14/07/2026
"سر! ٹیٹنس کا انجیکشن تو صرف ایکسیڈنٹ کے بعد لگتا ہے نا؟"
یہ ایک مختصر سا جملہ تھا، مگر اس کے پیچھے ہمارے معاشرے میں پھیلی ایک بڑی غلط فہمی چھپی ہوئی تھی۔
کل OPD میں تقریباً 38 سالہ ایک فوجی جوان آیا۔ ڈیوٹی کے دوران ایک کانٹا اس کے انگوٹھے میں چبھ گیا تھا۔ معمولی سا خون نکلا، اس نے ہاتھ سے صاف کیا اور دوبارہ اپنی ذمہ داری میں مصروف ہو گیا۔ اسے لگا کہ یہ تو ایک چھوٹی سی چوٹ ہے، خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔
دو دن بعد درد بڑھ گیا، انگوٹھا سوج گیا، سرخی آ گئی اور پیپ بھی بننے لگی، تب وہ اسپتال پہنچا۔
معائنہ مکمل کرنے کے بعد میں نے پوچھا:
"عمران! ٹیٹنس کا انجیکشن لگوایا تھا؟"
وہ مسکرایا اور بولا:
"سر! وہ تو صرف روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد لگتا ہے نا؟"
اس کی مسکراہٹ میں لاعلمی تھی، اور میرے لیے یہ احساس کہ شاید ہم ابھی بھی لوگوں تک یہ بنیادی پیغام صحیح طرح نہیں پہنچا سکے۔
یاد رکھیں!
ٹیٹنس صرف روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد نہیں لگایا جاتا۔ گندا کانٹا، زنگ آلود کیل، آلودہ یا استعمال شدہ سوئی، مٹی سے آلودہ گہرا زخم، جانور کا کاٹنا اور ایسی بہت سی چوٹیں بھی ٹیٹنس سے بچاؤ کی ضرورت پیدا کر سکتی ہیں۔
چونکہ ابھی مناسب وقت موجود تھا، اس لیے احتیاطاً ٹیٹنس کی ویکسین لگوائی، زخم کی صفائی کی، اینٹی بایوٹک اور درد کی دوا شروع کی، اور فالو اَپ کے لیے دوبارہ بلا لیا۔
ٹیٹنس کیا ہے؟
یہ Clostridium tetani نامی جراثیم کے زہر سے ہونے والی ایک خطرناک بیماری ہے، جس میں جسم کے پٹھے اکڑ جاتے ہیں، جبڑا بند ہو سکتا ہے، شدید جھٹکے آ سکتے ہیں اور سانس لینے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ بروقت ویکسین سے اس بیماری سے بڑی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔
میرا پیغام:
ہر چوٹ معمولی نہیں ہوتی، لیکن بروقت احتیاط ہمیشہ بڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی گندی چیز سے زخم لگے تو خود فیصلہ کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
"چند لمحوں کی احتیاط، زندگی بھر کی پشیمانی سے بہتر ہے ۔"