Fatima Homeo Clinic - FHC

Fatima Homeo Clinic - FHC Dr.Aneeqa Imran
SPECIALIZED :
1) INFERTILITY.
2) WEIGHT LOSS.
3) STONE TREATMENT W/T SURGERY.
4) FEMALE ALL DISEASES.
5) ACUTE AND CHRONIC DISEASES.

23/10/2024
14/08/2020

گڑ کا استعمال آپ کن خطرناک بیماریوں سے بچاسکتا ہے ؟ جان کر حیرت زدہ رہ جائیں گے

گُڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ گُڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں پرانا گُڑ خشک ہے جب کہ نیا گُڑ کف، دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے ۔ گڑ نظام ہضم کی اصلاح کرتا ہے۔قبض دور کرتا اور گیس کی تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔

شیرخوار بچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہو وہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گُڑ صبح و شام استعمال کریں۔ اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ حافظہ تیز کرنے اور یادداشت بڑھانے میں گُڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ لہذا وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گُڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیےگڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔

آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور سوزش میں مبتلا افراد 5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ سوجن بھی کم ہو گی۔ اسی طرح تھوڑا سا گُڑ اور بھنا ہوا ادرک گرم پانی کے ساتھ سونے سے پہلے استعمال کرنے سے دائمی زکام اور درد سے افاقہ ہوتا ہے۔قبض، بے شمار جسمانی امراض کی جڑ ہے۔ اس سے بواسیر جیسی تکلیف دہ بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ قدرت نے گُڑ میں قبض کشا صفت بھی رکھی ہے۔ جن لوگوں کو قبض ہو انہیں گُڑ کا استعمال ضرور کرناچاہیے۔

نیم کی پکی نمولی پرانے گُڑ کے ساتھ دن میں تین بار کھانے سے بواسیر جیسے مہلک مرض سے نجات مل جاتی ہے۔پیپل کے پتے 10 گرام، دار چینی، تیزپات اور کالی مرچ 30، 30 گرام، سونٹھ 35 گرام اور ہرڑ کا سفوف 100 گرام؛ ان تمام اشیاء کو 200 گرام گُڑ کے ساتھ اچھی طرح کوٹ کر پیسنے کے بعد 25،25 گرام کے لڈو بنالیں۔ ایک لڈوصبح اور ایک شام کے وقت گرم پانی کے ساتھ کھانے سے بواسیر سے تو چھٹکارہ ملتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کو بے شمار دوسری بیماریوں جن میں پیٹ کی گیس ، پیٹ کی گڑگڑاہٹ ، سنگرہنی اور ہاتھ پاؤں کی سوجن اور کھانسی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔کھانسی سے نجات کے لیے یہ نسخہ بھی مفید ہے: 10 گرام سرسوں کے خالص تیل میں 10 گرام گُڑ ملا کر صبح و شام ایک ایک چمچہ چاٹ لیں۔

پیپل کے پتے اور جوکھار 4،4 گرام ، کالی مرچ 5 سے 7 گرام ، اناردانہ 25 گرام کو ملا کر 50 گرام گُڑ میں شامل کرکے سفوف بنالیں۔ صبح و شام گرم پانی کے ساتھ5 گرام سفوف کھانے سے دائمی کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ اگر کسی مریض کا ملیریا بخار نہ اتر رہا ہو تو کالا زیرہ اور گُڑ کا سفوف ملا کر کھلانے سے فائدہوگا۔

14/08/2020

ایک رازکی بات آپ کے لئے۔ پتا۔ نہیں آپ کو ہضم ہوگی کے نہیں

ہوسکتا ہے آپ میں سے کافی ڈاکٹرز کو علم ہو اگر دھیان دیا ہوگا۔

مٹیریا میڈیکا کو غور سے دیکھو گے تو آپکو اپنی اور اپنے مریض کی موت کا وقت بھی معلوم ہوسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کے آپ اپنی اور اپنے مریض کے مزاج اور مٹیریا میڈیکا کی دوائوں سے خوب اچھی طرح واقف ہوں۔

میرے خاندان میں ایک شخص بیمار رہتا تھا مگر وہ گھر ہومیو علاج کرانا پسند نہیں کرتا تھا۔ چمکتے دمکتے ہسپتال کو اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔

میں نے ان کے گھر والوں کو کہا کے آپ بیشک آغا خان سے علاج کروالیں اور انہوں نے کروایا بھی مگر مریض ٹھیک نہیں ہوا میں نے ان لوگوں کو سائڈ میں لیجا کے کہا یہ آپکا مریض جب بھی مریگا شام کے وقت یعنی پانچ بجے کےآس پاس مریگا ۔
وہ بولے تم کو کیسے پتا تم کوئی خدا ہو معاذاللہ۔
میں نے کہاخدا تو نہیں مگر خدا کا گنہگار بندہ ضرور ہوں۔ خداکے دیئے ہوئے علم سے بتا رہا ہوں بھائی۔ اور کچھ دنوں بعد بلکل ایسا ہی ہوا۔ مریض نے شام تقریبا سوا پانچ بجے انتقال کیا تو تمام لوگ حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے۔

وہ مریض صاف صاف ؐلائیکوپوڈیم کا تھا۔

زندگی میں کبھی بھی کسی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بات کو۔ سمجھنا چاہئے کے سامنے والا کیا بول رہا ہے۔

آج خاندان کے تمام لوگ ہومیوپیتھی کے قائل ہوچکے ہیں ہومیو کو باقائدہ اہمیت دیتے اور سمجھتے ہیں علاج کرواتے ہیں۔
الحمداللہ

14/08/2020

CARCINOMA. ........
جگر کا کینسر
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
جگر کا کینسر عموما 40 .سال کے بعد ھوتا دیکھا گیا ھے ۔
جگر کا کینسر عموما معدے کے کینسر کی وجہ سے ھوتاھے۔لیکن علحیدہ بھی ھو سکتا ھے۔۔عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ ھوتا ھے۔۔ جگر ایک مضبوط آرگن ھے امکانات بھت کم ھوتے ھے۔۔ جگر کے کینسر کی 2.بڑی اقسام ھے۔۔
پہلی ۔LIVER CELL CANCER..جس سے 90 فیصد مریض تعلق رکھتےھے ۔۔اور دوسری CHOLANGIO CANER..جس سے بقیہ 10.فیصد تعلق رکھتے ھیں ۔۔
عموما جگر کا کینسر ایسے مریضوں سے ھوتا ھے جن کو پہلے سے ۔۔۔liver cirhosis۔۔ ھو اس کے تقریبا 10..20....مریضوں میں جگر کے سیلز کا کینسر ھو جاتا ھے جسے HIPATOMA..کہتے ھیں۔۔۔۔۔

....وجوھات۔

1.. سروسز آف لیور اس مرض کی اھم وجہ ھے۔
2..کیمیای مادے۔۔شراب نوشی۔۔۔پرانی سوزشیں۔ناقص غزاییں۔۔۔
3.ھیپاٹایٹس B.کے وایرس سے سے متاثر خواتین اپنے بچوں
میں یہ مرض منتقل کر دیتی ھے۔جو درمیانی عمر تک پہہنچ کر جگر کے کینسر کا میلان رکھتے ھیں۔۔۔
4..پرانا۔۔ھیپاٹایٹس۔۔۔

..علامات۔۔۔
1..یرقان۔۔پیٹ میں پانی۔اکٹھا ھونا۔۔
2.وزن کم۔۔کمزوری۔۔ خون میں کیلشیم بڑھ جاتا ھے۔شوگر لیول کم ھو سکتا ھے۔
3.کولیسٹرول لیول بڑھ جاتا ھے۔پیٹ درد شدید ھوتا ھے۔

4.جگر بڑھ جاتا ھے۔داییں جانب درد ورم۔ٹٹول کر دیکھنے سے پتہ لگتا ھے۔
5.خون کی کمی۔۔جسم پر خارش۔۔۔
6.این سیفو لاپیتھی ھو سکتی ھے۔۔
7.جگر کی پہلے علامات ھوتی ھے۔بس کینسر ھو جانے سے
ایک دم ان کی حالت بد تر ھوجاتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

TEST...لیبارٹری ٹیسٹ۔۔

1..جگر کےکینسر کے 90..فیصد مریضوں میں ۔ALPHA FETOPROTIEN...موجود ھوتی ھے۔۔جو کینسر کو ظاھر کرتی ھے۔۔۔۔۔

2....الٹراساونڑ کے زریعے جگر میں کینسر کے نوڈلز نظر آسکتے ھیں۔۔۔50..فیصد مریضوں میں HBsAG...موجود ھوتی ھے۔۔۔
HOMOEOPATHIC TRETMENT..
مریض کے کینسر کی تسخیص کے بعد عموما۔۔6.ماہ اھم ھوتے ھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریض کی پرسنل اور خاندانی ھسٹری ۔۔مکمل کیس ٹیکنگ کے بعد آپ مریض کی زندگی کو اچھا مینج کر سکتے ھے۔

14/08/2020

*ہومیو پیتھک ادویات لیتے وقت کی احتیاط اور پرہیز*

اگر آپ کسی بھی مرض میں مبتلا ہیں اور ہومیو پیتھک علاج کرارہے ہیں تو اس دوران آپ کو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اور کن چیزوں سے احتیاط ضروری ہے ؟ یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو عین ممکن ہےکہ آپ کی ذرا سے لاپرواہی آپ کے معالج کی محنت اور آپ کی صحت پر پانی پھیر دے گی ، چوں کہ معاملہ آپ کی صحت کا ہے لہذا آپ کو علاج و احتیاط کے تمام تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
اس مختصر مضمون میں ہومیوپیتھی کی تفصیلات پیش کرنا ناگزیر ہے لیکن مختصراً یہ کہ ہومیو پیتھی کی تمام ادویات پوٹینسی یعنی دوا کی طاقت پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان ادویات میں ایلو پیتھک ادویات کی طرح ادویاتی اجزاء ملی گرام کی طرح موجود نہیں ہوتے ۔صرف ادویاتی جز کو مختصر کرکر ڈائیلیوٹ کردیا جاتا ہے۔جس کی سبب وہ ادویاتی خصوصیات کی حامل ہوجاتی ہے ۔
اسی وجہ سے ہومیو پیتھک دوا بیرونی عوامل سے جلد متاثر ہوتی ہے اور ان بیرونی عوامل کے سبب اپنے ادویاتی فوائد کھو بیٹھتی ہے لہذا ہومیو پیتھک ادویات کے دوران تیز خوشبو یا بدبو والی چیزیں استعمال نہ کریں ۔ مثلا : پرفیوم ، کچا لہسن ، پیاز، ادرک، لیموں اور کافی ۔ مذکورہ بالا چیزیں ہومیو پیتھک ادویات کے استعمال کے دوران استعمال نہ کریں ورنہ خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہونگے۔

احتیاط :
1:ہومیوپیتھک ادویات ہمیشہ خالی پیٹ یا کھانے سے آدھا گھنٹے قبل یا کھانے کے ایک گھنٹے بعد استعمال کریں ۔ اس کے بہترین اوقات رات کو سونے سے قبل اور صبح ناشتے سے قبل ہیں ۔ ایک دوا کھانے کے فورا بعد دوسری کوئی دوا ہرگز استعمال نہ کریں ۔

2:دوقسم کی ہومیوپیتھک ادویات بھی ایک ساتھ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ہمیشہ ایک معالج کی ادویات استعمال کریں ۔ بیک وقت دو معالج کی ادویات استعمال نہ کریں، کیونکہ دونوں معالج ایک دوسرے کے منتخب کردہ نسخوں سے واقف نہیں لہذا دونوں کے نسخے میں کوئی ایسی دوا ہوسکتی ہے جو آپس میں مل کر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ادویات کو اسی ترتیب سے استعمال کریں جو معالج نے بتائی ہو۔

3 :بہت سے لوگ محض اشتہار دیکھ کر ازخود دوا کا استعمال شروع کردیتے ہیں جو کہ صحت کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے لہذا اس طرح کی حرکت سے دور رہیں ۔ دوا صرف اپنے معالج کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

4:تمام ادویات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں،کیونکہ ہومیو پیتھک ادویات شو گر آف ملک سے بنی گولیوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ جو کہ میٹھی اور خوش ذائقہ ہوتی ہیں تو عموما بچے کسی دوسرے کی ادویات خواہ مخواہ کھالیتے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہ کیجئے کیونکہ ہومیوپیتھک ادویات کے اثرات دیر سے بھی ظاہر ہوتے ہیں اور بچے کے جسم یا دماغ میں ادویات شدید علامات کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں ۔

20/01/2020

ہمیں سردیوں میں ذیادہ پیشاب کیوں آتا ہے؟

دن میں کتنی مرتبہ پیشاب کرنا نارمل ہے؟ اس کا جواب مشکل ہے کیونکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ پانی اور مشروبات وغیرہ کس مقدار میں پیتے ہیں؟ کون سے مشروبات پیتے ہیں اور آپ کو پسینہ کتنا آتا ہے؟

سپینش یورالوجیسٹ (پیشاب کے امراض کی ماہر ڈاکٹر) ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا کے مطابق اوسطاً دن میں 6 - 7 مرتبہ اور رات کو ایک دفعہ پیشاب کرنا معمول کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔

لیکن آپ نے یہ ضرور نوٹ کیا ہوگا کہ گرمیوں کی نسبت سردیوں میں پیشاب زیادہ آتا ہے جو کہ نارمل ہے اور ہر انسان کو سردیوں میں پیشاب زیادہ ہی آتا ہے۔

ڈاکٹر بلانکا مڈُرگاکہتی ہےکہ :
اس کی عمومی وجہ یہ ہے کہ "جب سردی ہوتی ہے تو ہمارا جسم گرمیوں کی نسبت زیادہ سکڑ جاتا ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ سردیوں میں اگر آپ اپنے ہاتھ پاؤں کو دیکھیں تو ان پر قدرے سوجن آ جاتی ہے، جس کی وجہ آپ کے جسم میں پانی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔"

سردیوں میں جسم زیادہ سکڑا ہوا ہوتا ہے لہذا اس میں مائع اندر جمع رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ ہے ہمیں سردیوں میں پیشاب کی حاجت زیادہ ہوتی ہے دوسری جانب گرمیوں میں ہمارے جسم سے کچھ مائع پسینے کی شکل میں بھی باہر نکل جاتا ہے۔

" سردی میں جب باہر کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے تو ہماری خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اسی دوران ہمارے جسمانی نظام کی کوشش ہوتی ہے کہ جسم کے مرکزی اعضاء، یعنی دل اور پھیپھڑوں وغیرہ کو خون کی کمی نہ ہو۔ یوں جلد کے قریب والا خون سکڑ کر جسم کے اندرونی حصوں کو چلا جاتا ہے۔"

ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا بتاتی ہے کہ:
" اگر ہمارا مثانہ (urinary bladder) صحت مند ہو تو ہمیں پیشاب سے فارغ ہونے کے تھوڑی دیر بعد دوبارہ ٹوائلٹ نہیں جانا پڑتا، لیکن کچھ لوگوں کے بلیڈر معمول سے زیادہ کام کرتے ہیں یا زیادہ active ہوتے ہیں، ایسے افراد ہر تھوڑی دیر بعد ٹوائلٹ جانا چاہتے ہیں اور ان کو تسلی نہیں ہوتی۔

"اس کی وجہ مثانہ کے ارد گرد کے اعضاء کا خود بخود سکڑنا ہو سکتی ہے کیونکہ جب ہم کوئی چیز پیتے ہیں یا ٹھنڈ ہوتی ہے تو یہ اعضاء غیر ارادی طور پر سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔"

ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا کے مطابق کچھ صحت مند عادات:

1. سردیوں میں ہمیں پیشاب زیادہ آتا ہے لیکن اس کے لیے جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے زیادہ پانی پینا ضروری نہیں ہے۔

2. اس لیے ماہرین ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ سردیوں میں بھی
" دن میں دو سے ڈھائی لیٹر پانی ہی پینا چاہیے۔"

3. جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کے علاوہ، اپنے مثانے کا بھی خیال رکھیں۔

4. یہ سوچ کر ٹوائلٹ نہ جائیں کہ "شاید مجھے پیشاب آ جائے" کیونکہ ایسا کرنے سے ہمارے بلیڈر کی پیشاب کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم پڑ سکتی ہے۔

5. کوشش کریں کہ ٹوائلٹ تب ہی جائیں جب بلیڈر بھر جائے اور آپ کو واقعی حاجت محسوس ہو تاہم ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا نے وضاحت کی کہ

"رات سونے سے پہلے بلیڈر کو خالی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔"

6. بار بار پیشاب کی حاجت سے نجات کے لیے ایک تجویز یہ ہے کہ پیشاب کرتے وقت جلدی نہ کریں اور بلیڈر کو موقع دیں کہ وہ پوری طرح خالی ہو جائے، کیونکہ اگر آپ جلدی کرتے ہیں تو بلیڈر پوری طرح خالی نہیں ہوتا اور اس سے پیشاب کے نظام میں انفیکشن بھی ہو سکتی ہے۔

11/12/2019

ہومیوپیتھک دوائيں انسان کا کریکٹر اور اخلاقیات بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں اور ایک ہومیوپیتھ کو اس بات کا مکمل یقین ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر بنارس کی کتاب سے اقتباس

لائیکو پوڈیم کے مریض ایک اندرونی احساس یعنی خود کو آگے رکھنے کے احساس کو ظاہر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یعنی وہ جو کچھ اپنے آپ کا ظاہر کرتے ہیں۔
درحقیقت وہ خود ہوتے نہیں ہیں۔
وہ ذہنی دباﺅ سے بے چینی محسوس کرتے ہیں
اور خوداعتمادی میں کمی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ اپنے بارے میں بہت باخبر ہوتے ہیں
یہ ان لوگوں کے قریب ہونا پسند کرتے ہیں
جنہیں وہ طاقتور سمجھیں وہ بہت زیادہ بے چینی محسوس کرسکتے ہیں
اور ناکامی کا بہت زیادہ خوف اگر انہیں کوئی ذمہ داری دی جائے اکثر وہ کوئی کام شروع کریں
تو عام طور پر اس کو اچھی طرح کرتے ہیں۔
علامات

(1) بغیر کسی ظاہر ی وجہ کے سرہلاتے ہیں
(2) چہرے کے مختلف قسم کے تاثرات سے اظہار
(3) گیس‘ قبض اور اسہال
(4) نگلنے میں دکھن
(5) بند جگہوں کا خوف
(6) بے قراری
(7) نظام ہضم کی خرابیاں گیس اور ڈکاریں
(8) میٹھے مشروبات اور گرم خوراک کی خواہش رکھنا (9) رات کو کھانسنا
(10) اکیلے رہنے کی خواہش
(11) جاگنے پر جھنجھلاہٹ
(12) جلد خوفزدہ ہونے کا رحجان
(13) ناکامی کا خوف
(14) دباﺅ میں آ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جانا۔(15)لائیکو کا مریض دوسرے لوگوں پر کم غصہ اتارتے ہیں اور گھر والوں پر شدید غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔
گھر والوں کے برعکس ‘باہر کے لوگوں سے بڑی پیار محبت سے باتیں کرتے ہیں

خوراک : 30,200,1m 3x اور اونچی طاقتیں

11/12/2019

ڈاکٹر رابن مرفی این ڈی
ڈاکٹر رابن مرفی بیسویں صدی کے مایہ ناز ہومیو پیتھک ڈاکٹروں میں سے ایک منفرد اور قابل ترین ڈاکٹر ہیں، وہ 15 اگست 1950 ء کو “Grand Rapids” مشی گن میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم مشی گن کی ریاست میں 1976 ء تک جاری رکھی، وہاں انہیں ہومیو پیتھی پر تاریخی کتب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور وہ اس طریقہ ء علاج سے بہت متاثر ہوئے ، یہ وہ موڑ تھا جہاں سے آپ کا تعلیمی رخ پلٹا، 1976 ء میں وہ “National college of naturopathic medicines” (NCNM) سے وابستہ ہوگئے، وہاں انہوں نے ’’ہومیو پیتھی اور کینسر‘‘ کے عنوان سے ایک مقالہ تحریر کیا جس پر انہیں ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ’’ہنی مین اسکالر شپ‘‘ اعزاز کے طور پر دی گئی، انہوں نے Dr John Bastyr کی سرپرستی میں تعلیم مکمل کی، فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1980 ء تا 1984 ء وہ (NCNM) میں ہی ہومیوپیتھک پروگرام کو مزید ترویج دیتے رہے، اس اثنا میں انہوں نے Basty University میں بھی بطور ہومیوپیتھک لیکچرار فرائض انجام دیے، 1993 ء میں انہوں نے ’’ہومیو پیتھک ریپرٹری‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی جس کی بے حد پذیرائی ہوئی۔ 1996 ء میں ان کا مشہور مٹیریا میڈیکا (Lotus materia medica)کے نام سے شائع ہوا ہے جس کو ہومیو پیتھک حلقے میں خوب پسند کیا گیا اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر رابن مرفی آج کل انگلینڈ کے شہر لندن میں “Lotus Medical centre” کے ڈائریکٹر ہیں، لوٹس میڈیکل سینٹر پوری دنیا میں ہومیوپیتھی پر بہترین سیمینار منعقد کرواتا ہے، اس سینٹر نے Q1 میڈیسن اور ہومیو پیتھک میڈیسن کا تعلیمی سلسلہ بھی جاری کر رکھا ہے، ڈاکٹر مرفی اس سینٹر کے سب سے پہلے مدیر ہیں، ان کی مسلسل جدوجہد اور انتھک کاوشوں سے انگلینڈ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ہومیو پیتھی متعارف ہوئی، ان کے تعلیم دینے کا انداز دوسروں سے بالکل مختلف اور دلچسپ ہے، انہوں نے ہومیو پیتھک فلاسفی، مٹیریا میڈیکا اور ریپرٹری میں انتہائی دلکش انداز میں باہمی ربط اور نکھار پیدا کیا ہے۔
ہومیو پیتھی کی پریکٹس میں جہاں مریض کی علامات، خدوخال، اناٹومی اور فیزیالوجی کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے وہیں ’’کیس ٹیکنگ‘‘ بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، آپ کو اس فن میں جتنی مہارت ہوگی اتنا ہی آپ دوا کا انتخاب درست کرپائیں گے، اس سلسلے میں ڈاکٹر رابن مرفی نے “Case analysis and prescribing techniques” پر کتاب تحریر کرکے طلباء اور نئے پریکٹیشنز پر بڑا احسان کیا ہے،اس کتاب کے مطالعے سے آپ کے علم میں اضافہ ہوگا اور آپ کے ہاتھوں انشاء اللہ لاعلاج مریض صحت یاب ہوپائیں گے۔
ڈاکٹر روبن مرفی کی کتاب سے چند اقتباسات قارئین کی نذر کیے جارہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں۔
رابن مرفی کہتے ہیں، اگر آپ کے پاس کوئی چوٹ کا مریض آتا ہے تو اس میں کسی ایک قسم کی چوٹ کی علامت واضح ہوں گی، پہلے اس کی دوا دیں پھر مزید جو علامتیں سامنے آتی جائیں علاج کرتے چلے جائیں، گھٹنوں میں درد کے لیے آپ آرنیکا دیں، اگلی مرتبہ جب مریض ٹانگوں میں کھنچاؤ اور دکھن کی علامات لے کر آئے تو رسٹاکس دیں، آئندہ آنے پر اگر مریض گولی لگنے کے سے دردوں اور حرکت سے تکلیف میں اضافے کی علامت لے کر آئے تو اسے برائی اونیا دیں، اگروہ پھر سے گھٹنوں کے درد اور دکھن کی شکایت کرے تو پھر سے آرنیکا دیں، اسے میں Zig zag istaid prescribing کہتا ہوں، یہ فرسٹ ایڈکا بڑا کارآمد طریقہ ہے۔
ہم کینسر یا دیگر تکالیف کے ایسے مریضوں کو جن کی تکالیف خلیات کی مدد (melastasis) سے آگے بڑھتی ہیں، میں بھی اسی طرح کی Zig zag قسم کی پریسکرائبنگ کے طریقے سے مدد لیتا ہوں، مثال کے طور پر کینسر کی مریضہ کے پستانوں میں درد ہے،ا س کی ہڈیوں میں بھی درد ہے یا پھر ذیابطیس کی مریضہ کے جسم پر زخم بن رہے ہیں اور اس کی آنکھوں کی پتلی سے بھی خون بہہ رہا ہے،ایسے کیسوں کو Zig zag قسم کی دوا تجویز کرکے ٹھیک کیا جاسکتا ہے، اس طرح کے مریض میں آپ ایک سے زیادہ قسم کی پیتھا لوجیکل تبدیلیاں بھی دیکھ سکتے ہیں، وہ بھی اسی طریقے سے ٹھیک ہوں گی، ایسے میں آپ ہر گز فیصلہ نہ کریں کہ پہلے کیا ٹھیک کرنا ہے، مریض کی قوت حیات کہاں زیادہ متاثر ہے، اسے پہلے ٹھیک کریں، اس کا اظہار مریض کرے گا کہ کون سی تبدیلی زیادہ متحرک ہے اور کون سی جگہ زیادہ تکلیف دہ ہے، سب سے پہلے اسے ٹھیک کریں پھر آپ دیکھیں گے کہ تکلیف تبدیل ہوجائے گی اور کیس اپنے الٹے رخ پر سفر کرے گا یہاں تک کہ مریض روز بروز صحت یابی کی طرف بڑھتا چلا جائے گا، ایسے میں اگر آپ بالمثل دوا کی تلاش شروع کردیں گے تو خواہ آپ کیس ریپرٹرائز کریں، آپ کامیابی سے بہت دور چلے جائیں گے، ایسے کیس میں بھی مریض کی کوئی ایک دوا نہیں ہوتی۔
ایک ایسا مریض جس کا جسم آگ سے جل گیا ہو اور وہ اس کے بعد مکمل طور پر خود کو ٹھیک محسوس نہ کرے تو ان کی مزمن تکلیف کی ادویات میں اہم ترین ادویات کاسٹیکم، پکرک ایسڈ اور ایسٹک ایسڈ ہیں لیکن آپ کو دیکھنا ہوگا کہ کیس میں اہم بات کیا ہے۔
ایک بچہ آپ کے پاس چیختا چلاتا ہوا آتا ہے کیوں کہ اس نے خود ہی اپنی کسی حرکت سے چوٹ کھائی ہے، آپ اس کے گھٹنے کی طرف دیکھتے ہیں جہاں آپ کو ایک چھوٹی سی جگہ سے جلد کُچلی ہوئی ملتی ہے، ایسے میں آپ اس بچے کو کیا دیں گے، میرے خیال میں تو اسے ایکونائٹ دینا چاہیے کیوں کہ وہ چوٹ سے کم اور خوف سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ایسے میں اگر آپ اس کو ایکونائٹ دیں اور اس کے گھٹنے کو سہلادیں تو وہ چند لمحوں میں پھر سے کھیلنے لگے گا۔
جب کسی مریض کو بجلی کا جھٹکا لگے تو فاسفورس، الیکٹریکس اور مارفینم نمایاں ادویات ہوں گی،آپ ان کے نتائج دیکھیں، اکثر کیسوں میں آپ کو اوپیم کی ضرورت بھی پڑے گی کیوں کہ یہ بجلی کا ایسا جھٹکا ہوتا ہے جس سے مریض میں خوف زیادہ سرائیت کرجاتا ہے۔
1840 ء کے شمارے میں ایک خاتون کا کیس تھا جو حاملہ تھی اور حمل کے دوران وہ ایک آندھی سے خوف زدہ ہوئی اور وہ بچہ جو اس نے پیدا کیا اس کو دورے پڑتے تھے، ہومیو پیتھک معالج نے بچے کو فاسفورس دی جس سے اس بچے کے دورے ختم ہوگئے، معالج کے فاسفورس دینے کے لیے اس کے سامنے ماں کے حمل کے دوران آندھی سے خوف زدہ ہونا تھا اور یہی خوف بچے میں دوروں کا سبب بنا تھا، اس کے بعد جب بھی گرج چمک کے ساتھ آندھی آتی، بچہ دورے میں چلا جاتا، یہ کیس بتاتا ہے کہ ماں پر حمل کے دوران ہونے والے واقعات کا بچے پر کیسا اثر ہوتا ہے، گرج چمک سے آندھی میں تکلیف کا بڑھنا ایک موڈیلٹی ہے جو کہ فاسفورس کی تجویز کو کنفرم کرتی ہے، ایسے کیسوں میں اکثر آپ کو دیکھنا پڑتا ہے کہ حمل کے دوران ماں کو کس دوا کی ضرورت تھی، آپ وہی دوا بچے کو دیتے ہیں کیوں کہ بچے کی تکلیف کے لیے اسباب تکلیف ملنا ناممکن ہوتا ہے، اگر ماں کو حمل کے دوران اگنشیا، نیٹرم میور، ایکونائٹ کی ضرورت تھی تو یہی ادویات نومولود کو دیں کیوں کہ ماں کے ذہن پر پڑنے والے اثرات بچے میں نقش ہوجاتے ہیں۔

11/12/2019

الحمد لللہ.
مورنگا ایک کرشماتی درخت ہے۔آج اسے دنیا میں ایک کرشماتی پودے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔۔ دنیا بھر کے ماہرین غذائیت اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔اس کے ہر حصہ کو بطور غذا استعمال کیا جاسکتا ہے۔تحقیقات کے مطابق مورنگا میں دودھ کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ کیلشیم، دہی سے 9 گنا زیادہ پروٹین، گاجر سے 4 گنا زیادہ وٹامن اے ،بادام سے 12 گنا زیادہ وٹامن ای،کیلے سے 15 گنا زیادہ پوٹاشیم اور پالک سے 19 گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔سوہانجنا کے پتوں کی افادیت دیکھتے ہوئے مختلف ممالک میں انھیں بطور غذا استعمال کیا جا رہا ہے اور مغربی ممالک میں اس کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ اس کے پتوں کا پچاس گرام سفوف دن بھرکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ایک غریب آدمی جو مہنگے پھلوں اور گوشت کا متحمل نہیں ہوسکتا وہ مورنگا کے استعمال سے اپنی غذائی ضروریات سستے داموں بآسانی پوری کر سکتا ہے۔ مورنگا میں دمہ، السر، جوڑوں کا درد، بے خوابی، بلڈ پریشر،مرگی ، کولیسٹرول،کینسر اور جنسی کمزوری سمیت کم و بیش تین سوبیماریوں کا علاج موجود ہے۔۔ ۔۔سہانجنہ سے وزن کم ہوگا۔۔خون صاف کرنے میں لاجواب دواکاکام کرتا ہے۔گردہ اورمثانہ کہ پتھری توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ۔گیس،جگراورمعدہ کے مسائل کو ٹھیک اورپیٹ کے کیڑوں کوہلاک کرتا ہے۔ ۔دمہ اورکھانسی میں مبتلاافراد کیلئے مفید ہے۔یہ ان امراض کوختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے نظر کوتیز کرتا ہے اورپیٹ اورتلی کے درد کوختم کرتا ہے۔ اعلیٰ قسم کے جراثیم کش اثرات رکھتا ہے اسی لئے اسکااستعمال انفیکشن سے تحفظ دیتاہے۔ گردوں کے فیل یا ناکارہ ھوجانے کا آسان اور حیرت انگیز علاج یے۔

Address

H# 31, St# 1, B-Block, Eden Value Homes, Multan Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 16:00 - 20:00
Saturday 16:00 - 20:00

Telephone

+923004152873

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fatima Homeo Clinic - FHC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category