31/08/2026
Mother Love store
17 مئی 2025 کی صبح نوشین بیگم اپنے چار بچوں کے ساتھ کرک سے راولپنڈی جانے والی مسافر وین میں سوار تھیں۔ خاندان چھٹی گزارنے کے لیے اسلام آباد میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جا رہا تھا، مگر اٹک–کوہاٹ روڈ پر جند کے قریب متیال چوک میں وین ایک کار سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ سی این جی سلنڈر سے گیس خارج ہونے کے باعث چند ہی لمحوں میں گاڑی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
شعلے بلند ہوئے تو مسافروں میں جان بچانے کے لیے بھگدڑ مچ گئی، لیکن نوشین بیگم نے اپنی جان بچانے کے بجائے گاڑی کے ملبے میں پھنسے بچوں کو نکالنا شروع کردیا۔ انہوں نے اپنی دو بیٹیوں مسکان اور مریم اور بیٹے عبداللہ کو آگ کے درمیان سے کھینچ کر باہر پھینک دیا۔ تینوں بچے جھلس گئے، مگر ان کی جان بچ گئی۔
زخمی مسافر عمیرہ بی بی کے مطابق انہوں نے نوشین کو آواز دی کہ اب خود بھی گاڑی سے نکل آئیں، مگر نوشین نے یہ آواز نظرانداز کردی کیونکہ ان کا نو سالہ بیٹا امل باز ابھی تک اندر پھنسا ہوا تھا۔ تین بچوں کو محفوظ کرنے کے بعد وہ اپنے چوتھے بچے کو شعلوں میں تنہا چھوڑنے پر تیار نہ ہوئیں اور اسے نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔
ایک دوسری زخمی مسافر شمیلہ واجد کے مطابق اسی کوشش کے دوران آگ نے ماں بیٹے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ریسکیو 1122 کے اہلکار امیر نواز نے بتایا کہ جب ان کی لاشیں نکالی گئیں تو دونوں ایک دوسرے سے چمٹی ہوئی حالت میں تھیں۔ ریسکیو اہلکار کو ایسا محسوس ہوا جیسے نوشین نے آخری لمحے میں بھی اپنے جسم کو بیٹے کے گرد ڈھال بنا رکھا ہو تاکہ اسے آگ سے بچا سکیں۔
نوشین بیگم خود شعلوں سے واپس نہ آسکیں، مگر ان کی قربانی نے مسکان، مریم اور عبداللہ کو زندگی دے دی۔ امل باز کو بچانے کی آخری کوشش میں جان دینے والی اس ماں نے ثابت کردیا کہ مائیں موت سامنے دیکھ کر بھی اپنے بچے کا ہاتھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔
ماخذ: ڈان نیوز