Dr Imran Iqbal Clinic Multan

Dr Imran Iqbal Clinic Multan Clinic for children

18/06/2026

Copy from Facebook
ہمارے بچوں کے مستقبل کے 3 خاموش دشمن؟

آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر چیز چند سیکنڈز میں دستیاب ہے۔ کھانا گھر آ جاتا ہے، معلومات موبائل پر موجود ہیں، تفریح ایک کلک کی دوری پر ہے، اور خریداری گھر بیٹھے ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ سہولیات انسانی ترقی کی علامت ہیں، لیکن ان کا ایک منفی پہلو بھی ہے جس نے خاص طور پر نئی نسل کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

آج کے بہت سے بچے “فوری لذت” (Instant Gratification)، “سہولت ” اور “آرام پسندی ” کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ ہر کام آسان طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں، اور ایسی سرگرمیوں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں فوری مزہ ملے۔ نتیجتاً ان میں صبر، مستقل مزاجی، برداشت، نظم و ضبط اور جدوجہد جیسی صفات کمزور پڑنے لگتی ہیں۔

جب بچے صرف آرام، سہل پسندی ، تفریح اور فوری خوشی کے پیچھے بھاگتے ہیں تو ان کی فطری قائدانہ صلاحیتیں متاثر ہونے لگتی ہیں

لذت پرستی اور سہل پسندی کے نقصانات؟

1. برداشت کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے

ایسے بچے معمولی ناکامی، تنقید یا مشکل حالات کو برداشت نہیں کر پاتے۔

2. توجہ کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے

شارٹ ویڈیوز اور مسلسل ڈیجیٹل محرکات کی وجہ سے تخلیقی صلاحیتیں ، گہری سوچ اور یکسوئی متاثر ہوتی ہے۔

3. محنت سے گریز پیدا ہوتا ہے

وہ کام جن میں وقت، محنت اور صبر درکار ہو، بچوں کو بور محسوس ہونے لگتے ہیں۔

4. جذباتی کمزوری پیدا ہوتی ہے

ایسے بچے جذباتی دباؤ، امتحانی پریشر یا زندگی کی مشکلات کے سامنے جلد ہار مان لیتے ہیں۔

5. قیادت کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

قیادت ہمیشہ ذمہ داری، قربانی اور مشکلات کا سامنا کرنے سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ آرام طلب زندگی سے۔

والدین کے لیے 15 عملی تجاویز؟

1. ہر خواہش فوراً پوری نہ کریں

بچے کو انتظار کرنا سکھائیں۔ بعض خواہشات کے لیے محنت اور صبر ضروری بنائیں۔

2. گھر کے کاموں میں شریک کریں

کمرہ صاف کرنا، بستر درست کرنا، برتن رکھنا اور گھر کے چھوٹے کام کرنا ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔

3. “مشکل کام” روزانہ کروائیں

ہر روز ایک ایسا کام ضرور ہو جو بچے کو چیلنج کرے۔

4. اسکرین ٹائم محدود کریں

دس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد موبائل، ٹیبلٹ اور گیمنگ کا وقت متعین کریں۔

5. کھیل کود کو ترجیح دیں

فٹبال، کرکٹ، تیراکی، سائیکلنگ اور دیگر جسمانی سرگرمیاں برداشت اور نظم و ضبط پیدا کرتی ہیں۔

6. کتابوں سے دوستی کروائیں

مطالعہ بچوں کی سوچ کو گہرا اور شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔

7. ناکامی سے بچانے کے بجائے سکھائیں

بچے کو ہر ناکامی سے بچانے کے بجائے اس سے سیکھنے کا ہنر سکھائیں۔

8. ذمہ داریاں عمر کے مطابق دیں

ذمہ داری اعتماد اور خودمختاری پیدا کرتی ہے۔

9. شکرگزاری کی عادت ڈالیں

روزانہ تین نعمتیں لکھوائیں جن پر وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔

10. رضاکارانہ خدمات میں شامل کریں

یتیم خانوں، فلاحی سرگرمیوں اور کمیونٹی سروس میں شرکت بچوں کو ہمدرد بناتی ہے۔

11. صبر کی تربیت دیں

ایسی سرگرمیاں کروائیں جن میں وقت اور مستقل مزاجی درکار ہو۔مثلاء باغبانی ،کچن گارڈننگ

12. فطرت کے قریب لے جائیں

پارکس، باغات، کھیتوں ،نرسریوں اور پہاڑی علاقوں کی سیر بچوں کے ذہنی سکون میں اضافہ کرتی ہے۔

13. جسمانی مشقت کی اہمیت سکھائیں

کبھی کبھار پیدل چلنا، باغبانی کرنا یا جسمانی کام کرنا سکھائیں۔

14. رول ماڈلز سے متعارف کروائیں

تاریخ کے عظیم رہنماؤں، سائنس دانوں اور کامیاب شخصیات کی جدوجہد کے قصے سنائیں۔

15. خود مثال بنیں

اگر والدین خود ہر وقت موبائل، آرام اور سہولتوں کے پیچھے ہوں گے تو بچے بھی یہی سیکھیں گے۔

بچوں کو کیا سکھانا چاہیے؟

بچوں کو یہ اصول لازمی سکھائیں کہ:

* زندگی کا مقصد صرف مزہ کرنا نہیں۔
* مشکلات ترقی کا حصہ ہیں۔
* کامیابی محنت مانگتی ہے۔
* مضبوط کردار قربانی سے بنتا ہے۔
* نظم و ضبط ٹیلنٹ سے زیادہ اہم ہے۔
* آسان زندگی نہیں بلکہ بامقصد زندگی خوشی دیتی ہے۔

اور آخری بات یاد رکھیں

ایک تتلی کو کوکون سے نکلنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی مدد کر دے تو اس کے پروں میں وہ طاقت پیدا نہیں ہوتی جو اسے اڑنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

بالکل اسی طرح اگر ہم اپنے بچوں کی زندگی سے ہر مشکل، ہر چیلنج اور ہر جدوجہد ختم کر دیں گے تو شاید ہم انہیں وقتی آرام تو دے دیں، لیکن ایک مضبوط، خوداعتماد، باکردار اور کامیاب شخصیت سے محروم کر دیں گے۔

والدین کا اصل کام بچوں کے لیے آسان راستے بنانا نہیں، بلکہ بچوں کو اتنا مضبوط بنانا ہے کہ وہ زندگی کے مشکل راستوں پر بھی اعتماد سے چل سکیں

یاسر عرفات
Arafat Writes ✍️

02/06/2026

Copy from Facebook
امانت اہل کے سپرد کرو: پرچی نہیں، میرٹ سے قوم بنے گی
ڈاکٹر طارق حسین سومرو، لاڑکانہ

1. اسلامی پہلو Islamic
میرٹ اللہ کا حکم ہے
A. امانت اہل کے سپرد کرو
سورۃ النساء آیت 58: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا"
ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو۔
تشریح: سرکاری نوکری "امانت" ہے۔ عوام کا پیسہ ہے۔ اسے "پرچی" والے نااہل کو دینا = امانت میں خیانت۔ اور خیانت کرنے والے کے لیے قرآن میں سخت وعید ہے۔
B. عدل کا میزان
نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے سفارش کر کے نااہل کو نوکری دلوائی، اس پر اللہ کی لعنت ہے"۔ ابن ماجہ
یعنی سفارش کرنے والا، لینے والا، دینے والا - تینوں گناہگار۔
اسلامی اصول: حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے کو گورنر بنانے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا "اگر تم اہل ہو تو اللہ تمہیں دے گا، اگر نااہل ہو تو میں ظالم بنوں گا"۔ یہ ہے میرٹ۔
2. سماجی پہلو - Social: پرچی سسٹم قوم کو کھا رہا ہے
لاڑکانہ سے کراچی تک یہی کہانی ہے۔
پرچی سسٹم کے 5 سماجی زہر:
1. ذہین لوگ مایوس: MBBS، انجینئر، MA پاس لڑکا چوکیدار بن جاتا ہے۔ دماغ ضائع۔ اسے "Brain Drain" کہتے ہیں۔
2. ادارے ناکام: ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں "ایم پی اے کا بھتیجا" بیٹھا ہے۔ مریض مر رہا ہے۔ سکول میں ٹیچر نہیں "وڈیرے کا سالا" بیٹھا ہے۔ بچے جاہل رہ جاتے ہیں۔
3. کرپشن کی ماں: پرچی سے نوکری ملے گی تو وہ افسر رشوت لے گا۔ کیونکہ اس نے "احسان" اتارنا ہے۔ 1 پرچی = 100 رشوت کے دروازے۔
4. طبقاتی جنگ: امیر کا بیٹا "سیٹ"، غریب کا بیٹا "ریجیکٹ"۔ معاشرہ دو ٹکڑے۔ انقلاب کی بنیاد یہیں سے پڑتی ہے۔
5. نوجوانوں کا اعتماد ختم: جب میرٹ مر جائے تو نوجوان کہتا ہے "پڑھائی کا فائدہ؟" پھر وہ دبئی بھاگتا ہے، یا نشے میں ڈوبتا ہے۔
سوال: غریب کو میرٹ پر نوکری کب ملے گی؟
جواب: جب ہم " پرچی" پر نہیں، "میرٹ پرچی" پر دیں گے۔
3. اخلاقی پہلو - Moral: پرچی لینے والا چور ہے
اخلاقی سچ:
1. پرچی دینے والا: وہ اللہ کا مجرم ہے۔ اس نے 100 حقداروں کا حق مارا۔ قیامت کے دن 100 لوگ اس کا گریبان پکڑیں گے۔
2. پرچی لینے والا: وہ "چور" ہے۔ چوری ڈگری کی نہیں، چوری موقع کی ہے۔ وہ پوری زندگی "فراڈ" کے احساس میں جیے گا۔
3. خاموش رہنے والا: جو دیکھ کر چپ رہے وہ بھی شریکِ جرم ہے۔ نبی ﷺ: "ظالم کا ہاتھ روکو"۔
اخلاقی سبق: رزق اللہ دیتا ہے، پرچی نہیں۔ حرام کی نوکری 50 ہزار کی ہو، لیکن سکون 5 ہزار والے حلال میں ہے۔ حرام کھا کر دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔
حضرت علیؓ: "باطل پر قائم رہنے سے بہتر ہے حق پر گر پڑنا"۔
4. طبی پہلو - Medical: نااہل افسر قوم کو بیمار کر دیتا ہے
ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں روز دیکھتا ہوں:
A. ہسپتال میں "پرچی ڈاکٹر"
تشخیص غلط، دوا غلط، مریض فوت۔ لاڑکانہ کے 30% میڈیکل ایرر صرف اس وجہ سے ہیں کہ سیٹ میرٹ پر نہیں ملی۔ یہ قتل ہے۔
B. عوام کا "ذہنی دباؤ"
جب غریب کا بیٹا 3 بار ٹیسٹ پاس کر کے بھی فیل ہو جاتا ہے، تو اسے "Depression + Anxiety" ہو جاتی ہے۔ BP، شوگر، دل کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ وجہ: ناانصافی کا زہر۔
C. پورے معاشرے کی "قوتِ مدافعت" گر جاتی ہے
جس قوم کے ادارے نااہلوں کے ہاتھ میں ہوں، وہ قوم کسی وبا، کسی جنگ، کسی بحران کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کووڈ میں ہم نے دیکھا - اہل لوگ تھے تو نظام بچا۔
میڈیکل نسخہ: قوم کا علاج "میرٹ کی ویکسین" سے ہو گا۔ ایک بار لگ گئی تو 50 سال تک کرپشن کا وائرس نہیں لگے گا۔
ڈاکٹر کا 5 نکاتی علاج - پرچی سسٹم ختم کیسے ہو؟
خدارا! اب باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ عمل چاہیے:
1. شفاف ٹیسٹ + انٹرویو. NTS
جیسا سسٹم ہر محکمے میں۔ کیمرے لگیں، رزلٹ آن لائن۔ کوئی "اندر کا بندہ" نہ ہو۔
2. سخت سزا: جو پرچی دے، 10 سال جیل + عمر بھر نااہلی۔ جو پرچی لے، نوکری سے نکالو + جرمانہ۔ ڈر ہو گا تو ہاتھ رکے گا۔
3. عوامی نگرانی: ہر محکمے کی بھرتی کی لسٹ اخبار + ویب سائٹ پر۔ غریب کا بیٹا خود چیک کرے گا "میرا نمبر 3 تھا، سلیکٹ 30 نمبر والا ہوا"۔ شور اٹھے گا۔
4. تعلیم + تربیت: بچپن سے سکول میں پڑھاؤ "سفارش حرام ہے"۔ جب استاد ہی پرچی سے آیا ہو گا تو بچہ کیا سیکھے گا؟ پہلے استاد کا میرٹ ٹھیک کرو۔
5. ہم خود بدلیں: ہم ووٹ دیتے وقت پوچھیں "آپ نے کتنے لوگوں کو میرٹ پر نوکری دی؟" جو وڈیرا پرچی بانٹتا ہے، اس کو ووٹ مت دو۔ ووٹ بھی امانت ہے۔
خاتمہ - لاڑکانہ کے نوجوانوں کے نام
بیٹا! مایوس مت ہو۔ تمہاری ڈگری ردی نہیں۔ تمہارا پسینہ ضائع نہیں۔
یاد رکھیں: اندھیری رات کے بعد سورج نکلتا ہے۔ جاپان، کوریا، ملائیشیا بھی کبھی کرپشن میں ڈوبے تھے۔ انہوں نے "میرٹ" کا فیصلہ کیا، آج دنیا ان کے سامنے جھکتی ہے۔
پیغام اداروں کے سربراہوں کے نام:
خدارا! کرسی عارضی ہے، تاریخ مستقل ہے۔ آج آپ پرچی بیچو گے، کل آپ کی اولاد میرٹ مانگے گی اور کوئی نہیں دے گا۔
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن 7 لوگ اللہ کے سائے میں ہوں گے، ان میں ایک 'عادل بادشاہ/حکمران' ہے"۔
ڈاکٹر طارق حسین سومرو
فیملی فزیشن، لاڑکانہ
"میں مریض کا BP ٹھیک کرتا ہوں، اور چاہتا ہوں ملک کا سسٹم بھی ٹھیک ہو"

02/06/2026

کمر کا سائز "32 عورتون مين
36" مردون مين لازمي اگر اس سے زیادہ تو خطرے کی گھنٹی
بلڈ پریشر کو قابو کرو، زندگی بچاؤ
ڈاکٹر طارق حسین سومرو، لاڑکانہ

بہت اہم میڈیکل پیغام ہے۔ کمر کا سائز BP کا "خاموش اشارہ" ہے۔ آئیے 4 زاویوں سے سمجھتے ہیں
1. طبی پہلو - Medical: کمر کیوں خطرہ ہے؟
A. کمر 32/36 انچ کا راز کیا ہے؟
پیٹ پر چربی = "Visceral Fat"۔ یہ چربی جگر، دل، گردوں کے گرد لپٹ کر اندر سے جسم کو زہر دیتی ہے۔
WHO کا قانون:
1. عورتیں: کمر > 32 انچ = خطرہ۔ اس کا مطلب جسم میں انسولین ریزسٹنس شروع ہو گئی۔
2. مرد: کمر > 36 انچ = خطرہ۔ اس کا مطلب دل کی شریانیں تنگ ہونا شروع۔
B. ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کے 8 ڈاکٹری نسخے:
1. وزن کنٹرول: 1 کلو وزن کم = BP 1-2 پوائنٹ نیچے۔ کمر کم کرو، دوا کم ہو گی۔
2. نمک کم: روز 1 چمچ سے کم نمک۔ پراسیسڈ فوڈ، چپس، اچار میں چھپا نمک BP کا دشمن ہے۔
3. روزانہ 30 منٹ واک: تیز واک، پسینہ آئے۔ دل کی ورزش = BP کی دوا۔ واک نہیں تو نماز میں رکوع سجدہ لمبا کرو۔
4. شوگر + کولیسٹرول چیک: ہر 6 ماہ بعد ٹیسٹ۔ "شوگر + BP + چربی" یہ تینوں "Death Triangle" ہیں۔ ایک آئے تو دوسرے کو بلاتا ہے۔
5. تمباکو بند: سگریٹ کی 1 پف سے شریانیں 30 منٹ کے لیے تنگ ہو جاتی ہیں۔ BP ایک دم ہائی۔ لاڑکانہ میں 40% فالج سگریٹ سے ہے۔
6. گریپ فروٹ + لہسن: گریپ فروٹ کا رس شریانیں نرم کرتا ہے۔ لہسن "قدرتی ایسپرین" ہے، خون پتلا رکھتا ہے۔ روز 1 جوئے کچا لہسن نگل لیں۔
7. گھر کا کھانا: بازار کے فروزن، ڈبے بند کھانے میں "سوڈیم بم" ہوتا ہے۔ ایک برگر = پورے دن کا نمک۔
BP مشین گھر پر: مریض ہفتے میں 2 بار، صبح شام چیک کرے۔ لیکن "ڈر کر بار" چیک نہ کرے۔ ڈاکٹر کے بتائے وقت پر ہی چیک کریں۔
ڈاکٹر کی وارننگ: کمر 40 انچ والے مرد کا دل کا دورہ کا رسک 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔
2. اسلامی پہلو - Islamic: جسم اللہ کی امانت ہے
A. اسراف حرام
سورۃ الاعراف آیت 31: "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا"
ترجمہ: کھاؤ پیو، لیکن اسراف مت کرو۔
پیٹ بھر کر کھانا، کولڈ ڈرنک، مٹھائی، فرائی چیز = اسراف۔ اسراف سے موٹاپا، موٹاپے سے BP، BP سے موت۔
B. صحت نعمت ہے
نبی ﷺ: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت"۔ بخاری
پیٹ بڑھا کر ہم خود اپنی صحت کی نعمت ضائع کر رہے ہیں۔
اسلامی اصول: روزہ = BP کی دوا۔ رمضان میں 30 دن پرہیز سے BP، شوگر، کولیسٹرول سب کنٹرول ہو جاتا ہے۔ اللہ نے 1400 سال پہلے ہی "ڈائٹ پلان" دے دیا تھا۔
3. اخلاقی پہلو - Moral: اپنی جان پر ظلم مت کرو
اخلاقی سچ:
1. اپنی جان کا حق: اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ لیکن روز برگر کھا کر، سگریٹ پی کر، واک نہ کر کے "آہستہ خودکشی" کرنا بھی ظلم ہے۔
2. اولاد کا حق: اگر باپ 45 سال میں BP سے فالج ہو جائے، تو بیٹی کی شادی کون کرے گا؟ بیٹے کی فیس کون دے گا؟ اپنی صحت = اولاد کی حفاظت۔
3. قناعت: پیٹ کا سائز جیب سے بڑا مت کرو۔ حضرت عمرؓ: "ہم وہ قوم ہیں جو بھوک رکھ کر اٹھتے ہیں"۔ یعنی 80% پیٹ بھر کر۔
اخلاقی سبق: موٹا ہونا "خوشحالی" کی نشانی نہیں، "لاپرواہی" کی نشانی ہے۔
4. سماجی پہلو - Social: پورا خاندان کیسے بچے گا؟
لاڑکانہ کے گھروں میں BP کی وبا ہے۔ وجہ: ہمارا لائف اسٹائل۔
سماجی 5 اصلاحات:
1. مائیں باورچی خانے کی ڈاکٹر ہیں: سالن میں نمک کم، گھی کم، سبزی زیادہ۔ بچپن سے بچے کو "کم نمک" کی عادت ڈالو۔ جو بچہ 10 سال نمک کم کھائے گا، 40 سال بعد BP نہیں ہو گا۔
2. مرد حضرات شرم چھوڑیں: بازار میں واک کرتے ہوئے لوگ ہنستے ہیں۔ ہنسنے دو۔ دل کا دورہ پڑے گا تو یہی لوگ جنازہ اٹھائیں گے۔ واک کرو، عزت بچاؤ۔
3. خواتین کی کمر: 32 انچ سے زیادہ ہو جائے تو سسرال والے "موٹی" کہہ کر تنگ کرتے ہیں۔ یہ مذاق نہیں، خبردار کر رہے ہیں۔ شرم نہیں، واک کرو۔
4. دعوتوں کا کلچر: شادی میں 10 ڈش، ہر ڈش میں گھی۔ مہمان شرما کر کھا لیتا ہے۔ پھر 3 دن BP ہائی۔ سنت طریقہ: 2 سالن، روٹی، سلاد۔ بس۔
5. سالانہ چیک اپ: صحت مند آدمی بھی سال میں 1 بار BP، شوگر، کولیسٹرول چیک کرائے۔ "پہلے سے پتہ" = "آدھا علاج"۔
ڈاکٹر کا 7 دن کا چیلنج - کمر کم کرو
اگر آپ کی کمر حد سے زیادہ ہے تو آج سے شروع کریں:
1. صبح: 2 گلاس پانی + 10 منٹ واک
2. کھانا: روٹی آدھی، سلاد ڈبل، نمک چٹکی
3. شام: لہسن 1 جوئے + دہی 4 چمچ
4. رات: کھانے کے 2 گھنٹے بعد سوئیں۔ عشاء کے بعد واک سنت ہے۔
5. ماپ: ہر اتوار کمر ناپیں۔ 1 ماہ میں 1 انچ کم = کامیابی۔
یاد رکھیں: دوا زندگی بھر کھانی پڑے گی، لیکن عادت 90 دن میں بدل جاتی ہے۔
خاتمہ - لاڑکانہ کے ہر گھر کے نام
بھائیو، بہنو! BP کوئی بیماری نہیں، "لائف اسٹائل کی سزا" ہے۔
نبی ﷺ کا طریقہ: "ہم وہ قوم ہیں جو بھوک رکھ کر کھاتے ہیں"۔
یعنی لقمہ کم، برکت زیادہ۔
کمر کا فیتی لگاؤ۔ اگر 32/36 سے زیادہ ہے تو سمجھو اللہ تمہیں وارننگ دے رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے۔ وزن کم کرو، نماز لمبی کرو، واک شروع کرو۔
ڈاکٹر طارق حسین سومرو
فیملی فزیشن، لاڑکانہ
"میں BP کی گولی بھی لکھتا ہوں، اور بغیر گولی کے علاج بھی بتاتا ہوں"

02/06/2026

Copy from Facebook
*آج کے دور میں بچوں کی تربیت محبت، اعتماد اور حکمت کا راستہ*

آج کے دور میں بچوں کی تربیت پہلے کی نسبت زیادہ چیلنجنگ ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا، موبائل فون، انٹرنیٹ، دوستوں کا اثر اور معاشرے کے بدلتے ہوئے رجحانات والدین کے لیے نئی آزمائشیں لے کر آئے ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف ڈانٹ ڈپٹ یا سختی سے نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور حکمت کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرنا ضروری ہے۔

1. نصیحت سے پہلے تعلق مضبوط کریں
بچے اس شخص کی بات زیادہ قبول کرتے ہیں جس سے ان کا دل کا تعلق ہو۔
• روزانہ کچھ وقت صرف بچوں کے ساتھ گفتگو میں گزاریں۔ • ان کی بات پوری توجہ سے سنیں۔ • ہر گفتگو کو نصیحت میں تبدیل نہ کریں۔ • انہیں یہ احساس دلائیں کہ گھر ان کے لیے محفوظ جگہ ہے۔

2. سوالات کے ذریعے تربیت کریں
براہِ راست لیکچر دینے کے بجائے سوالات پوچھیں۔

مثلاً: • تمہارے خیال میں اچھا دوست کیسا ہونا چاہیے؟ • سوشل میڈیا کے کیا فائدے اور نقصانات ہیں؟ • ایک کامیاب انسان کی کیا خوبیاں ہوتی ہیں؟
اس طریقے سے بچے خود سوچنا سیکھتے ہیں۔

3. دینی اور اخلاقی مسائل پر کھل کر بات کریں
آج کے بچوں کو بہت سی ایسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے جن کا پچھلی نسلوں کو سامنا نہیں تھا۔
• بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ کسی بھی مسئلے پر والدین سے بات کر سکتے ہیں۔ • ان کے سوالات کو غیر ضروری یا شرمناک سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ • دین کو آسان اور محبت بھرے انداز میں پیش کریں۔

4. غلطی اور گناہ میں فرق سمجھیں
اگر بچہ غلطی کرے تو فوراً اس کی شخصیت پر حملہ نہ کریں۔
یہ نہ کہیں: "تم ہمیشہ غلط کرتے ہو"
بلکہ کہیں: "یہ کام درست نہیں تھا، آئندہ بہتر طریقہ اختیار کرتے ہیں"

5. عزت کے ساتھ تربیت کریں
خصوصاً ٹین ایج لڑکے عزت اور احترام کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
• دوسروں کے سامنے ڈانٹنے سے گریز کریں۔ • بہن بھائیوں یا دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں۔ • ان کی رائے کو اہمیت دیں۔

6. اچھی صحبت اور رول ماڈلز فراہم کریں
بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ مثال سے سیکھتے ہیں۔
• انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرامؓ کے واقعات سنائیں۔ • باکردار اور کامیاب لوگوں کی مثالیں دیں۔ • نیک اور مثبت ماحول فراہم کریں۔

7. مصروفیت پیدا کریں
خالی ذہن اکثر غلط مشاغل کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
بچوں کو: • کھیل • ورزش • مطالعہ • ہنر سیکھنے • گھریلو ذمہ داریوں
میں مشغول رکھیں۔
8. اسکرین ٹائم پر حکمت کے ساتھ کنٹرول
9.
موبائل اور گیجٹس آج کے دور کی بڑی آزمائش ہیں۔
• مکمل پابندی کے بجائے متوازن نظام بنائیں۔ • سونے سے پہلے اسکرین کے استعمال کو محدود کریں۔ • والدین خود بھی اس حوالے سے اچھی مثال قائم کریں۔

9. عبادت کو محبت سے جوڑیں
بچوں کو یہ احساس دلائیں کہ:
• اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتے ہیں۔ • دعا اللہ سے گفتگو کا بہترین ذریعہ ہے۔ • نماز صرف فرض نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ تعلق کا ذریعہ ہے۔

10. دعا کو کبھی نظر انداز نہ کریں
والدین کی دعا اولاد کے لیے بہت بڑی طاقت ہے۔
خصوصاً یہ دعا پڑھتے رہیں:
"رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي"
(اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔)

*خلاصہ*

آج کے دور میں بچوں کی کامیاب تربیت کے تین بنیادی ستون ہیں:
• محبت • عزت • اعتماد
جب بچے گھر میں یہ تینوں چیزیں پاتے ہیں تو وہ زندگی کے بہت سے فتنوں اور چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ والدین کا کام صرف نگرانی کرنا نہیں بلکہ بچوں کے دل جیتنا بھی ہے۔ جب دل جیت لیا جائے تو تربیت آسان ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو دین، اخلاق، علم اور کردار کی دولت عطا فرمائے اور انہیں ہر فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ رابعه كليم

29/05/2026

Copy from Facebook
میرا بیٹا چھ سال کا ہے اور ان چھ سالوں میں میری وجہ سے شاید چھ مرتبہ بھی نہیں رویا ہوگا کیونکہ جب بھی میں اُس سے کوئی ایسی چیز لینے لگتا ہوں جس سے وہ جذباتی طور پر جڑا ہوتا ہے تو پہلے اس کےلیے متبادل ڈھونڈتا ہوں کہ اس چیز کے لینے کے بعد بچہ کیا کرے گا؟ ایسی صورت میں بچے کے ہاتھ سے چیز کھینچنی نہیں پڑتی بلکہ اس کی توجہ دوسری طرف پھیر دینے سے ہی بچہ چیز چھوڑ دیتا ہے۔

ہمارے ہاں بچے عموما تب ضدی بنتے ہیں اور روتے ہیں جب والدین ان کے ہاتھوں سے کوئی چیز اچانک کھینچ لیں اور انہیں متبادل بھی نہ دیں۔ مثال کے طور پر بچے کے ہاتھ سے موبائل یا کھلونا کھینچ لینا، بچہ کھیل رہا ہو اور کھانے کا وقت ہو جائے تو اسے کان سے پکڑ کر دسترخوان پر لے جانا وغیرہ۔ اس سے بچہ کی طبعیت میں چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح ہم بڑے لوگ بھی کئی مرتبہ دوسروں کا پنیر اچانک کھینچ لیتے ہیں اور دوسرا روتا رہ جاتا ہے کہ میرے پنیر کو کس نے یہاں سے ہٹا (?who moved my cheese)۔؟ مثال کے طور پر اچانک سے کسی کو اپنے ادارے سے نکال دینا، کسی کو جاب سے محروم کر دینا، کسی سے رشتہ ختم کر دینا، کسی کو مسئلے کی خوفناک جہت بتا کر ادھورا چھوڑ دینا، کسی کو ناجائز راستے سے ہٹا کر جائز راستہ نہ دکھانا۔ اس طرح کے اعمال سے دوسرا انسان پریشان ہو جاتا ہے اور اسے سمجھ نہیں آتا کہ اب کرنا کیا ہے؟

جان بولبی (John Bowlby) کی Attachment Theory سکھاتی ہے کہ انسان خاص اشیاء، افراد یا سرگرمیوں سے ایک تعلق پیدا کر لیتا ہے۔ جب ہم کسی سے کوئی چیز چھینتے ہیں تو صرف وہ چیز نہیں چھین رہے ہوتے بلکہ اس کی عادت، تفریح اور جذباتی وابستگی کو بھی چھین رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل اگر متبادل کے بغیر ہو تو خاص کر بچوں میں عدم تحفظ، اضطراب اور والدین سے دوری کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔

اسی طرح کی ایک تھیوری ڈاکٹر ولیم بریجز (William Bridges) نے Transition Theory کے نام سے پیش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر تبدیلی تین فیزز پر مشتمل ہوتی ہے:

1: اختتام (Ending)
2: غیر یقینی دور (Neutral Zone)
3: نیا آغاز (New Beginning)

جب ہم کسی سے کوئی چیز اچانک کھینچ لیتے ہیں تو اس کےلیے چیز کی اینڈنگ ہو جاتی ہے لیکن متبادل نہ ہونے کی وجہ سے وہ نیا آغاز نہیں کر پاتا جس سے نیوٹرل زون میں کھڑا رہ جاتا ہے جہاں اسے نہ پرانی چیز میسر ہے اور نہ کوئی نئی سمجھ میں آ رہی ہے۔ اس سے دماغ کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ہمیں جہاں بہت سارے کاموں سے روکا، وہی اس کے متبادل بھی بتائے۔ جیسے:

وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ
اور اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ (سورت بقرہ: 275)
سود کی حرمت کے ساتھ بیع کی حلت بھی موجود ہے جو کہ سود کا متبادل جائز راستہ ہے۔

حضرت لوط علیہ السلام کے پاس جب فرشتے انسانی صورت میں آئے تو ان کی قوم بھاگتی ہوئی آئی اور کہا کہ یہ خوبصورت لڑکے ہمارے حوالے کرو۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں لڑکوں کے ساتھ بد فعلی سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْؕ-
اے میری قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاکیزہ ہیں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ (سورت ھود: 78)

یہاں حضرت لوط نے جہاں لواطت سے منع کیا، وہی اس کے لیے جائز متبادل یعنی گھروں میں موجود بیویوں سے شہوت پورا کرنا بھی بتایا۔

بعض یہودی جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ کو ایسے الفاظ سے بلاتے تھے جن سے دو معانی نکلتے، ایک اچھا اور ایک برا۔ یہودی جب بولتے تو برا معنی مراد لیتے اور ان کو دیکھ کر بعض صحابہ بھی وہ الفاظ بولنے لگے کیونکہ ان کا ایک معنی اچھا بھی تھا۔ مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ یہودیوں کی شرارت ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ
اے ایمان والو! (رسول اللہ ﷺ ) سے مخاطب ہو کر راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہہ دیا کرو اور سنا کرو۔ (سورت بقرہ: 102)

اس آیت میں مسلمانوں کو جہاں راعنا کہنے سے منع کیا گیا (کیونکہ یہودی اس سے چرواہا مراد لیتے تھے نعوذ باللہ ) ، وہی اس کا متبال اُنْظُرْنَا بھی دیا گیا۔

سورت نساء میں فرمایا:

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ-وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ-وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ
اور جن چیزوں میں ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو۔ مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو ان میں سے حصہ ملے گا اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ (سورت نساء: 32)

اس آیت کے ابتدائی حصے میں ان چیزوں کو مانگنے سے منع کیا گیا ہے جن چیزوں میں ہم کو ایک دوسرے پر فضل حاصل ہے۔ لیکن آخر میں اس کا متبادل اللہ کا فضل مانگنے کا راستہ بھی دکھایا گیا تاکہ انسان اپنی مانگنے کی صفت کو اللہ کا فضل مانگ کر پورا کر سکے اور اللہ کا فضل و احسان ہر چیز سے بڑھ کر ہے تو گویا ہماری توجہ ادنی سے اعلی ، غیر نافع سے انفع کی طرف پھیر دی۔

حضرت موسی علیہ السلام نے جب پہلی مرتبہ اللہ تعالی کا کلام سنا تو فرمایا:

رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ
میرے رب! مجھے دیدار کرا دیجیے کہ میں آپ کو دیکھ لوں۔ (سورت اعراف: 143)

تو اللہ تعالی نے فرمایا:

لَنْ تَرٰىنِیْ
تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکو گے۔ (سورت اعراف: 143)

اب دیدار کی چاہت پوری نہیں ہوئی تو اس کا متبادل کیا ہے؟ تاکہ اسے پلے باندھ لوں اور وہ انعام مستقل میرے پاس رہے اور میں شکر ادا کرتا رہوں۔ تو فرمایا:

یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ ﳲ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ
اے موسی! میں نے اپنا پیغام دے کر اور تم سے ہم کلام ہو کر تمہیں تمام انسانوں پر فوقیت دی ہے ۔ لہذا میں نے جو کچھ تمہیں دیا ہے، اسے لے لو اور ایک شکر گزار شخص بن جاؤ۔ (سورت اعراف: 144)

سورت بقرہ میں فرمایا:

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَاؕ
ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی آیت لے آتے ہیں۔ (سورت بقرہ: 106)

یعنی جب تم سے کوئی آیت لی جاتی ہے تو اس سے بہتر دوسری آیت دی بھی جاتی ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ جب بھی کسی کو کسی کام سے روکنا ہو تو متبادل دینے کی بھی کوشش کریں۔

محمد اکبر

20/05/2026

تشدد

میں ایک دوست کی پُراصرار دعوت پر اُن کے ہاں چلا گیا۔ وہ عمرہ سے واپس آئے تھے، اس لیے انہوں نے تمام عزیز و اقارب اور احباب کو ایک ہی روز مدعو کرلیا تھا تاکہ روزانہ مہمان داری کے لیے دفتری اوقات متاثر نہ ہوں۔

اُن کا گھر خاصا وسیع تھا۔ مردانہ حصے میں ٹینٹ لگا کر میز کرسیوں کا اہتمام کیا گیا تھا اور مہمانوں کو خوش اسلوبی سے بٹھایا جا رہا تھا۔

میں مقررہ وقت پر پہنچا تو دوست سامنے موجود نہ تھا۔ میں اُن کے بھائیوں وغیرہ سے مل کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ آئے، مجھ سے بغل گیر ہوئے اور مسکراتے ہوئے بولے: “حاجی صاحب آپ کا پوچھ رہے ہیں۔”

پھر مجھے گھر کے اندرونی حصے سے متصل ایک کمرے میں لے گئے جہاں اُن کے سسرال کے چند بزرگ اور رشتہ دار بیٹھے ہوئے تھے۔

دوست کے سسر، حاجی صاحب، سے بڑی نیازمندی کا تعلق ہے۔ پیرانہ سالی اور شوگر کے باعث اُن کی ٹانگیں جواب دے چکی ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی بے حد محبت سے گلے لگے۔

دراصل دوست کی شادی کے ابتدائی ایام میں میاں بیوی کے درمیان کچھ ناچاقی پیدا ہوگئی تھی۔ کسی نے حاجی صاحب کو غلط طور پر بھڑکا دیا تھا، مگر اللہ نے میری معمولی سی کوشش میں اثر ڈال دیا اور معاملہ سنبھل گیا۔ تب سے وہ مجھ پر بڑی شفقت فرماتے ہیں۔

کمرے میں دیگر احباب بھی موجود تھے جو آپس میں کزن تھے۔ انہی میں ایک صاحب، جو میرے دوست کے پھوپھی زاد تھے، دوست کے کم سن بیٹے سے مسلسل سوالات کیے جا رہے تھے۔

“کس کلاس میں ہو؟” “فلاں لفظ کی اسپیلنگ بتاؤ۔” “یہ فارمولا سناؤ۔” “یہ شعر کس شاعر کا ہے؟” “اپنا قد تو دیکھ ابھی اتنی چھوٹی کلاس میں ہو؟، کھاکھا کر ہاتھی بنتے جارہے ہو، چھٹا کلمہ سناٶ” وغیرہ وغیرہ

بچہ بری طرح گھبرا چکا تھا۔ جب اُسے کوئی جواب نہ آتا تو وہ صاحب طنزیہ قہقہے کے ساتھ کہتے: “بس یہی کچھ پڑھا ہے؟” “کیا خاک تعلیم حاصل کر رہے ہو!باپ کی فیسیں ہی ضاٸع کررہے ہو”
اور پھر محفل میں بیٹھے دوسرے لوگ بھی ہنسنے لگتے۔

بچہ بے بسی سے کبھی ایک چہرہ دیکھتا، کبھی دوسرا۔ اُس کی نگاہوں میں مدد کی ایک خاموش التجا تھی، مگر افسوس! جن چہروں سے اُسے پناہ ملنی چاہیے تھی، وہی اُس کی سبکی پر لطف اندوز ہو رہے تھے۔

اچانک اُس بچے نے میری طرف دیکھا۔

وہ نظر میرے دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئی۔

میں کافی دیر سے ضبط کر رہا۔ ہونٹ بھینچے، مٹھیاں بند کیے خاموش بیٹھا تھا، مگر پھر مجھ سے رہا نہ گیا۔

میں نے اُن صاحب کو مخاطب کرکے کہا:

“بھائی صاحب! کیا آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آپ اس بچے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ آپ اُسے بھری محفل میں ذلیل کر رہے ہیں۔ اگر یہی سلوک کوئی آپ کے بچے کے ساتھ کرے تو آپ پر کیا گزرے گی؟”

انہوں نے ناگواری سے میری طرف دیکھا اور قدرے سخت لہجے میں بولے: “یہ ہمارا بچہ ہے، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟”

میں نے کہا: “عزیزم! یہ آپ کا بچہ نہیں، آپ اسکے دشمن ہیں،۔ پچھلے پچیس دن جس بچے نے اپنے والدین کے بغیر گزارے، جو ابھی اپنے ماں باپ کے عمرہ سے واپس آنے کی خوشی بھی پوری طرح محسوس نہیں کر پایا، آپ بھری محفل میں مسلسل اُس کی تضحیک کر رہے ہیں، اُس کی خود اعتمادی کو مجروح کر رہے ہیں۔کیا آپ اپنے بیٹے کیساتھ یہ سب کچھ برداشت کرلیں گے، کچھ خدا کا خوف کرو بھاٸی”

میری بات ختم ہوئی تو حاجی صاحب بول اٹھے:

“رانا صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تم تو خود استاد ہو، تمہیں بچوں کے جذبات کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ افسوس ہے!”

پھر انہوں نے اُن صاحب کی خاصی سرزنش کی، حتیٰ کہ آخرکار وہ معذرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

عزیزانِ من!

رشتہ داروں کو بچوں پر نفسیاتی بدمعاشی کا موقع نہ دیجیے۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے قریبی عزیز ہنسی مذاق، بے تکلفی یا “شفقت” کے نام پر بچوں کی شکل، رنگت، جسم، لباس، عادات، لہجے، تعلیم یا صلاحیتوں پر ایسے فقرے کس جاتے ہیں جو بظاہر معمولی، مگر حقیقت میں نہایت تباہ کن ہوتے ہیں۔

والدین اکثر رشتہ داری نبھانے کے لیے خاموش رہ جاتے ہیں، مگر بچے یہ جملے کبھی نہیں بھولتے۔

یہی زخم بعد میں احساسِ کمتری، خوف، جھجھک اور کمزور خود اعتمادی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض بچے رشتہ داروں سے ملنے سے کترانے لگتے ہیں، محفلوں سے بچتے ہیں، حتیٰ کہ مخصوص گھروں میں جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔

یاد رکھیے!

بچے کو “موٹو، پتلو، کالا” جیسے القابات دینا، دوسروں سے موازنہ کرنا یا اُس کی کمزوریوں کو تفریح بنانا محض مذاق نہیں، اُس کی شخصیت کو زخمی کرنا ہے۔ بلکہ سیدھا سیدھا نفسیاتی ق۔تل ہے

ایک منفی جملہ برسوں تک بچے کے ذہن میں زندہ رہ سکتا ہے۔

اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ایسے رویّے کو فوراً روکیں، خواہ سامنے کوئی کتنا ہی قریبی عزیز کیوں نہ ہو۔ چند رشتے ناراض ہوجانا اُس ذہنی اذیت سے کہیں کم نقصان دہ ہے جو ایک بچہ ساری عمر اٹھاتا رہتا ہے۔

اپنے بچوں کے بچپن، معصومیت اور خود اعتمادی کی حفاظت کیجیے۔ اور دوسروں کے بچوں سے گفتگو کرتے وقت بھی اپنے الفاظ پر نگاہ رکھیے۔ دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے نفسیاتی حملوں سے بچاٸیے۔
احباب گرامی!
جس طرح بچوں کی خوراک، لباس، تعلیم اور جسمانی صحت آپ کی ذمہ داری ہے، بعینہٖ اُن کی نفسیاتی، ذہنی اور روحانی حفاظت بھی آپ ہی کے ذمے ہے۔

اپنے بچوں کو لوگوں کے طنز، تحقیر اور نفسیاتی تشدد سے بچائیے۔

ورنہ بہت دیر بعد احساس ہوگا کہ آپ نے اپنے ہی ہاتھوں اُن کی خود اعتمادی کھو دی۔ خود اعتمادی سے محروم بچہ ناکام زندگی گزارتاہے۔

آخری گزارش
یہ تحریر سب کی بھلائی کی نیت سے لکھی گئی ہے۔
آپ بھی بھلائی کی نیت سے اسے شیئر کر دیں شکریہ۔

عثمان غنی رانا

19 مٸی 2026

28/04/2026

اسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
صبح بخیر، زندگی بخیر
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش، آباد اور صحت مند رکھے۔
پياري بچو اسکول ضرور جانا، استادوں-بڑوں کی عزت کرنا
اسکول = دماغ کی ورزش روز اسکول جانے والے بچے کا IQ 15% زیادہ ہوتا ہے۔ جو بچہ نہیں جاتا، اس کا دماغ "کمزور مسلز" جیسا ہو جاتا ہے۔
عزت کرنا = دل کا سکون جو بچہ استاد، ماں باپ کی عزت کرتا ہے، اس میں Anxiety، ڈپریشن 70% کم۔ کیونکہ بے ادب بچہ اندر سے بے چین رہتا ہے، BP ہائی۔
ڈسپلن = اچھی نیند: وقت پر سونا، وقت پر جاگنا۔ Growth Hormone رات 10 سے 2 بجے نکلتا ہے۔ جو بچہ لیٹ سوتا ہے، قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔
بیٹا، اسکول تمہاری "دماغ کی ڈسپنسری" ہے۔ چھٹی نہ کرو۔

ماں باپ کے لیے: "اچھا ناشتہ، جیب خرچ، پیار"
A. اچھا ناشتہ کیوں ضروری؟ — Brain Fuel
خالی پیٹ اسکول = گاڑی بغیر پیٹرول رات 8 بجے کھانے کے بعد صبح 8 بجے تک 12 گھنٹے کا فاقہ۔ اگر ناشتہ نہ ملے تو Blood Sugar گر جاتا ہے۔ نتیجہ: بچہ کلاس میں سوئے گا، چڑچڑا ہو گا، یاد نہیں کرے گا۔
کیا کھلائیں؟
انڈا + پراٹھا: پروٹین + انرجی = 4 گھنٹے دماغ فریش۔
- دودھ + کھجور: کیلشیم + آئرن = ہڈی مضبوط، خون بڑھے۔
- چنے + گڑ: سستا، طاقتور، خون کی کمی ختم۔
زہر: خالی پیٹ چائے + بسکٹ = معدے کا السر، بچپن سے ہی۔
B. جیب خرچ کیوں دیں؟ — نفسیاتی صحت
خرچي بچے کی "عزت نفس" ہیں۔ جس بچے کے پاس کچھ نہ ہو، وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے، چوری سیکھ سکتا ہے۔ جیب خرچ = اعتماد کا ٹیکا۔
C. پیار کیوں ضروری؟ — دل کی دو ا
جانز ہاپکنز یونیورسٹی: جن بچوں کو روز گلے لگایا جاتا ہے، ان میں دمہ، موٹاپا، ڈپریشن 50% کم۔ ماں کی جھپی = 4 گھنٹے کی سکون کی گولی۔ باپ کا شاباش = بچے کے لیے "اسٹیرائیڈ"۔
الله آپ سب کو خوش رکھے اور دن خیر سے گزرے" — آمین
خوش رہنے کا طبی فارمولا:
ناشتہ + عزت + محنت + شکر = خوشحال زندگی
بِسمِ اللّٰہ سے دن شروع — BP نارمل۔
ناشتہ سب ساتھ— فیملی بانڈنگ = ڈپریشن کی چھٹی۔
بچے کو مسکرا کر اسکول بھیجو— ماں کی مسکراہٹ = بچے کا امیونٹی بوسٹر۔
شام کو حال پوچھو "بیٹا آج کیا سیکھا؟" — یہ 10 منٹ بچے کو نشے، بری صحبت سے بچا لیتے ہیں۔
اللہ لاڑکانہ، سندھ اور پورے پاکستان کے بچوں کو علم والا، ادب والا، صحت والا بنائے۔
والدین کو ہمت دے کہ وہ حلال رزق سے بچوں کو پالیں۔
اور ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے دعا کرنے والا دل دے۔ آمین یا رب العالمین
آپ کا بھائی، آپ کا خادم
ڈاکٹر طارق حسین سومرو
لاڑکانہ_

Address

205 Jamilabad; Jameelabad Street Airport Road Multan
Multan

Opening Hours

Monday 16:00 - 19:00
Tuesday 16:00 - 19:00
Wednesday 16:00 - 19:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 16:00 - 19:00
Saturday 16:00 - 19:00
Sunday 16:00 - 19:00

Telephone

+92614549784

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Imran Iqbal Clinic Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Imran Iqbal Clinic Multan:

Share

Category