Dr Imran Iqbal Clinic Multan

Call Website Contact the practice

Dr Imran Iqbal Clinic Multan Clinic for children

11/09/2026
Copy *🔥 قسط 05 | “یہ بچہ موبائل چھوڑتا ہی نہیں!” مگر کیا مسئلہ واقعی صرف موبائل ہے؟*“بس! آج سے موبائل بند!”امی نے فون بی...
26/08/2026

Copy
*🔥 قسط 05 | “یہ بچہ موبائل چھوڑتا ہی نہیں!” مگر کیا مسئلہ واقعی صرف موبائل ہے؟*

“بس! آج سے موبائل بند!”
امی نے فون بیٹے کے ہاتھ سے لے لیا۔
“امی! میری Game چل رہی ہے!”
“چلنے دو! صبح اٹھتے ہی موبائل، School سے آکر موبائل، کھانا کھاتے ہوئے موبائل… تمہیں کسی چیز کا ہوش ہے؟”
“آپ بھی تو ہر وقت فون پر ہوتی ہیں!”
ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

امی کا لہجہ اور سخت ہوگیا:
“مجھ سے اپنی comparison مت کرو! میرے فون پر کام ہوتے ہیں۔”
بیٹا بڑبڑایا:
“ہاں… آپ کے سارے کام فون پر ہی ہوتے ہیں۔”
“کیا کہا؟”
“کچھ نہیں۔”
وہ غصے سے کمرے میں چلا گیا۔
امی نے موبائل اپنے پاس رکھ لیا۔
کچھ دیر بعد WhatsApp کھولا۔
دو Messages کے جواب دیے۔
اور Instagram Notification آئی۔
ایک Reel دیکھی۔
پھر دوسری۔
اچانک انہیں خیال آیا…
وہ موبائل ہاتھ میں لیے اپنے بچے کو موبائل زیادہ استعمال کرنے پر ڈانٹ رہی تھیں۔

آج سوال یہ نہیں کہ:
“بچوں سے موبائل کیسے چھڑوائیں؟”
آج پہلے ایک زیادہ مشکل سوال پوچھتے ہیں:
ہمارے گھروں میں موبائل بچوں کا مسئلہ کب بنا… اور پورے خاندان کی عادت کب؟
📱 پہلے ایک بات واضح کرلیں
موبائل دشمن نہیں ہے کیونکہ Technology بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔
بچے اسی دنیا میں بڑے ہورہے ہیں جہاں:
📚 تعلیم Screen پر ہے
👥 دوست Screen پر ہیں
🎮 اور Entertainment Screen پر ہے
🎨 اور Creativity Screen پر ہے
🌍 معلومات Screen پر ہیں

اس لیے مقصد یہ نہیں ہوسکتا کہ:
“بچے کو Screens سے بالکل دور کردیں۔”
اصل سوال ہے:
کیا بچہ Screen استعمال کررہا ہے… یا Screen آہستہ آہستہ بچے کی زندگی کو organize کررہی ہے؟
اور یہ فرق صرف “کتنے گھنٹے؟” سے نہیں سمجھا جاسکتا۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا:
کیا Screen نیند کھا رہی ہے؟
کیا جسمانی کھیل کم ہوگیا؟
کیا پڑھائی متاثر ہورہی ہے؟
کیا Family Interaction ختم ہورہا ہے؟
کیا بچہ boredom برداشت نہیں کرپاتا؟
کیا فون نہ ملنے پر شدید emotional reaction آتا ہے؟
اور سب سے اہم:
وہ Screen پر کر کیا رہا ہے؟
دو گھنٹے Video Editing سیکھنا اور دو گھنٹے endless short videos scroll کرنا ایک ہی تجربہ نہیں۔
اسی لیے Parenting میں صرف Screen Time نہیں بلکہ Screen Quality، Context اور Balance بھی دیکھنا ہوگا۔ 🧠

🧠 مگر موبائل اتنا مشکل چھوڑنا کیوں ہے؟
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بچہ ہمیشہ اس لیے موبائل نہیں مانگ رہا کہ وہ “ضدی” ہے۔
گیمز اور Social Media میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو attention کو بار بار واپس کھینچتی ہیں:

🎮 اگلا Level
🏆جیسے کہ Reward
🔥 اور Streak
📲 اور Notification
🎥 اگلی Video
❤️ اور Like
🎁 اور Unexpected Reward
اور خاص طور پر short-form content میں…
ایک Video ختم۔
اگلی حاضر۔
پھر اگلی۔
پھر اگلی۔
رکنے کا قدرتی مقام بہت کم۔

اس کے مقابلے میں کتاب؟
آہستہ reward دیتی ہے۔
ہوم ورک؟
محنت پہلے، reward بعد میں۔
باہر کھیلنا؟
اس کے لیے اٹھنا پڑے گا، دوست چاہیے، جگہ چاہیے۔
اور موبائل؟
جیب میں فوری stimulation۔
اب اگر ایک developing brain کے سامنے بار بار انتہائی آسان اور فوری stimulation موجود ہو…
تو صرف یہ کہنا:
“تم میں willpower ہی نہیں!”
مسئلے کو بہت سادہ کردینا ہے۔
لیکن…
یہ explanation بچے کو unlimited mobile دینے کا جواز بھی نہیں۔
بلکہ یہی وجہ ہے کہ:
بچے کو boundaries کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

⚠️ موبائل چھینتے ہی بچہ پھٹ کیوں پڑتا ہے؟
“گیم بند کرو۔”
“بس یہ match!”
“نہیں، ابھی!”
موبائل چھینا۔
اور بچہ explode۔ 😡
چیخنا۔
رونا۔
دروازہ پٹخنا۔
پھر والدین کہتے ہیں:
“دیکھا! Addict ہوگیا ہے!”
ممکن ہے Screen use واقعی problematic ہو۔
لیکن ہر شدید reaction کو فوراً addiction کہنا درست نہیں۔
کبھی ہم نے بچے کو ایک highly stimulating activity کے درمیان سے بغیر warning نکالا ہوتا ہے۔

قسط 02 یاد ہے؟
یعنی Transition بھی ایک skill ہے۔
اگر Screen rule پہلے سے معلوم ہی نہیں…
اور ہر دن والدین کے mood کے مطابق بدلتا ہے:
آج دو گھنٹے allowed۔
کل مہمان آئے تو چار گھنٹے۔
پرسوں ابو غصے میں ہیں تو بالکل بند۔
تو بچہ boundary نہیں سیکھ رہا۔
وہ صرف یہ سیکھ رہا ہے:
“دیکھتے ہیں آج امی ابو کب غصے میں آتے ہیں۔”
پھر Rules اگر صرف غصے کے وقت پیدا ہوں تو وہ rules کم اور reactions زیادہ بن جاتے ہیں۔

🪞 اور اب وہ حصہ جس سے شاید ہم بچنا چاہیں
ہم بچوں سے کہتے ہیں:
“کھانے پر موبائل نہیں!”
اور خود Dining Table پر WhatsApp reply کررہے ہوتے ہیں۔
“ہر وقت Screen میں گھسے رہتے ہو!”
اور بچہ بات کررہا ہوتا ہے جبکہ ہماری آنکھیں فون پر ہوتی ہیں۔
“صبح اٹھتے ہی فون!”
اور ہمارا alarm بند ہوتے ہی پہلا کام؟
موبائل پر Notifications دیکھنا۔
ہم کہتے ہیں:
“باہر جاکر کھیلو!”
مگر خود فارغ وقت میں Sofa + Phone choose کرتے ہیں۔

یہاں بچہ ہماری نصیحت اور ہمارے behavior کے درمیان فرق دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور بچے صرف وہ نہیں سیکھتے جو ہم کہتے ہیں۔
وہ یہ بھی سیکھتے ہیں کہ ہمارے گھر میں normal کیا ہے۔
اگر گھر کا normal یہ ہے کہ:
بور ہوئے → فون۔
خاموشی ملی → فون۔
کھانا آیا → فون۔
انتظار کرنا پڑا → فون۔
اداس ہوئے → فون۔
تو پھر بچے سے یہ توقع کیسے کہ:
وہ boredom میں کتاب اٹھائے؟
🪞 شاید Screen Discipline بچے کے فون سے پہلے گھر کے ماحول سے شروع ہوتی ہے۔

💔 لیکن ایک اور سوال زیادہ گہرا ہے
بچہ موبائل پر جاتا کیوں ہے؟
صرف Entertainment کے لیے؟
یا کبھی…
وہ bored ہے؟
گھر میں کوئی کھیلنے والا نہیں؟
والدین مصروف ہیں؟
اسکول میں stress ہے؟
اسے حقیقی دنیا میں کامیابی کم محسوس ہوتی ہے مگر Game میں achievement ملتی ہے؟
وہ lonely ہے؟
کسی Online Community میں اسے belonging محسوس ہوتی ہے؟
یا موبائل اس کے لیے difficult emotions سے escape ہے؟
اگر Screen بچے کا Emotional Refuge بن چکی ہے…
تو صرف فون چھیننے سے ہم refuge چھینیں گے۔
وجہ باقی رہے گی۔
اسی لیے کبھی Screen Time کم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے:
“میرا بچہ Screen سے کیا حاصل کررہا ہے جو اسے Offline Life میں کم مل رہا ہے؟”
فن؟
کنیکشن؟
یا Competence؟
یا Escape؟
یا Attention؟
یہ سوال بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

🕌 اسلام ہمیں یہاں کیا اصول دیتا ہے؟
قرآن ہمیں ایک نہایت بنیادی ذمہ داری یاد دلاتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔”
(سورۃ التحریم 66:6)
غور کیجیے:
اپنے آپ کو… اور اپنے گھر والوں کو۔
یعنی اصلاح کا دائرہ صرف بچے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ Digital دنیا میں بھی یہی سوال ہے:
ہم بچے کی آنکھ، وقت، حیا، نماز، نیند اور کردار کی حفاظت چاہتے ہیں۔
ضرور چاہتے ہیں۔
لیکن اسی گھر میں بڑوں کے لیے بھی نگاہ، وقت اور استعمال کے اصول ہونے چاہییں۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

آج Digital Parenting کا مطلب صرف Password جاننا نہیں۔
یہ نگہبانی ہے۔
مگر نگہبانی جاسوسی کا دوسرا نام بھی نہیں۔
عمر کے مطابق supervision، واضح boundaries، گفتگو، اعتماد اور اپنے عمل سے مثال — یہ سب ساتھ چاہییں۔

❌ تو کیا کریں؟ موبائل چھیننا ہی نہیں؟
ضرورت پڑے تو موبائل محدود بھی ہوگا۔
کچھ Apps بند بھی ہوں گی۔
کبھی device temporarily remove بھی کرنا پڑسکتا ہے۔
اور بعض content پر واضح “نہیں” ہوگا۔
لیکن اگر ہماری پوری Digital Parenting Strategy صرف یہ ہے:
“زیادہ چلایا تو فون لے لوں گا!”
تو ہمارے پاس strategy نہیں۔
صرف punishment ہے۔
ہمیں بچے کو یہ skills بھی سکھانی ہیں:
📱 کب استعمال کرنا ہے
⏳ کب رکنا ہے
🧠 یا Online content کو کیسے evaluate کرنا ہے
🚫 کس چیز سے دور رہنا ہے
🔐 یا Privacy کیسے protect کرنی ہے
❤️ یا Social Media comparison سے کیسے نمٹنا ہے
🕌 اور Screen کو نماز، نیند، ذمہ داریوں اور حقیقی رشتوں پر غالب نہیں آنے دینا

کیونکہ ایک دن فون اس کے ہاتھ میں ہوگا اور آپ دوسرے کمرے میں بھی نہیں ہوں گے۔
اصل کامیابی تب ہوگی جب boundary صرف آپ کے ہاتھ میں نہیں، اس کے اندر بھی ہوگی۔

🌱 آج سے “فون چھینو” نہیں Family Digital Plan بنائیں
آج بچے کو بٹھا کر lecture نہ دیں۔
پورا خاندان بیٹھے۔
اور صرف 5 Rules طے کرے۔

مثلاً:
1️⃣ کھانے کی میز = No Phone Zone
بچے کا بھی۔
ابو کا بھی۔

2️⃣ سونے سے پہلے Devices Bedroom سے باہر
عمر کے مطابق ایک fixed charging place بنائیں۔

3️⃣ اور Screen شروع ہونے سے پہلے ختم ہونے کا وقت طے ہوگا
“اب کھیل لو، بعد میں دیکھیں گے”
کے بجائے:
“7:00 سے 7:45 تک۔”

4️⃣ ضروری ذمہ داریاں پہلے
ہوم ورک، نماز، family responsibilities اور physical activity کے ساتھ مناسب balance۔

5️⃣ والدین بھی اپنے Rules بتائیں
مثلاً:
“میں کھانے کے دوران Office Message نہیں دیکھوں گا، سوائے emergency کے۔”

یہ ایک جملہ بچے کو بتاتا ہے:
کہ “Rules صرف تمہیں control کرنے کے لیے نہیں؛ ہم سب اپنے attention کی حفاظت کررہے ہیں۔” ❤️
🪞 آج کا Parenting Audit
اپنے بچے کا Screen Time check کرنے سے پہلے اپنا Phone کھولیے۔
اور Screen Time / Digital Wellbeing دیکھیے۔
اور خود سے پوچھیں:
1️⃣ میں روز کتنے گھنٹے Screen پر ہوں؟
2️⃣ میرا بچہ دن میں کتنی مرتبہ مجھ سے بات کرتے ہوئے مجھے فون دیکھتا ہے؟
3️⃣ کیا میں boredom میں بھی فوراً فون اٹھاتا ہوں؟
4️⃣ کیا ہمارے گھر میں کوئی ایسا وقت ہے جہاں پورا خاندان واقعی Screen-free ہوتا ہے؟
اور سب سے مشکل:
5️⃣ اگر میرا بچہ میرے Digital Habits copy کرلے… تو کیا میں خوش ہوں گا؟
جواب شاید ہمیں بچے کے Screen Time سے زیادہ کچھ بتادے۔ 🪞

❤️ موبائل ہمارے بچوں کی نسل کی حقیقت ہے۔
ہم ہر Screen ختم نہیں کرسکتے۔
اور شاید کرنی بھی نہیں چاہیے۔
ہمارا مقصد ایسا بچہ تیار کرنا ہے جو Technology سے فائدہ اٹھائے بلکہ Technology اسے استعمال نہ کرے اور یہ صرف Parental Control App سے نہیں ہوگا۔
یہ ہوگا:
حدود سے۔
تعلق سے۔
متبادل سرگرمیوں سے۔
گفتگو سے۔
اور Digital literacy سے۔
اور سب سے بڑھ کر…
اس مثال سے جو بچہ ہمارے ہاتھ میں موجود فون کو دیکھ کر روز سیکھ رہا ہے۔

اگلی مرتبہ آپ کہیں:
“بیٹا، فون رکھ دو…”
تو ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھ کی طرف بھی دیکھ لیجیے گا۔
ممکن ہے تربیت وہیں سے شروع ہوجائے۔ 🪞📱❤️

🔥 اگلی قسط میں موبائل سے کتاب کی طرف چلیں گے۔
وہ جملہ جو تقریباً ہر دوسرے گھر میں سنائی دیتا ہے:
📚 “اس کا پڑھائی میں دل ہی نہیں لگتا!”
ہر سہولت موجود ہے۔
پھر بھی کتاب کھولتے ہی نیند…
اور موبائل ہاتھ میں آئے تو دو گھنٹے غائب! 😩

💬 آج Comment میں بتائیے:
آپ کے گھر میں موبائل کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
گیمز؟ YouTube/Short Videos؟ Social Media؟ رات دیر تک Screen؟ یا فون واپس لیتے وقت شدید غصہ؟

آپ کے حقیقی scenarios کو ہم آنے والی Digital Parenting اقساط میں practical انداز میں address کریں گے۔

🔄 یہ قسط صرف بچوں والے گھر میں نہیں Family WhatsApp Group میں بھی Share کرنے والی ہے۔ 😄📱
کیونکہ شاید مسئلہ کسی ایک بچے کا Screen Time نہیں… ہم سب کا Digital Culture ہے۔

📲 30 روزہ مکمل سیریز کے لیے آئیڈیل لائف کونسلنگ کا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S

آئیڈیل لائف کونسلنگ | اولاد کی تربیت، والدین اور سنتِ نبوی ﷺ 🌿

Follow Ideal Life Counseling's WhatsApp Channel. 𝐈𝐝𝐞𝐚𝐥 𝐋𝐢𝐟𝐞 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐬𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠🌈™

Pakistan’s #1 Platform

🌿 Mental Peace | Marital Guidance | Personal Growth

💬 Emotional support, practical solutions, and life-changing guidance

📢 Get daily motivational articles, success stories, and expert advice!

🔗 Join now and start your journey towards a better life:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S

[email protected]. Join 16K followers for the latest updates.

Copy *🔥 قسط 03 | “میں نے پیار سے بہت سمجھایا… اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا!” غصے میں تربیت، یا غصے کی تربیت؟*“کتنی بار کہا...
24/08/2026

Copy

*🔥 قسط 03 | “میں نے پیار سے بہت سمجھایا… اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا!” غصے میں تربیت، یا غصے کی تربیت؟*

“کتنی بار کہا ہے Homework مکمل کرو!”
“ابو بس کررہا ہوں…”
“صبح سے یہی سن رہا ہوں!”
“بس یہ Video ختم”
“موبائل ادھر دو!”
ابو نے موبائل میز پر زور سے رکھا۔

“تمہیں سیدھی بات سمجھ ہی نہیں آتی؟
نہ پڑھائی کی فکر، نہ وقت کی!
ہم تمہاری عمر میں ایسے نہیں تھے!”
بیٹا خاموش ہوگیا۔

ابو نے سمجھا:
“چلو، اب بات سمجھ آگئی ہے۔”
وہ فوراً کتاب کھول کر بیٹھ گیا۔
گھر خاموش ہوگیا۔
ظاہر میں مسئلہ حل ہوگیا تھا۔
لیکن…
کیا بچے نے واقعی ذمہ داری سیکھی تھی؟
یا صرف یہ سیکھا تھا کہ ابو غصے میں ہوں تو خاموش ہوجاؤ؟

آج کی قسط اسی فرق کے بارے میں ہے۔ 🧠
😡 پہلے ایک سچ والدین کے حق میں بھی کہ Parenting میں غصہ آتا ہے۔
اور کبھی بہت آتا ہے۔
آپ صبح سے کام کرکے تھکے ہوئے ہیں۔
ایک ہی بات پانچ مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
بچہ پھر وہی کررہا ہے۔
اوپر سے گھر کے خرچے، کام کا دباؤ، نیند کی کمی، رشتوں کی پریشانیاں…
اور پھر بچہ پانی گرا دیتا ہے۔
ظاہر میں غصہ پانی پر نکلتا ہے۔

مگر حقیقت میں؟
شاید گلاس صرف آخری قطرہ تھا۔
اسی لیے کبھی بچے کی ایک چھوٹی غلطی پر ہمارا reaction اس غلطی سے کئی گنا بڑا ہوجاتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں بچے سے پہلے اپنے اندر دیکھنا پڑتا ہے۔ 🪞

🧠 غصے کے وقت ہمارے دماغ میں کیا ہوتا ہے؟
جب ہمیں خطرہ، بے بسی، شدید frustration یا disrespect محسوس ہوتی ہے تو جسم کا Stress Response متحرک ہوسکتا ہے۔
دل تیز دھڑکتا ہے۔
جسم tense ہوتا ہے۔
آواز بلند ہونے لگتی ہے۔
اور دماغ فوری reaction کی طرف جاتا ہے۔
اسی لیے بعد میں ہم خود کہتے ہیں:
“مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا… بس غصے میں منہ سے نکل گیا۔”
لیکن یہاں ایک دلچسپ بات ہے۔
ہم بچے سے عین اسی لمحے کیا demand کررہے ہوتے ہیں؟
“اپنے آپ کو Control کرو!”
یعنی کبھی ایک بالغ انسان اپنا غصہ regulate نہیں کر پارہا ہوتا…
اور سامنے 8 سال کے بچے سے کہہ رہا ہوتا ہے:
“تمہیں اپنے emotions پر control کیوں نہیں ہے؟” 🪞
یہ سوال بچے سے پہلے کبھی ہمیں خود سے بھی پوچھنا چاہیے۔

⚠️ ڈر اور Discipline ایک چیز نہیں
چیخنے کا ایک فائدہ ضرور ہے:
یہ اکثر فوراً کام کرتی ہے۔
“ابھی موبائل رکھو!!!”
موبائل رکھ دیا۔
“خاموش ہوجاؤ!”
بچہ خاموش۔
“کمرے میں جاؤ!”
چلا گیا۔
اور چونکہ behavior فوراً رک گیا، ہمیں محسوس ہوتا ہے:
“دیکھا؟ سختی ضروری تھی۔”
مگر فوری Compliance اور طویل مدتی Self-discipline ایک چیز نہیں۔
اگر بچہ صرف اس لیے رک رہا ہے کہ:
“ابو ماریں گے”
تو اسے یہ ضرور معلوم ہوا کہ ابو کے سامنے کیا نہیں کرنا۔
مگر کیا اس نے یہ بھی سیکھا کہ:
“مجھے یہ کام کیوں نہیں کرنا چاہیے؟”
“غصہ آئے تو خود کو کیسے سنبھالوں؟”
“غلطی ہوجائے تو اسے repair کیسے کروں؟”
“صحیح فیصلہ اس وقت کیسے کروں جب ابو سامنے نہ ہوں؟”
اصل تربیت یہاں شروع ہوتی ہے۔
کہ Discipline کا مقصد صرف behavior روکنا نہیں، اندرونی ضبط پیدا کرنا ہے۔ 🌱

👦 اب چند لمحوں کے لیے بچے کی جگہ کھڑے ہوں
جب ایک بڑا، طاقتور انسان سرخ چہرے، بلند آواز اور سخت body language کے ساتھ بچے پر چیختا ہے تو بچہ ہمیشہ ہمارے “سبق” پر focus نہیں کرتا۔
اس کا nervous system پہلے یہ register کرسکتا ہے:
“میں محفوظ ہوں یا خطرے میں؟”
کچھ بچے جواب میں چیختے ہیں۔ 😡
کچھ بھاگ جاتے ہیں۔
کچھ بالکل خاموش ہوجاتے ہیں۔
اور کچھ فوراً “Sorry… Sorry… دوبارہ نہیں کروں گا!” کہتے ہیں۔
ہم اسے سمجھ آنے کی علامت سمجھ سکتے ہیں۔
مگر کبھی یہ صرف خطرہ ختم کروانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
اسی لیے ایک اہم اصول یاد رکھیے:
خوف بچے کو خاموش کرسکتا ہے؛ ضروری نہیں کہ اسے سمجھدار بھی بنادے۔

🪞 لیکن ہمیں اتنا غصہ آخر آتا کیوں ہے؟
یہاں بات تھوڑی uncomfortable ہوگی۔
کبھی ہمیں بچے کے behavior سے زیادہ اس معنی پر غصہ آتا ہے جو ہم فوراً اس behavior کو دے دیتے ہیں۔
بچے نے جواب دیا۔
دماغ نے کہا:
“یہ میری بے عزتی کررہا ہے۔”
بچے نے کام فوراً نہیں کیا۔
دماغ نے کہا:
“اسے میری کوئی پروا نہیں۔”
بچے کے نمبر کم آئے۔
دل نے کہا:
“یہ اپنی زندگی خراب کررہا ہے۔”
بچہ محفل میں ضد کرنے لگا۔
دل نے کہا:
“لوگ کیا سوچیں گے کہ اپنے بچے کو سنبھال نہیں سکتا!”
اور پھر ہم صرف موجودہ بچے کو respond نہیں کررہے ہوتے۔
ہم اپنے خوف، اپنی تھکن، اپنی عزت، اپنی expectations اور کبھی اپنی پرانی تربیت کو بھی respond کررہے ہوتے ہیں۔
کبھی ہمیں بچپن میں سکھایا گیا تھا:
“بڑے کے سامنے جواب نہیں دیتے!”
اب ہمارا بچہ اختلاف کرتا ہے تو ہمارے اندر صرف اس کی آواز نہیں گونجتی…
اپنا بچپن بھی جاگ جاتا ہے۔
یہاں Parenting صرف بچے کی تربیت نہیں رہتی۔
یہ ہماری اپنی emotional history سے ملاقات بھی بن جاتی ہے۔ 🪞

🕌 نبی ﷺ نے طاقت کی تعریف ہی بدل دی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
غور کیجیے۔
غصہ نہ آنا شرط نہیں۔
غصے میں اپنے نفس کو سنبھالنا طاقت قرار دیا گیا۔
اور ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے نصیحت مانگی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“غصہ نہ کرو۔”
اس نے بار بار درخواست کی، آپ ﷺ بار بار یہی فرماتے رہے:
“غصہ نہ کرو۔”
(صحیح بخاری)
یعنی Self-regulation صرف modern psychology کا تصور نہیں۔
اپنے غضب پر قابو پانا ہمارے اخلاقی اور دینی تربیتی نظام کا بھی بنیادی حصہ ہے۔ 🌿

❓ تو کیا بچے کی غلطی ignore کردیں؟
بالکل نہیں۔
یہ اس پوری گفتگو کی اہم ترین clarification ہے۔
اگر بچے نے بدتمیزی کی ہے تو correct کریں۔
اگر rule توڑا ہے تو consequence دیں۔
اگر موبائل کا وقت ختم ہے تو موبائل بند ہوگا۔
اگر کسی کو مارا ہے تو behavior روکا جائے گا۔
لیکن Correction غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔
آپ کو اسی second میں فیصلہ سنانا ضروری نہیں۔
کبھی بہترین Parenting sentence صرف یہ ہوتا ہے:
“میں ابھی بہت غصے میں ہوں۔ ہم دس منٹ بعد اس پر بات کریں گے۔”
یہ بچے کے سامنے کمزوری نہیں۔
یہ دراصل آپ اسے live demonstration دے رہے ہیں:
“غصہ آیا ہے… مگر غصہ میرے فیصلے نہیں کرے گا۔”
اور شاید یہی وہ lesson ہے جو آپ چیخ کر کبھی نہیں سکھا سکتے۔

🌱 غصے کے لمحے کا 4-Step Formula
اگلی مرتبہ محسوس ہو کہ آواز بلند ہونے والی ہے تو یہ چار قدم آزمائیں:

نمبر 1️⃣ STOP — فوراً سزا decide نہ کریں
اگر فوری safety issue نہیں ہے تو چند لمحے رک جائیں۔

نمبر 2️⃣ NAME — اپنے emotion کو پہچانیں
دل میں کہیں:
“مجھے غصہ آرہا ہے۔”
پھر پوچھیں:
“صرف اس حرکت پر… یا میں پہلے سے بھی بھرا ہوا ہوں؟”
یہ ایک سوال reaction کی شدت بدل سکتا ہے۔

نمبر 3️⃣ REGULATE — پہلے خود کو واپس لائیں
آواز نیچی کریں۔
چند گہری سانسیں لیں۔
ضرورت ہو تو جگہ بدلیں۔
وضو کرلیں۔
پانی پی لیں۔
اور کہیں:
“میں ابھی غصے میں ہوں، تھوڑی دیر بعد بات کریں گے۔”

نمبر 4️⃣ THEN DISCIPLINE — اب مسئلہ address کریں
جب آپ calm ہوں تو تین چیزیں واضح کریں:
کیا غلط ہوا؟
کیوں غلط تھا؟
اب اسے درست کیسے کیا جائے گا؟
مثلاً:
“تم نے غصے میں بہن کو دھکا دیا۔ غصہ آنا allowed ہے، کسی کو hurt کرنا allowed نہیں۔ اب پہلے دیکھو اسے چوٹ تو نہیں لگی، پھر ہم بات کریں گے کہ اگلی بار غصے میں کیا کرسکتے ہو۔”
یہاں Emotion کو جگہ ملی لیکن Behavior کو اجازت نہیں ملی اور responsibility بھی سکھائی گئی۔
یہ Discipline ہے۔ ❤️

💔 لیکن اگر میں پہلے ہی چیخ چکا ہوں؟
یہ حصہ بہت اہم ہے۔
کبھی ہم fail ہوں گے۔
آواز بلند ہوجائے گی۔
غلط لفظ نکل جائے گا۔
اور پھر guilt آئے گا:
“میں کیسا باپ ہوں…”
“میں کیسی ماں ہوں…”
مگر Parenting میں Repair بھی ایک skill ہے۔

بچے کے پاس جائیں اور کہیں:
“تمہارا کام غلط تھا اور اس پر ہمیں بات کرنی ہے۔ لیکن میں نے جس طرح چیخ کر بات کی، وہ بھی درست نہیں تھا۔ مجھے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔”

دھیان دیجیے:
آپ یہ نہیں کہہ رہے:
“تم ٹھیک تھے۔”
آپ کہہ رہے ہیں:
“تم اپنے behavior کے ذمہ دار ہو… اور میں اپنے behavior کا ذمہ دار ہوں۔”
معافی مانگنے سے والدین کی authority ختم نہیں ہوتی۔
بلکہ بچہ ایک ایسی چیز دیکھتا ہے جو ہم اسے پوری زندگی سکھانا چاہتے ہیں:
غلطی کرو → ذمہ داری لو → معافی مانگو → Repair کرو۔
وہ یہ سبق کتاب سے کم آپ کو دیکھ کر زیادہ سیکھے گا۔ 🌱

🪞 آج کا Parenting Audit
آج رات صرف یہ چار سوال خود سے پوچھیے:
1️⃣ میرے بچے کی کون سی حرکت مجھے disproportionate غصہ دلاتی ہے؟
2️⃣ اس حرکت کا میں اپنے ذہن میں کیا مطلب بناتا ہوں؟
“یہ میری بے عزتی ہے؟”
“یہ ناکام ہوجائے گا؟”
“لوگ مجھے برا والد سمجھیں گے؟”
3️⃣ غصے میں میں وہی الفاظ تو استعمال نہیں کرتا جو کبھی میرے ساتھ استعمال ہوئے تھے؟
اور سب سے اہم:
4️⃣ میرا بچہ غلطی کے بعد میرے پاس آتا ہے… یا مجھ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے؟
اس آخری سوال کا جواب بہت کچھ بتا سکتا ہے۔

❤️ ہمارے بچوں کو ایسے والدین نہیں چاہییں جنہیں کبھی غصہ نہ آئے۔
ایسے انسان شاید ملیں ہی نہ۔
انہیں ایسے والدین چاہییں جو انہیں دکھائیں:
غصہ محسوس کیا جاسکتا ہے…
بغیر کسی کو توڑے۔
اختلاف کیا جاسکتا ہے…
بغیر بے عزتی کیے۔
غلطی ہوسکتی ہے…
اور پھر اسے Repair بھی کیا جاسکتا ہے۔
شاید ہمارے بچے ہماری نصیحتوں سے زیادہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ:
جب ہمارے emotions بڑے ہوجاتے ہیں… تو ہم ان کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟
کیونکہ ہم بچے کو صرف اس وقت تربیت نہیں دے رہے جب ہم اسے نصیحت کرتے ہیں۔
ہم اس وقت بھی اسے تربیت دے رہے ہوتے ہیں جب ہم خود غصے میں ہوتے ہیں۔ 🪞❤️

🔥 اگلی قسط میں ایک ایسا موضوع جسے ہم اکثر ایک جملے میں سمیٹ دیتے ہیں:
وہاں بات ہوگی اس بچے کی جس کے والدین اس کے لیے سب کچھ کرتے ہیں مگر وہ پھر بھی کہتا ہے:
“آپ کو میری سمجھ ہی نہیں آتی۔”

💬 آج Comment میں اپنے تجربے سے آگاہ کریں:

🔄 یہ قسط کسی ایسے والد یا والدہ تک پہنچائیے جو اپنے بچے سے بے حد محبت کرتے ہیں… مگر کبھی غصے میں وہ کہہ جاتے ہیں جو بعد میں خود انہیں تکلیف دیتا ہے۔ ❤️

📲 30 روزہ مکمل سیریز کے لیے آئیڈیل لائف کونسلنگ کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S
آئیڈیل لائف کونسلنگ | اولاد کی تربیت، والدین اور سنتِ نبوی ﷺ 🌿

Follow Ideal Life Counseling's WhatsApp Channel. 𝐈𝐝𝐞𝐚𝐥 𝐋𝐢𝐟𝐞 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐬𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠🌈™

Pakistan’s #1 Platform

🌿 Mental Peace | Marital Guidance | Personal Growth

💬 Emotional support, practical solutions, and life-changing guidance

📢 Get daily motivational articles, success stories, and expert advice!

🔗 Join now and start your journey towards a better life:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S

[email protected]. Join 16K followers for the latest updates.

Copy *🔥 قسط 02 | “میرا بچہ میری بات مانتا ہی نہیں!”  کیا ہر بار بات نہ ماننا نافرمانی ہے؟*“علی! موبائل بند کرو اور کھانا...
23/08/2026

Copy

*🔥 قسط 02 | “میرا بچہ میری بات مانتا ہی نہیں!” کیا ہر بار بات نہ ماننا نافرمانی ہے؟*

“علی! موبائل بند کرو اور کھانا کھانے آؤ۔”
کوئی جواب نہیں۔
“علی… میں تم سے بات کررہی ہوں!”
“امی بس دو منٹ!”
پانچ منٹ گزر گئے۔
“ابھی موبائل بند کرو!”
“امی پلیز! Game ختم ہونے دیں!”
اور پھر وہی ہوا جو شاید بہت سے گھروں میں ہوتا ہے۔

امی نے موبائل ہاتھ سے لے لیا۔ 📱
علی چلایا:
“آپ ہمیشہ میرے ساتھ ایسا کرتی ہیں!”
امی کا صبر بھی جواب دے گیا:
“تمہیں ایک دفعہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی؟
ہر بات پر بحث!
اتنے نافرمان کب سے ہوگئے ہو؟”

علی غصے سے کمرے میں چلا گیا۔
امی کچن میں واپس آگئیں۔
مگر چند منٹ بعد دل میں ایک سوال آیا:
“آخر یہ بچہ میری بات مانتا کیوں نہیں؟”

آج اسی سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔
لیکن شاید جواب بچے کی “نافرمانی” سے شروع نہیں ہوگا۔
شاید ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ:
ہم ایک بچے کے دماغ سے وہ توقع تو نہیں کررہے جو ابھی اس کی عمر سے بڑی ہے؟ 🧠
🧠 “میں نے کہہ دیا ہے” اور “اس کا دماغ کر سکتا ہے” ایک چیز نہیں

فرض کیجیے آپ کسی اہم کام میں پوری طرح ڈوبے ہوئے ہیں۔
اچانک کوئی آکر کہے:
“بس! ابھی چھوڑو اور میرے ساتھ چلو۔”
آپ شاید کام چھوڑ دیں مگر اندر irritation ضرور محسوس ہوگی۔

بچے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوسکتا ہے، البتہ ایک اہم فرق کے ساتھ:
آپ کے پاس برسوں سے develop ہونے والی خود پر قابو پانے کی صلاحیت (Self-control) موجود ہے۔

بچے کے دماغ میں یہ نظام ابھی بن رہا ہے۔
دماغ کا اگلا حصہ، پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex)، planning، impulses روکنے، attention shift کرنے اور consequences سوچنے جیسے کاموں میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی maturation نوجوانی کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ:
“بچے کا دماغ develop نہیں ہوا، اسے جو چاہے کرنے دیں۔” ❌
بلکہ مطلب یہ ہے:
حد بھی رکھیں… مگر حد لگاتے وقت عمر اور صلاحیت بھی سمجھیں۔

*🔍 اب دوبارہ علی والے منظر کو دیکھیے*
امی نے کہا:
“موبائل بند کرو۔”
علی ایک stimulating game کے درمیان تھا۔
اس کے لیے task صرف:
“موبائل بند کرنا” نہیں تھا۔
بلکہ اس کے دماغ کو ایک دلچسپ سرگرمی روکنی تھی، attention shift کرنی تھی، اپنی خواہش inhibit کرنی تھی، frustration برداشت کرنی تھی اور فوراً دوسری activity پر جانا تھا۔

*یہ سب ایگزیکٹو فنکشنز (Executive Functions) کا حصہ ہیں اور یہی skills بچپن اور نوجوانی میں بتدریج مضبوط ہوتی ہیں۔*

تو علی کو boundary چاہیے؟
بالکل۔
مگر شاید چیخنے سے پہلے اسے transition بھی چاہیے۔
مثلاً:
“علی، 10 منٹ بعد کھانا ہے Game اس round کے بعد بند ہوگی۔”
پھر:
“5 منٹ رہ گئے ہیں۔” اور وقت پورا ہونے پر:
“وقت ہوگیا اب بند کرو۔”
یہ کمزوری نہیں۔
یہ بچے کے developing brain کے مطابق structure دینا ہے۔ 🌱

*⚠️ لیکن یہاں ایک اور غلط فہمی بھی دور کرلیں*
آج کل Parenting کی گفتگو میں کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بچے کو “نہیں” کہنا ہی غلط ہے۔
ایسا نہیں۔
بچے کو ہر خواہش پوری کرنے والا والدین نہیں چاہیے۔
اسے ایسے والدین چاہیے جو:
❤️ تعلق محفوظ رکھیں
اور
🧱 حد بھی محفوظ رکھیں۔

اگر بچہ کہے:
“میں رات 2 بجے تک Game کھیلوں گا!”
تو ہمیں اس کے جذبات سمجھنے ہیں…
ضروری نہیں اس کا فیصلہ بھی ماننا ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں:
“مجھے معلوم ہے تم Game جاری رکھنا چاہتے ہو اور بند کرنا برا لگ رہا ہے لیکن آج کا Screen Time ختم ہوگیا ہے۔”
یہاں دو چیزیں ایک ساتھ موجود ہیں:
پہلی Emotion accepted.
دوسری Boundary maintained.
یہی فرق بہت اہم ہے۔

*🪞 اب ذرا بچے سے نظر ہٹا کر اپنی طرف دیکھتے ہیں*
ہم کہتے ہیں:
“میرا بچہ میری بات نہیں مانتا۔”
لیکن کبھی خود سے یہ پانچ سوال بھی پوچھیں:
کیا میں نے واقعی اس کی توجہ حاصل کرکے بات کی تھی؟
یا دوسرے کمرے سے آواز لگائی؟
کیا میں نے ایک واضح instruction دی؟
یا ایک ساتھ کہا:
“موبائل رکھو، ہاتھ دھوؤ، میز لگاؤ، بہن کو بلاؤ اور جلدی کرو!”
کیا میں نے اسے transition کا وقت دیا؟
یا بغیر warning کے activity ختم کروادی؟
کیا میری بات boundary تھی… یا میرے mood کا حکم؟
اور سب سے مشکل:
کیا مجھے واقعی cooperation چاہیے تھا یا فوری اطاعت اس لیے چاہیے تھی کیونکہ “میں باپ/ماں ہوں”؟ 🪞
یہ فرق ہمیں اپنے اندر دیکھنا ہوگا۔

*🕌 کیا ہمارے دین اسلام میں بچے سے اطاعت مطلوب نہیں؟*
والدین کا مقام اسلام میں غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔
قرآن پاک تو والدین کے سامنے “اُف” تک کہنے سے روکتا ہے۔
(سورۃ الإسراء 17:23)
اس لیے بچوں کو ادب، احترام اور والدین کی جائز بات ماننا ضرور سکھانا ہے۔
مگر سوال یہ ہے:
ہم ادب سکھائیں کیسے؟
رسول اللہ ﷺ کے طریقے میں حکم بھی ملتا ہے، اصلاح بھی مگر ساتھ شفقت، تحمل اور بچے کی عمر کا لحاظ بھی۔
حضرت عمر بن ابی سلمہؓ بچپن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے اور ان کا ہاتھ برتن میں مختلف طرف جاتا تھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اے بچے! اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
غور کیجیے۔
غلطی ہوئی۔
اصلاح بھی ہوئی۔
مگر:
“تمہیں کھانا کھانے کی تمیز نہیں؟”
“کتنی بار سمجھاؤں؟”
“دیکھو دوسرے بچے کیسے کھاتے ہیں!”
نہیں۔
مختصر، واضح اور باوقار رہنمائی۔ ❤️

یہاں ہمارے لیے ایک خوبصورت Parenting principle ہے:
بچے کی غلطی correct کریں، بچے کی شخصیت پر حملہ نہ کریں۔
“تم نے یہ کام غلط کیا ہے”
اور
“تم بہت بدتمیز ہو”
ایک چیز نہیں ہیں۔
پہلا behavior کو address کرتا ہے۔
دوسرا بچے کو ایک label دے دیتا ہے۔

🧠 ہر “نہیں” کا مطلب ایک جیسا نہیں ہوتا
اگلی بار بچہ بات نہ مانے تو فوراً “نافرمان” کا label لگانے سے پہلے دیکھیے:
کیا وہ واقعی جان بوجھ کر حد توڑ رہا ہے؟
یا…
😴 وہ تھکا ہوا ہے؟
یا 😣 Overstimulated ہے؟

🎮 کسی activity سے نکلنا مشکل ہورہا ہے؟
🧠 کیا instruction اس کی عمر سے زیادہ complex ہے؟
❤️ اسے پہلے connection کی ضرورت ہے؟
یا واقعی وہ boundary test کررہا ہے؟
کیونکہ وجہ مختلف ہوگی تو intervention بھی مختلف ہوگا۔
تھکے ہوئے بچے کو lecture نہیں، شاید نیند چاہیے۔
کیونکہ Confused بچے کو punishment نہیں، واضح instruction چاہیے۔
اور Transition میں struggling بچے کو warning چاہیے۔
اور جان بوجھ کر boundary توڑنے پر؟
پرسکون مگر مضبوط consequence۔
ہر مسئلے کا علاج “ایک اور ڈانٹ” نہیں ہوسکتا۔

*🌱 آج کا Practical Experiment*
آج پورا دن ایک چھوٹا سا تجربہ کیجیے۔
جب بچے سے کوئی کام کروانا ہو تو:

*1️⃣ قریب جائیں۔*
دوسرے کمرے سے پانچ آوازیں نہ لگائیں۔

*2️⃣ پہلے connection بنائیں۔*
نام لیں، اس کی توجہ حاصل کریں۔

*3️⃣ ایک وقت میں ایک واضح instruction دیں۔*
“حمزہ، کتاب بند کرکے کھانے کی میز پر آجاؤ۔”

*4️⃣ جہاں ممکن ہو transition warning دیں۔*
“10 منٹ بعد Screen بند ہوگی۔”

*5️⃣ بات نہ ماننے پر چیخنے سے پہلے ایک سوال کریں:*
“اس وقت میرے بچے کو مزید سخت آواز چاہیے… یا زیادہ واضح structure؟”

پھر رات کو دیکھیے:
کیا cooperation میں کوئی فرق آیا؟
اور ایک بات یاد رکھیے:
کہ Gentle Parenting کا مطلب Helpless Parenting نہیں۔
نرمی کا مطلب boundaries ختم کرنا نہیں۔
اور discipline کا مطلب بچے کو خوفزدہ کرنا نہیں۔
ہمیں ایسا گھر بنانا ہے جہاں بچہ جانتا ہو:
“امی ابو کی حدود واضح ہیں…
مگر ان کے پاس میری عزت بھی محفوظ ہے۔” ❤️
شاید تربیت کا مقصد صرف ایسا بچہ بنانا نہیں جو ہمارے سامنے فوراً خاموش ہوجائے۔
اصل سوال یہ ہے:
جب ہم سامنے نہ ہوں… تب کیا اس کے اندر اتنا شعور پیدا ہوا ہے کہ وہ خود صحیح انتخاب کرسکے؟
کیونکہ صرف حکم ماننے والا بچہ ہمیشہ خود کو regulate کرنا نہیں سیکھتا۔
ہمیں آہستہ آہستہ بیرونی کنٹرول سے اندرونی ضبط کی طرف لے جانا ہے۔ 🌱

*🔥 اگلی قسط میں بات بچے کی نہیں… ہمارے غصے کی ہوگی یعنی وہ لمحہ جب ہم کہتے ہیں:*
“میں نے پیار سے بہت سمجھایا مگر اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا!” 😡
مگر سوال ہوگا:
کیا غصے میں دی جانے والی سزا بچے کو discipline سکھاتی ہے یا صرف ہم سے ڈرنا؟
اور یہ قسط شاید ہم والدین کے لیے پہلی دو اقساط سے بھی زیادہ uncomfortable ہو۔ 🪞

💬 آج Comment میں بتائیے:
*آپ کے گھر میں وہ کون سا وقت یا کام ہے جس پر بچہ سب سے زیادہ “بات نہیں مانتا”؟*
ہوم ورک؟ موبائل بند کرنا؟ سونا؟ صبح School کے لیے تیار ہونا؟ نماز؟
آپ کے حقیقی scenarios ہمیں آنے والی اقساط کو مزید practical بنانے میں مدد دیں گے۔

🔄 کسی ایسے والد یا والدہ تک یہ قسط ضرور پہنچائیے جو روز یہ جملہ کہتے ہیں:
“یہ بچہ میری بات سنتا ہی نہیں!” ❤️

*📲 30 روزہ مکمل سیریز کے لیے آئیڈیل لائف کونلسلنگ کا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں:*
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S

آئیڈیل لائف کونسلنگ| اولاد کی تربیت، والدین اور سنتِ نبوی ﷺ 🌿

Follow Ideal Life Counseling's WhatsApp Channel. 𝐈𝐝𝐞𝐚𝐥 𝐋𝐢𝐟𝐞 𝐂𝐨𝐮𝐧𝐬𝐞𝐥𝐢𝐧𝐠🌈™

Pakistan’s #1 Platform

🌿 Mental Peace | Marital Guidance | Personal Growth

💬 Emotional support, practical solutions, and life-changing guidance

📢 Get daily motivational articles, success stories, and expert advice!

🔗 Join now and start your journey towards a better life:
https://whatsapp.com/channel/0029Vage0N64tRrv0b1ZCM3S

[email protected]. Join 16K followers for the latest updates.

18/08/2026

Copy
بچوں کی تربیت ایسے کریں۔۔۔

اپنے بچے کو مسلسل محنت سے ایسی پختہ روٹین دیں کہ وہ جس ماحول میں بھی ہو، جو بھی کر رہا ہو، اس وقت اسے صحیح فیصلہ کرنا آتا ہو۔ چھوٹی چھوٹی روٹین کو بھی مدنظر رکھیں کہ دن میں ایک کھانا سارے گھر والے مل کر کھائیں۔

۔۔۔ کھانے کے آداب میں دیکھیں کہ جتنا بچے کا ہاتھ ہے اتنا معدے کا سائز ہوتا ہے۔ اس کو کھانا ٹھونسیں نہیں بلکہ ان کو سنت کے مطابق بھوک رکھ کے کھانا کھانا سکھائیں۔

۔۔۔ بچہ چار سال کا ہو تو وہ خود کھا سکتا ہے، اسے اپنے ہاتھ سے کھانے دیں۔ کھانا صرف دعا پڑھ کر ہی نہیں کھانا بلکہ کھاتے ہوئے کیسے بیٹھنا ہے، کھانا کیسے اور کہاں سے کتنا ڈالنا ہے، کیسے کھانا ہے۔۔۔؟ ایک ایک سنت پرعمل کرائیں، اس طرح ہم بہت سی بیماریوں سے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو بچا سکتے ہیں۔

۔۔۔ بچوں کے پیٹوں کو مٹکا نہ بنائیں۔

۔۔۔ فینسی چیزیں اور فاسٹ فوڈ بنانا اور کھلانا کم کر دیں، بچوں کی ڈیمانڈ پر ان کو لیکچر نہ دیں بلکہ خاموش رہیں اور ان کو وقتی طور پر اگنور کریں۔

۔۔۔ اپنی اور بچوں کے سونے اٹھنے کی روٹین پر خوب غور کریں۔ یہ عمل معاشی و معاشرتی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔

۔۔۔ بچوں کو سکول سے آتے ہی نہ سلائیں، ان سے باتیں کریں، سکول کے واقعات پوچھیں اور کچھ اچھا کرنے پر شاباش دیں۔

۔۔۔ پڑھائی کے بعد ان کو کھیل کا وقت دیں، ان کو پڑھا کر مغرب کی نماز کے بعد کھانا دے دیں۔

۔۔۔ انہیں زیادہ سے زیادہ 9 بجے تک سلا دیں، اس کے بعد آپ اپنے کام بھی کر سکتے ہیں، ریلیکس بھی رہ سکیں گے۔ اس طرح بچہ صبح آسانی سے جلدی اٹھ جائے گا۔

۔۔۔ جو سات آٹھ سال کا بچہ ہے، وہ ٹائم دیکھ سکتا ہے اسے ٹائم دیں کہ آٹھ بجے سو جائے۔ بچے کو سات بجے سے سونے کی روٹین کے کام شروع کروا دیں۔ مثلاً کپڑے چینج کریں، پہلے برش کر لیں، پھر نماز پڑھ لیں اور پھر کچھ وقت تک ان کے ساتھ خوشگوار باتیں کریں، کوئی کہانی سنائیں اور ان کے بچپن کو خوبصورت بنائیں۔

۔۔۔روٹین بنانے کو محاذ نہ بنائیں کہ ہر دیکھنے والا کہے کہ کتنی سخت روٹین بنا رہے ہیں۔

۔۔۔ بچوں کے ساتھ اپنے دن کے واقعات شئیر کریں کہ آج یہ ہوا وہ ہوا، اس طرح بچے آپ کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوں گے۔

۔۔۔ بچوں سے مشورے لیں مجھ سے آج غلطی ہوئی اب کیا کروں یا آج یہ اچھا کام ہوا مجھ سے۔۔۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی۔

۔۔۔ بچے کو اصول دیں، انہوں نے کمرے سے باہر نہیں آنا، کمرے میں کوئی گیجٹس نہ چھوڑیں، بچے سے کہیں نیند نہیں آ رہی تو کتاب پڑھ لیں

۔۔۔ اگر کمرے سے باہر آ جائیں تو نارمل ٹون میں کہیں بیٹا جا کر لیٹ جائیں۔

۔۔۔ بچے پر چیخنا نہیں، اپنی استقامت نہیں چھوڑنی، جہاں ہم استقامت چھوڑتے ہیں ادھر بچہ ضد کرتا ہے کہ میں ایسے ماں کو تنگ کروں گا، اسے غصہ آئے گا اور بچہ اس چیز کو انجوائے کرتا ہے۔

۔۔۔ ہر چیز کو روٹین میں لانے کے لیے ہمیں بہت استقامت چاہیے۔
بڑے بچے کو نو دس بجے کا ٹائم دیں۔۔۔ اس بچے کی اٹھنے کی روٹین کو پختہ کریں، اگر وہ کہے میں لیٹ سویا تھا تو اس بات کو اگنور کریں۔ قرآن پاک کی تلاوت لگا دیں، خود تلاوت کریں کوئی طنز طعنہ نہ دیں، غصہ نہ کریں۔ وہ وقت خوشگوار بنائیں۔

۔۔۔ روٹین بنانے سے بچے کی میموری اچھی ہوتی ہے بچوں کو ٹائم مینجمنٹ آ جاتی ہے۔

۔۔۔ بچوں پہ دھاوا نہ بولیں آرام سے کہتے ہوئے عادات بنائیں۔

۔۔۔بچوں کو چارٹ بنا دیں کہ آپ نے اتنی دفعہ یہ کام کیا تو یہ انعام ملے گا۔

۔۔۔ بچوں کے لیے جلاد نہ بنیں بلکہ کبھی کبھی روٹین میں تھوڑی سی لچک رکھنی چاہیے۔ اگر مہمان ہوں تو بچوں کو پہلے کہہ دیں کہ آج آپ نو کی بجائے دس بجے سو جانا۔ بچہ تھکا ہو تو کہہ دیں چلیں آج بیگ میں پیک کر دیتی ہوں۔

۔۔۔ ہر بچہ مختلف مزاج کا ہوتا ہے اس کے مزاج کو سمجھ کے روٹین بنانی چاہیے۔ بچے کو مسلسل سپروائز کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے جائیں، جہاں لگے بچہ کچھ مس کر رہا ہے تو دوبارہ سپروائز کریں اور بچے کو اللہ کا بندہ بنائیں۔

۔۔۔ بچوں کے ساتھ ٹیم ورک کریں کہ ہم نے مل کر کام کرنا ہے، ہم نے مل کر جنت میں جانا ہے۔ بچے سے کام کرواتے ہوئے مسکرا کے دیکھیں۔

۔۔۔ بچوں سے روٹین بنانے کے لیے روز ایک نیا طریقہ بنانا ہے۔
اس سے آپ کا بچے سے تعلق مضبوط ہو گا، بچوں کو پتا ہو ہم نے ضروری کام پہلے کرنا ہے۔ بچوں میں جذبات پر قابو کرنا آئے گا۔ بچے کی ورکنگ میموری بڑھے گی، کہ میں نے کون سے وقت پہ کون سا کام کرنا ہے؟

۔۔۔ یہ سب کرنے سے بچے اپنا محاسبہ کر سکیں گے۔ بچوں کو فوراً اٹھنا آئے گا جب بچہ فوراً اٹھتا ہے تو شیطانی وسوسوں سے بچ جاتا ہے۔ بچوں میں مستقل مزاجی آئے گی۔ روٹین بنانے میں اپنا اور بچوں کا محاسبہ کرتے رہیں کہ ہم نے تھکنا نہیں ہے۔ اپنے آپ کو کسی بات کے لیے بار بار الزام نہ دیں۔

۔۔۔ صبح اٹھ کے تہجد میں تمام جامع اور مسنون دعائیں کریں اور اپنی استقامت کے لیے دعا کریں ۔ درود شریف کثرت سے پڑھیں۔
رب سوہنا ہماری مدد کرے۔

الکوثر ایجوکیشنل آرگنائزیشن

Address

205 Jamilabad; Jameelabad Street Airport Road Multan
Multan

Opening Hours

Monday 16:00 - 19:00
Tuesday 16:00 - 19:00
Wednesday 16:00 - 19:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 16:00 - 19:00
Sunday 16:00 - 19:00

Telephone

+92614549784

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Imran Iqbal Clinic Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Imran Iqbal Clinic Multan:

Share

Category