26/05/2026
میانوالی کے ایک تحصیل لیول ہسپتال میں 2018 میں ایک میڈیکل آفیسر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
اس دن میری ڈیوٹی کے دوران دور ایک پہاڑی علاقے سے کتے کاٹے کا ایک بچہ لایا گیا اور جب اس کو ویکسین لگانے کا کہا تو پتہ چلا کہ فارمیسی کے انچارج 2 بجے کے بعد کتے کاٹے کی ویکسین نہیں لگاتے اور کہا کہ مریض کو صبح کا وقت دیں۔۔۔مطلب مریض ابھی گھر جائے اور صبح واپس آئے۔۔۔ساتھ دوسرا آپشن بتایا کہ باہر ایک نجی سٹور (ذاتی رشتہ دار) پر ویکسین پڑی ہے وہاں سے خرید کر لگا دیں۔
ایک بار تو رات 11 بجے ایک بچے کیلئے بخار کی دوائی سرکاری الماری میں لگے تالے کے پیچھے سجائی ہوئی تھی کہ یہ ایمرجنسی کیلئے ہے۔۔۔لہزا میں نے وہ تالہ توڑ دیا کہ رات 11 بجے سے زیادہ کونسی ایمرجنسی ہو سکتی یے۔۔اور صبح اس واقعے پہ پورے ہسپتال انتظامیہ میں تشویش اور نفرت آمیز رویے کو بخوبی محسوس کیا۔۔
مگر زندگی میں کچھ اصول ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان سمجھوتا نہیں کر سکتا۔
میرا ایک اصول یہ تھا کہ ایمرجنسی کے علاوہ کوئی بھی مریض سیاسی سفارش پر دوسرے مریضوں کو بائی پاس کرکے اندر نہیں آسکتا۔
اور میڈیکو لیگل کیسز کے آتے ہی میں اپنا فون بند کر دیتا تھا اور جب میڈیکل ہو جاتا تھا اور رپورٹ بنا لیتا تھا تو فون آن کر دیتا تھا تاکہ اس وقت مجھے کہیں اپنے والد گرامی کی طرف سے بھی فون نہ آئے اور کہیں اپنے باپ کی محبت اور عزت و تکریم میں مجبور ہو کر کہیں نا انصافی نہ ہو جائے۔
اور دوسرا اصول کہ کوئی بھی شخص ہو چاہے غریب یا امیر وہ سرکاری ہسپتال میں جس حد تک ممکن ہو وہیں پہ Accommodate کیا جائے۔
لہزا اسی وقت فارمیسی والے لوگوں کو وہیں بلایا اور بچے کو ویکسین لگائی جو موصوف کی طبیعت پہ ناگوار گزری۔۔
اصل مسئلہ اس کے بعد شروع ہوا جو انتہائی خوفناک تھا۔
طرح طرح کے منفی رویوں اور عجیب حرکات و سکنات کے ساتھ مریضوں کو پلانٹ کر کے بھیجا جاتا تھا تاکہ بدمزگی پھیلے۔۔اور ایک واقعے میں تو کیمرے اٹھا کر ڈاکٹر روم تک لوگوں کو پہنچایا گیا اور مختلف طریقوں سے ہراسمنٹ اور پریشان کیا گیا کیونکہ میرے ہوتے ہوئے ان کی دال نہیں گلنے والی تھی۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ میں نے کوئی غلطی کی ہی نہیں تھی۔
میں نے صرف میڈیکل اخلاقیات کے مطابق اپنا فرض ادا کیا تھا۔
مجھ سے کہا گیا:
سینٹر چھوڑ دیں ۔۔۔
مگر جب انسان غلط نہ ہو تو پھر جھکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
میں اپنی بات پر قائم رہا۔
قانون میرے ساتھ تھا، لیکن بات ایک ڈاکٹر کی وقت اور عزت کی تھی۔۔
پھر ہمیشہ کی طرح ایک خاموش ہتھیار کو چننا پڑا۔۔
“ٹرانسفر”
مجھے تبادلے کا آرڈر ملا… اور میں نے بھی خاموشی سے سامان باندھ لیا، مگر جھکنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
کیونکہ بعض اوقات انسان عہدہ ہار جاتا ہے… مگر اپنا وقار بچا لیتا ہے۔
جس شان سے کوئی مقتل میں گیا،
وہ شان سلامت رہتی ہے۔
آج جب ڈاکٹر نور محمد جیسے شریف النفس انسان کے ساتھ ہونے والی زیادتی دیکھتا ہوں تو وہ واقعہ بار بار یاد آتا ہے۔
بنوں کا واحد نفرالوجسٹ… ایک حساس ڈاکٹر… مگر سیاسی دباؤ کے سامنے ادارے بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بورڈ آف گورنرز، ہمارے ادارے، اور ہمارے منتظمین بھی اکثر سیاسی طاقت کے سامنے مجبور ہو جاتے ہیں۔
وہ اپنے ڈاکٹر کے حق میں کھڑے ہونے کے بجائے سیاسی اشاروں پر چلنے لگتے ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ:
اس ماحول میں کون سیانا انسان اس ملک میں ایمانداری سے کام کرنا چاہے گا؟
یہاں ایک ڈائریکٹر کو وزیراعلیٰ خود ناقص کارکردگی پر معطل کرتا ہے…
مگر چونکہ وہ “طاقتور حلقوں” کا پسندیدہ ہوتا ہے، اس لیے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
ریٹائرمنٹ تک آرام سے کام کرتا ہے…
اور بعد میں ایک اور بڑے ادارے میں تعینات ہو جاتا ہے۔
ایک طرف وہ ڈاکٹر ہے جو مریض کے حق کیلئے لڑنے پر سزا پاتا ہے…
اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن پر اربوں کی کرپشن کے الزامات ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔
یہی اس نظام کا اصل المیہ ہے۔
اگر آپ مخلص ہوں…تو آپ کی کردار کشی ہوگی۔
اگر آپ اصولوں پر کھڑے ہوں…تو آپ کو تنہا کر دیا جائے گا۔
اور اگر آپ طاقتور حلقوں کے وفادار ہوں…تو قانون بھی آپ کے سامنے خاموش کھڑا ہوگا۔
آج پاکستان صرف بدامنی کا شکار نہیں… یہ انصاف کی موت کا بھی شکار ہے۔
اور جب اداروں میں اصول نہیں رہتے…
تو پھر اچھے لوگ خاموشی سے نظام چھوڑنے لگتے ہیں۔
Mohammad Asrar