03/11/2024
حضرت سید علی بن عثمان جلابی المعروف حضور داتا گنج بخش ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی اپنی شہرۂ آفاق کتاب کشف المحجوب کے صفحہ ۳۹ پر سید الطائفہ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْہَادِی کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ تصوف کی بنیادی خصوصیات آٹھ ہیں : (1)… سخاوت(2)… رضا(3)… صبر (4)… اشارہ (5)… غربت (6)… گدڑی (لباس) (7)… سیاحت اور (8)… فقر۔
یہ آٹھ خصلتیں آٹھ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہیں ۔ چنانچہ،
(1)… سخاوت حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپ نے راہِ خدا میں اپنے جگر گوشہ کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کیا۔
(2)… رضا حضرت سیِّدُنا اسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپ نے ربّ کی رضا کے لیے اپنی جانِ عزیز کو بھی بارگاہِ خداوندی میں پیش کر دیا۔
(3)… صبر حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ آپنے بے انتہا مصائب پر صبر کا دامن نہ چھوڑا اور اپنے ربّ کی آزمائش پر ثابت قدم رہے۔
(4)… اشارہ حضرت سیِّدُنا زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔ کیونکہ ربّ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا:
اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاؕ- (پ۳، اٰل عمران: ۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان: تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے۔
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا:
اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا(۳)(پ۱۶، مریم:۳)
ترجمۂ کنز الایمان: جب اسنے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔
(5)… غربت حضرت سیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے کہ انہوں نے اپنے وطن میں بھی مسافروں کی طرح زندگی بسر کی اور خاندان میں رہتے ہوئے بھی اپنوں سے بیگانہ رہے۔
(6)… گدڑی (صوف کا لباس) حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جنہوں نے سب سے پہلے پشمینی لباس زیبِ تن فرمایا۔
(7)… سیاحت حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے جنہوں نے تنہا زندگی گزاری اور ایک پیالہ و کنگھی کے سوا کچھ بھی پاس نہ رکھا۔ بلکہ ایک مرتبہ کسی کو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر پانی پیتے دیکھا تو پیالہ بھی توڑ دیا اور جب کسی کو دیکھا کہ انگلیوں سے بالوں میں کنگھی کر رہا ہے تو کنگھی بھی توڑ دی۔
(8)… فقر محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت ہے جنہیں رُوئے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں عنایت فرمائی گئیں مگر آپ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: اے خدا! میری خواہش تو یہ ہے کہ ایک روز شکم سیر ہوں تو دو روز فاقہ کروں ۔
میں گداۓمصطفی ہو بھیک ملتی ہیں آستانے سے 💞