07/06/2026
حمل اور تھائرائڈ: ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک اہم پیغام
ڈاکٹر محبوب قادر
Consultant Endocrinologist
حمل کے دوران تھائرائڈ ہارمونز بچے کے دماغ، اعصابی نظام اور جسمانی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہیں۔ تھائرائڈ کی معمولی خرابی بھی ماں اور بچے دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور مناسب علاج ضروری ہے۔
اگر آپ کو پہلے سے Hypothyroidism (تھائرائڈ کی کمی) ہے:
✅ حمل کی تصدیق ہوتے ہی Levothyroxine کی خوراک عموماً 25–30% بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے (اپنے معالج کے مشورے سے)۔
✅ حمل کے دوران TSH کے مطلوبہ اہداف:
پہلی سہ ماہی (0–13 ہفتے): TSH < 2.5 mIU/L
دوسری اور تیسری سہ ماہی: TSH < 3.0 mIU/L
✅ TSH اور Free T4 کی جانچ ہر 4–6 ہفتے بعد کروانی چاہیے۔
Hyperthyroidism (تھائرائڈ کی زیادتی)
غیر علاج شدہ Hyperthyroidism اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش اور ماں میں پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
حمل کے پہلے تین ماہ میں PTU (Propylthiouracil) کو ترجیح دی جاتی ہے۔
بعد ازاں بعض مریضوں میں Methimazole استعمال کی جا سکتی ہے۔
Thyroid Antibodies اور حمل
اگر TPO Antibodies مثبت ہوں تو:
حمل کے دوران تھائرائڈ کی زیادہ قریبی نگرانی ضروری ہے۔
زچگی کے بعد Postpartum Thyroiditis کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حمل میں آیوڈین
حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو روزانہ تقریباً 250 مائیکروگرام آیوڈین درکار ہوتی ہے تاکہ بچے کی دماغی نشوونما متاثر نہ ہو۔
زچگی کے بعد
اکثر خواتین میں Levothyroxine کی خوراک دوبارہ حمل سے پہلے والی سطح پر لائی جاتی ہے۔
زچگی کے تقریباً 6 ہفتے بعد TSH دوبارہ چیک کروانا چاہیے۔
اہم مشورہ
تھائرائڈ کی دوا کبھی بھی خود سے بند یا کم نہ کریں۔ حمل کے دوران تھائرائڈ کا مناسب کنٹرول ماں کی صحت اور بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
---
ڈاکٹر محبوب قادر
Consultant Endocrinologist
📍 MEDEC – Multan Endocrine & Diabetes Clinic
137-B، ماڈل ٹاؤن، ملتان
📞 0333-6978654
تھائرائڈ • ذیابیطس • ہارمونل امراض • حمل میں اینڈوکرائن نگہداشت