09/10/2026
یہ ایسا سوال ہے جو بہت سی لڑکیاں دل میں رکھتی ہیں، لیکن شرم کی وجہ سے پوچھ نہیں پاتیں۔ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے دعوے نظر آتے ہیں کہ فلاں کریم استعمال کریں، فلاں تیل سے مساج کریں یا فلاں چیز کھائیں تو چند ہفتوں میں بریسٹ سائز بڑھ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دعوؤں کے حق میں قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
بریسٹ کا سائز بنیادی طور پر جینیاتی ساخت، ہارمونز، عمر اور جسم میں موجود چربی کی مقدار سے متاثر ہوتا ہے۔ بلوغت کے دوران اس کی نشوونما ہوتی ہے، اور ماہواری، حمل یا وزن میں تبدیلی کے دوران بھی سائز بدل سکتا ہے۔ ہر لڑکی کے جسم کی ساخت الگ ہوتی ہے، اس لیے سب کا سائز ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔
ایک اور بات سمجھنے کی ہے: ورزش سینے کے نیچے موجود پٹھوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور جسمانی انداز بہتر بنا سکتی ہے، لیکن خود بریسٹ کے ٹشو کو مخصوص ورزش سے بڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی خاص غذا سے صرف بریسٹ کا سائز بڑھانے کا کوئی ثابت شدہ طریقہ نہیں۔
بازار میں ملنے والی نامعلوم کریمیں، ہارمون والی مصنوعات یا بریسٹ بڑھانے کے نام پر فروخت ہونے والی دوائیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ صرف سائز بڑھانے کے لیے ہارمون استعمال کرنا بھی مناسب نہیں۔
اگر بریسٹ کی نشوونما بہت کم ہو، بلوغت میں غیر معمولی تاخیر ہو، یا اچانک سائز میں تبدیلی، گلٹی، جلد میں تبدیلی یا غیر معمولی اخراج ہو تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر سائز قدرتی طور پر چھوٹا ہے تو یہ لازماً کسی بیماری کی علامت نہیں۔
یاد رکھیں، جسم کی خوبصورتی کسی ایک سائز سے طے نہیں ہوتی۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور ایسے دعووں سے بچیں جو چند دن میں غیر معمولی تبدیلی کی ضمانت دیتے ہیں۔
آپ کیا سمجھتی ہیں، لڑکیوں میں بریسٹ سائز کے بارے میں پریشانی زیادہ جسمانی وجہ سے ہوتی ہے یا سوشل میڈیا پر بنائے گئے خوبصورتی کے معیار سے؟
— ڈاکٹر وقار بھٹہ