Dear Future Wife

Dear Future Wife You are future wife of someone. Be a True Muslim wife. Break Stereotypes.

اس پیج کے قیام کا مقصد
ایک دن یونہی بیٹھے خیال آیا کہ اپنے اصلاحی اسٹیٹسز کو نئے ڈھنگ سے پیش کیا جائے....ڈیئر فیوچر وائف کے ھیشٹیگ کے ساتھ تین اسٹیٹس شیئر کیے...انتہائی لائٹ اور ڈفرنٹ انداز میں ھونے کی وجہ سے ان اسٹیٹسز کو کافی پذیرائی ملی .اس دوران برادر عمر فاروق نے پیج بنانے کی سجیشن دے ڈالی..
آئیڈیا فٹ لگا اور ذین میں سارا فارمولا طے کر کے پیج بنا ڈالا..
اس پیج کے قیام کا سب سے بڑا مقصد "پڑھے

لکھے" لوگوں کو بے حیائی سے متنبہ کرنا ھے..ساتھ ہی ساتھ انہیں غلیظ اور غیر شرعی رشتوں کی محبت سے نکال کر اس محبت کی طرف لانا ھے جسے کرنے سے گناہ کی بجائے ثواب بھی ملتا ھے..
ضمنی طور پر شادی کے متعلق پاکستان میں رائج غلط تصورات کی نشاندہی بھی ھمارا مقصد ھے تاکہ نکاح آسان اور زنا مشکل ھو جائے...
ماحول کو لائٹ اور رفریش رکھنے کے لیئے ھم وقتاً فوقتاً (حلال دائرے میں رھتے ھوئے ) تھوڑی بہت رومانٹک شاعری وغیرہ بھی پوسٹتے رھتے

03/06/2026

آٹھ بچیوں کو چھوڑ کر عورت نے دوسرا نکاح کیا، اس میں کیا غلط ہے؟ واقعی کچھ غلط نہیں۔ بلکہ ایک جائز کام کیا اور اچھا کیا، اچھا اس لئے نہیں کہ خاوند سے بے وفائی کوئی اچھا کام ہے۔ اچھا اس لئے کہ خفیہ آشنائی کا گناہ اور منافقت برتنے کے بجائے اس نے جرات سے سینہ ٹھونک کے اپنا شرعی اور انسانی حق لیا۔ خفیہ آشنائی کے مقابلے میں اس کی بہرحال حوصلہ افزائی ہی بنتی ہے۔ مرد اگر شرعا ایک پر اکتفا نہیں کر سکتا اور ایسی وفا نہیں دکھا سکتا تو عورت کے پاس شرعی راستہ اس کے سوا کوئی نہیں کہ وہ اگر چاہے تو دوسری جگہ نکاح کر لے۔ جو حق شریعت کسی کو دے دے، وہ آپ کے حق میں ہو یا نقصان میں۔ اس کے خلاف نہیں ہوا جا سکتا۔ خواہ کسی کو کتنی ہی قیمت چکانی پڑے۔ اگرچہ ہر کام کی ایک قیمت ہے۔یہ قیمت عورت کو بھی چکانی پڑتی ہے۔ میں نے عورت کے نکاح پر کوئی بات کی ہی نہیں۔ میں نے تو مشرقی معاشرے کے خدا کی رحمت کے مظہر اس کردار کی گمشدگی پر بات کی تھی، جسے ماں کہتے ہیں۔ یہ کردار باپ کے مقابلے میں بالکل نہیں۔ باپ کو یہ مقام چھو کر بھی نہیں گزرا۔ حدیث رسول میں تین بار اگر ترجیحی حق ماں کو دیا گیا اور چوتھی بار باپ کو تو صاف ظاہر ہے باپ اس مقابلے میں ہے ہی نہیں۔ نو ماہ حمل اٹھانا، پھر جان پر کھیل کر ڈیلیوری کے بیڈ پر لیٹ جانا اور پھر سارے درد بھول کر نیا چہرہ دیکھ کر مسکرا اٹھنا۔۔باپ اس سارے کردار میں صرف ہسپتال سے باہر دل پر ہاتھ رکھے بیٹھا ملتا ہے۔ وہ کما کے لا سکتا ہے، اولاد پال نہیں سکتا۔ یہ کچھ ذمے داری شرع نے والدہ پر رکھی، کچھ فطری محبت نے اسے بڑھا دیا اور کچھ خود ماں کے ایثار نے بھی اسے فزوں تر کر لیا ہے۔ مذکورہ کیس میں، میں نے صرف اس کردار کے گم ہونے کی بات کی۔ دراصل ویڈیو میں جس طور دھاڑیں مار کر بچیوں کے رونے کی آوازیں دل دہلا اور پگھلا رہی ہیں، وہ خود بتا رہی ہیں کہ بچوں کے نزدیک ایک ماں کی قدرو قیمت کیا ہوتی ہے۔ کسی سے ایسا کردار کھو جانا، دوسرے کیلئے شخصی آزادی ہو سکتی ہے، اس کیلئے قیامت ہے۔ یہ البتہ ہرشخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کب کس اضافی کردار سے انکار کرکے شخصی فائدہ اپنانا چاہتا ہے۔جس طرح کی کھردری زبان بعض قابل احترام معززات نے استعمال کرنے کی کوشش کی ،اب میں چاہ کر بھی ویسی زبان جواب میں بھی نہیں لکھ سکتا اور میں کبھی کسی کو راضی کرنے کیلئے کسی گروہ کے حق میں نہیں لکھ سکتا، جبکہ ضمیر اس پر راضی نہ ہو۔ عورت کے جانے پر اس کے خاوند کو اور خصوصاً اولاد کو دکھ تو ہوسکتا ہے،اعتراض نہیں۔ البتہ یہاں ایک بات اور اہم ہے، عورت نے بطور ماں بچوں کی پرورش کی جس طرح اضافی ذمے داری لے رکھی ہے، اس میں بے نفسی ، ایثار اور قربانی نے اس کی اپنی ذات کی نفی کر رکھی ہے۔ اگر اب عورت اپنی ذات کا حق بھی لینا چاہتی ہے اور ممتا کے کردار سے پہلو چھڑانا چاہتی ہے تو وہ بچوں کے ساتھ غیر ضروری اٹیچمنٹ میں کمی لائے تاکہ کچھ بوجھ کا باپ احساس کرے اور کچھ بچے اپنا وزن خود اٹھائیں تاکہ جب کوئی ماں بطور فرد اپنا فیصلہ نافذ کرے تو کم از کم بچے کھڑے رہ سکیں اور اس فیصلے کا احترام کر سکیں۔ یعنی ماں دوسروں کا اتنا ہی بوجھ لے جتنا اس کے چھوڑتے دوسرے آسانی سے اٹھا سکیں لیکن اس کی ماں کیلئے بھی ایک قیمت ہوگی، ماں کے اس سارے اعزاز اور احترام والے کردار کو چھوڑ دینے کی قیمت۔ صدیوں سے حاصل احترام اور اعتماد گنوا دینے کی قیمت۔

“میں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا…”“میں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا۔”یہ جملہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، لیکن آنکھوں میں عجیب سی ...
03/06/2026

“میں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا…”

“میں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا۔”

یہ جملہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، لیکن آنکھوں میں عجیب سی اداسی تھی۔

وہ ایک کامیاب خاتون تھی۔

اچھی تعلیم۔
اچھی نوکری۔
اپنی گاڑی۔
اپنا گھر۔

وہ ان تمام چیزوں کی مالک تھی جنہیں حاصل کرنے کا خواب اسے بچپن سے دکھایا گیا تھا۔

جب کبھی رشتہ آتا تو وہ کہتی:

“ابھی نہیں، پہلے پڑھائی۔”

پھر:

“ابھی نہیں، پہلے نوکری۔”

پھر:

“ابھی نہیں، پہلے پروموشن۔”

پھر:

“ابھی نہیں، میں ابھی سیٹل نہیں ہوئی۔”

وقت گزرتا گیا۔

ایک دن دفتر سے واپسی پر اس نے اپنی خالی گاڑی پارک کی، خالی فلیٹ کا دروازہ کھولا اور خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔

اسے اچانک احساس ہوا کہ زندگی میں بعض چیزیں پیسوں سے نہیں خریدی جاتیں۔

ماں کی دعاؤں جیسا سکون۔
بچوں کی آوازیں۔
شام کو کسی کا انتظار۔
اور کسی کا یہ پوچھنا:

“آج دن کیسا گزرا؟”

اس رات اس نے اپنی پرانی ڈائری کھولی۔

ایک صفحے پر لکھا تھا:

“میں ایک کامیاب عورت بننا چاہتی ہوں۔”

اس نے قلم اٹھایا اور نیچے ایک جملہ مزید لکھ دیا:

“کاش کسی نے مجھے یہ بھی بتایا ہوتا کہ کامیابی کی تعریف صرف کیریئر نہیں ہوتی۔”

تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔

ہنر حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

لیکن بعض اوقات زندگی کی دوڑ میں ہم ان نعمتوں کو معمولی سمجھ بیٹھتے ہیں جن کی کمی کا احساس بعد میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

03/06/2026

مشترکہ رہاشی نظام میں مرد کو سہولت زیادہ ملتی ھے وہ جب چاھے قمیض اُتار کر بنیان میں ( بلکہ کچھ تو بنیان کا تکلف بھی نہیں کرتے ) گھر میں آزادی سے گُھومتے ہیں جبکہ گھر میں غیر محرم خواتین بھی ہوتی ہیں لیکن اِس کے مقابلے عورت نہ چاہتے ہوئے بھی سر پر دوپٹہ اوڑھے رکھتی ھے ، کیا عورت کو مرد سے کم گرمی لگتی ھے ؟ کیا وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست کی بنی انسان نہیں ؟ اب میرا یہ مطلب نہ سمجھ لیجئے کہ عورت کو بھی بنیان میں پِھرنے کی اجازت دیں ، علیحدہ پورشن یا بالکل الگ گھر میں گرمی کے اِس موسم میں عورت اپنے محرم مرد ( شوھر ) کے سامنے بغیر دوپٹے کے آسانی محسوس کرتی ھے ، پہلے والوں نے تو جیسے تیسے گُزارہ کر ہی لیا لیکن یاد رکھیئے گا نئی نسل مشترکہ رہائشی نظام میں بہت گُھٹن محسوس کرے گی لہذا اگر تنگی معاش رکاوٹ ھے تو اپنی محنت جدوجہد بڑھائیں کم از کم الگ پورشن کی تو ضرور کوشش کریں تاکہ مرد عورت یکساں سہولت عافیت سے رہ سکیں

محبوب الرحمن

The Paradox of Public Figures and Selective FaithWe need to have a serious conversation about the culture of "selective ...
03/06/2026

The Paradox of Public Figures and Selective Faith

We need to have a serious conversation about the culture of "selective religiosity" we see among our public figures, particularly in the media industry.

Lately, it has become common to see celebrities sharing deep, profound Islamic quotes—often concerning the rights of women or the virtues of the Prophet (PBUH)—on the same platforms where they curate images that completely contradict the modesty and boundaries prescribed by the very faith they are quoting.

This highlights a troubling dichotomy:

1. They are quick to use Islamic teachings to advocate for their version of "women's rights," often exaggerating or reinterpreting concepts to fit modern secular narratives. Yet, the same individuals seem to conveniently overlook the foundational Islamic concepts of Pardah (modesty) and the necessity of segregation in public life.

2. You cannot champion the weight of the Prophet’s (PBUH) final sermon on the treatment of women while simultaneously ignoring the modesty and self-respect that the religion inherently links to the dignity of a woman. It creates a confusing, fragmented message for the public.

This trend serves as a wake-up call for all of us as parents and individuals. We must be extremely careful about who we allow our children—and ourselves—to follow, admire, and view as role models. When someone separates the "aesthetic" of their life from the "values" they claim to uphold, it dilutes the truth of the religion.

True advocacy for women's rights in Islam is not a pick-and-choose buffet. It is a comprehensive lifestyle that encompasses humility, modesty, and adherence to the boundaries set by the Creator, not the trends set by social media.

Let’s stop being swayed by shallow virtue signaling and start prioritizing consistency and authenticity in the role models we choose to champion.

What are your thoughts? Is it possible to reconcile this public lifestyle with these religious claims, or is this just hypocrisy???

Thoughts Penned by Sami.

03/06/2026

‏عجيبٌ أمر بعض نساء هذا الزمن..!

تخرج من بيتها متعطرة متزينة، بحجاب ضيق ملون مزخوف، قد كشفت وجهها، وأبدت ذراعيها وشيء من شعرها...
فإذا نظر إليها شاب، قالت:
الرجال ما يغضون أبصارهم ولا يطبقون ما جاء في كتاب الله وسنة رسولهﷺ.

مثل أهل العراق قتلوا الحسين ويسألون عن دم بعوضة.

عجیب منطق ہے۔ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ خیانت کر رہا ہے تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ عورت بھی کسی دوسرے کے شوہر سے تعلقا...
03/06/2026

عجیب منطق ہے۔ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ خیانت کر رہا ہے تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ عورت بھی کسی دوسرے کے شوہر سے تعلقات بنا لے؟

اسلام نے ظلم کا جواب ظلم سے دینے کی اجازت نہیں دی۔ اگر ایک مرد گناہ کر رہا ہے تو دوسرا گناہ اس کا علاج نہیں بنتا۔

جو شادی شدہ مرد کسی غیر عورت کے ساتھ تعلق بناتا ہے وہ یقیناً غلط اور قابلِ مذمت ہے، لیکن کسی عورت کو یہ مشورہ دینا کہ وہ بھی کسی اور کے شوہر سے تعلق قائم کر لے، دراصل بے حیائی اور خاندانی نظام کی تباہی کو فروغ دینا ہے۔

حیرت اس بات پر ہے کہ خیانت کرنے والے مرد پر تنقید کم اور جواباً خیانت کی ترغیب زیادہ دی جا رہی ہے۔

اگر شوہر غلط ہے تو وفاداری، صبر، اصلاح، علیحدگی یا شرعی راستے موجود ہیں۔ لیکن “تم بھی کسی اور مرد سے تعلق بنا لو” نہ اخلاقی حل ہے، نہ عقلی، نہ اسلامی۔

برائی کا جواب برائی نہیں ہوتا۔ ورنہ پھر معاشرے میں کسی اصول، وفاداری یا نکاح کی حرمت کا کوئی مطلب باقی نہیں رہتا۔

03/06/2026

اہنے اردگرد زکوٰۃ ان لڑکے اور لڑکیوں کو دیں جن کے پاس دوپٹہ نہیں, جنہوں نے کپڑے کی کمی کی وجہ سے ٹراوزر اور بازوں میں سوراخ بنوا رکھے ھوتے ہیں ،
اور وہ چھوٹے بہن بھائیوں کے تنگ کپڑے پہن کر یونیورسٹی و کالج جاتی ہیں-

اقوام متحدہ کا 2030ء صنفی مساوات کا ایجنڈا اور کم عمری کی شادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
03/06/2026

اقوام متحدہ کا 2030ء صنفی مساوات کا ایجنڈا اور کم عمری کی شادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم نے کم عمری کی شادی کے خلاف حالیہ قانون سازی پر ایک پوسٹ لگائی تھی کہ یہ شریعت اور عقل دونوں کے خلاف ہے تو بعض دوستوں نے حوالہ دیا کہ سعودی عرب میں بھی اٹھارہ برس سے کم عمری میں شادی پر پابندی ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ وہاں ایسا قانون ہے لیکن وہاں عدالت کی اجازت سے اٹھارہ سال سے کم عمری میں شادی کی اجازت ہے۔ اور دنیا کی اکثر ریاستوں میں ایسا ہی ہے کہ جہاں اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو قانونا منع کیا گیا ہے تو وہاں عدالت یا والدین کی اجازت سے اس کا استثناء (exception) بھی نکالا گیا ہے۔ خیر، اس وقت ہمارا یہ موضوع نہیں ہے۔

ہمارا موضوع یہ ہے کہ 2015ء میں اقوام متحدہ نے ایک پراجیکٹ لانچ کیا کہ جس کا نام (SDG 2030) ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت 2030ء تک اقوام متحدہ نے سترہ اہداف حاصل کرنے ہیں۔ اس میں پانچواں ہدف صنفی مساوات (gender equality) کے گرد گھومتا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کچھ ٹارگٹس مقرر کیے گئے ہیں جن میں ایک مختلف ممالک کو جبری شادی اور بچوں کی شادی (forced & child marriage) کے خلاف قانون سازی پر آمادہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اپنے اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایکٹو ہے۔ اگرچہ اس کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق اس کا کہنا یہ ہے کہ پوری دنیا میں چائلڈ میرج ختم کرنے میں اگلے تین سو برس لگ جائیں گے۔

پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے، یہ سب ایک بیرونی ایجنڈے کے تحت ہے۔ آپ اٹھارہ برس سے کم عمری کی شادی کو شرعا ناجائز سمجھتے ہیں تو اس کی دلیل شرع سے دیں اور وفاقی شرعی عدالت جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے ایک مکالمہ کروا لیں۔ اب شرع کی دلیل تو آپ کے خلاف ہے۔ تو اب معاشرتی مسائل کا رونا شروع کر دیں۔ معاشرتی مسائل کہاں نہیں ہیں۔ وہ تو ان بچیوں اور عورتوں کے زیادہ ہیں کہ جن کی شادی ہی نہیں ہو پا رہی۔ مملکت خداداد پاکستان میں پینتیس برس کی ایک کروڑ خاتون بغیر نکاح اور شادی کے بیٹھی ہے اور آپ کوئی قانون سازی نہیں کر رہے ہیں۔ جب شادی کی کم از کم عمر کی حد مقرر ہو سکتی ہے تو اسی دلیل اور لاجک سے زیادہ سے زیادہ عمر اور حد بھی مقرر ہو سکتی ہے۔ بچہ پیدا کرنے کی صرف مینوفیکچرنگ ڈیٹ قانون سے اناونس نہ کریں بلکہ اس کی ایکپسائری ڈیٹ پر بھی قانون سازی کریں۔

معاشرے میں چھوٹی عمر پر بعض معاملات میں قانون سازی ہوتی ہے۔ بالکل ہوتی ہے لیکن وہاں جہاں دوسرے کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔ اگر چھوٹی عمر کا لڑکا گاڑی چلائے گا تو ایکسیڈینٹ کر دے گا لہذا ڈرائیونگ لائسینس کی عمر ہونی چاہیے، آپ مقرر کر دیں۔ لیکن کسی نے بد کاری اور زنا سے بچنے کے لیے اور عفت کی زندگی گزارنے کے لیے شادی کرنی ہے تو آپ اسے قانونا کیسے روک سکتے ہیں؟ کیا وہ اٹھارہ سال سے کم عمری میں شادی کی ضرورت محسوس کرے جیسا کہ عموما بلوغت کے بعد بچے اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو وہ کیا کریں گے؟ غیر مسلم ممالک میں تو زنا کر لیں گے، بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ رکھ لیں، یہاں مسلم ممالک میں کیا کریں گے؟ یہاں بھی آپ یہی چاہتے ہیں؟

سوال پھر وہی ہے کہ اگر والدین کی رضامندی سے سولہ سترہ برس کے لڑکے لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے تو اس کا اس شادی کا شرعی اسٹیٹس کیا ہے؟ کیا یہ زنا ہے؟ اگر نہیں تو سزا کس جرم کی ہے؟ احتمالات پر سزاوں کا تصور درست نہیں ہے کہ اس عمل سے چونکہ اس کا احتمال ہے لہذا یہ قابل سزا جرم ہے۔ احتمال تو ہزاروں چیزوں میں نکالا جا سکتا ہے۔ جسٹس بابر ستار نے تو اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو زنا کہہ دیا تھا جیسا کہ نیوز میں رپورٹ ہوا ہے۔ زنا کہنے کے لیے شرعی دلیل چاہیے، وہ آپ کے پاس کیا ہے؟ قرآن مجید اور سنت دونوں میں کم عمری کی شادی کا جواز ہے۔ قرآن مجید نے ان عورتوں کی عدت بیان کی ہے کہ جنہیں حیض نہ آیا ہو تو کہا کہ ان کی عدت تین ماہ ہے۔ اب یہ چھوٹی عمر کی بچیاں ہیں کہ جن کا نکاح ان کے والدین کر دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید نے یتیموں کے بارے کہا کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں اور اس کے لیے بلوغت کا لفظ استعمال کیا۔

اور محض نکاح تو بلوغت سے پہلے بھی درست ہے البتہ بلوغت کے بعد ان کو اپنے اس نکاح کو باقی رکھنے یا فسخ یعنی ختم کرنے کا اختیار ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد، اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ وغیرہ سب فقہاء وم محدثین صغیرہ یعنی چھوٹی عمر کی بچی کے نکاح کے جواز کے قائل ہیں جو کہ بالغ نہ ہو۔ صحابہ کرام اور سلف صالحین میں اس کی بہت سی مثالیں مل جاتی ہیں کہ اٹھارہ برس سے کم عمری میں شادی ہوئی۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی لڑکے یا لڑکی کی شادی اٹھارہ برس کی عمر سے دو دن پہلے ہو جاتی ہے، تو اس کو کسی جرم کی سزا ہو گی اور کس بنیاد پر ہو گی؟ کوئی عقل کو ہاتھ ماریں کہ سزا کے لیے بنیاد کس کو بنا رہے ہیں۔ سزا کی بنیاد بلوغت ہو سکتی ہے، یہ عقلا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ اٹھارہ برس کی عمر ہو سکتی ہے، یہ عقل ونقل کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ سترہ یا انیس برس کیوں نہیں؟ اٹھارہ ہی کیوں؟

باقی کسی نے یہ نہیں کہا کہ چھوٹی عمر کی بچی کی شادی فرض ہے۔ آپ نہ کریں۔ آپ اپنے بچوں کی شادیاں بھلے اٹھارہ کیا، پچیس برس میں کریں۔ اور صحیح بات یہی ہے کہ آج کل کا اٹھارہ برس کا لڑکا اور لڑکی بالکل بھی شادی کے لیے میچور نہیں ہے۔ اکثر بچے اور بچیاں پچیس برس میں جا کر میچور ہو رہے ہیں۔ اور ہمارے ہاں معاشرے میں پریکٹس بھی یہی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں قانون شادی کی اجازت دے رہا ہے اور اس کے باوجود رپورٹس یہ بتلا رہی ہے کہ پینتیس برس کی عمر میں بھی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں۔ معاشرے کے حالات سب کے سامنے ہیں کہ لیٹ میرجز عام ہیں اور سب اس پر چیخ رہے ہیں کہ بچوں کی شادیوں کی عمریں نکل رہی ہیں، جوانیوں کو داغ لگ رہے ہیں، بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہے ہیں لیکن معاشرتی ومعاشی مسائل شادیوں میں آڑے آ رہے ہیں۔ ہم سب اس معاشرے میں بیٹھے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔ کیا آپ کو تاخیر کی شادیاں نظر نہیں آ رہیں؟ اب جس معاشرے میں پہلے ہی سے تاخیر سے شادیاں ہو رہی ہوں تو وہاں کم عمری میں شادی کی ممانعت کی قانون سازی کس لیے کی جا رہی ہے؟ وہ ایک دو فی صد دیندار طبقے کے لیے؟ وہ اپنے بچوں کی شادیاں وقت پر کیوں کر دیتے ہیں یا بلوغت کے بعد کیوں کر دیتے ہیں؟ کیا ان بچوں اور بچیوں کو بھی بے راہ روی پر ڈالنا ہمارا مقصود اور ایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے؟

باقی یہ بات درست ہے کہ بلوغت سے پہلے نکاح ہو سکتا ہے لیکن رخصتی بلوغت کے بعد ہی ہے۔ اور بلوغت کے بعد رختصی کی صورت میں اگر لڑکا اور لڑکی میچور نہیں ہیں تو ان کے والدین ان کے کفیل اور معاملات کے ذمہ دار ہوں گے۔ اور اگر وہ یہ ذمہ داری اٹھا لیتے ہیں تو اس کم عمری کی شادی کی اجازت ہے۔ اور ہماری تاریخ میں کم عمری کی شادی اسی طرح سے جاری تھی۔ آج بھی دنیا کے 117 ممالک میں اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی جائز ہے۔ اور 44 ممالک میں والدین یا عدالت کی اجازت کے ساتھ کم عمری کی شادی جائز ہے۔ یہ سب 2025 میں ہو رہا ہے یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا کی اکثریت ابھی تک جاہل اور اجڈ ہے کہ جسے پانچ سال بعد 2030 میں تعلیم یافتہ اور مہذب بنانے کا پراجیکٹ لانچ کیا گیا ہے اور پراجیکٹ لانچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دنیا کو مہذب بنانے میں تین سو برس لگ جائیں گے۔ یہ سب ممالک کیا مریخ پر آباد ہیں؟ اس دنیا کی آبادی نہیں ہیں؟ کیا ان کے پاس عقل نہیں ہے؟ ان کے ہاں کوئی اخلاقی معیار نہیں ہے؟ سب کچھ عقل اور اخلاقیات ایک چھوٹے سے طبقے کے پاس ہے؟ بہت دور کی کوڑیاں ہیں جو لائی جا رہی ہیں۔

باقی یہ بھی درست ہے کہ اگر کوئی لڑکی اٹھارہ برس سے کم عمر میں گھر سے بھاگ کر شادی کر لیتی ہے تو آپ اس کے خلاف قانون سازی کریں کہ چار بچوں کے باپ نے سولہ برس کی لڑکی پٹا لی ہے۔ تو جہاں ضرورت ہے، وہاں قانون سازی کریں۔ عمومی قانون سازی سے سب کر رگڑا لگانے یا ان کے حقوق کو تلف کرنے میں کیا مصلحت پنہاں ہو سکتی ہے سوائے اقوام متحدہ کو راضی کرنے کے؟ اب ہر بات پر پیڈو فیلیا کا طعن ایک فیشن بن چکا ہے۔ جس چھوٹی عمر کے نکاح کی حمایت کی جا رہی ہے، اس میں ایک بچہ ہی ایک بچی سے تعلق قائم کر رہا ہے اگر تو آپ کے نزدیک اٹھارہ برس سے کم قانونی طور عمر بچہ یا بچی ہے۔ اس میں پیڈو فیلیا کہاں سے آ گیا؟ اگر دو بھائی یا دو بہنیں یا بہن بھائی آپس میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے پندرہ سولہ برس کے بچوں بچیوں کی شادیاں کر دیں تو اس میں پیڈو فیلیا کہاں سے آ گیا؟ جب دونوں میاں بیوی میں ایک دو سال کی عمر کا گیپ ہے تو یہ تو ایج فیلو ہیں، یہاں پیڈو فیلیا کہاں سے آ گیا؟ تو اس کو قانون بنا کر جرنلائز کرنا ایک بے وقوفی ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

اگر شریعت نے کسی لڑکے یا لڑکی کو بلوغت کے بعد نکاح کے ذریعے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی اجازت دی ہے تو آپ کون ہوتے ہیں کہ اسے جائز طریقے سے اس کی خواہش پوری کرنے سے روکیں؟ اور اس پر زبردستی زنا کے دروازے کھولیں اور اپنی اس قانون سازی کے ذریعے سوسائٹی کو بدکاری اور فحاشی کا گڑھ بنا دیں۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس لبرل طبقے کو نہ تو شریعت کا پتہ ہے اور نہ دنیا کی خیر خبر ہے۔ بس ایک ہی بات اسے معلوم ہے کہ کسی طرح سے مولوی کی مخالفت کرنی ہے، بھلے اس کے لیے عقل کی کسی بھی حد کی مخالفت کرنی پڑ جائے۔ فیا للعجب۔

حافظ محمد زبیر

03/06/2026

کچھ گھروں کے مرد اپنی بیٹیوں، بیویوں سے ان کے روٹی کھانے کا حساب بھی مانگتے ہیں۔

اگر آپ کا باپ،بھائی یا شوہر آپ سے کہے کہ آپ اس کے ٹکروں پہ پل رہی ہیں لہذا جس بھی حال میں ہوں بدلے میں خدمت کیجیے
تو ایسے میں عورت کو کیا کرنا چاہیے ؟
عفیفہ شمسی

02/06/2026

میں سمجھتا ہوں کہ خاندان کے مقدس نظام کی اس سے زیادہ اور کوئی توہین نہیں ہوسکتی کہ اسے ادائے فرض کے مقدس عامل کی بجائے صرف شہوت رانی،عارضی جنسی خوہشات کی تسکین اور محض لذتیت کی اساس پر منظم کیا جائے،جبکہ یہ سب عوامل بہت ہی عارضی ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسا تصور پیش کرنا انسان اور انسانیت کے خلاف ایک مجرمانہ کوشش ہے۔ اس لیے کہ اس طرح معاشرے میں فحاشی،طوائف الملوکی،معاشرتی بے راہ روی اور معاشرتی شتر بے مہاری جیسی خرابیاں طوفان کی طرح پھیل جاتی ہیں اور اس طرح پورا معاشرہ منہدم ہوجاتا ہے اور اس کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
اس وقت دنیا میں بعض اہل قلم خاندانی نظام کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ایک وسیع میڈیا اس کے خلاف لگا دیا گیا ہے،جو نکاح اور خاندانی نظام کے خلاف مسلسل نشرواشاعت میں مصروف ہے اور ان تعلقات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو صرف جنسی لذتیت اور خوش وقتی پر مبنی ہوتے ہیں،جبکہ مستقل خاندانی نظام کی تحقیر کی جاتی ہے۔ اس بحث سے اچھی طرح معلوم ہوگا کہ ان خطوط پر کام کرنے والے اہل قلم انسانیت کے خلاف کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ان حضرات کی کوششوں سے خاندانی نظام کی شکل بگڑ گئی ہے اور اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے۔
اس موضوع پر حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایک قول میں بڑی گہرائی پائی جاتی ہے۔ ایک شخص اپنی بیوی کو محض اس لیے طلاق دینا چاہتا تھا کہ اب اسے اس کے ساتھ کوئی محبت نہیں رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا خاندان کی اساس صرف محبت پر ہے؟۔ اگر یہی ہے تو پھر بچوں کی پرورش کا کیا بنے گا اور پھر ذمہ داریاں کون سنبھالے گا؟۔
( از تفسیر سورہ نساء: فی ظلال القرآن)
♡♡♡ سید قطب شہید رحمہ اللہ ♡♡♡

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dear Future Wife posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share