06/07/2026
Family: Lauraceae
1 - دارچینی
Cinnamomum verum Presl.
Syn. C. zeylanicum Blume.
Eng: Ceylon Cinnamon, Cinnamon Bark
اردو: دارچینی ۔ عربی: قرفہ، دارچینی ۔ فارسی: دارچینی ۔ سنسکرت: تمال پتر، گڈانواک ۔
ہندی: دال چینی ۔ پنجابی: دال چینی، دارچینی
دارچینی، تج اور اسی جنس کی دیگر انواع کے درخت چین سے سری لنکا تک پائے جاتے ہیں۔ فروخت کے ہنگام منافع خور دارچینی اور تج میں کچھ دیگر درختوں کی چھالیں بھی ملا دیتے ہیں، جس کا بڑا سبب انواع میں پائی جانے والی یکسانیت ہے، حالانکہ یہ ملاوٹی چھالیں اپنے افعال واثرات میں نسبتاً کمزورتر ہیں۔ اس قسم کی چھالیں الگ سے بھی دارچینی اور تج کے دھوکے میں عام فروخت ہو رہی ہیں۔ لہٰذا فارماکوپیا میں تج اور دارچینی کا جو معیار مقرر کیا گیا ہے اس کے پیش نظر ہم یہاں صرف صحیح اور معیاری پیداوار دینے والے درختوں کی شناخت ہی سپرد قلم کر رہے ہیں۔
شناخت
یہ ایک اوسط قامت کا 16 میٹر تک بلند درخت ہے۔ جس کی چھال ہموار، ہلکی گلابی، بھوری اور پتلی 10 ملی میٹر تک موٹی ہوتی ہے جس سے تیز اور خوشگوار بو آتی ہے جبکہ ذائقہ مٹھاس لیے ہوئے چرپرا اور لعاب دار ہوتا ہے۔ پتے بے مو، متقابل یا تقریباً متقابل، پتلے تا سخت کھردرے، بیضوی یا تکلی/بھالا نما بیضوی۔ پھول زردی مائل سبز جو بغلی گچھوں میں لگتے ہیں۔ پھل چھوٹے چھوٹے 1.2 سنٹی میٹر لمبے، گول بیضوی اور گہرے جامنی، کافور کے پھل کی مانند لیکن اکہرے۔ آج کل اس درخت کو زیادہ بڑھنے نہیں دیا جاتا اور کاشت کے 3-4 سال کے بعد اس کی پانچ یا چھ
شاخیں چھوڑ کر باقی کاٹ دی جاتی ہیں۔ یہ شاخیں مزید 2 تا ڈھائی سال بڑھتی ہیں اور جب یہ
2.4 میٹر لمبی اور 1.3 تا 5 سنٹی میٹر موٹی ہو جاتی ہیں تو ان کو کاٹ کر ان کی چھال خاص طریقے سے
اُتار کر اور خشک کر کے حاصل کر لی جاتی ہے، یہی دارچینی ہے۔
مقام پیدائش
مندرجہ بالا درخت کی قدرتی پیداوار سری لنکا کے ضلع مالے میں ہوتی ہے، اس لیے اس کا
تجارتی نام سیلون سنامن ہے (سیلون سری لنکا کا پرانا نام ہے)۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں مغربی
گھاٹ پر بھی اس کی کچھ قدرتی پیداوار ہوتی ہے، جبکہ ریاست کیرالا کے تین اضلاع اور تامل ناڈو
میں نیلگری کی پہاڑیوں کی ترائی اور اڑیسہ میں اسے چھوٹے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے۔ علاوہ
ازیں، امریکہ اور دنیا کے دوسرے استوائی اور نیم استوائی خطوں میں بھی اسے اگایا جاتا ہے۔
مزاج:
گرم درجہ دوم، خشک درجہ دوم تا سوم
اجزائے مستعملہ:
درخت کی چھال بطور دارچینی
مصنوعات:
پتوں، ٹہنیوں اور باقی ماندہ چھال سے کشیدہ "روغن دارچینی" اور عرق دارچینی
افعال کلیہ:
دارچینی:
مقوی، محرک قلب، کاسر ریاح، دافع تعفن، مقوی معدہ، مانع اسہال وسعال، مُوَلّد حرارت غریزیہ۔
روغن دارچینی:
بیرونی جلد پر طلاء کرنے پر مُحَمِّر اور محرک، مسکن اوجاع اور جالی اثرات رکھتا ہے۔
نفع خاص:
مقوی و محرک قلب
افعال و خواص
دارچینی قلب کو تحریک دینے کے لیے خصوصیت سے مفید ہے۔ یہ دافع تعفن، خوشبودار اور
حابس رطوبات ہونے کی وجہ سے منہ کو خوشبودار بنانے اور دانتوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال
کی جاتی ہے۔ باریک پیس کر جلد پر طلاء کرنے سے جاذب اور محرک اثر کرتی ہے اور دردوں کو تسکین
دیتی ہے۔ حابس رطوبات ہونے کی وجہ سے اسہال کو بند کرتی ہے اور زکام، بلغمی کھانسی اور پیشاب کی زیادتی کو روکتی ہے۔ سیلان الرحم اور جریان منی میں نافع ہے۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال
بطور مصالحہ ہے۔ اس کا تیل جالی ہونے کی وجہ سے جلدی امراض مثلاً بہق وکلف وغیرہ پر طلاء
کرتے ہیں۔ بلغمی مزاج کی خواتین میں ایام کم آتے ہوں یا بند ہوں تو سفوف دارچینی 2 تا 3 گرام
صبح شام پھانکنے سے رحم کے عضلات میں تحریک واقع ہو کر ایام شروع ہو جاتے ہیں۔ سردی کے
دردوں اور ورموں پر روغن دارچینی کی مالش سے بہت نفع ہوتا ہے۔ دارچینی کا عرق تمام امراض
میں سفوف کی نسبت سریع الاثر ہے۔
مقدار خوراک:
سفوف 2 تا 3 گرام ۔ روغن 2 تا 5 بوند ۔ عرق 50 تا 100 ملی لٹر
ضرر:
گرم مزاجوں کو سر درد پیدا کرتی ہے اور ان کے گردہ اور مثانے کو مضر ہے۔
مصلح:
سر درد کے لیے خمیرہ بنفشہ گردہ کے لیے صندل سفید
مرکبات:
جوارش جالینوس، حبوب سعال، عرق دارچینی، روغن دارچینی، معجون بسباسہ۔
*کیمیائی تجزیہ
دارچینی میں فراری روغن (0.8 تا 1.4 فیصد) پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں لعاب
دار مادہ، نشاستہ اور کیلشیم اگز یلیٹ بھی پائے جاتے ہیں۔ روغن کا بڑا حصہ (55 تا 75 فیصد) سنامک
ایلڈی ہائیڈ نامی مرکب پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس کی خوشبو ہی دارچینی کی مخصوص خوشبو ہے۔ اس کے
علاوہ اس میں تھوڑی مقدار میں دوسرے مادے از قسم یوجینول، لنالول (Linalool) اور پائینین
(Pinene) وغیرہ پائے جاتے ہیں۔
پتوں سے بھی عمل کشید کے ذریعہ ایک گہرے رنگ کا تیل حاصل کیا جاتا ہے جو روغن دارچینی
سے مختلف ہوتا ہے اور اس میں زیادہ مقدار یوجینول کی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی خوشبو،
مشابہت اور اثرات بالکل روغن لونگ کی مانند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ پتوں میں تھوڑی مقدار
میں سنامک ایلڈی ہائیڈ، لنالول اور پائینین وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں۔