03/06/2026
آٹھ بچیوں کو چھوڑ کر عورت نے دوسرا نکاح کیا، اس میں کیا غلط ہے؟ واقعی کچھ غلط نہیں۔ بلکہ ایک جائز کام کیا اور اچھا کیا، اچھا اس لئے نہیں کہ خاوند سے بے وفائی کوئی اچھا کام ہے۔ اچھا اس لئے کہ خفیہ آشنائی کا گناہ اور منافقت برتنے کے بجائے اس نے جرات سے سینہ ٹھونک کے اپنا شرعی اور انسانی حق لیا۔ خفیہ آشنائی کے مقابلے میں اس کی بہرحال حوصلہ افزائی ہی بنتی ہے۔ مرد اگر شرعا ایک پر اکتفا نہیں کر سکتا اور ایسی وفا نہیں دکھا سکتا تو عورت کے پاس شرعی راستہ اس کے سوا کوئی نہیں کہ وہ اگر چاہے تو دوسری جگہ نکاح کر لے۔ جو حق شریعت کسی کو دے دے، وہ آپ کے حق میں ہو یا نقصان میں۔ اس کے خلاف نہیں ہوا جا سکتا۔ خواہ کسی کو کتنی ہی قیمت چکانی پڑے۔ اگرچہ ہر کام کی ایک قیمت ہے۔یہ قیمت عورت کو بھی چکانی پڑتی ہے۔ میں نے عورت کے نکاح پر کوئی بات کی ہی نہیں۔ میں نے تو مشرقی معاشرے کے خدا کی رحمت کے مظہر اس کردار کی گمشدگی پر بات کی تھی، جسے ماں کہتے ہیں۔ یہ کردار باپ کے مقابلے میں بالکل نہیں۔ باپ کو یہ مقام چھو کر بھی نہیں گزرا۔ حدیث رسول میں تین بار اگر ترجیحی حق ماں کو دیا گیا اور چوتھی بار باپ کو تو صاف ظاہر ہے باپ اس مقابلے میں ہے ہی نہیں۔ نو ماہ حمل اٹھانا، پھر جان پر کھیل کر ڈیلیوری کے بیڈ پر لیٹ جانا اور پھر سارے درد بھول کر نیا چہرہ دیکھ کر مسکرا اٹھنا۔۔باپ اس سارے کردار میں صرف ہسپتال سے باہر دل پر ہاتھ رکھے بیٹھا ملتا ہے۔ وہ کما کے لا سکتا ہے، اولاد پال نہیں سکتا۔ یہ کچھ ذمے داری شرع نے والدہ پر رکھی، کچھ فطری محبت نے اسے بڑھا دیا اور کچھ خود ماں کے ایثار نے بھی اسے فزوں تر کر لیا ہے۔ مذکورہ کیس میں، میں نے صرف اس کردار کے گم ہونے کی بات کی۔ دراصل ویڈیو میں جس طور دھاڑیں مار کر بچیوں کے رونے کی آوازیں دل دہلا اور پگھلا رہی ہیں، وہ خود بتا رہی ہیں کہ بچوں کے نزدیک ایک ماں کی قدرو قیمت کیا ہوتی ہے۔ کسی سے ایسا کردار کھو جانا، دوسرے کیلئے شخصی آزادی ہو سکتی ہے، اس کیلئے قیامت ہے۔ یہ البتہ ہرشخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کب کس اضافی کردار سے انکار کرکے شخصی فائدہ اپنانا چاہتا ہے۔جس طرح کی کھردری زبان بعض قابل احترام معززات نے استعمال کرنے کی کوشش کی ،اب میں چاہ کر بھی ویسی زبان جواب میں بھی نہیں لکھ سکتا اور میں کبھی کسی کو راضی کرنے کیلئے کسی گروہ کے حق میں نہیں لکھ سکتا، جبکہ ضمیر اس پر راضی نہ ہو۔ عورت کے جانے پر اس کے خاوند کو اور خصوصاً اولاد کو دکھ تو ہوسکتا ہے،اعتراض نہیں۔ البتہ یہاں ایک بات اور اہم ہے، عورت نے بطور ماں بچوں کی پرورش کی جس طرح اضافی ذمے داری لے رکھی ہے، اس میں بے نفسی ، ایثار اور قربانی نے اس کی اپنی ذات کی نفی کر رکھی ہے۔ اگر اب عورت اپنی ذات کا حق بھی لینا چاہتی ہے اور ممتا کے کردار سے پہلو چھڑانا چاہتی ہے تو وہ بچوں کے ساتھ غیر ضروری اٹیچمنٹ میں کمی لائے تاکہ کچھ بوجھ کا باپ احساس کرے اور کچھ بچے اپنا وزن خود اٹھائیں تاکہ جب کوئی ماں بطور فرد اپنا فیصلہ نافذ کرے تو کم از کم بچے کھڑے رہ سکیں اور اس فیصلے کا احترام کر سکیں۔ یعنی ماں دوسروں کا اتنا ہی بوجھ لے جتنا اس کے چھوڑتے دوسرے آسانی سے اٹھا سکیں لیکن اس کی ماں کیلئے بھی ایک قیمت ہوگی، ماں کے اس سارے اعزاز اور احترام والے کردار کو چھوڑ دینے کی قیمت۔ صدیوں سے حاصل احترام اور اعتماد گنوا دینے کی قیمت۔