔

6. - سوجن، دردناک چھاتی کے ساتھ چھاتی کے گانٹھوں کے لیے
یہ دوا ایک پودے سے تیار کی جاتی ہے جسے عام طور پر 'ڈیڈلی نائٹ شیڈ' کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق خاندان Solanaceae سے ہے۔ یہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چھاتی میں سوجن، گرمی اور سوزش کے ساتھ نوڈس ہوں۔ ڈنک مارنا، دھڑکنا یا پھاڑنا قسم کا درد ان صورتوں میں محسوس ہوتا ہے جہاں بیلاڈونا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دردناک چھاتی کے گانٹھوں کے لیے بھی اشارہ کیا جاتا ہے جب لیٹنے پر درد بڑھ جاتا ہے۔

7. – چھاتی میں ٹینڈر گانٹھوں کے لیے
اس دوا کے استعمال پر غور کیا جاتا ہے جب چھاتی کے گانٹھ ہوں جو چھونے کے لئے نرم ہوں اور چھاتی میں منتقل ہوتے رہیں۔ اس کا استعمال اس وقت بھی تجویز کیا جاتا ہے جب بازو کو حرکت دینے پر چھاتی کے گانٹھوں میں درد ہو۔

8. - بریسٹ سسٹ اور گانٹھوں کے لیے
یہ ایک پودے s کی تازہ ٹہنیوں سے تیار کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر Arbor Vitae کہا جاتا ہے۔ یہ پودا Coniferae خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ چھاتی کے سسٹوں اور گانٹھوں کو تحلیل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر بائیں جانب سخت چھاتی کے گانٹھوں کے لیے بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔ جن خواتین کو اس کی ضرورت ہوتی ہے ان کی چھاتی میں حیض کے بعد بھاری پن ہوتا ہے جو کہ زخم بھی بن جاتے ہیں۔

9. - جلن کے احساس کے ساتھ چھاتی کے نوڈس کے لیے
یہ دوا لائکوپوڈیم کلاویٹم پلانٹ سے تیار کی جاتی ہے جسے عام طور پر 'کلب کائی' کہا جاتا ہے۔ یہ پوداe خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایسے معاملات کے لیے اچھی طرح سے اشارہ کیا جاتا ہے جن میں چھاتی کے نوڈس جلن اور درد کے ساتھ موجود ہوں۔ اس کے استعمال کے لیے، درد مختلف ہوتا ہے اور فطرت میں درد یا سلائی ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ درد بھی ہوسکتا ہے۔

10. - چھاتی میں نوڈس اور سسٹ کے لیے
چھاتی میں نوڈس اور سسٹ کے معاملات میں اچھی طرح سے کام کرتا ہے۔ ان صورتوں میں جن کی ضرورت ہوتی ہے، نوڈس نرم اور نرم ہوتے ہیں۔ حیض سے پہلے اور اس کے دوران چھاتی میں درد محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟

یہ گانٹھیں مختلف وجوہات کی وجہ سے بن سکتی ہیں۔

ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے چھاتی کے گانٹھ بن سکتے ہیں، ان میں سے کچھ بغیر کسی علاج کے خود ہی غائب ہو جاتے ہیں۔

سب سے پہلے، وہ fibroadenoma کی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں. یہ ایک خاص شکل کے ساتھ چھاتی میں ٹھوس، غیر کینسر والی اچھی طرح سے طے شدہ گانٹھ ہیں۔ وہ ہموار، گول، ربڑ یا سخت محسوس کرتے ہیں اور چھاتی کے اندر آسانی سے حرکت کرتے ہیں۔ یہ سب سے عام سومی چھاتی کے گانٹھ ہیں جو زیادہ تر 15 سال سے 35 سال کی عمر کی خواتین میں پائے جاتے ہیں۔ ان گانٹھوں میں عموماً کوئی درد نہیں ہوتا۔

دوسری وجہ بریسٹ سسٹ ہے۔ یہ چھاتی کے اندر سومی سیال سے بھری تھیلیوں کو کہتے ہیں۔ وہ سنگل یا ایک سے زیادہ ہو سکتے ہیں، رجونورتی سے پہلے خواتین میں عام طور پر 50 سال کی عمر سے پہلے، اگرچہ یہ کسی بھی عمر کی خواتین میں ہو سکتے ہیں۔ وہ دردناک اور ٹینڈر ہوسکتے ہیں. ان گانٹھوں کا سائز اور کوملتا ماہواری کے دوران بڑھ سکتا ہے۔ نپل سے خارج ہونے والا مادہ ان صورتوں میں بھی ہو سکتا ہے (یہ پیلا، صاف، بھوسے کا رنگ، بھورا ہو سکتا ہے)۔

تیسری وجہ انٹراڈکٹل پیپیلوما ہے۔ یہ سومی چھوٹے مسے کی طرح بڑھتے ہیں جو چھاتی کے دودھ کی نالی میں بنتے ہیں۔ یہ بعض اوقات تکلیف یا درد کا سبب بن سکتے ہیں۔ نپل خارج ہونے والا مادہ بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔

اگلی وجہ دودھ کے سسٹ ہیں۔ یہ galactocele یا lacteal cyst کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ سسٹ دودھ سے بھرے ہوتے ہیں جو دودھ پلانے (دودھ پلانے) کے دوران یا اس کے فوراً بعد چھاتی میں بن سکتے ہیں۔

لیپوما چھاتی کے گانٹھوں کے پیچھے ایک اور وجہ ہے۔ یہ غیر کینسر والے گانٹھ ہیں جو چربی کے خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں۔

گانٹھیں fibrocystic چھاتیوں کی صورت میں ہو سکتی ہیں (ایک سومی حالت جس میں چھاتی کے بافتوں کی ساخت میں گانٹھ محسوس ہوتی ہے۔ یہ تبدیلیاں ماہواری کے دوران ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں سے ہو سکتی ہیں۔ یہ دونوں چھاتیوں میں ہو سکتی ہیں اور ماہواری سے عین پہلے نرم محسوس ہو سکتی ہیں۔ )۔

چھاتی کے گانٹھوں کی ایک اور وجہ چھاتی میں چوٹ یا صدمہ ہے۔

ماسٹائٹس (چھاتی کی بافتوں کی سوزش) بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ اگرچہ یہ کسی بھی عورت میں ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر دودھ پلانے والی خواتین میں ہوتا ہے۔ یہ دودھ کی نالیوں میں ہونے والی کسی بھی رکاوٹ سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دودھ جم جاتا ہے۔

دودھ کی نالیوں میں انفیکشن جو خراب یا پھٹے ہوئے نپلوں سے داخل ہوا ہے یا چھاتی میں براہ راست چوٹ لگنے سے بھی گانٹھ بن سکتی ہے۔ اس کی علامات میں درد، سوجن، کومل پن، چھاتی میں گرم احساس شامل ہیں۔ چھاتی پر جلد کی سرخی، جسم میں درد، عام بے چینی، بخار، سردی لگنا، کانپنا اور تھکاوٹ بھی ہے۔

بعض صورتوں میں، بچوں میں چھاتی کے گانٹھ بھی بن سکتے ہیں۔ یہ ایسٹروجن کا نتیجہ ہے جو انہیں پیدائش کے دوران اپنی ماں سے ملتا ہے۔ یہ گانٹھیں خود ہی گھل جاتی ہیں کیونکہ ایسٹروجن ان کے جسم سے نکل جاتا ہے۔

یہ پھوڑے (پیپ سے بھرا ہوا گانٹھ) کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ آخری وجہ چھاتی کا کینسر ہو سکتا ہے۔

02/12/2025

ارشاد اللہ کریم ((البقرہ.)) قران مجید

02/12/2025

بانجھ پن مردانہ کی علامات

یہ عوام کی معلومات کے لیے ھے
1... صرف ایک سیل زندگی کے آغاز کا سبب بنتا ہے
ایک نارمل سیمن میں لاکھوں تولیدی خلیے ہوتے ہیں، لیکن صرف ایک ہی خلیہ فرٹیلائزیشن کا باعث بنتا ہے۔

2.. یہ انتہائی ننھا ہوتا ہے
ایک انسانی تولیدی خلیہ صرف 0.005 ملی میٹر ہوتا ہے — اسے ننگی آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا۔

3.. یہ خلیہ بہت تیز حرکت کرتا ہے
یہ خلیہ اپنی جسامت کے لحاظ سے سب سے زیادہ متحرک خلیہ سمجھا جاتا ہے۔

4.. روزانہ لاکھوں نئے سیل بنتے ہیں
ایک صحت مند جسم ہر دن تقریباً 10 کروڑ نئے تولیدی خلیے تیار کرتا ہے۔

5.. سیمن میں زیادہ تر فلوئڈز ہوتے ہیں
صرف 5 فیصد سیمن تولیدی خلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، باقی قدرتی رطوبتیں ہوتی ہیں۔

6.. ایک مکمل خلیہ بننے میں تقریباً 2 ماہ لگتے ہیں
7.. زیادہ درجہ حرارت نقصان دہ ہوتا ہے
موبائل یا لیپ ٹاپ کا مسلسل جسم کے قریب ہونا یا گرم ماحول، ان خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

8.. سیمن کا رنگ سفید ہوتا ہے، یہ خون نہیں ہوتا

9... ذہنی دباؤ اثر انداز ہوتا ہے
زیادہ سٹریس جسم کی تندرستی کے ساتھ ساتھ ان خلیوں کی حرکت اور تعداد کو بھی متاثر کرتا ہے۔

10.. متوازن غذا فائدہ دیتی ہے
پروٹین ، بادام ، کیلا ، انڈہ اور شہد جیسے اجزاء مثبت اثر رکھتے ہیں۔

11.. مردانہ خلیے بچے کی جنس طے کرتے ہیں
یہ سائنسی حقیقت ہے کہ لڑکا یا لڑکی ہونا، صرف مرد کے خلیے پر منحصر ہوتا ہے۔

12.. یہ خلیے جسم میں کچھ دن زندہ رہ سکتے ہیں
اگر حالات موزوں ہوں تو یہ خواتین کے جسم میں تقریباً 5 دن تک باقی رہ سکتے ہیں۔

13.. خلیے کی شکل اور حرکت اہمیت رکھتی ہے
زیادہ تعداد فائدہ مند ضرور ہے، لیکن درست شکل اور طاقتور حرکت ہونا بھی ضروری ہے۔

14.... ہر انزال میں تازہ خلیے شامل ہوتے ہیں
جسم پرانے خلیوں کو خود ختم کر دیتا ہے۔

15.. عمر کے ساتھ اثرات آتے ہیں
40 سال کے بعد مردانہ تولیدی خلیوں کی کوالٹی اور حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خلیہ انسانی زندگی کا آغاز کرتا ہے، اور قدرت کی حیرت انگیز تخلیق کا حصہ ہے — اس کے بارے میں جاننا صرف صحت کے لیے نہیں بلکہ
تمام ھومیو ڈاکٹرز حکماٗ حضرات اور تمام معالجین کو اس کا مکمل علم بھی ھونا چاہیے

12/11/2025

پستان (Breasts)
نسوانی حسن پستان
اکثر خواتین کے پستان ایک دوسرے سے مختلف ہیں،
ایک پستان چھوٹا ہے اور دوسرا بڑا لٹکا ہوا ،
بھت زیادہ فرق ہے ایک دوسرے میں،
ظاہری حسن کا فقدان اور اعتماد میں کمی ہو جاتی ہے۔
کیا وجوہات ہو سکتی ہیں
عورت کے پستان بھی جنسی طور پر بہت حساس ہوتے ہیں۔ پستان چھوٹے بڑے ہو سکتے ہیں مگر چھاتیوں کے سائز کا عورت کی جنسی حساسیت سے کوئی تعلق نہیں چھوٹی چھاتیاں‌ زیادہ اور بڑی کم حساس ہو سکتی ہیں
بریزر ۔۔۔ ایک پراسرار راز جو ہر عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔۔
اگر بریزر عورت کے پستان کی بناوٹ اور سائز کے مطابق پہنی جائے تو ایک سہولت ہے۔ یہ سہولت زندگی کو آرام دہ اور صحت بخش بناتی ہے۔
اس کے مقابلے میں، اگر بریزر عورت کے سینے کی بناوٹ یا سائز کے مطابق نہ ہو تو اس سے بڑی مصیبت کوئی نہیں۔
یہ کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
خواتین کو یہ علم ہی نہیں کہ چھاتیوں کی 9 الگ الگ طرح کی شکل ہوتی ہے اور ہر عورت کو اپنی چھاتی کی بناوٹ کے اعتبار سے بریزر لینی چاہیے۔
شاید آپ کو یہ علم نہ ہو کہ دنیا کی ہر عورت کی چھاتی منفرد ہوتی ہے اور ہر عورت کی چھاتی، زمین پر موجود کسی دوسری عورت سے نہیں ملتی۔ عورت کے وجود کا یہ انتہائِ اہم، زندگی بخش اور خوبصورت حصہ، ہم نے نہایت لاپرواہی اور جہالت کی نذر کردیا ہے۔
ہماری بیشتر عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ساری بریزر ایک جیسی ہوتی ہیں کیونکہ ساری چھاتیاں ایک جیسی ہوتی ہیں لہٰذا بازار جاکر کوئی سی بھی بریزر خرید لیں اور پہن لیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں چھاتی کی 9 مختلف شکلوں کا کوئی علم نہیں ہوتا۔
انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ اگر بریزر غلط سائز یا شکل کی ہو تو اس سے سینے میں خون کی روانی رک جاتی ہے اور دودھ پلانے والی مائوں کے سینے میں دودھ کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں۔ جس سے سینے میں گلٹیاں بھی بن سکتی ہیں جن سے کینسر بھی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح، ہماری تمام مائوں کو، اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں کہ جوان ہوتی ہوئی بچیوں کو اگر غلط سائز کی بریزر مستقل پہنائی جائے تو بہت ممکن ہے کہ ان کے پستان بڑے ہی نہ ہوں اور چھوٹے رہ جائیں۔
یا پھر یہ کہ ان کی بناوٹ بگڑ جائے۔
یا پھر ایک چھوٹا اور ایک بڑا ہوجائے، جو کہ پاکستان میں ایک عام بات ہے۔
نمبر 1 بریزر کا مسلہ
نمبر 2 دودھ پلانے والی خواتین کا طریقہ دودھ پلانا درست نہیں ہوتا۔ فیڈنگ
نمبر 3 پریکٹس
نمبر 4 گروتھ بڑھوتری کسی ایک پستان میں نادیدہ گلٹیاں
نمبر 5 حیض کے مسائل
نمبر 6. کھولے ہوئے پستان اور سونے کا انداز
نمبر 7. دودھ کی افزائش ہو اور نکلنے کا راستہ بند
پستان خواتین کے لئے درد سینہ نہیں بلکہ بہت بڑا درد سر ہیں. چھوٹے ہو جائیں تو پرابلم. زیادہ بڑے ہو جائیں تو مصیبت. ناپید رہ جائیں تو نالاں.
ایک پستان چھوٹا اور دوسرا بڑا ہو جائے یا لٹک جاے تو عجوبہ.
ایک ہے زندگی اور سو سو طوفان. جائیں تو کہاں جائیں.
ہومیوپیتھک ریمیڈی
فکر نہ کریں ہومیوپیتھی کا دامن بڑا وسیع ہے. نہ کاٹ نہ تراش. نہ چیر نہ پھاڑ. نہ تیر نہ تلوار. نہ نشتر. نہ ٹانکے. نہ سوئیاں نہ سانچے.
کھلا ہے فیض کا چشمہ. .
پستانوں کے چند چیدہ چیدہ مسائل کا علاج ہم ہومیوپیتھک دواؤں کے حوالے سے بیان کریں گے
پستان عالم بلوغت میں ہی چھوٹے رہ جائیں
کونیم 200 ہر دوسرے دن ایک خوراک.
جوان لڑکی کے پستان چھوٹے رہ جائیں
اگنیشیا 1000 ہفتہ وار اورآئیوڈیم 200 روزانہ.
بیوہ عورت کی چھاتیاں سوکھ جائیں
اونسموڈیم سی ایم کی فقط ایک خوراک کے بعد سٹافی 200 اور آئیوڈیم 200 باری باری روزانہ ایک خوراک.
موٹی عورت کے پستان سوکھ جائیں
اونسموڈیم سی ایم کی ایک خوراک کے بعد کلکیریا کارب 1000دن میں دو بار.
لٹکی ہوئی چھاتیاں اوپر اٹھانے کے لئے
اسکیل کار مدر ٹنکچر.
قلت حیض کی وجہ سے پستان سوکھ جائیں
سیبل سیرولیٹا مدر ٹنکچر. لائکوپوڈیم سی ایم.
پستان چھوٹے اور چپٹے ہو جائیں اور نپلز اندر گھس جائیں
نکس موسکاٹا. سلیشیا. سارسپریلا. آرسینک آئیوڈائیڈ.
پستان چھوٹے اور پردرد
کریوزوٹ.
چھاتیاں چھوٹی اور جسم کے دوسرے غدود بڑھ جائیں
اونسموڈیم سی ایم کی ایک خوراک کے بعد آئیوڈیم 200
پستان غائب فقط پتلی لٹکی ہوئی جلد رہ جائے
اونسموڈیم سی ایم سنگل ڈوز کے بعد 200
ایک پستان چھوٹا اور دوسرا بڑا
سیبل سیرولاٹا مدر ٹنکچر.
پستان چھوٹے ہو جائیں لٹک جائیں بوجہ کمزوری و قلت غذا =
چیمافیلا مدر ٹنکچر پانچ قطرے دن میں تین بار.
االفالفا مدرٹنکچر دن میں دو بار.
کلکیریا فلور6 ایکس
پستانوں کا حجم غیر معمولی بڑھ جائے
فریگیریا مدر ٹنکچر
پستان چھوٹے ہو جائیں دودھ خشک ہو جائے
کلکیریا کارب. سلفر. نکس وامیکا. چیمافیلا مدر ٹنکچر. نیٹرم میور. فائیٹولاکا . کونیم . اونسموڈیم. کالی آئیوڈائیڈ 200
لڑکے کے پستان لڑکی کی طرح بڑھ جائیں.
کارٹی کوٹرافین.
لڑکے کی چھاتی میں دودھ آئے =
مرک سال.
سوکھے پستانوں کو سڈول بنانے کے لئے =
اگنیشیا ون ایم. سیبل سیرولاٹا
ضروری نوٹ.
یہ سب ادویات بلا شبہ سینکڑوں بار کی تجربہ شدہ ہیں لیکن پھر بھی کوئی بھی دوا اپنے ذاتی معالج یا کسی اچھے ہومیوپیتھ کے مشورے کے بغیر ہرگز ہرگز استعمال مت کریں کیونکہ سیلف میڈیکیشن میں فائدہ کی بجائے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے.
بلوغت کے وقت پستان ہیلدی لیکن چند سال بعد سوکھ جائیں تو انسوموڈیم 1 ایم
سیبل سیرولاٹا مدرٹنکچر 20 قطرے تھوڑے سے پانی میں دن میں تین بار۔
چمافیلا مدرٹنکچر 10 قطرے
کونیم 30 ڈراپس 5
قارئین ! قدرت نے جہاں
ناسب سمجھا، وھاں اس نے اپنے کرم سے ھمیں دو دو چیزیں (اعضاء) عطا فرمائی ھیں، مثلاً گردے ، آنکھیں، پھیپھڑے، خصیے، (بیضےtestes ,ovaries) ، دو پستان ۔ دو نتھنے، دو ھاتھ، دو ٹانگیں وغیرہ ۔
لیکن، کبھی آپ نے غور فرمایا،
بظاھر یہ ایک جیسے نظر آنے والے اعضاء، در حقیقت %100 ایک جیسے نہیں ھوتے ۔ ( مردوں میں دونوں خصیئے ایک جیسے نہیں ھوتے، یعنی ایک چھوٹا تو ایک بڑا، دونوں گردوں کا سائز مرد و زن میں مختلف ھوتا ھے ۔ایک گردے کا سائز دوسرے سے مختلف ھوتا ھے- الٹرا ساؤنڈ سے یہ باتیں ثابت ھو چکی ھیں -
عورتوں کے پستانوں کا سائز بھی ایک جیسا نہیں ھوتا یعنی ایک بڑا تو دوسرا قدرے چھوٹا ) لیکن اس میں کچھ تو ہے۔

جب کبھی آپ ان بغور مشاھدہ کریں گے تبھی آپ پر یہ حقیقت آشکار ھوگی ۔
دوسری بات یہ کہ انکی کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت بھی ایک جیسی نہیں ھوتی ۔۔۔

*نوٹ*
تمام ادویات ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں
کاپی پیسٹ
*ہومیوپیتھک ڈاکٹر مددعلی مغل*
03244991029
03334703983
غوثیہ کالونی والٹن لاہور پاکستان

14/08/2025

Address

Bank Stop Stree No 9 Gousia Colony Walton
Lahore

Telephone

+923244991029

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homoeopathic Dr Madad Ali Mughal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category