Doctor Mohsin Raza

Call Website Contact the practice

Doctor Mohsin Raza Dr. Mohsin Raza is a consultant dermatologist and cosmetologist serving the people oh his hometown.

Dr. Mohsin Raza is a multi-talented and multi-dimensional person with motivational thinking.

کیا آپ کے بال معمول سے زیادہ گر رہے ہیں؟ 😟کنگھی کرتے وقت، نہاتے ہوئے یا تکیے پر بال نظر آنا بہت عام بات ہے، لیکن اگر بال...
24/05/2026

کیا آپ کے بال معمول سے زیادہ گر رہے ہیں؟ 😟
کنگھی کرتے وقت، نہاتے ہوئے یا تکیے پر بال نظر آنا بہت عام بات ہے، لیکن اگر بال مسلسل زیادہ مقدار میں گر رہے ہوں تو یہ صرف ایک beauty concern نہیں بلکہ جسم کے اندر کسی مسئلے کی نشانی بھی ہو سکتا ہے۔

اکثر لوگ Hair Fall کو صرف shampoo تبدیل کرکے یا oil لگاکر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بال گرنے کی اصل وجہ جاننا سب سے ضروری ہوتا ہے۔

📌 بال گرنے کی اہم وجوہات:

🔹 **ذہنی دباؤ اور Stress**
مسلسل ذہنی دباؤ، anxiety، نیند کی کمی اور overthinking جسم کے hormones کو متاثر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بال کمزور ہو کر گرنے لگتے ہیں۔
بہت سے لوگوں میں شدید stress کے 2 سے 3 ماہ بعد اچانک Hair Fall شروع ہو جاتا ہے۔

🔹 **غذائیت کی کمی (Nutritional Deficiency)**
اگر جسم میں Iron، Vitamin D، Zinc، Biotin یا Protein کی کمی ہو تو بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
Crash dieting، غیر متوازن غذا اور meal skipping بھی Hair Fall کی بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔

🔹 **ہارمونز میں تبدیلی**
خاص طور پر خواتین میں:
✔ PCOS
✔ Thyroid problems
✔ Pregnancy کے بعد
✔ Menopause

یہ تمام conditions بالوں کے گرنے یا thinning کا سبب بن سکتی ہیں۔

🔹 **جینیاتی وجہ (Genetic Hair Loss)**
اگر خاندان میں والد، والدہ یا قریبی رشتہ داروں کو گنج پن یا بال کم ہونے کا مسئلہ ہو تو اس کے امکانات اگلی نسل میں بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہ Hair Fall آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر permanent بھی ہو سکتا ہے۔

🔹 **خشکی اور Scalp Problems**
شدید dandruff، scalp infection، itching یا excessive oiliness بھی بالوں کی جڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔
بعض اوقات scalp کی inflammation کی وجہ سے Hair Growth cycle disturb ہو جاتی ہے۔

🔹 **Heat اور Chemical Treatments**
بار بار:
❌ Hair straightening
❌ Coloring
❌ Rebonding
❌ Excessive blow dry یا ironing

بالوں کو خشک، کمزور اور brittle بنا دیتے ہیں، جس سے Hair Breakage اور Hair Fall دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

🔹 **غلط Hair Care Routine**
بہت tight hairstyles، گیلے بالوں میں کنگھی کرنا، harsh shampoos یا روزانہ heat styling بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

📍یاد رکھیں:
روزانہ تقریباً 50 سے 100 بال گرنا نارمل سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اگر:
⚠ بال تیزی سے پتلے ہو رہے ہوں
⚠ مانگ چوڑی ہو رہی ہو
⚠ Scalp نظر آنے لگا ہو
⚠ بالوں کی growth رک گئی ہو
⚠ یا چھوٹی عمر میں excessive Hair Fall ہو رہا ہو

تو یہ warning sign ہو سکتا ہے۔

خوش قسمتی سے آج کل Hair Fall کے لیے کئی مؤثر treatments موجود ہیں، جیسے:

✨ PRP Therapy
✨ Medications
✨ Supplements
✨ Customized Hair Treatments
✨ Scalp Treatments

لیکن ہر مریض کے بال گرنے کی وجہ مختلف ہوتی ہے، اس لیے self-medication کے بجائے proper diagnosis بہت ضروری ہے۔

اپنے بالوں کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ جتنی جلدی treatment شروع کیا جائے اتنے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں 💙

📩 Consultation کیلئے DM کریں۔

28/03/2026

**Writer Dr Mohsin Raza**

دنیا اس وقت ایک ایسے عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں تبدیلی صرف تیز نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کی ہے، یعنی وہ نظام بدل رہے ہیں جن پر پچھلی کئی دہائیوں سے عالمی معیشت، سیاست اور سماج کھڑے تھے۔ آنے والے پانچ سالوں میں کچھ ایسی بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں گی جو نہ صرف عالمی طاقت کے توازن کو بدلیں گی بلکہ ایک عام انسان کی روزمرہ زندگی، آمدنی، صحت اور مستقبل کے فیصلوں تک کو متاثر کریں گی۔ یہ تبدیلیاں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ایک مربوط سلسلہ ہیں جہاں توانائی، ٹیکنالوجی، معیشت اور انسانی رویے ایک دوسرے کو متاثر کر رہے ہیں۔

سب سے بنیادی تبدیلی توانائی کے نظام میں آ رہی ہے۔ دنیا تیزی سے فوسل فیول یعنی تیل اور گیس سے ہٹ کر الیکٹرک اور متبادل توانائی کی طرف جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے صرف ماحولیاتی دباؤ نہیں بلکہ ایک واضح معاشی اور سیاسی حکمت عملی بھی ہے۔ عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور بڑی معیشتیں بیٹری ٹیکنالوجی، لیتھیم اور دیگر معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں طاقت کا مرکز وہ ممالک ہوں گے جو توانائی کے نئے ذرائع اور ان کی سپلائی چین کو کنٹرول کریں گے۔ یہ تبدیلی تیل پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے ایک چیلنج اور نئی ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک کے لیے ایک موقع بنے گی۔

دوسری بڑی تبدیلی مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کی ہے، جو محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی قوت بن چکی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکار نظام اور ذہین سافٹ ویئر نہ صرف دفتری کاموں بلکہ تجزیاتی اور تخلیقی کاموں کو بھی تیزی سے سنبھال رہے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر لیبر مارکیٹ پر پڑے گا، جہاں روایتی نوکریاں کم ہوں گی اور مہارت پر مبنی کاموں کی مانگ بڑھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پیداوار کی لاگت کم ہوگی لیکن آمدنی کی تقسیم غیر متوازن ہو سکتی ہے، جس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

تیسری تبدیلی عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی کی ہے۔ کئی ممالک اب اپنی معیشت کو ایک ہی کرنسی یا مالیاتی نظام پر منحصر رکھنے کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں کنٹرول چند بڑے اداروں کے پاس ہے، اور ممالک اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے نئے تجارتی اور مالیاتی ماڈلز کی طرف جا رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ عالمی تجارت کا ڈھانچہ زیادہ کثیر الجہتی ہو جائے گا اور مالیاتی عدم استحکام کے نئے خطرات پیدا ہوں گے۔

چوتھی اہم تبدیلی جنگ کے طریقہ کار میں ہے۔ روایتی جنگیں اب ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ سائبر حملے، خودکار ہتھیار، اور ڈیٹا کنٹرول اب جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ معاشی نظام، بینکنگ، اور انفراسٹرکچر بھی اس کا ہدف بن سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی عالمی سلامتی کے تصور کو مکمل طور پر بدل دے گی۔

پانچویں بڑی تبدیلی وسائل کے دباؤ کی ہے، خاص طور پر پانی اور خوراک کے حوالے سے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، اور زمین کے استعمال کے بدلتے ہوئے طریقے خوراک کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے سالوں میں کئی خطوں کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا، جس کا اثر نہ صرف زراعت بلکہ شہری زندگی پر بھی پڑے گا۔ یہ مسئلہ مقامی نہیں بلکہ عالمی نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔

چھٹی تبدیلی کام کے ڈھانچے میں ہے۔ روایتی نوکریوں کی جگہ لچکدار اور ڈیجیٹل کام لے رہا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز، فری لانسنگ اور ریموٹ ورک اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جغرافیائی حدود ختم ہو رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ مقابلہ عالمی ہو رہا ہے، جس سے مہارت کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

ساتویں تبدیلی شہری زندگی اور رہائش کے انداز میں ہے۔ سمارٹ سٹیز، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور خودکار نظام شہری زندگی کو تبدیل کر رہے ہیں۔ ٹریفک، توانائی، سکیورٹی اور روزمرہ کے کام اب ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے شہر زیادہ منظم لیکن زیادہ کنٹرولڈ بھی ہوں گے۔

آٹھویں تبدیلی صحت کے شعبے میں ہے، جہاں جدید تحقیق اور بایو ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بیماریوں کی تشخیص، علاج اور روک تھام کے نئے طریقے سامنے آ رہے ہیں، جس سے زندگی کی اوسط مدت بڑھنے کا امکان ہے۔ لیکن اس کے ساتھ صحت کی سہولیات میں عدم مساوات بھی بڑھ سکتی ہے، جہاں جدید علاج صرف مخصوص طبقے تک محدود رہ جائے۔

نویں تبدیلی سماجی رویوں میں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی رابطے نے انسانی تعلقات، کام کے طریقے اور زندگی کے مقاصد کو بدل دیا ہے۔ لوگ اب روایتی نظام سے ہٹ کر نئے انداز میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کا اثر معاشرتی ڈھانچے پر پڑ رہا ہے۔

دسویں اور سب سے گہری تبدیلی انسانی ذہنیت میں ہے۔ آنے والے وقت میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو سیکھنے، بدلنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلسل سیکھنے کی عادت اور لچکدار سوچ مستقبل کی سب سے اہم صلاحیت ہوگی۔

اگر ان تمام تبدیلیوں کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے نظام کی طرف جا رہی ہے جہاں طاقت کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے، معیشت کا ڈھانچہ بدل رہا ہے، اور انسانی زندگی کے بنیادی اصول نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف حکومتوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ایک عام انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کریں گی۔ اس لیے آنے والا وقت صرف ان لوگوں کے لیے بہتر ہوگا جو ان تبدیلیوں کو سمجھ کر اپنے آپ کو اس کے مطابق تیار کریں گے، کیونکہ اصل فرق وسائل کا نہیں بلکہ سمجھ اور تیاری کا ہوگا۔

27/03/2026

**Writer Dr Mohsin Raza**

اگر کل صبح یہ خبر آ جائے کہ امریکا نے ایران کے خارک جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے… تو یہ صرف ایک جزیرے پر قبضہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جو پوری دنیا کی معیشت، توانائی کے نظام اور جنگی توازن کو ہلا کر رکھ دے گا۔ کیونکہ یہ کوئی عام جزیرہ نہیں بلکہ ایران کی تیل کی شہ رگ ہے، جہاں سے اس کی بڑی مقدار میں تیل دنیا تک پہنچتا ہے۔ بظاہر یہ لگ سکتا ہے کہ اگر امریکا اس جزیرے کو کنٹرول کر لے تو وہ ایران کو کمزور کر دے گا اور عالمی تیل کی سپلائی کو محفوظ بنا دے گا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہو سکتی ہے۔

سب سے پہلی بات یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی جگہ پر قبضہ کرنا ایک مرحلہ ہوتا ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا اصل جنگ ہوتی ہے۔ خارک جزیرہ ایران کے بالکل قریب ہے، یعنی جغرافیائی لحاظ سے ایران کو ایک بڑا فائدہ حاصل ہے۔ اگر امریکی افواج وہاں اترتی ہیں تو وہ دشمن کے بالکل قریب ہوں گی، اور یہی چیز انہیں مسلسل خطرے میں رکھے گی۔ ایران کے پاس ایسے میزائل، ڈرونز اور بحری نظام موجود ہیں جو نہ صرف جزیرے کو بلکہ اس کے اردگرد کے پورے علاقے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی فوج کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوگی، بلکہ ہر وقت حملے کے خطرے میں رہے گی۔

یہاں ایک بہت اہم اور اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے سپلائی لائن۔ کسی بھی فوج کے لیے سب سے ضروری چیز صرف ہتھیار نہیں بلکہ خوراک، ایندھن اور گولہ بارود کی مسلسل فراہمی ہوتی ہے۔ خارک جزیرے پر موجود امریکی افواج کو یہ تمام چیزیں سمندر یا ہوا کے ذریعے پہنچانی پڑیں گی، اور یہی وہ کمزور نقطہ ہوگا جسے ایران آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر ایران سپلائی لائن کو نشانہ بناتا ہے تو امریکی فوج کو نہ صرف لڑائی بلکہ زندہ رہنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایندھن کی کمی، خوراک کی قلت، اور گولہ بارود کی محدود دستیابی ایک ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے جہاں فوجی نہ صرف کمزور ہو جائیں بلکہ ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار بھی ہو جائیں۔

یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ بن جائے گی، جہاں ہر لمحہ یہ خوف ہوگا کہ اگلا حملہ کب ہوگا۔ اگر اس صورتحال میں امریکی فوج کے بڑے نقصان ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اگر آدھے سے زیادہ فوجی ہلاک ہو جائیں، تو یہ امریکا کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہوگا، نہ صرف فوجی لحاظ سے بلکہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی۔ کیونکہ کسی بھی بڑی طاقت کے لیے اپنے فوجیوں کا اس طرح نقصان برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر ایک ایسے علاقے میں جہاں دشمن جغرافیائی برتری رکھتا ہو۔

اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی طرف، یعنی آبنائے ہرمز۔ بظاہر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ امریکا اس جزیرے پر قبضہ کر کے اس راستے کو کھلا رکھ سکے گا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہو سکتی ہے۔ جیسے ہی جنگ اس سطح تک پہنچے گی، خطرہ ہر طرف پھیل جائے گا، سمندر، بندرگاہیں، جہاز، سب نشانے پر ہوں گے۔ اس صورتحال میں آبنائے ہرمز کھلنے کے بجائے مزید بند ہو جائے گی، کیونکہ کوئی بھی جہاز اس خطرناک ماحول میں سفر کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ یعنی جس مقصد کے لیے یہ قدم اٹھایا جائے گا، وہی مقصد الٹا متاثر ہوگا۔

یہ فیصلہ نہ صرف غلط ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، اور معیشتیں دباؤ میں آ سکتی ہیں۔ ایک عام انسان کے لیے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مہنگائی بڑھے گی، ایندھن مہنگا ہوگا، اور زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ جنگ ایک جگہ ہوگی لیکن اس کے اثرات ہر گھر تک پہنچیں گے۔

ایران کا ردعمل بھی صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا۔ وہ اس صورتحال کو اپنی بقا کا مسئلہ سمجھے گا اور ہر ممکن طریقے سے جواب دے گا، چاہے وہ میزائل حملے ہوں، ڈرونز ہوں یا خطے کے دیگر مقامات کو نشانہ بنانا ہو۔ یہ ایک محدود کارروائی نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

آخر میں ایک بات بہت واضح ہے کہ ایسے فیصلے بظاہر طاقت کا مظاہرہ لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ پیچیدہ اور خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ خارک جزیرے پر قبضہ کرنا شاید ایک وقتی کامیابی ہو، لیکن اسے برقرار رکھنا ایک مسلسل خطرہ ہوگا۔ سپلائی لائن کا مسئلہ، مسلسل حملوں کا خوف، اور جغرافیائی کمزوری… یہ سب عوامل اس اقدام کو ایک خطرناک جال بنا سکتے ہیں۔

اسی لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہوگا جو فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی طاقت کا استعمال مسئلہ حل نہیں کرتا بلکہ اسے مزید بڑھا دیتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔

26/03/2026

**Writer Dr Mohsin Raza**

اگر آپ کو لگتا ہے کہ کامیابی صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو روایتی تعلیم میں اچھے ہیں، ہر امتحان میں نمبر لیتے ہیں اور ایک سیدھی لکیر پر چلتے ہیں… تو شاید اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی سوچ بدلیں۔ کیونکہ دنیا ایک خاموش انقلاب سے گزر رہی ہے، اور اس انقلاب میں دو طرح کے لوگ حیران کن طریقے سے آگے آ رہے ہیں… ایک وہ جن کے پاس ہنر ہے، یعنی ٹریڈ ورکرز، اور دوسرے وہ جن کا دماغ عام لوگوں سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے، یعنی نیورو ڈائیورجینٹ افراد۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے نظر انداز کیا جاتا تھا، لیکن اب یہی لوگ مستقبل کی دنیا کو شکل دے رہے ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں ٹریڈ ورکرز کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عملی مہارت رکھتے ہیں، جیسے الیکٹریشن، پلمبر، مکینک، ٹیکنیشن، ویلڈر یا کوئی بھی ایسا فرد جو ہاتھ سے کام کر کے مسئلہ حل کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایسے کاموں کو کم تر سمجھا جاتا تھا اور ہر کسی کو کہا جاتا تھا کہ بس ڈگری لو اور نوکری کرو۔ لیکن آج دنیا کی حقیقت بدل چکی ہے۔ اب دنیا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو حقیقت میں کام کر سکیں، جو چیزوں کو ٹھیک کر سکیں، جو زمین پر کھڑے ہو کر مسائل حل کر سکیں۔

آج اگر آپ ایک اچھے مکینک یا الیکٹریشن کو دیکھیں تو وہ نہ صرف عزت کما رہا ہے بلکہ اچھی آمدنی بھی حاصل کر رہا ہے، کیونکہ ہنر مند لوگوں کی کمی ہو رہی ہے۔ دفاتر میں بیٹھنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن کام کرنے والے ہاتھ کم ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے وقت میں ہنر مند افراد کی قدر اور بھی بڑھے گی۔ مشینیں بہت سے دفتری کام لے سکتی ہیں، لیکن وہ ہر جگہ انسانی مہارت کو مکمل طور پر replace نہیں کر سکتیں۔

اب آتے ہیں دوسرے گروپ کی طرف، یعنی نیورو ڈائیورجینٹ افراد۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا دماغ عام لوگوں سے مختلف انداز میں سوچتا اور کام کرتا ہے۔ کچھ لوگ بہت زیادہ فوکس کر سکتے ہیں، کچھ غیر معمولی تخلیقی ہوتے ہیں، کچھ پیچیدہ مسائل کو گہرائی سے سمجھتے ہیں، اور کچھ ایسے زاویے سے سوچتے ہیں جو دوسروں کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتا۔ پہلے ایسے لوگوں کو “مسئلہ” سمجھا جاتا تھا، انہیں کہا جاتا تھا کہ یہ نارمل نہیں ہیں، لیکن اب دنیا کو احساس ہو رہا ہے کہ یہی لوگ اصل میں غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایسے لوگ جو “آٹزم” کے سپیکٹرم میں آتے ہیں، وہ اکثر ایک خاص چیز پر بہت گہرا فوکس کر سکتے ہیں۔ وہ گھنٹوں ایک ہی مسئلے پر کام کر سکتے ہیں اور ایسی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں جو عام لوگ نہیں دیکھ پاتے۔ اسی طرح کچھ لوگ جنہیں “اے ڈی ایچ ڈی” ہوتا ہے، وہ ایک جگہ زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتے لیکن ان کے اندر تخلیقی صلاحیت اور تیز سوچنے کی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ نئے آئیڈیاز جلدی پیدا کرتے ہیں اور روایتی سوچ سے ہٹ کر کام کرتے ہیں۔

دنیا میں بہت سے کامیاب لوگ ایسے رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نیورو ڈائیورجینٹ تھے۔ مثال کے طور پر کچھ سائنسدان اور موجد ایسے تھے جو روایتی تعلیم میں بہت کامیاب نہیں تھے لیکن ان کی سوچ نے دنیا بدل دی۔ ان کی طاقت یہی تھی کہ وہ مختلف انداز میں سوچتے تھے، اور یہی چیز انہیں خاص بناتی تھی۔

آج بڑی بڑی کمپنیاں ایسے افراد کو خاص طور پر تلاش کر رہی ہیں کیونکہ انہیں ایسے لوگ چاہیے جو صرف ہدایات پر عمل نہ کریں بلکہ نئی سوچ لائیں۔ وہ ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں جو مسائل کو نئے زاویے سے دیکھ سکیں، جو عام طریقے سے ہٹ کر حل پیش کریں، اور جو تخلیقی انداز میں کام کریں۔ یہی وجہ ہے کہ نیورو ڈائیورجینٹ افراد اب کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت سمجھے جا رہے ہیں۔

اگر آپ غور کریں تو ٹریڈ ورکرز اور نیورو ڈائیورجینٹ افراد دونوں میں ایک مشترک چیز ہے، اور وہ یہ ہے کہ دونوں روایتی راستے پر نہیں چلتے۔ ایک اپنے ہاتھ کے ہنر سے آگے بڑھتا ہے اور دوسرا اپنی مختلف سوچ سے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو انہیں اس نئی دنیا میں اہم بنا رہی ہے۔ کیونکہ اب دنیا کو ایسے لوگ چاہیے جو یا تو کام کر سکیں یا سوچ کو بدل سکیں۔

ایک عام انسان کے لیے اس کا مطلب بہت واضح ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ہنر ہے تو اسے کم نہ سمجھیں، اسے مضبوط کریں، اسے اپنی پہچان بنائیں۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا سوچنے کا انداز دوسروں سے مختلف ہے تو اسے دبانے کے بجائے اسے سمجھیں اور استعمال کریں۔ کیونکہ شاید یہی وہ چیز ہے جو آپ کو دوسروں سے آگے لے جا سکتی ہے۔

آنے والے وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کا ایک ہی راستہ نہیں رہے گا۔ وہ لوگ پیچھے رہ جائیں گے جو صرف ایک روایتی طریقے پر چلتے رہیں گے، جبکہ وہ لوگ آگے بڑھیں گے جو اپنی طاقت کو پہچانیں گے، چاہے وہ ہاتھ کی مہارت ہو یا دماغ کی مختلف سوچ۔ دنیا اب “نارمل” لوگوں کی نہیں بلکہ “خاص” لوگوں کی طرف جا رہی ہے۔

آخر میں ایک بات جو ہر انسان کو سمجھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ آپ کو خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں، بلکہ خود کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے اپنی اصل طاقت کو پہچان لیا، تو آپ اس دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، چاہے آپ ایک ہنر مند کاریگر ہوں یا ایک مختلف انداز میں سوچنے والے انسان۔ کیونکہ شاید آپ وہی ہیں جس کی اس بدلتی ہوئی دنیا کو ضرورت ہے۔

𝗘𝗶𝗱 𝗠𝘂𝗯𝗮𝗿𝗮𝗸! May this special day bring peace, happiness, and prosperity to your life. Wishing you and your family a joy...
21/03/2026

𝗘𝗶𝗱 𝗠𝘂𝗯𝗮𝗿𝗮𝗸!
May this special day bring peace, happiness, and prosperity to your life. Wishing you and your family a joyful and blessed Eid filled with love and laughter. May Allah accept your prayers and grant all your wishes.

10/02/2026

Many skin whitening creams promise instant fairness — but most damage your skin.

In this video, a dermatologist explains:
✔️ Which whitening creams are safe
✔️ Best ingredients for bright & even skin
✔️ What to avoid to prevent pigmentation

Your skin deserves science, not shortcuts.





11/01/2026

Not all anti-aging moisturizers work the same.

In this video, Dr. Shahzada Mohsan Raza explains how the right anti-aging facial moisturizer can help improve skin hydration, brightness, and early aging signs—without harming sensitive skin.

Choosing products based on your skin type is the key to visible improvement.

📍 Dermatologist-approved skincare guidance
📞 Book your appointment today

10/01/2026

PRP therapy is a medical procedure used to support hair follicles and scalp health.

This video shows an actual PRP procedure performed by a dermatologist, helping viewers understand how the treatment is done and why professional supervision is important for safety and results.

Hair fall treatment should always be based on proper diagnosis and realistic expectations.

📩 Message us for professional hair fall consultation.

, , , , , , , , ,

08/01/2026

𝟭𝟬 𝗦𝗲𝗰𝗿𝗲𝘁𝘀 𝗼𝗳 𝗚𝗹𝗼𝘄𝗶𝗻𝗴 𝗦𝗸𝗶𝗻 𝗶𝗻 𝗪𝗶𝗻𝘁𝗲𝗿 | 𝗚𝗲𝘁 𝗡𝗮𝘁𝘂𝗿𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗚𝗹𝗼𝘄𝗶𝗻𝗴 𝗦𝗸𝗶𝗻 𝗧𝗵𝗶𝘀 𝗪𝗶𝗻𝘁𝗲𝗿

Cold weather can cause dryness, dullness, and irritation — but the right skincare routine can help maintain glowing skin in winter.

Consistency, hydration, and gentle care are key to protecting your skin barrier during colder months.




01/01/2026

𝗢𝗽𝗲𝗻 𝗣𝗼𝗿𝗲𝘀 𝗼𝗻 𝗙𝗮𝗰𝗲: 𝗖𝗮𝘂𝘀𝗲𝘀, 𝗧𝗿𝗲𝗮𝘁𝗺𝗲𝗻𝘁𝘀 & 𝗕𝗲𝘀𝘁 𝗗𝗲𝗿𝗺𝗮𝘁𝗼𝗹𝗼𝗴𝗶𝘀𝘁 𝗔𝗱𝘃𝗶𝗰𝗲

Enlarged or “open” pores are a frequent concern in dermatology practice, particularly in individuals with oily skin, acne history, sun exposure, and early skin aging.

Pores cannot be permanently closed, but their appearance can be noticeably reduced when excess oil production, collagen loss, and skin texture are addressed correctly.

In clinical aesthetic practice, consistent skincare supported by scientifically proven ingredients, along with professionally guided treatments, plays a key role in refining pores and improving overall skin quality. Harsh remedies and exaggerated claims often do more harm than good.

Healthy skin is the result of evidence-based care, realistic expectations, and personalized treatment rather than quick or temporary fixes.

Save this post for reference 📌








Address

Vehari Road Mailsi
Mailsi
61200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Mohsin Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Mohsin Raza:

Shortcuts

Share

Category