Dr. Shehzad SHUJA - CHILD Specialist

Call Website Contact the practice

Dr. Shehzad SHUJA - CHILD Specialist MBBS, FCPS PEDIATRICS, DIP. CHILD NUTRITION (U.S.A). ALHAMDULILLAH MORE THAN 10 YEARS OF PASSIONATE SERVICE IN PEDIATRICS.

DEDICATED TO SERVE AND BRING POSITIVE CHANGE IN SOCIETY.

ڈاکٹر خاموش ہیں، اس لیے نہیں کہ کمزور ہیں بلکہ اس لیے کہ۔۔۔۔ہم مسیحا ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں! ہم آج کسی کے ...
30/09/2026

ڈاکٹر خاموش ہیں، اس لیے نہیں کہ کمزور ہیں
بلکہ اس لیے کہ۔۔۔۔
ہم مسیحا ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں!

ہم آج کسی کے خلاف نہیں، بلکہ اپنی عزت، وقار، حقوق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوۓ ہیں ۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹرز نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو مقدم رکھا ہے۔ ہم خاموش رہے، برداشت کرتے رہے، کیونکہ ہمارا پیشہ ہمیں ہر حال میں مریض کی خدمت کا درس دیتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ شفا دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور ہمیں صرف اس عظیم ذمہ داری کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کی وجہ سے ہم نے بہت کچھ برداشت کیا اور اکثر اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈالا۔
لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

جب مسلسل ناانصافی، امتیازی سلوک اور ہمارے وقار کو نظرانداز کیا جائے تو خاموشی اختیار کرنا مسئلے کا حل نہیں رہتا۔ آج ہم انتہائی پُرامن، مہذب اور باوقار انداز میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ
*ڈاکٹرز کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔*

ہم کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتے، کسی کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ ہمارا مقصد صرف یہ احساس دلانا ہے کہ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی زندگی، صحت اور مشکلات کے لیے موجود رہتے ہیں، ان کے مسائل اور حقوق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔۔

ہم خدمت کرتے ہیں، اس لیے خاموش ہیں؛
*ہم کمزور نہیں، اس لیے نہیں کہ خاموش ہیں۔*


29/09/2026

دل کی حفاظت بڑوں ہی میں نہیں، بچوں میں بھی اہم ہے!

ڈاکٹر صاحب! ہمارا بچہ تو پیدائش سے بالکل ٹھیک تھا، پھر دل کا مسئلہ کیسے ہوگیا؟ 💔😥❤️ ورلڈ ہارٹ ڈے — بچوں کے دل کا بھی خیا...
29/09/2026

ڈاکٹر صاحب! ہمارا بچہ تو پیدائش سے بالکل ٹھیک تھا، پھر دل کا مسئلہ کیسے ہوگیا؟ 💔😥

❤️ ورلڈ ہارٹ ڈے — بچوں کے دل کا بھی خیال رکھیں!

جب ہم دل کی بیماری کا نام سنتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں ایک بالغ انسان آتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے دل کو بھی ہماری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ بچے دل کی پیدائشی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جبکہ کچھ بچوں میں دل کے مسائل بعد میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

ایک ماں نے مجھ سے کہا:

"ڈاکٹر صاحب! ہمارا بچہ تو پیدائش سے بالکل ٹھیک تھا، پھر دل کا مسئلہ کیسے ہوگیا؟"

یہ سوال بہت سے والدین کے ذہن میں آتا ہے۔

❤️ کن علامات کو نظر انداز نہ کریں؟

اگر بچے میں:

🔸 دودھ پیتے ہوئے بہت جلد تھک جانا یا بار بار سانس پھولنا
🔸 دودھ پیتے وقت پسینہ آنا
🔸 عمر کے مطابق وزن یا قد نہ بڑھنا
🔸 بار بار سانس کی تکلیف
🔸 ہونٹ یا زبان کا نیلا پڑنا
🔸 کھیلتے ہوئے غیر معمولی طور پر جلد تھک جانا
🔸 دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب محسوس ہونا
🔸 بار بار بے ہوشی یا چکر آنا

تو اسے صرف "کمزوری" یا "خون کی کمی" سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

ہر علامت دل کی بیماری کی نشاندہی نہیں کرتی، لیکن مسلسل یا غیر معمولی علامات میں بچے کا طبی معائنہ ضروری ہے۔

🥗 دل کی صحت بچپن سے شروع ہوتی ہے

بچوں کے دل کی حفاظت صرف بیماری کی صورت میں علاج کرنے کا نام نہیں۔

بچپن سے ہی:

✅ گھر کا متوازن اور غذائیت سے بھرپور کھانا
✅ پھل اور سبزیوں کا استعمال
✅ نمک، میٹھے مشروبات اور انتہائی پراسیسڈ کھانوں کو محدود کرنا
✅ عمر کے مطابق روزانہ جسمانی سرگرمی
✅ صحت مند وزن برقرار رکھنا
✅ دھوئیں اور سگریٹ کے ماحول سے دور رکھنا

دل کی صحت کے لیے اہم عادات ہیں۔

اور اگر بچے کو گلے کے بار بار انفیکشن، جوڑوں کے درد یا سوجن، بخار اور بعد میں دل کی علامات ہوں تو خود سے علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں، کیونکہ بعض صورتوں میں ریمیٹک ہارٹ ڈیزیز سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

❤️ والدین کے لیے ایک چھوٹی سی گزارش

بچے اکثر یہ نہیں بتا پاتے کہ "میرا دل ٹھیک محسوس نہیں کر رہا۔"

وہ شاید صرف کھیلنا چھوڑ دیں، دودھ کم پئیں، جلد تھک جائیں یا معمول سے زیادہ سانس لینے لگیں۔

بچے کے رویے میں مسلسل تبدیلی بھی کبھی کبھی ایک اشارہ ہو سکتی ہے۔

اس ورلڈ ہارٹ ڈے پر صرف اپنے دل کا نہیں،
اپنے بچوں کے دل کا بھی خیال رکھیں۔ ❤️

کیونکہ صحت مند دل… بچپن کو کھیلنے، بڑھنے اور مسکرانے کا موقع دیتا ہے۔ 🌸

اگر یہ معلوماتی پوسٹ مفید لگی ہو تو دوسرے والدین کے ساتھ شیئر ضرور کریں، آپ کا ایک شیئر کسی بچے کی جان بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

آپنے سوالات بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھیں!

ڈاکٹر حافظ محمد شہزاد شجاع
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونیٹالوجسٹ


28/09/2026

Never stop being kind!

🐕 "ڈاکٹر صاحب، بس ہلکا سا کاٹا ہے…"یہ جملہ والدین سے اکثر سننے کو ملتا ہے۔بچہ کھیل رہا تھا، اچانک کسی کتے نے کاٹ لیا یا ...
28/09/2026

🐕 "ڈاکٹر صاحب، بس ہلکا سا کاٹا ہے…"

یہ جملہ والدین سے اکثر سننے کو ملتا ہے۔

بچہ کھیل رہا تھا، اچانک کسی کتے نے کاٹ لیا یا خراش لگا دی۔
زخم دیکھا تو معمولی سا تھا، خون بھی زیادہ نہیں نکلا۔

گھر والوں نے سوچا:

"زخم تو چھوٹا سا ہے، ٹھیک ہو جائے گا۔"

لیکن میرے پیارے مریض بچوں کے والدین!
یہاں ایک لمحے کے لیے رکنا بہت ضروری ہے۔

⚠️ جانور کا کاٹنا معمولی بات نہیں، خاص طور پر بچوں میں۔

ریبیز (Rabies) ایک خطرناک بیماری ہے جو متاثرہ جانور کے کاٹنے یا بعض صورتوں میں خراش سے انسان میں منتقل ہو سکتی ہے۔ جب اس بیماری کی علامات ظاہر ہو جائیں تو یہ تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اگر جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد مناسب احتیاط اور بروقت علاج شروع کر دیا جائے تو ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے۔

اور ہمارے بچے اس معاملے میں خاص توجہ کے مستحق ہیں، کیونکہ وہ اکثر جانوروں کے قریب جا کر کھیلتے ہیں اور کبھی یہ سمجھ نہیں پاتے کہ کسی جانور سے دور رہنا کب ضروری ہے۔

اگر بچے کو کوئی جانور کاٹ لے تو کیا کریں؟

🧼 سب سے پہلے زخم کو فوراً صابن اور بہتے ہوئے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔

🚫 زخم پر مرچ، تیل، مٹی یا کوئی گھریلو ٹوٹکا ہرگز نہ لگائیں۔

🏥 بچے کو فوراً ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز لے جائیں۔
ڈاکٹر زخم اور جانور کی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کرے گا کہ بچے کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر دوسری حفاظتی دوا دینی ہے یا نہیں۔

⏰ علاج میں دیر نہ کریں۔
بچے کے مکمل طور پر ٹھیک دکھائی دینے کا انتظار نہ کریں۔

ایک اور بہت اہم بات ❤️

بچوں کو یہ ضرور سکھائیں کہ:

"اگر کوئی کتا یا دوسرا جانور کاٹے، خراش لگائے یا منہ کی رال کسی زخم پر لگ جائے تو فوراً امی، ابو یا کسی بڑے کو بتانا ہے۔"

اور بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ اجنبی یا آوارہ جانوروں کو چھیڑنا، ان کے قریب جا کر کھیلنا یا انہیں کھانے کے دوران تنگ کرنا محفوظ نہیں۔

اپنے پالتو کتوں کی ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین بھی باقاعدگی سے کروائیں۔

آج ورلڈ ریبیز ڈے پر ایک بات یاد رکھیں:

بچے کو جانوروں سے محبت کرنا سکھائیں،
لیکن جانوروں سے محفوظ رہنا بھی سکھائیں۔

کیونکہ ریبیز ایسی بیماری ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے—
بس ایک کاٹنے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔

ایک چھوٹا سا زخم بھی فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں۔
آگاہی پھیلائیں۔ ❤️

— ایک ماہرِ اطفال کی والدین کے نام گزارش
ڈاکٹر حافظ محمد شہزاد شجاع
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونیٹالوجسٹ


28/09/2026

زخم اور زخم دینے والے دونوں کو بھول جائیں مگر اس "سبق" کو نہیں جو
آپ نے اس دوران حاصل کیا!

وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں۔۔۔۔سرخ اینٹوں سے بنے کسی آنگن میں،کہیں باورچی خانے میں چولھے کے پاس دھری ...
27/09/2026

وقت نہیں رکتا لیکن کہیں نہ کہیں ہم رک جاتے ہیں۔۔۔۔

سرخ اینٹوں سے بنے کسی آنگن میں،
کہیں باورچی خانے میں چولھے کے پاس دھری پیڑھی پر،
یا کسی چھت پر لیٹے تارے گنتے,،،،،،
ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کب لمحے ہمیں قید کر لیتے ہیں۔

کوئی چائے کی پیالی ایسی ہوتی ہے جس کا ذائقہ زبان کبھی بھول نہیں پاتی۔ کوئی سرگوشی، کوئی مسکراہٹ، کوئی مہک، کوئی قہقہہ، کوئی آنسو، اور کوئی سناٹا تمام عمر کے لئے زندگی پر ہاوی ہو جاتا ہے۔

پرانی یادوں پر نئی یادیں سجانا در حقیقت ایک مشکل امر ہے, جبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے۔۔۔۔

🎗️ بچوں میں کینسر — کبھی کبھی علامات سامنے ہوتی ہیں، مگر نظر انداز ہو جاتی ہیں! ایک دو سالہ  بچہ کئی ہفتوں سے کمزور ہو ر...
27/09/2026

🎗️ بچوں میں کینسر — کبھی کبھی علامات سامنے ہوتی ہیں، مگر نظر انداز ہو جاتی ہیں!

ایک دو سالہ بچہ کئی ہفتوں سے کمزور ہو رہا تھا۔
کبھی بخار، کبھی بھوک میں کمی، کبھی جسم پر نیل جیسے نشان، اور کبھی ٹانگوں میں درد…

گھر والوں نے پہلے اسے معمولی بیماری سمجھا۔

پھر بچے کو ایک غیر مستند معالج کے پاس لے جایا گیا۔
کبھی کوئی شربت دیا گیا، کبھی ہربل دوا، کبھی کہا گیا:

"فکر نہ کریں، خون کی کمی ہے، ٹھیک ہو جائے گا۔"

دن گزرتے گئے…
لیکن بچہ بہتر ہونے کے بجائے مزید کمزور ہوتا گیا۔

بالآخر جب اسے ہمارے پاس لایا گیا تو بچے کی علامات کو ایک ساتھ دیکھا گیا، ضروری معائنہ اور ٹیسٹ کیے گئے، اور بچے کو خون کے کینسر کی تشخیص کی گئی ۔۔ 💔😥

یہ کہانی کسی ایک بچے کی نہیں۔
کوئی بھی بچہ اس قسم کے حالات سے گزر سکتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ بچوں میں بعض علامات کو بار بار نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

🎗️ کن علامات پر والدین کو محتاط ہونا چاہیے؟

اگر بچے میں:

🔸 بار بار یا غیر واضح بخار
🔸 غیر معمولی کمزوری یا مسلسل تھکن
🔸 رنگت کا غیر معمولی پیلا پن
🔸 بغیر وجہ بار بار نیل پڑنا یا خون آنا
🔸 مسلسل یا غیر معمولی ہڈیوں/جوڑوں کا درد
🔸 گردن، بغل یا جسم کے کسی حصے میں غیر معمولی گلٹی
🔸 وزن کم ہونا یا بھوک میں نمایاں کمی
🔸 پیٹ کا غیر معمولی طور پر پھولنا
🔸 مسلسل سر درد، خاص طور پر الٹی یا نظر کی تبدیلی کے ساتھ
🔸 آنکھ کی پتلی میں سفید انعکاس یا نظر میں غیر معمولی تبدیلی

نظر آئے تو اسے صرف "کمزوری"، "خون کی کمی" یا "موسمی بیماری" سمجھ کر مہینوں تک علاج نہ کرواتے رہیں۔

❤️ ایک اہم بات

ہر ایسی علامت کا مطلب کینسر ہرگز نہیں ہوتا۔ ان میں سے اکثر علامات عام بیماریوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر علامات برقرار رہیں، بڑھتی جائیں یا کئی علامات ایک ساتھ موجود ہوں تو بچے کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے۔

اور یاد رکھیں:

غیر مستند علاج میں قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے۔

بچے کی بیماری کی تشخیص کسی غیر مستند شخص کے اندازے، گھریلو نسخے یا صرف ظاہری علامات سے نہیں بلکہ مناسب طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق تحقیقات سے ہونی چاہیے۔

🎗️ Childhood Cancer Awareness Month

بچوں میں کینسر کا جلد شبہ اور بروقت تشخیص، علاج کی طرف جانے کا ایک اہم قدم ہے۔

والدین کا سوال کرنا غلط نہیں…
لیکن مسلسل علامات کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

یہ تحریر آگاہی کے لیے ہے؛ کسی بھی بچے میں مذکورہ علامات موجود ہوں تو ہمیشہ مستند ماہرِ اطفال سے معائنہ کروائیں۔

اگر اس مفید پوسٹ سے کچھ نیا سیکھا تو دوسرے والدین کے ساتھ شیئر ضرور کریں ۔
اس بارے میں اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں ۔

ڈاکٹر حافظ محمد شہزاد شجاع
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونیٹالوجسٹ



اچھی خوراک، بہتر تعلیم کے ساتھ مناسب جسمانی کھیل کود بھی بچے کی تربیت کا اہم حصہ ہے۔۔۔۔کچھ روز قبل کلینک میں ایک والد نے...
27/09/2026

اچھی خوراک، بہتر تعلیم کے ساتھ مناسب جسمانی کھیل کود بھی بچے کی تربیت کا اہم حصہ ہے۔۔۔۔

کچھ روز قبل کلینک میں ایک والد نے بڑے فخر سے کہا:

"ڈاکٹر صاحب! ہمیشہ کلاس میں فرسٹ پوزیشن لاتا ہے … " 😄

میں نے مسکرا کر کہا:
"ماشاءاللہ! اور کھیلتا کتنا ہے؟"

جواب آیا:
"کھیلنے کا وقت کہاں ہے ڈاکٹر صاحب؟ اسکول، ہوم ورک، قاری صاحب کا وقت اور پھر آرام …"

یہی آج کل بہت سے بچوں کا معمول بنتا جا رہا ہے۔

والدین اکثر بچے کی خوراک، وزن اور پڑھائی کی فکر کرتے ہیں، لیکن ایک چیز بھول جاتے ہیں:

کھیلنا بھی بچے کی صحت کا حصہ ہے! ❤️

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق:

👶 1–2 سال: روزانہ کم از کم 180 منٹ مختلف جسمانی سرگرمیاں، دن بھر میں وقفوں کے ساتھ۔

🧒 3–4 سال: روزانہ کم از کم 180 منٹ جسمانی سرگرمی، جس میں کم از کم 60 منٹ نسبتاً تیز سرگرمی شامل ہو۔

👦 5–17 سال: روزانہ اوسطاً کم از کم 60 منٹ درمیانی سے تیز جسمانی سرگرمی۔ اس میں دوڑنا، سائیکل چلانا، کھیل کود، تیراکی، تیز چلنا وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔

اور یاد رکھیں:

جسمانی سرگرمی کا مطلب صرف جم جانا یا باقاعدہ ورزش کرنا نہیں۔

⚽ فٹبال کھیلنا
🚲 سائیکل چلانا
🏃 دوڑنا
🪁 کھیل کود
💃 ڈانس کرنا
🚶 پیدل چلنا
🏸 بیڈمنٹن کھیلنا

یہ سب جسمانی سرگرمی ہیں۔

والدین کے لیے ایک آسان اصول ❤️

بچے کو یہ نہ کہیں:

"ورزش کرو!"

بلکہ کہیں:

"چلو، آج میرے ساتھ کھیلتے ہیں!"

جب والدین خود موبائل ایک طرف رکھ کر بچے کے ساتھ کھیلیں گے تو بچے کے لیے جسمانی سرگرمی ذمہ داری نہیں بلکہ خوشی بن جائے گی۔

اور اگر بچہ ابھی روزانہ 60 منٹ سرگرم نہیں رہتا تو پریشان نہ ہوں—تھوڑی سرگرمی بھی بالکل نہ ہونے سے بہتر ہے؛ آہستہ آہستہ وقت بڑھائیں۔

بچے کو صرف پڑھنے اور کھانے کا وقت نہیں، کھیلنے کا وقت بھی دیں۔
کیونکہ صحت مند بچہ صرف کتابوں سے نہیں، کھیل کے میدان سے بھی بنتا ہے! ❤️

آپ کے بچے روزانہ کتنی دیر جسمانی سرگرمی یا کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں؟؟
آپ انہیں اس طرف راغب کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں ۔

اگر بچوں کی صحت کے حوالے سے یہ پوسٹ مفید لگی ہو تو دوسرے والدین کے ساتھ شیئر ضرور کریں ۔ شکریہ

— ڈاکٹر حافظ محمد شہزاد شجاع
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونیٹالوجسٹ
MBBS, FCPS (Pediatrics)



27/09/2026

Address

Al-Kareem Medical Center, 921-F, Dunya Pur Road, Opposite Gate No 2, Fatima Jinnah Town
Multan

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00
Saturday 17:00 - 21:00

Telephone

+923366039083

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Shehzad SHUJA - CHILD Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Shehzad SHUJA - CHILD Specialist:

Shortcuts

Share

Category