Dr waqar bhuta

Call Website Contact the practice

Dr waqar bhuta Infertility Specialist
Providing safe and effective holistic treatment
Committed to patient care and wellbeing

11/10/2026
یہ ایسا سوال ہے جو بہت سی لڑکیاں دل میں رکھتی ہیں، لیکن شرم کی وجہ سے پوچھ نہیں پاتیں۔ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے نظر آت...
09/10/2026

یہ ایسا سوال ہے جو بہت سی لڑکیاں دل میں رکھتی ہیں، لیکن شرم کی وجہ سے پوچھ نہیں پاتیں۔ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے نظر آتے ہیں کہ فلاں کریم استعمال کریں، فلاں تیل سے مساج کریں یا فلاں چیز کھائیں تو چند ہفتوں میں بریسٹ سائز بڑھ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دعوؤں کے حق میں قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں۔

بریسٹ کا سائز بنیادی طور پر جینیاتی ساخت، ہارمونز، عمر اور جسم میں موجود چربی کی مقدار سے متاثر ہوتا ہے۔ بلوغت کے دوران اس کی نشوونما ہوتی ہے، اور ماہواری، حمل یا وزن میں تبدیلی کے دوران بھی سائز بدل سکتا ہے۔ ہر لڑکی کے جسم کی ساخت الگ ہوتی ہے، اس لیے سب کا سائز ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔

ایک اور بات سمجھنے کی ہے: ورزش سینے کے نیچے موجود پٹھوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور جسمانی انداز بہتر بنا سکتی ہے، لیکن خود بریسٹ کے ٹشو کو مخصوص ورزش سے بڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی خاص غذا سے صرف بریسٹ کا سائز بڑھانے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ نہیں۔

بازار میں ملنے والی نامعلوم کریمیں، ہارمون والی مصنوعات یا بریسٹ بڑھانے کے نام پر فروخت ہونے والی دوائیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ صرف سائز بڑھانے کے لیے ہارمون استعمال کرنا بھی مناسب نہیں۔

اگر بریسٹ کی نشوونما بہت کم ہو، بلوغت میں غیر معمولی تاخیر ہو، یا اچانک سائز میں تبدیلی، گلٹی، جلد میں تبدیلی یا غیر معمولی اخراج ہو تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر سائز قدرتی طور پر چھوٹا ہے تو یہ لازماً کسی بیماری کی علامت نہیں۔

یاد رکھیں، جسم کی خوبصورتی کسی ایک سائز سے طے نہیں ہوتی۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور ایسے دعووں سے بچیں جو چند دن میں غیر معمولی تبدیلی کی ضمانت دیتے ہیں۔

آپ کیا سمجھتی ہیں، لڑکیوں میں بریسٹ سائز کے بارے میں پریشانی زیادہ جسمانی وجہ سے ہوتی ہے یا سوشل میڈیا پر بنائے گئے خوبصورتی کے معیار سے؟

— ڈاکٹر وقار بھٹہ

بیوی کہتی ہے کہ شوہر پہلے جیسا نہیں رہا، شوہر خاموش ہے، اور دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے!ایک عام سی صورتِ حال ہ...
09/10/2026

بیوی کہتی ہے کہ شوہر پہلے جیسا نہیں رہا، شوہر خاموش ہے، اور دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے!

ایک عام سی صورتِ حال ہے جس پر ہمارے معاشرے میں کھل کر بات نہیں ہوتی۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دیتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور قربت بھی محسوس کرتے ہیں، لیکن کچھ عرصے بعد شوہر کی جنسی خواہش کم ہونے لگتی ہے۔ بیوی سمجھتی ہے کہ شاید اب اسے میری پروا نہیں رہی، جبکہ شوہر خود بھی سمجھ نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

جنسی خواہش صرف جسمانی طاقت کا نام نہیں۔ انسان کی ذہنی کیفیت، روزگار کا دباؤ، گھریلو پریشانیاں، نیند، تعلقات میں ناراضی اور بعض ادویات بھی اس پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ذیابیطس، تھائرائڈ کے مسائل یا بعض ہارمونز کی خرابی بھی وجہ بن سکتی ہے۔

مسئلہ اس وقت بڑھتا ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ بیوی سوچتی ہے کہ شوہر اسے پسند نہیں کرتا، اور شوہر اس خوف سے خاموش ہو جاتا ہے کہ کہیں اسے کمزور نہ سمجھ لیا جائے۔ یوں ایک چھوٹی سی پریشانی بڑے فاصلے میں بدل سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر انسان کی جنسی خواہش ایک جیسی نہیں ہوتی، اور خواہش میں کچھ کمی بیشی ہونا بذاتِ خود بیماری نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تبدیلی کتنی ہے، کتنے عرصے سے ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسری علامت بھی موجود ہے یا نہیں۔

میاں بیوی کے تعلق میں محبت، احترام اور کھل کر بات کرنا بہت اہم ہے۔ جنسی مسئلے کو شرمندگی سمجھ کر چھپانے کے بجائے اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ بغیر وجہ جانے ہر بار طاقت کی دوا لینا درست طریقہ نہیں۔

آپ کی رائے میں میاں بیوی کے درمیان ایسے مسئلے کی بڑی وجہ کیا بنتی ہے: ذہنی دباؤ، جسمانی صحت یا ایک دوسرے سے بات نہ کرنا؟

— ڈاکٹر وقار بھٹہ

مریض کی عمر صرف 26 سال تھی، لیکن وہ خود کو زندگی کا سب سے ناکام انسان سمجھ بیٹھا تھا!آج ایک نوجوان کی بات یاد آئی۔ کہنے ...
09/10/2026

مریض کی عمر صرف 26 سال تھی، لیکن وہ خود کو زندگی کا سب سے ناکام انسان سمجھ بیٹھا تھا!

آج ایک نوجوان کی بات یاد آئی۔ کہنے لگا، ڈاکٹر صاحب، میری شادی نہیں ہوئی، لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں شادی کے بعد میں اپنی بیوی کو خوش نہ رکھ سکوں۔ انٹرنیٹ پر مختلف ویڈیوز دیکھتا ہوں تو کبھی لگتا ہے کہ میرے اندر طاقت کی کمی ہے، کبھی کسی کی بات سن کر کوئی نیا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ میں ہر وقت اسی سوچ میں رہتا ہوں۔

میں نے اسے سمجھایا کہ بھائی، ابھی تم نے کوئی مسئلہ پیش آنے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں کئی مسئلے بنا لیے ہیں۔ مردانگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت جنسی خیالات میں رہے یا اسے کبھی گھبراہٹ محسوس نہ ہو۔ جنسی کارکردگی پر ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، پریشانی اور غیر حقیقی توقعات اثر ڈال سکتی ہیں۔

بہت سے نوجوان انٹرنیٹ پر دوسروں کی باتیں سن کر اپنی صحت کے بارے میں خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عادت سے نسیں خراب ہو جاتی ہیں، کوئی کہتا ہے کہ مخصوص تیل سے چند دنوں میں طاقت واپس آ جاتی ہے۔ پھر نوجوان ہر روز اپنے جسم کو جانچنے لگتا ہے اور اپنی پریشانی مزید بڑھا لیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھار گھبراہٹ یا جنسی کارکردگی میں مشکل پیش آنا لازماً مستقل بیماری نہیں ہوتی۔ البتہ اگر مسئلہ بار بار ہو تو اس کی اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ ہر مسئلے کا حل طاقت کی دوا نہیں، بعض اوقات غلط فہمی اور خوف کو دور کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔

ایک سوال ہر نوجوان سے: آپ کے خیال میں مردانہ کمزوری کے بارے میں نوجوانوں کو زیادہ نقصان جسمانی مسئلے سے ہوتا ہے یا انٹرنیٹ پر پھیلائی گئی غلط معلومات سے؟

— ڈاکٹر وقار بھٹہ

Address

City Kasur
Lahore
TAIR

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr waqar bhuta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr waqar bhuta:

Shortcuts

Share